Tag: قدیم

  • حیدرآباد: میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کے سندھ کے ‘طاقتور’ تالپور حکمران سے ‘مچھلی والا بابا’ بننے تک کی کہانی

    حیدرآباد: میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کے سندھ کے ‘طاقتور’ تالپور حکمران سے ‘مچھلی والا بابا’ بننے تک کی کہانی

    میاں محمد غلام شاہ کلہوڑو کا مزار سندھ کے تاریخی شہر حیدرآباد میں واقع ہے۔ وہ کلہوڑا خاندان کے اہم حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1757 میں کلہوڑا قبائلی سرداروں نے انہیں سندھ کا تیسرا نواب منتخب کیا، جبکہ ان کے بھائی میاں مرادیاب کلہوڑو کو معزول کیا گیا۔ غلام شاہ کلہوڑو کو حیدرآباد شہر کی بنیاد رکھنے والا حکمران بھی سمجھا جاتا ہے، جس نے اس خطے کو سیاسی اور انتظامی مرکز کی حیثیت دی۔

    ان کا مزار آج بھی سندھ کی تاریخ کا خاموش گواہ ہے۔ یہاں روزانہ مختلف علاقوں سے لوگ حاضری دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ اس مقام پر عقیدت کے انداز بدلتے گئے ہیں۔ اب مزار پر آنے والے بعض زائرین منت کے طور پر مچھلی لاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مچھلی چڑھانے سے ان کی خواہش پوری ہوگی، خاص طور پر روزگار، صحت اور گھریلو مسائل سے متعلق دعائیں بھی قبول ہوں گی۔

    لوگ عقیدت اور محبت سے ‘مچھلی والا بابا’ کہتے ہیں

    اسی طرح مزار کے احاطے میں اینٹوں سے بنے چھوٹے گھروں کی شکلیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ علامتی گھر وہ لوگ بناتے ہیں جو اپنے ذاتی مکان کی خواہش رکھتے ہیں۔ عقیدت مند اینٹیں رکھ کر دعا کرتے ہیں کہ ان کا اپنا گھر بن جائے اور بے گھری یا مالی تنگی کا مسئلہ حل ہو۔

    مقامی افراد کے مطابق یہ روایات پچھلے کچھ برسوں میں زیادہ نمایاں ہوئی ہیں۔ مزار صرف ایک تاریخی مقام نہیں رہا بلکہ عوامی عقیدت اور امیدوں کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں تاریخ، عقیدہ اور عوامی ثقافت ایک دوسرے میں گڈمڈ نظر آتی ہے۔

    میاں غلام شاہ کلہوڑو کا یہ مزار آج بھی اس دور کی یاد دلاتا ہے جب سندھ پر مقامی تالپور حکمرانوں کی حکمرانی تھی، اور ساتھ ہی یہ مقام موجودہ دور میں عوام کے عقائد اور خواہشات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

    میاں غلام شاہ کلہوڑو نہ صرف ایک طاقتور حکمران تھے بلکہ عوام دوست، سادہ مزاج اور روحانی رجحان رکھنے والے انسان بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں مچھلی بہت پسند تھی اور ان کے دورِ حکومت میں دریائے سندھ کی مچھلی خاص مقام رکھتی تھی۔

    مزار پر خدمت گزار نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ عوام نے عقیدت کے طور پر ان کے مزار پر مچھلی چڑھانا شروع کر دی، اور یوں وہ “مچھلی والا بابا” کے نام سے مشہور ہو گئے، اس درگاہ کے بزرگ خود کلہوڑو دور کو بادشاہ تھے اور غلام شاہ کلہوڑو نے شاہ عبدالطیف کا مزار تعمیر کرایا ،اس مزار میں حیدر بخش جتوئی اور ان کی اہلیہ بھی دفن ہیں یہاں باہر قدیمی قبرستان موجود ہیں۔

  • کراچی چڑیاگھر میں موجود دو صدی قدیم برگد کا درخت، جس سے ‘متعدد’ درخت بن گئے

    کراچی چڑیاگھر میں موجود دو صدی قدیم برگد کا درخت، جس سے ‘متعدد’ درخت بن گئے

    کراچی چڑیا گھر، جسے پرانے وقتوں میں گاندھی گارڈن کہا جاتا تھا، شہر کا وہ گوشہ ہے جہاں اب بھی برطانوی دور کی کئی یادیں زندہ ہیں۔ انہی نشانیوں میں ایک ایسا شجر بھی ہے جو دو سو برس سے زیادہ عمر گزار چکا ہے۔ یہ برصغیر کے قدیم بنیاں کے درختوں میں سے ایک ہے، جس کی شاخیں وقت کے ساتھ زمین میں اترتی گئیں اور آج اس ایک درخت نے درجنوں الگ الگ تنوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ عام دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ بہت سے درختوں کا جھنڈ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی درخت کی اولاد ہیں، جو اب بھی پوری شادابی سے اپنی جگہ کھڑا ہے۔

    برطانوی دور میں اس درخت کو یہاں اس لئے لگایا گیا تھا کہ یہ گھنے سائے کی وجہ سے علاقے کی فضا کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ کراچی شہر کی آبادی بڑھی، درجہ حرارت میں اضافہ ہوا، اور شہر کے باسیوں نے محسوس کیا کہ یہ قدیم درخت صرف ایک پودا نہیں بلکہ قدرت کی قدرتی چھتری ہے جو تیز دھوپ کو روک کر زمین پر ٹھنڈک بچھا دیتی ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کی ڈپٹی ڈائریکٹر عابدہ رئیس نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ درخت کی چھتری آج اتنی وسیع ہے کہ اس کے نیچے ایک چھوٹا سا کیفے بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ یہ کیفے اس طرح بنایا گیا ہے کہ درخت کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے، اور لوگ سکون سے بیٹھ کر اس کے سایے سے لطف اٹھا سکیں۔

    بقول عابدہ رئیس: ‘اس جگہ ایک پھوار چھوڑنے والا فوارہ بھی بنایا گیا ہے جو ہوا میں نمی پیدا کرتا ہے اور گرمی کے موسم میں ٹھنڈک کے احساس کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ فوارے کی آواز، پتوں کی سرسراہٹ، اور ہوا کی ہلکی سی لَے مل کر ایک ایسا ماحول بناتی ہیں جو کراچی جیسے مصروف شہر کے بیچوں بیچ کسی خاموش پناہ گاہ کا احساس دلاتی ہے۔’

    گرمیوں میں جب کراچی کا درجہ حرارت سڑکیں پگھلا دیتا ہے، لوگ اس درخت کے سائے میں آ کر بیٹھتے ہیں۔ یہاں کچھ دیر بیٹھنا بھی جسم اور ذہن دونوں کو تازہ محسوس کراتا ہے۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک سب کے لئے یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں شہر کا شور کچھ لمحوں کے لئے پیچھے رہ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہاں آ کر کتاب پڑھتے ہیں، کچھ چائے پیتے ہیں، اور کئی تو صرف اس لئے بیٹھتے ہیں کہ درخت کے پھیلتے ہوئے سائے کو محسوس کر سکیں۔

    اس درخت کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ دو صدیوں بعد بھی یہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر سال نئی جڑیں زمین میں اترتی ہیں، نئی شاخیں اوپر اٹھتی ہیں، اور نئی چھتریاں سایہ بڑھاتی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر اسے محفوظ رکھا جائے تو یہ آنے والی کئی نسلوں تک کراچی والوں کے لئے رحمت بنا رہ سکتا ہے۔

    کراچی جیسے بڑے اور گرم شہر میں یہ درخت صرف ایک تاریخی یاد نہیں بلکہ قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ بھی ہے۔ یہ فضا کا درجہ حرارت کم کرتا ہے، پرندوں کے لئے گھر بناتا ہے، اور انسانوں کے لئے سانس لینے کو صاف ہوا مہیا کرتا ہے۔ ایسے میں یہ درخت نہ صرف کراچی کی تاریخ کا حصہ ہے بلکہ اس شہر کے مستقبل کے لئے بھی قیمتی اثاثہ ہے۔

    کراچی چڑیا گھر کا دو سو سالہ بنیاں کا یہ درخت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہر کتنے ہی بدل جائیں، مگر کچھ جڑیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ اور بھی مضبوط ہو جاتی ہیں۔ یہ درخت انہیں جڑوں میں سے ایک ہے—خاموش، مضبوط، سایہ دار اور ہمیشہ زندہ۔