Tag: منشیات

  • لیاری میں منشیات کے خلاف ایک نئی امید، سندھ پولیس کا ڈرگ اسکریننگ سینٹر قائم

    لیاری میں منشیات کے خلاف ایک نئی امید، سندھ پولیس کا ڈرگ اسکریننگ سینٹر قائم

    کراچی کے تاریخی علاقے لیاری میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت کے تعاون سے سندھ پولیس کے ساوتھ زون نے ‘ڈرگ اسکریننگ سینٹر لیاری’ قائم کیا ہے۔ اس مرکز کا مقصد منشیات کے استعمال میں مبتلا افراد کی بروقت تشخیص، انہیں علاج اور بحالی کی سہولت فراہم کرنا اور دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بننے میں مدد دینا ہے۔

    یہ مرکز منشیات کے عادی افراد کے لیے علاج کے سفر کا پہلا مرحلہ ثابت ہوگا، جہاں ان کا طبی اور نفسیاتی معائنہ کیا جاتا ہے۔ مختلف طبی ٹیسٹوں اور ماہرین کی جانچ کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ متعلقہ فرد منشیات استعمال کر رہا ہے یا نہیں، اگر کر رہا ہے تو کون سی منشیات استعمال کر رہا ہے اور اس کی لت کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ ابتدائی تشخیص کے بعد مریض کی ضرورت کے مطابق اسے بحالی مرکز بھیجنے کی سفارش کی جاتی ہے۔

    بحالی مراکز میں علاج صرف ادویات تک محدود نہیں ہوتا بلکہ نفسیاتی مشاورت، خاندانی رہنمائی، سماجی بحالی اور پیشہ ورانہ تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ مریض علاج مکمل ہونے کے بعد دوبارہ معمول کی زندگی گزارنے اور معاشرے میں باعزت مقام حاصل کرنے کے قابل ہو سکے۔

    لیاری کئی دہائیوں سے اپنی کھیلوں کی روایات، باصلاحیت نوجوانوں، موسیقی اور ثقافتی شناخت کے باعث ملک بھر میں پہچانا جاتا ہے، تاہم اس علاقے کو منشیات سمیت مختلف سماجی مسائل کا بھی سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں علاج اور بحالی پر مبنی یہ مرکز نوجوانوں کو نئی زندگی اور بہتر مستقبل کی امید فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق منشیات کی لت صرف ایک فرد تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی مرحلے میں نشے کی تشخیص ہو جائے تو علاج کے کامیاب ہونے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔

    طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ منشیات کا عادی شخص مجرم سے زیادہ ایک مریض ہوتا ہے، جسے سزا کے بجائے علاج، نفسیاتی معاونت اور اہل خانہ کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ بروقت طبی امداد اور مسلسل بحالی کے ذریعے ایسے افراد مکمل صحت یاب ہو کر دوبارہ معمول کی زندگی اختیار کر سکتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف مؤثر حکمت عملی صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے بروقت تشخیص، جدید علاج، نفسیاتی معاونت، خاندانی تعاون، آگاہی مہمات اور معاشرے کی قبولیت یکساں اہمیت رکھتی ہیں۔

    اگر ‘ڈرگ اسکریننگ سینٹر لیاری’ اپنی خدمات مؤثر انداز میں جاری رکھنے میں کامیاب رہتا ہے تو یہ نہ صرف لیاری بلکہ کراچی کے دیگر علاقوں کے لیے بھی ایک قابل تقلید ماڈل بن سکتا ہے، کیونکہ منشیات کے خلاف جنگ صرف گرفتاریوں سے نہیں بلکہ علاج، بحالی، آگاہی اور اجتماعی تعاون سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔

  • بدین: منشیات کے پیسوں کے لیے بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا: پولیس

    بدین: منشیات کے پیسوں کے لیے بیٹے نے ماں کو قتل کر دیا: پولیس

    کامران خمیسو خواجہ بدین پولیس کے مطابق گاؤں عرس ملاح میں نوجوان نے منشیات خریدنے کے پیسے نہ دینے پر اپنی ماں کو قتل کر دیا۔

    پولیس کی مطابق نوجوان کرسٹل میتھ، جسے مقامی زبان میں ‘آئس’ کہا جاتا ہے، کا عادی تھا اور اس نے ماں سے پیسے طلب کیے۔ انکار پر کلہاڑی کے وار کر کے ماں کو قتل کر دیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی افراد نے پولیس کو آگاہ کیا، جس کے بعد بدین پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی۔ پولیس نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔ واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں مقامی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق زیریں سندھ کے اضلاع بدین، سجاول، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان اور حیدرآباد میں نوجوانوں میں منشیات کا استعمال تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

  • پاکستان میں منشیات کے بڑھتے ہوئے بحران سے کتنے لوگ متاثر ہیں؟ 

    پاکستان میں منشیات کے بڑھتے ہوئے بحران سے کتنے لوگ متاثر ہیں؟ 

    پاکستان میں منشیات کے استعمال پر سب سے جامع قومی سروے تقریباً ایک دہائی پہلے ہوا تھا، جس میں تخمینہ لگایا گیا کہ ملک میں 60 لاکھ سے زیادہ افراد کسی نہ کسی شکل میں منشیات استعمال کرتے ہیں۔ ان میں اکثریت مرد ہیں، مگر خواتین میں بھی دواؤں کے غلط استعمال کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

    15 سالوں کے بعد نشے کے عادی افراد میں کتنا اضافہ ہوا ہوگا؟

    عمر کے لحاظ سے 18 سے 40 سال کی نوجوان آبادی سب سے زیادہ متاثر ہے، یہ وہ طبقہ ہے جو معاشی دباؤ، بے روزگاری، عدم استحکام اور ذہنی تناؤ کے بیچ پسا ہوا ہے۔

    پاکستان میں سب سے عام نشہ چرس اور اوپیئٹس ہیں — یعنی ہیروئن، افیون اور انجیکشن کے ذریعے لی جانے والی ڈرگز۔ مگر پچھلے چند سال میں جس نشے نے سب کو تشویش میں ڈالا ہے وہ ہے آئس… ایک ایسی میتھ ایمفیٹامین جو انتہائی خطرناک، سستی، اور بہت تیزی سے عادت بنا لینے والی ہے۔

    آئس کو اکثر "ہائی کلاس” ڈرگ سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ یونیورسٹیوں، ہاسٹلوں اور شہری بستیوں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی سب سے خوفناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دماغ کے فیصلے کرنے والے حصے کو براہِ راست متاثر کرتی ہے، نیند ختم کر دیتی ہے، اور مسلسل استعمال کرنے پر انسان کو شدید ذہنی بیماریوں تک لے جاتی ہے۔

    بحالی مراکز میں آنے والے کیسز میں آئس کی شرح بڑھ رہی ہے، اور سب سے زیادہ متاثر نوجوان اور طالب علم ہیں۔

    علاقائی طور پر سرحدی اضلاع، بڑے شہروں کے مضافاتی علاقے، اور وہ کمیونٹیز جہاں روزگار کم ہیں — ان میں نشہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مرد متاثرین کی تعداد زیادہ ہے، مگر خواتین میں آئس اور دواؤں کے غلط استعمال کے کیسز بڑھ رہے ہیں، اور اکثر یہ روندی ہوئی ذہنی صحت اور گھریلو دباؤ سے جڑے ہوتے ہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ نشہ بڑھ کیوں رہا ہے؟

    ایک بڑی وجہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے، یہاں سے گزرنے والے راستے دنیا کی بڑی منشیات کی سپلائی لائن کا حصہ ہیں۔ سپلائی آسان ہو تو نشہ سستا رہتا ہے، اور یہی اس کا سب سے خطرناک پہلو ہے۔

    دوسری وجہ ذہنی صحت کے نظام کی کمزوری ہے۔ ڈپریشن، بے خوابی اور بے چینی کا بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے نوجوان فوری "فرار” ڈھونڈتے ہیں، اور آئس جیسی ڈرگز خود کو وقتی طاقت اور اعتماد کا جھوٹا احساس دیتی ہیں۔

    تیسری وجہ معاشی بے یقینی ہے، جب نوجوانوں کو مستقبل نظر نہ آئے تو نئے نشے زیادہ تیزی سے جڑ پکڑتے ہیں۔
    چوتھی وجہ اسکولوں، یونیورسٹیوں اور گھروں میں آگاہی کا فقدان ہے۔ بہت سے والدین کو آئس کی شکل تک معلوم نہیں، جبکہ یہ ان کے بچوں کی زندگیاں بدل رہی ہے۔

    پاکستان میں نئے قومی سروے کی ضرورت برسوں سے زیرِ بحث ہے تاکہ پتا چل سکے کہ آئس، چرس، ہیروئن اور دواؤں کے غلط استعمال کا موجودہ نقشہ کیا ہے۔ نئے اعداد و شمار کے بغیر مؤثر پالیسی بنانا ممکن نہیں۔

    یہ مسئلہ صرف ایک لت نہیں، یہ معاشی، ذہنی اور سماجی بحران ہے جو نوجوان نسل کے مستقبل سے جڑا ہے۔