29 مئی 1982: سیاسی گھرانے سے تعلق کے باجود ادب و صحافت کا راستہ اختیار کرنی والی فاطمہ بھٹو یومِ پیدائش

میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ فاطمہ بھٹو کو پانچ جنوری 1989 کو المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ میں دیکھا تھا، جب وہ صرف سات برس کی تھیں اور اُن کی پھوپھی بے نظیر بھٹو ملک کی وزیرِ اعظم تھیں۔ اُس دن اُن کے دادا ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ تھی۔ بے نظیر بھٹو نے سالگرہ کا کیک اپنی بھتیجی فاطمہ بھٹو سے کٹوایا تھا جبکہ اُن کے ساتھ نصرت بھٹو بھی موجود تھیں۔ اُس وقت بلاول بھٹو صرف چار ماہ کے تھے اور ایک فلپائنی آیا کی گود میں تھے۔

فاطمہ بھٹو کے والد میر مرتضیٰ بھٹو اُن دنوں پاکستان حکومت کو مطلوب ترین شخصیت تھے اور شام کے دارالحکومت دمشق میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اُن کی زندگی دکھ، جدوجہد اور مسلسل ہجرت سے عبارت تھی۔ کبھی کابل، کبھی بیروت اور کبھی دمشق اُن کی پناہ گاہیں تھیں۔ کابل اور بیروت اُس زمانے میں دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں شمار ہوتے تھے جہاں روزانہ راکٹوں، بموں اور گولیوں کی آوازیں معمول تھیں۔

اپریل 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد 1980 میں میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو لندن سے کابل پہنچے۔ اُس وقت افغانستان میں روسی حمایت یافتہ حکومت قائم تھی۔ مرتضیٰ بھٹو نے جنرل ضیا الحق کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کے لیے افغان حکومت کی مدد سے ‘پاکستان لبریشن آرمی’ قائم کی، جو بعد میں ‘الذوالفقار’ کے نام سے مشہور ہوئی۔

17 فروری 1981 کو پوپ جان پال کی کراچی آمد کے موقع پر خودکش حملہ کیا گیا، جبکہ 6 اکتوبر 1982 کو جنرل ضیا کے طیارے پر راولپنڈی میں میزائل حملے کی کوشش کی گئی۔ ان تمام سرگرمیوں کے باعث مرتضیٰ بھٹو مسلسل خبروں اور خطرات میں گھرے رہے۔

کابل میں مرتضیٰ بھٹو کی رہائش وزیر اکبر خان روڈ پر تھی۔ وہیں اُن کی ملاقات ایک افغان لڑکی فوزیہ سے ہوئی، جو بعد میں اُن کی شریکِ حیات بنیں۔ فوزیہ کے والد افغان وزارتِ خارجہ سے وابستہ تھے، تاہم اُن کے روابط افغان مجاہدین اور سی آئی اے سے بھی تھے۔ مرتضیٰ اور فوزیہ کی قربت بڑھتی گئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ اسی دوران شاہنواز بھٹو نے فوزیہ کی بہن ریحانہ سے شادی کر لی۔

29 مئی 1982 کو کابل کے ایک فوجی اسپتال میں فاطمہ بھٹو کی پیدائش ہوئی۔ اُس وقت کابل میں کرفیو نافذ تھا اور اسپتال میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے کیونکہ خطرہ تھا کہ مجاہدین حملہ نہ کر دیں۔ مرتضیٰ بھٹو فلسطینی گوریلا یونیفارم پہنے آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑے اپنی بیٹی کی پیدائش کا انتظار کر رہے تھے۔ بیٹی کی پیدائش پر اُنہوں نے اُس کا نام ‘فاطمہ’ رکھا۔

فاطمہ کی عمر صرف تین سال تھی جب اُن کی زندگی کے المیے شروع ہوئے۔ جولائی 1985 میں فرانس کے شہر کانز میں پورا بھٹو خاندان جمع ہوا، لیکن یہ خوشیاں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکیں۔ 18 جولائی 1985

کو شاہنواز بھٹو پراسرار طور پر مردہ پائے گئے۔ فرانسیسی پولیس کے مطابق اُن کی موت زہریلے کیپسول کے باعث ہوئی تھی۔

شاہنواز کی موت کے بعد مرتضیٰ اور فوزیہ کے تعلقات خراب ہو گئے اور دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ مرتضیٰ بھٹو اپنی تین سالہ بیٹی فاطمہ کو ساتھ لے کر بیروت اور پھر دمشق چلے گئے۔ وہ فاطمہ کی پرورش خود کرتے، اُسے نہلاتے، سنوارتے، کہانیاں سنا کر سلاتے اور بیٹے کی طرح رکھتے تھے۔

بعد ازاں دمشق میں مرتضیٰ بھٹو کی ملاقات غنویٰ عبادی سے ہوئی، جو ایک ٹیچر تھیں۔ فاطمہ کی تعلیم کے سلسلے میں ہونے والی ملاقاتیں بعد میں محبت اور پھر شادی میں بدل گئیں۔ غنویٰ اور مرتضیٰ کے ہاں ذوالفقار جونیئر کی پیدائش ہوئی۔

1993 میں مرتضیٰ بھٹو جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے۔ اُس وقت بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم تھیں۔ مگر ستمبر 1996 فاطمہ بھٹو کی زندگی میں ایک اور قیامت لے کر آیا۔

19 ستمبر کو مرتضیٰ بھٹو نے اپنی سالگرہ بچوں کے ساتھ منائی۔ اگلے روز 20 ستمبر 1996 کو کراچی میں اُن پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اُس وقت فاطمہ گھر کی بالکونی میں کتاب پڑھ رہی تھیں اور اُن کا چھوٹا بھائی ذوالفقار جونیئر قریب کھیل رہا تھا۔ اچانک شدید فائرنگ شروع ہوئی۔

فاطمہ نے فوراً وزیرِ اعظم ہاؤس فون کیا تاکہ اپنی ‘بوا بڑی’ بے نظیر بھٹو سے بات کر سکیں، مگر جواب نہ ملا۔ بعد میں آصف علی زرداری نے فون پر فاطمہ کو بتایا: ‘تمہارا باپ مارا جا چکا ہے۔’

یہ سنتے ہی فاطمہ کے ہاتھ سے فون گر گیا اور وہ یتیم ہو گئیں۔

اپنے والد کی شہادت کے بعد فاطمہ بھٹو نے روایتی سیاست کے بجائے ادب، صحافت اور تحریر کا راستہ اختیار کیا۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں اور اُن کے مضامین دنیا کے معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ اُنہیں عالمی ادبی کانفرنسوں میں مدعو کیا جاتا ہے اور اُن کی تحریروں پر متعدد اعزازات بھی مل چکے ہیں۔

فاطمہ آج بھی اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جلاوطنی کے باوجود مرتضیٰ بھٹو سندھ کو کبھی نہیں بھولے۔ وہ ‘ہو جمالو’ گنگناتے، اجرک اوڑھتے اور شکارپور کا اچار شوق سے کھاتے تھے۔

28 اپریل 2023 کو فاطمہ بھٹو نے اپنے امریکی دوست گراہم، جن کا اسلامی نام ‘جبران’ رکھا گیا، سے شادی کی۔ شادی کے بعد وہ بیرونِ ملک مقیم ہیں، البتہ کبھی کبھار سندھ بھی آتی ہیں۔ فاطمہ بھٹو نے سیاست کے بجائے ادب اور تحریر کو ترجیح دی ہے۔

اُن کی کتابیں معاصر ادب میں اہم مقام رکھتی ہیں۔