Tag: شنگھائی

  • بارود کے ڈھیر پر بکھرتا ہوا موسم: مکہ اکارڈ، شنگھائی سیلاب اور پاکستان کا تزویراتی امتحان

    بارود کے ڈھیر پر بکھرتا ہوا موسم: مکہ اکارڈ، شنگھائی سیلاب اور پاکستان کا تزویراتی امتحان

    بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاست کی تاریخ میں اگست 2026 کا یہ مہینہ ایک ایسے تزویراتی موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں جغرافیائی سیاست اور ماحولیاتی آفات نے مل کر دنیا کا نقشہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    ایک طرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں تاریخی ‘مکہ جوائنٹ ڈیٹرنس اگریمنٹ’، یعنی مکہ اکارڈ، پر دستخط کر کے مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری تسلط کے خاتمے کا بگل بجا دیا ہے۔

    لیکن دوسری طرف، اسی خطے میں ایران نے سخت گیر جرنیلوں کی نئی عسکری صف بندی کر کے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر کے ایک نئی سرد جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سیکیورٹی کے اس ابلتے ہوئے لاوے کے بیچ، بحر الکاہل کے ساحل پر طوفان نوح کا منظر پیش کرتے ہوئے چین کا سب سے بڑا معاشی مرکز، شنگھائی، ‘ٹائیفون ڈولفن’ کی طوفانی بارشوں میں ڈوب گیا ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب انسانوں کے بنائے ہوئے عسکری بلاک قدرت کے ماحولیاتی ہتھیاروں کے سامنے موم کی دیوار ہیں۔

    ان تمام متصادم عالمی لہروں کے عین مرکز میں پاکستان کھڑا ہے، جسے بیک وقت اپنی معاشی بقا، ماحولیاتی سفارت کاری اور سفارتی پل کا سب سے بڑا امتحان دینا ہے۔

    مکہ اکارڈ اور مشرق وسطیٰ کا نیا سیکیورٹی ڈھانچہ

    مکہ اکارڈ مسلم دنیا کی تزویراتی تاریخ کا ایک انقلابی اور کثیر قطبی قدم ہے۔ نیٹو کے آرٹیکل پانچ کی طرز پر بنائے گئے اس ‘اجتماعی دفاعی معاہدے’ کی رو سے اب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی ایک پر بھی مسلح بیرونی حملہ، تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    یہ معاہدہ بنیادی طور پر سعودی عرب کی جانب سے واشنگٹن کی سیکیورٹی چھتری پر عشروں پرانے انحصار کو ختم کرنے کا آغاز ہے۔ خلیج فارس کے دفاع کے لیے اب امریکی پینٹاگون کے بجائے ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور پاکستان کی جوہری و روایتی عسکری قوت کو ضامن بنایا گیا ہے۔ اگرچہ بانی ممالک نے اسے خالصتاً ‘دفاعی’ قرار دیا ہے، لیکن واشنگٹن اور نئی دہلی میں اس نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ بلاک خلیج میں امریکی بالادستی کو براہ راست چیلنج کر رہا ہے۔

    ایران کی عسکری صف بندی اور مکہ اتحاد سے ٹکراؤ کے خدشات

    مکہ اکارڈ کے جواب میں تہران نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ‘کاغذی معاہدہ’ قرار دیا ہے۔ ایران اس اتحاد کو اسرائیل کے خلاف ڈھال کے بجائے اپنے گرد گھیرا تنگ کرنے والا ایک ‘سنی عسکری بلاک’ تصور کر رہا ہے۔

    اسی تزویراتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے تہران میں ہنگامی عسکری تبدیلیاں کرتے ہوئے محسن رضائی کو نیا سیکیورٹی چیف اور میجر جنرل علی عبداللہی کو پاسداران انقلاب کا کمانڈر مقرر کیا ہے۔ یہ تمام سخت گیر جرنیل جنگی حکمت عملی کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ ایران نے اپنی روایتی اور پاسداران انقلاب کی افواج کو ایک ہی کمانڈ کے تحت لا کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول سخت کرنے اور وہاں سے گزرنے والے کارگو جہازوں پر فیس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اگرچہ مکہ اتحاد اور ایران کے درمیان براہ راست جنگ کا امکان کم ہے، لیکن یمن کے حوثی باغیوں کے ذریعے سعودی آرامکو پر حملوں اور بحری راستوں کی بندش کی صورت میں نیابتی جنگ تیز ہونے کا پورا خطرہ موجود ہے۔

    شنگھائی کا سیلاب اور عالمی رسدی سلسلے کا بحران

    جب مشرق وسطیٰ بارود کی بو سے مہک رہا ہے، تب چین کے معاشی انجن شنگھائی میں آنے والے سیلاب نے دنیا کو ایک اور پٹڑی پر لا کھڑا کیا ہے۔ 151 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ساحل سے ٹکرانے والے ٹائیفون ڈولفن نے شنگھائی کے جدید ترین بنیادی ڈھانچے اور نکاسی آب کے نظام کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کیا۔

    شہر کے تجارتی اضلاع زیر آب آ چکے ہیں، ہزاروں پروازیں منسوخ ہیں اور وائی گاو چیاؤ اور یانگ شان جیسی دنیا کی مصروف ترین بندرگاہیں بند ہو چکی ہیں۔ شنگھائی کے اس تعطل نے عالمی رسدی سلسلے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، کیونکہ اسمارٹ فونز، مائیکرو چپس اور آٹو پارٹس کا خام مال پھنس جانے سے امریکہ اور یورپ کی مارکیٹیں شدید متاثر ہو رہی ہیں، جو عالمی معیشت میں نئی مہنگائی کا سبب بنے گا۔

    شنگھائی کا یہ منظرنامہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلی اب دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور سیکیورٹی حقیقت بن چکے ہیں۔

    ماحولیاتی انصاف اور پاکستان کی ماحولیاتی سفارت کاری

    اگر چین جیسی عالمی معیشت ماحولیاتی تبدیلیوں کے سامنے بے بس ہو سکتی ہے تو پاکستان کا موسمیاتی بحران زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ پاکستان دنیا میں کاربن کا اخراج کرنے والے ممالک میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے، لیکن گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلابوں کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔

    حال ہی میں آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے 1.3 ارب ڈالر کے ماحولیاتی فنڈ کے بعد پاکستان کی ‘ماحولیاتی سفارت کاری’ کو ایک نیا رخ اپنانا ہوگا۔ پاکستان کو عالمی سطح پر ‘ماحولیاتی انصاف’ کا مقدمہ لڑتے ہوئے امیر ممالک سے خیرات کے بجائے کاربن کا ہرجانہ اور معاوضہ مانگنا ہوگا۔

    اس کے ساتھ ہی، پاکستان کو اپنی اندرونی حکمرانی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک ‘مرکزی ماحولیاتی ڈیٹا بینک’ قائم کرنا ہوگا اور 18ویں ترمیم کے تحت سندھ اور پنجاب جیسی صوبائی حکومتوں کو براہ راست عالمی فنڈز کے حصول کی خودمختاری دینی ہوگی، تاکہ بیوروکریٹک سرخ فیتہ شاہی کا خاتمہ ہو سکے۔

    امریکی دباؤ اور پاکستان کا سفارتی پل

    اس پورے منظرنامے کا سب سے پرپیچ پہلو پاکستان کا سفارتی کردار ہے۔ چین اور روس اس بات کے حامی ہیں کہ مکہ اتحاد اور ایران کے درمیان اس سرد جنگ کو ختم کرایا جائے، کیونکہ ان کا اصل ہدف خطے سے امریکی اثر و رسوخ کو نکالنا ہے۔

    اس ثالثی میں پاکستان، اپنی جغرافیائی حیثیت اور مکہ اکارڈ کا بانی رکن ہونے کی وجہ سے، اگر چاہے تو بیجنگ اور ماسکو کے لیے ایک ‘مرکزی سفارتی پل’ بن سکتا ہے۔ لیکن جیسے ہی پاکستان اس بلاک کا حصہ بن کر ایران اور سعودی عرب کو قریب لانے کی کوشش کرے گا، واشنگٹن کی طرف سے شدید سفارتی اور معاشی دباؤ آئے گا۔ امریکہ آئی ایم ایف کے فنڈز روک کر، ایف اے ٹی ایف یا بھارتی کارڈ استعمال کر کے پاکستان کو بیک فٹ پر لانے کی کوشش کر سکتا ہے۔

    اس امریکی بلیک میلنگ اور معاشی دباؤ سے بچنے کے لیے پاکستان کو چین اور سعودی عرب سے ٹھوس ‘مالیاتی ضمانتیں’ مانگنی ہوں گی۔ ان ضمانتوں میں آئی ایم ایف کا متبادل ہنگامی فنڈ، سعودی عرب کی طرف سے موخر ادائیگیوں پر طویل مدتی تیل کی سپلائی، سی پیک کے قرضوں کی ازسرنو تنظیم، اور ڈالر کے بجائے چینی یوآن میں تجارت کی تحریری یقین دہانیاں شامل ہونی چاہئیں۔

    خلاصہ کلام یہ کہ اگست 2026 کا یہ عالمی منظرنامہ پاکستان کو ایک زبردست لیکن خطرناک موقع فراہم کر رہا ہے۔ شنگھائی کا سیلاب یہ یاد دلاتا ہے کہ سیکیورٹی اب صرف بارود اور ٹینکوں کا نام نہیں، بلکہ ماحول اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔

    پاکستان مکہ اکارڈ کے سائے میں اپنے ایٹمی و عسکری قد کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن کا سفارتی پل تو بن سکتا ہے، لیکن اسے اپنی کمزور معیشت کو بچانے کے لیے چین اور خلیج کی مالیاتی لائف لائن کو مضبوط کرنا ہوگا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو اب تلوار کی دھار پر چلتے ہوئے یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ خیرات مانگنے والا کشکول توڑ کر عالمی اسٹیج پر حق، انصاف اور توازن کی ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔

  • جب شنگھائی ڈوب سکتا ہے تو ہمارا کیا ہوگا؟: کشکول سے موسمیاتی قرضوں کے تبادلے تک کا سفر

    جب شنگھائی ڈوب سکتا ہے تو ہمارا کیا ہوگا؟: کشکول سے موسمیاتی قرضوں کے تبادلے تک کا سفر

    بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی سیاست کے میدان میں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی ‘مکہ مشترکہ بازدار معاہدے’ کی گونج دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں سنی جا رہی تھی، ٹھیک اسی وقت قدرت نے بحر الکاہل کے ساحل پر ایک ایسا تماشا دکھایا جس نے دنیا کے تمام روایتی تزویراتی تھنک ٹینکس کو چونکا کر رکھ دیا۔

    اتوار کی شام 151 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواؤں اور ‘ٹائیفون ڈولفن’ نے چین کے سب سے بڑے معاشی اور صنعتی مرکز، شنگھائی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے، دنیا کا یہ جدید ترین اور معاشی طور پر مضبوط ترین شہر شہری سیلاب کی دلدل میں ڈوب گیا۔ شنگھائی، جو اپنی بلند و بالا عمارات، دنیا کی مصروف ترین بندرگاہ اور فول پروف بنیادی ڈھانچے کے لیے جانا جاتا ہے، وہاں کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔

    دو بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر 940 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، زیر زمین ریل اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی اور 10 لاکھ سے زائد شہریوں کو ہنگامی طور پر نکالنا پڑا۔ شنگھائی کا یہ سیلاب صرف ایک شہر کے ڈوبنے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی برادری اور خاص طور پر پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ممالک کے لیے خطرناک موسمیاتی خطرے کی گھنٹی ہے۔

    یہ بحران ایک بنیادی تزویراتی سوال کھڑا کرتا ہے کہ جب کھربوں ڈالرز کے ذخائر، دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی اور ‘اسپنج سٹی’ جیسا انقلابی نظام رکھنے والی چینی سپر پاور اس عالمی حدت کے سامنے بے بس نظر آتی ہے، تو شدید معاشی بحران، آئی ایم ایف کے قرضوں اور بوسیدہ بنیادی ڈھانچے میں جکڑے پاکستان کا کیا حال ہوگا؟

    عالمی حدت، طوفانوں کا بدلتا ہوا چہرہ

    سائنسی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ موسمیاتی تغیر نے اب روایتی طوفانوں کو ہولناک ہتھیاروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ سمندری سطح کا درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے طوفانوں کو غیر معمولی توانائی مل رہی ہے، جس کے نتیجے میں بارشوں کے انداز بدل چکے ہیں۔

    اب مہینوں کی بارش چند گھنٹوں میں برس جاتی ہے۔ شنگھائی میں بہترین نکاسی آب کے باوجود پانی کا اس سطح پر کھڑا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب دنیا کا کوئی بھی روایتی عمارت ضابطہ یا انجینئرنگ ماڈل مستقبل کے موسمیاتی جھٹکوں کو برداشت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

    پاکستان، جو عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے، لیکن موسمیاتی آفت کی زد میں آنے والے دنیا کے 10 بڑے ممالک میں شامل ہے، اس کے لیے یہ صورتحال زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔

    پاکستان پہلے ہی قطبین کے باہر دنیا کا سب سے بڑا گلیشیروں کا نظام رکھتا ہے، جو اب ریکارڈ رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ شمال میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کے واقعات اور میدانوں میں مون سون کے بدلتے انداز نے پاکستان کے پورے زرعی اور شہری ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 2022 کے سیلاب کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ حالیہ طوفانی بارشوں نے ایک بار پھر ملک کے بالائی علاقوں اور پنجاب کو سیلابی ریلوں کی نذر کر دیا ہے۔

    شنگھائی کے سیلاب کے عالمی معاشی اثرات

    شنگھائی کا بحران صرف ماحولیاتی نہیں، بلکہ اس کا عالمی معیشت اور رسد کے نظام پر براہ راست اور سنگین اثر پڑ رہا ہے۔ شنگھائی اور اس کے گرد و نواح کے صوبے، ژے جیانگ اور جیانگ سو، دنیا بھر کے اسمارٹ فونز، مائیکرو چپس اور گاڑیوں کے پرزوں کی تیاری کا گڑھ ہیں۔ وائی گاؤ چیاؤ اور یانگ شان ٹرمینلز جیسی اہم بندرگاہوں کی عارضی بندش نے بحری کنٹینروں کا ایک ایسا ذخیرہ پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات امریکہ اور یورپ کی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ دنیا بھر میں رسد اور مال برداری کے کرایوں میں اضافہ متوقع ہے، جو پہلے سے جاری عالمی مہنگائی کو مزید ہوا دے گا۔

    موسمیاتی انصاف کا تضاد، کاربن کا گناہ اور ہماری سزا

    اس عالمی بحران کا سب سے بڑا تضاد اس کا غیر منصفانہ ہونا ہے۔ جرمنی، امریکہ اور چین جیسے صنعتی ممالک دنیا کو آلودہ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک ان کے گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ یہیں سے جنم لیتا ہے ‘موسمیاتی انصاف’ کا تصور۔

    پاکستان نے حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں اس مقدمے کو دنیا کے سامنے بڑے جاندار طریقے سے پیش کیا ہے۔ تاہم، حالیہ آئی ایم ایف کے موسمیاتی قرضے کے تحت 1.3 ارب ڈالر کے حصول کے بعد، پاکستان کی ماحولیاتی سفارت کاری ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اب پاکستان کو ‘امداد مانگنے والے ملک’ کی روایتی چھاپ کو مٹا کر ایک سخت اور تزویراتی سفارت کاری کا لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔

    پاکستان کے لیے تزویراتی لائحہ عمل: اندرونی اصلاحات اور سفارتی محاذ

    اس ماحولیاتی اور معاشی جنگ کو جیتنے کے لیے پاکستان کو ایک ایسی دورویہ حکمت عملی کی ضرورت ہے جو بیک وقت اندرونی حکمرانی کی اصلاح اور بیرونی جارحانہ سفارت کاری پر مبنی ہو:

    اسپنج سٹی’ ماڈل کا مقامی نفاذ اور صوبائی خودمختاری

    پاکستان کو چین کے ‘اسپنج سٹیز’ پروگرام سے سیکھنا ہوگا۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں، جہاں چند ملی میٹر کی بارش بھی شہری سیلاب کا سبب بنتی ہے، وہاں ‘سبز چھتوں کی ٹیکنالوجی’، بارش کے باغات اور پانی جذب کرنے والے فرش کو عمارتوں کے ضوابط کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

    اس کے ساتھ ہی، 18ویں آئینی ترمیم کی روح کے مطابق صوبوں کو زیادہ خود مختاری اور بین الاقوامی فنڈز تک براہ راست رسائی دینی چاہیے۔ سندھ کا چیلنج سمندری طوفان اور ساحلی کٹاؤ ہے، جبکہ پنجاب کا چیلنج اسموگ اور شہری سیلاب ہے۔ صوبے وفاقی سرخ فیتہ شاہی سے آزاد ہو کر اپنے مخصوص چیلنجز کے مطابق زیادہ مؤثر اور تیز رفتار منصوبے بنا سکتے ہیں۔

    موسمیاتی اعداد و شمار اور حکمرانی کو جدید بنانا

    بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز، جیسے سبز موسمیاتی فنڈ، سے امداد حاصل کرنے میں پاکستان کو سب سے بڑی مشکل سائنسی اعداد و شمار کی کمی کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ پاکستان کو سپارکو اور محکمہ موسمیات کے اشتراک سے ایک ‘مرکزی قومی موسمیاتی اعداد و شمار بینک’ قائم کرنا چاہیے، تاکہ عالمی فورمز پر سائنسی بنیادوں پر موسمیاتی جواز ثابت کر کے فنڈز جلدی حاصل کیے جا سکیں۔

    اس کے ساتھ ہی، وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تحت بیوروکریٹک سرخ فیتہ شاہی سے پاک ایک خودمختار شعبہ بنایا جائے جو صرف منصوبے تیار کرنے اور مالی معاونت کے حصول کے لیے کام کرے۔

    نقصان اور تلافی فنڈ’ کو متحرک کرنا

    پاکستان نے موسمیاتی کانفرنسوں میں عالمی ‘نقصان اور تلافی فنڈ’ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، لیکن اب تک اس فنڈ میں امیر ممالک کی طرف سے رقم جمع کرانے کی رفتار انتہائی سست ہے۔ پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کے سب سے بڑے بلاک ‘جی 77’ کی قیادت کرتے ہوئے امیر ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اس فنڈ کو خیراتی رقم کے بجائے قانونی معاوضے کے طور پر تسلیم کریں۔

    موسمیاتی قرضوں کے تبادلے’ کا کارڈ

    پاکستان پر اس وقت اربوں ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے، جس کی اقساط ادا کرنا ملکی معیشت کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کو عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سامنے ‘قرضوں کے بدلے ماحولیاتی اقدامات’ کا فارمولا رکھنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مغربی ممالک پاکستان کا وہ قرضہ معاف کر دیں، اور پاکستان اس معاف شدہ رقم کو اپنے ملک میں جنگلات لگانے، ‘اسپنج سٹیز’ بنانے اور سبز توانائی کی طرف منتقل ہونے کے لیے استعمال کرے۔ یہ ایک ‘دونوں کے لیے فائدہ مند’ صورتحال ہوگی۔

    مکہ اکارڈ اور سی پیک کا موسمیاتی گٹھ جوڑ

    پاکستان کو اپنی موسمیاتی سفارت کاری کو اپنے تزویراتی اتحادوں کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ سعودی عرب کے پاس ‘گرین ریاض’ جیسے کھربوں ڈالر کے منصوبے ہیں، جبکہ چین سبز ٹیکنالوجی کا عالمی رہنما ہے۔ پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ مل کر ایک ‘علاقائی موسمیاتی سلامتی بلاک’ بنانا چاہیے، جو مغربی فنڈز پر انحصار کم کر کے ایشیا کے اندر ہی ماحول دوست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے۔

    خلاصہ کلام یہ کہ شنگھائی کا سیلاب اس بات کا حتمی اعلان ہے کہ اب دنیا ‘موسمیاتی تبدیلی کے بعد’ کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں روایتی سلامتی اور فوجی معاہدے، جیسے مکہ اکارڈ، ملکی دفاع کے لیے جتنے بھی اہم ہوں، وہ آپ کو آسمان سے برستی آفتوں سے نہیں بچا سکتے۔

    پاکستان کے پاس اب سستی اور غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ پاکستان کو دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ: ‘ہم خیرات نہیں مانگ رہے، ہم اس تباہی کا ہرجانہ اور انصاف مانگ رہے ہیں جس کے ذمہ دار آپ ہیں!’

    اگر آج دنیا کے امیر ممالک نے پاکستان جیسے صف اول کے متاثرہ ممالک کا ہاتھ نہ تھاما، تو کل یہ تباہی شنگھائی سے ہوتی ہوئی ان کے اپنے جزیروں اور ساحلوں کو بھی نگل جائے گی۔

  • شنگھائی: 29 ممالک نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر دستخط کر دیے

    شنگھائی: 29 ممالک نے ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کے معاہدے پر دستخط کر دیے

    شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن (WAICO) کے قیام کے معاہدے پر 29 ممالک نے دستخط کردیے ہیں۔

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے شہر شنگھائی میں تنظیم کے قیام کے معاہدے پر پاکستان کی جانب سے دستخط کیے۔

    معاہدے کے مطابق ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن ایک آزاد بین الحکومتی بین الاقوامی تنظیم ہوگی، جس کا صدر دفتر شنگھائی میں قائم کیا جائے گا۔

    چین کی جانب سے اس معاہدے پر چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے دستخط کیے، جو چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن بھی ہیں۔ دستخط کی تقریب سالانہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس کے آغاز سے ایک روز قبل شنگھائی میں منعقد ہوئی، جہاں توقع ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی میں بیجنگ کے کردار کے لیے ایک جامع اور بلند حوصلہ وژن پیش کریں گے۔

    توقع ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ جمعہ کو کانفرنس سے خطاب کے دوران مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی میں چین کے کردار کے لیے ایک جامع اور بلند حوصلہ وژن پیش کریں گے۔ اس موقع پر چینی کمپنی ہواوے اپنی اب تک کی جدید ترین مصنوعی ذہانت کمپیوٹنگ کلسٹر کی نمائش بھی کرے گی، جو امریکی ٹیکنالوجی کے متبادل کے طور پر مقامی نظام تیار کرنے کے لیے بیجنگ کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

    صدر شی جن پنگ کی سالانہ ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس (WAIC) میں پہلی بار شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بیجنگ مصنوعی ذہانت کو نہ صرف اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتا ہے بلکہ عالمی مسابقت میں ایک اسٹریٹجک ٹیکنالوجی بھی قرار دیتا ہے۔

    قازقستان، لاؤس، پاکستان، روس اور انڈونیشیا سمیت 29 ممالک کے نمائندوں نے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد یہ تمام ممالک تنظیم کے بانی ارکان بن گئے۔ دستخط کی تقریب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار جمعرات کو چین پہنچے تھے۔ اپنے دورۂ چین کے دوران وزیر خارجہ شنگھائی میں منعقد ہونے والی عالمی مصنوعی ذہانت کانفرنس 2026 میں بھی شرکت کریں گے۔ کانفرنس میں وہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے تاکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور ایسی حکمرانی کی حمایت کی جا سکے جس میں تمام ممالک کو مساوی مواقع میسر ہوں۔

    اس معاہدے کے مطابق یہ تنظیم اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری کرے گی، وسیع مشاورت، مشترکہ تعاون اور سب کے لیے یکساں فائدے کے اصول پر عمل کرے گی، جبکہ اپنی تمام سرگرمیوں میں انسان کو مرکزیت دینے کے تصور کو فروغ دے گی۔

    اس تنظیم کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور عالمی نظم و نسق کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت محفوظ، منصفانہ اور انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ تنظیم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی صحت مند، منظم اور پوری دنیا کے لوگوں کے مفاد میں ہو۔

    چین نے گزشتہ سال اس تنظیم کے قیام کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی، مہارت، تحقیق اور استعداد کار میں مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ تنظیم کا ایک اہم مقصد دنیا میں موجود ‘اے آئی تقسیم’ کو کم کرنا اور ترقی پذیر ممالک کو اس شعبے میں پیچھے رہ جانے سے بچانا بھی ہے۔