محکمہ ثقافت سندھ کی جانب سے سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے صحرا کے لیے ‘تھر ڈیزرٹ ٹرین سفاری’ کا چھٹے راؤنڈ کا آغاز کراچی کینٹ اسٹیشن سے انڈیا کے بارڈر پر واقع آخری ریلوے سٹیشن تک لے جایا گیا۔
ٹرین میں سیاحوں کے لیے کھانے پینے اور رات کو ٹرین میں ہی قیام کی سہولیات فراہم کی گئیں تھی۔ کراچی کینٹ سٹیشن سے نکلنے والی ’تھر ڈزرٹ ٹرین سفاری‘ میں دو ایئرکنڈیشنڈ بوگیاں اور ایک ڈائننگ کار شامل تھی۔
چھٹے راؤنڈ کی اس ٹرین میں کراچی سمیت مختلف شہروں سے آئے 150 سیاحوں نے سفر کیا۔ کراچی کینٹ سیٹیشن سے صبح نو بجے سفر کا آغاز ہوا جس کا پہلا سٹاپ حیدرآباد ریلوے سٹیشن پر ہوا۔ اس کے بعد ٹرین ٹنڈوجام اور ٹنڈوالہیار سے ہوتی ہوئی میرپورخاص ریولے اسٹیشن پہنچی، جہاں کچھ دیر قیام کے بعد سفر کا دوبارہ آغاز ہوا۔
میرپورخاص سے شادی پلی، پتھورو اور ڈھورونارو سٹیشنز سے ہوتی ہوئے پانچ بجے عمرکوٹ ضلع کے چھور کینٹ ریلوے سٹیشن پر پہنچی جہاں مقامی فنکاروں نے موسیقی سے سیاحوں کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر سٹیشن کو سیاحوں کے آمد پر سجایا گیا تھا۔
چھور کینٹ سٹیشن پر کچھ دیر رکنے کے بعد ٹرین سے سیاحوں کو کوچز میں قریبی قصبے پرچی جی ویری فوجی ریزورٹ لے جایا گیا۔
یہ ریزورٹ ریت کے کے اونچے ٹیلے پر بنایا گیا ہے، جہاں سے صحرا کے دلفریب مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ریزورٹ پر ثقافتی اشیا اور کھانے پینے کے سٹال لگائے گئے تھے اور اوپن ایئر تھیئٹر میں جوگیوں نے بین پر سانپ کا کھیل دکھایا اور مقامی فنکاروں نے راگ سنایا۔
ایک خاتون سیاح نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ ٹرین سفاری انتہائی منفرد تجربہ اور عام طور پر کوئی فوجی ریزورٹ نہیں آسکتا، اس لیے سب کو اس ٹرین سفاری میں آنا چاہیے۔
محکمہ ثقافت کی جانب سے ٹرین میں سفر کے ساتھ رات کو قیام کا بندوبدست اور دو دنوں کے کھانے سمیت یہ سفر مہنگا ہے، مگر سندھ حکومت نے اس سفر پر سبسڈی دے کر ابتدائی طور پر 30 ہزار روپے ٹکٹ مقرر کیا ہے۔
پرچی جی ویری ریزورٹ پر محفل موسیقی اور رات کے کھانے کے بعد سیاحوں کو کوچز میں دوبارہ چھور کینٹ سٹیشن لایا گیا جہاں رات کے قیام کا بندوبست ٹرین کے اندر کیا گیا تھا۔
دوسرے روز صبح ساڑھے سات بجے ٹرین چھور کینٹ سٹیشن سے روانہ ہوئی اور کھوکھرا پار ہوتی ہوئی انڈیا کی سرحد پر واقع آخری ریلوے سٹیشن زیرو پوائنٹ پہنچی۔
ریلوے سٹیشن پر سندھ رینجرز نے سیاحوں کا استقبال کیا اور انہیں پاکستان اور انڈیا کے درمیان بارڈر لائن کے متعلق بریفنگ دی۔
زیروپوائنٹ ریلوے سٹیشن پر کچھ وقت گزارنے کے بعد ٹرین کا واپس کراچی کی طرف سفر شروع ہوا اور رات نو بجے کراچی کینٹ سٹیشن پر سفر کا اختتام ہوا۔



