بانیِ پاکستان محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو جھِرک (سندھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا جو ایک تاجر تھے۔ قائدِ اعظم نے ابتدائی تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے اور لنکنز اِن سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ کم عمری میں ہی ممتاز بیرسٹر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔
سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا اور ابتدا میں ہندو مسلم اتحاد کے بڑے حامی رہے، اسی وجہ سے آپ کو ‘ہندو مسلم اتحاد کا سفیر’ کہا گیا۔ 1913 میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1930 کے بعد مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے تصور کو قوت دی۔ 1937
میں مسلم لیگ نے آپ کو ‘قائدِ اعظم’ کا خطاب دیا۔
23 مارچ 1940 کو لاہور میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور قائدِ اعظم اس کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اس وقت آپ کی عمر ستر برس کے قریب تھی اور صحت کمزور ہو چکی تھی۔
بیماری اور آخری ایام
25 مئی 1948 کو ڈاکٹروں نے آرام کی غرض سے کوئٹہ میں قیام کا مشورہ دیا۔ یکم جولائی 1948 کو کراچی آ کر سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، مگر چھ جولائی کو طبیعت بگڑ گئی اور دوبارہ کوئٹہ جانے کا کہا گیا۔ اس سفر میں نہ کوئی سرکاری ڈاکٹر ساتھ تھا اور نہ مناسب پروٹوکول، فاطمہ جناح خود اپنے بھائی کو کوئٹہ لے گئیں۔
14 جولائی 1948 کو ڈاکٹروں کے مشورے پر زیارت منتقل کیا گیا۔ 21 جولائی کو فاطمہ جناح نے حکومت کے ذمہ داران کو اطلاع دی کہ قائدِ اعظم کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طبی مدد درکار ہے، مگر خاطر خواہ اقدام نہ ہو سکا۔
اس وقت پاکستان میں پی آئی اے موجود نہ تھی۔ صرف اورینٹ ایئر لائنز تھی، جس کی زیارت کے لیے فوری پرواز دستیاب نہ تھی۔ بالآخر کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش اپنی ذاتی کوششوں سے 23 جولائی کو کوئٹہ پہنچے اور مزید ڈاکٹروں اور نرس مس ڈنہم کو بھی بلایا گیا۔ فاطمہ جناح شب بیداری کے ساتھ تیمارداری کرتی رہیں، مگر افاقہ نہ ہوا۔
قائدِ اعظم نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں کراچی واپس لے جایا جائے۔ ایک موقع پر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان عیادت کے لیے زیارت آئے۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب ‘میرا بھائی’ میں لکھتی ہیں کہ ملاقات کے بعد قائدِ اعظم نے کہا: ‘فاطی! تم سمجھتی ہو وہ میری عیادت کو آئے تھے؟ وہ تو یہ دیکھنے آئے تھے کہ میں کب مروں گا۔’
کراچی واپسی اور انتقال
قائدِ اعظم کو کوئٹہ ایئر بیس سے ایئر فورس کے ‘وائکنگ’ طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا۔ جہاز میں ڈاکٹر الٰہی بخش، فاطمہ جناح، اے ڈی سی لیفٹیننٹ مظہر، امین اور اسٹاف نرس مس ڈنہم موجود تھے۔
ماڑی پور ایئر بیس پر صرف ان کے برطانوی ملٹری سیکریٹری کرنل جیفری نولز ایک پرانی ایمبولینس کے ساتھ موجود تھے۔ بدقسمتی سے راستے میں ایمبولینس کا ایندھن ختم ہو گیا اور وہ کچرے کے ڈھیر کے پاس کافی دیر کھڑی رہی۔
فاطمہ جناح اپنے دوپٹے سے مکھیاں ہٹاتی رہیں۔ بعد ازاں دوسری ایمبولینس منگوا کر انہیں گورنر ہاؤس پہنچایا گیا، مگر حالت نہ سنبھل سکی۔
بالآخر 11 ستمبر 1948 کی رات 10 بج کر 20 منٹ پر پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح انتقال فرما گئے۔

