Tag: کراچی

  • کراچی کی مہندی آرٹسٹ: ‘دلہن کی مہندی ڈزائین بنانے میں 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں’

    کراچی کی مہندی آرٹسٹ: ‘دلہن کی مہندی ڈزائین بنانے میں 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں’

    کراچی کی مہندی آرٹسٹ صدف گزشتہ بارہ برس سے اس پیشے میں کام کر رہی ہے۔ اس دوران اس نے بے شمار ہاتھوں پر مہندی لگائی ہے۔ وہ تین بچوں کی ماں ہے، مگر اس کے باوجود وہ اس فن کو جاری رکھتی ہے اور اسے اپنا روزمرہ کا حصہ سمجھتی ہے۔

    صدف کے مطابق لوگ جب اس کا کام دیکھ کر خوشی ظاہر کرتے ہیں تو اسے مزید ہمت ملتی ہے۔ کئی خواتین اس کے پاس آکر بتاتی ہیں کہ مہندی لگوانے سے ان کا دن بہتر ہوجاتا ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ مہندی کا نمونہ دیکھ کر انہیں اپنے گھریلو مواقع یاد آتے ہیں۔ اس طرح صدف کے لئے یہ پیشہ صرف کام نہیں بلکہ ایک تعلق کا ذریعہ بھی ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے صدف نے بتایا: ‘شادی یا کسی خاص موقعے پر خواتین کی مہندی ڈزائین بنانے میں آتھ سے 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں، مگر اتنی محنت کے بعد جب خواتین کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی ہے۔

    مہندی کا فن برصغیر، مشرقِ وسطیٰ، عرب دنیا اور شمالی افریقہ کے کئی علاقوں میں عام ہے۔ برصغیر میں یہ فن صدیوں سے گھریلو اور سماجی مواقع کا حصہ رہا ہے۔

    لوگ مہندی کو ہاتھوں اور پیروں پر لگاتے ہیں اور مختلف علاقوں میں ڈیزائن کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ کہیں گھنے نقش پسند کیے جاتے ہیں، کہیں باریک لائنوں اور چھوٹے نمونوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عرب دنیا میں ڈیزائن نسبتاً کھلے اور بڑے ہوتے ہیں جبکہ پاکستان اور انڈیا میں پیچیدہ نمونے زیادہ مقبول ہیں۔

    مہندی عام طور پر شادیوں، عیدین، خانگی تقریبات، منگنی، بچوں کی خوشی، یا کسی بھی جشن میں لگائی جاتی ہے۔ عورتیں اسے خوشی کی علامت سمجھتی ہیں۔ شادی سے ایک روز پہلے ہونے والی مہندی کی تقریب کا پورا ماحول اسی فن کے گرد بنتا ہے۔ دلہن کے دونوں ہاتھ اور پاؤں مہندی سے سجائے جاتے ہیں، اور خاندان کی خواتین بھی مہندی لگواتی ہیں۔

    مہندی کی اقسام میں کون مہندی، پاؤڈر مہندی، عربی مہندی، راجستھانی مہندی اور خالص دیسی مہندی شامل ہیں۔ کچھ لوگ کیمیکل ملے کون استعمال کرتے ہیں، مگر بہت سے لوگ اب پودے سے تیار شدہ خالص مہندی پسند کرتے ہیں جس کا رنگ وقت کے ساتھ گہرا ہوتا ہے۔

    صدف ان ہی روایتی طریقوں کو ترجیح دیتی ہے۔ وہ خالص مہندی کو بہتر سمجھتی ہے کیونکہ اس کا رنگ دیر تک رہتا ہے۔ اس کے مطابق مہندی لگانا صرف لائنیں بنانے کا عمل نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے، جو وقت کے ساتھ بہتر ہوتا جاتا ہے۔ صدف کہتی ہے کہ جب لوگ اس کے ڈیزائن کو دیکھ کر اطمینان ظاہر کرتے ہیں تو اسے لگتا ہے کہ اس کا بارہ سال کا سفر اب بھی جاری ہے اور ہر نئے ہاتھ پر اسے ایک نیا آغاز محسوس ہوتا ہے۔

    یہ فن آج بھی گھروں، تقریبات اور میلوں میں اپنی جگہ رکھتا ہے اور مقامی ثقافت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

  • کراچی میں ہالووین کی تقریبات: یہ قدیم تہوار کیوں اور کب سے منایا جارہا ہے؟

    کراچی میں ہالووین کی تقریبات: یہ قدیم تہوار کیوں اور کب سے منایا جارہا ہے؟

    یورپ میں مذہبی طور پر منائے جانے والا ہالووین کا تہوار جو ماضی میں صرف مغربی دنیا تک محدود تھا جو اب اب عالمی تہوار بن گیا ہے۔ پاکستان میں بھی خاص طور پر نوجوان نسل اس تہوار کو دلچسپی سے مناتی ہے۔

    لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں پچھلے چند برسوں میں ہالووین پارٹیاں تیزی سے مقبول ہوئی ہیں۔ ریسٹورنٹس، کیفے، جامعات اور مختلف تنظیمیں ڈراؤنے لباس، مخصوص موسیقی اور سجاوٹ کے ساتھ تقریبات منعقد کرتی ہیں۔

    کراچی میں حال ہی میں کئی بڑی تقاریب ہوئیں جن میں نوجوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ جن میں خوفناک نظر آنے کے لیے میک اپ، رنگ برنگے نقاب، ڈیزائنر ملبوسات اور کدو کی سجاوٹ کی گئی۔

    ہالووین کا تہوار ہے کیا، کیوں اور کب سے منایا جارہا ہے؟

    ہالووین کا تہوار دو ہزار سالوں سے منایا جارہا ہے۔ اُس دور میں جب یورپ کے سرد اور دھند آلود میدانوں میں سیلٹک قوم آباد تھی۔ وہ لوگ 31 اکتوبر کی رات کو ایک تہوار مناتے تھے۔ جسے ‘سوہن’ یا سَوَنَ کے نام سے پُکارا جاتا تھا۔

    ان کا عقیدہ تھا کہ فصل کے اختتام اور سردیوں کے آغاز کی یہ رات دنیا اور زیرِ زمین دنیا کے درمیان موجود پردے کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیے اُنہیں یقین تھا کہ اس رات مُردوں کی روحیں واپس زمین پر آتی ہیں۔

    ان روحوں سے بچنے کے لیے لوگ بڑے بڑے الاؤ جلاتے۔ آگ کے گرد رقص، دعائیں اور مختلف رسومات ادا کی جاتیں۔ لوگ جانوروں کی کھالوں اور سروں سے خاص کپڑے بناتے، چہروں پر عجیب و غریب نقاب پہنتے تاکہ بُری روحیں انہیں پہچان نہ سکیں۔

    اس طرح ڈراؤنی شکلیں بنانے، خوفناک لباس پہننے اور چہروں پر نقش و نگار بنانے کی روایت نے جنم لیا، مگر اُس وقت کسی نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ یہ چھوٹی سی روایت آگے چل کر ایک عالمی تہوار کی شکل اختیار کر لے گی۔

    صدیاں گزرتی گئیں۔ یورپ میں عیسائیت کا پھیلاؤ ہوا۔ مذہبی رہنماؤں کو اندازہ تھا کہ لوگ اپنے قدیم تہوار چھوڑنا نہیں چاہتے، اس لیے انہوں نے حکمت سے کام لیا۔ انہوں نے یکم نومبر کو مقدس ہستیوں کا دن قرار دیا، جبکہ اس سے ایک رات پہلے کی تقریب کو خصوصی اہمیت دی گئی۔
    اس طرح رفتہ رفتہ اس رات کا نام بدلتے بدلتے ‘ہالووین’ بن گیا۔

    قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں ہالووین مزید بدلا۔ لوگوں نے اسے ڈر اور اندیشے کے بجائے کھیل تماشوں، پیش گوئیوں اور مقامی روایات کے طور پر منانا شروع کیا۔ شلجم کو اندر سے کھوکھلا کر کے اس میں روشنی رکھی جاتی، نوجوان لڑکیاں مستقبل بتانے والے کھیل کھیلتی تھیں، اور بچے سیبوں سے بھرے پانی کے ٹب میں اپنا کرتب دکھاتے تھے۔

    وقت کے ساتھ ساتھ جب یورپ کے غربت زدہ لوگ بھوک اور بیماریوں کے باعث امریکہ پہنچے تو وہ اپنے ساتھ یہ تہوار بھی لے گئے۔ وہاں انہیں کدو بڑی مقدار میں ملتے تھے، اس لیے انہوں نے شلجم کی جگہ کدو کھوکھلا کر کے چہرے تراشنا شروع کیا، جو آگے چل کر ہالووین کی سب سے پہچانی جانے والی علامت بن گیا۔

    آج ہالووین دنیا کے تقریباً ہر خطے میں کسی نہ کسی شکل میں منایا جاتا ہے۔ اب یہ صرف مذہبی یا دیومالائی تہوار نہیں رہا بلکہ ایک ثقافتی، تفریحی اور سماجی تقریب ہے۔ بھوتوں، چڑیلوں، دیوؤں اور عجیب و غریب کرداروں کے ملبوسات تیار کیے جاتے ہیں۔
    کدو تراشنے کے مقابلے، ڈراؤنے گھروں کی نمائش، خوفناک کہانیوں کی محفلیں، موسیقی کی راتیں اور بچوں کی مٹھائیوں کی مہم یہ سب اس تہوار کا حصہ بن چکے ہیں۔

    یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں لوگ ہالووین کو مذہبی رسم نہیں سمجھتے، بلکہ اسے ایک تفریحی اور ثقافتی تقریب کے طور پر مناتے ہیں۔ بہت سے نوجوان اسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے، تصاویر بنانے، تخلیقی لباس پہننے اور مزاحیہ انداز اختیار کرنے کا موقع سمجھتے ہیں۔ یوں یہ تہوار اپنی اصل سے بہت دور، مگر ایک نئے رنگ میں یہاں بھی بسیرا کر چکا ہے۔

    صدیوں کے ارتقا کے بعد ہالووین ایک حیرت انگیز مثال ہے کہ کس طرح تہذیبیں وقت کے ساتھ بدلتی، سفر کرتی اور نئی شکلیں اختیار کرتی ہیں۔
    ایک طرف یہ قدیم عقائد اور دیومالائی تصورات سے جڑا ہوا ہے، اور دوسری طرف جدید دنیا کے نوجوانوں کے لیے یہ تخلیق، فن، مزاح اور تفریح کا موقع بن چکا ہے۔ گویا ہالووین ایک ایسی رات ہے جس میں تاریخ، داستان، خوف، مسکراہٹیں اور انسانی تخیل یکجا ہو کر دنیا بھر میں ایک خاص جادو بکھیر دیتے ہیں۔