بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی سیاست کے میدان میں جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تاریخی ‘مکہ مشترکہ بازدار معاہدے’ کی گونج دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں سنی جا رہی تھی، ٹھیک اسی وقت قدرت نے بحر الکاہل کے ساحل پر ایک ایسا تماشا دکھایا جس نے دنیا کے تمام روایتی تزویراتی تھنک ٹینکس کو چونکا کر رکھ دیا۔
اتوار کی شام 151 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی طوفانی ہواؤں اور ‘ٹائیفون ڈولفن’ نے چین کے سب سے بڑے معاشی اور صنعتی مرکز، شنگھائی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے، دنیا کا یہ جدید ترین اور معاشی طور پر مضبوط ترین شہر شہری سیلاب کی دلدل میں ڈوب گیا۔ شنگھائی، جو اپنی بلند و بالا عمارات، دنیا کی مصروف ترین بندرگاہ اور فول پروف بنیادی ڈھانچے کے لیے جانا جاتا ہے، وہاں کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔
دو بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر 940 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، زیر زمین ریل اور ٹرین سروس معطل کر دی گئی اور 10 لاکھ سے زائد شہریوں کو ہنگامی طور پر نکالنا پڑا۔ شنگھائی کا یہ سیلاب صرف ایک شہر کے ڈوبنے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی برادری اور خاص طور پر پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ممالک کے لیے خطرناک موسمیاتی خطرے کی گھنٹی ہے۔
یہ بحران ایک بنیادی تزویراتی سوال کھڑا کرتا ہے کہ جب کھربوں ڈالرز کے ذخائر، دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی اور ‘اسپنج سٹی’ جیسا انقلابی نظام رکھنے والی چینی سپر پاور اس عالمی حدت کے سامنے بے بس نظر آتی ہے، تو شدید معاشی بحران، آئی ایم ایف کے قرضوں اور بوسیدہ بنیادی ڈھانچے میں جکڑے پاکستان کا کیا حال ہوگا؟
عالمی حدت، طوفانوں کا بدلتا ہوا چہرہ
سائنسی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ موسمیاتی تغیر نے اب روایتی طوفانوں کو ہولناک ہتھیاروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ سمندری سطح کا درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے طوفانوں کو غیر معمولی توانائی مل رہی ہے، جس کے نتیجے میں بارشوں کے انداز بدل چکے ہیں۔
اب مہینوں کی بارش چند گھنٹوں میں برس جاتی ہے۔ شنگھائی میں بہترین نکاسی آب کے باوجود پانی کا اس سطح پر کھڑا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب دنیا کا کوئی بھی روایتی عمارت ضابطہ یا انجینئرنگ ماڈل مستقبل کے موسمیاتی جھٹکوں کو برداشت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
پاکستان، جو عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم کا حصہ دار ہے، لیکن موسمیاتی آفت کی زد میں آنے والے دنیا کے 10 بڑے ممالک میں شامل ہے، اس کے لیے یہ صورتحال زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
پاکستان پہلے ہی قطبین کے باہر دنیا کا سب سے بڑا گلیشیروں کا نظام رکھتا ہے، جو اب ریکارڈ رفتار سے پگھل رہے ہیں۔ شمال میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کے واقعات اور میدانوں میں مون سون کے بدلتے انداز نے پاکستان کے پورے زرعی اور شہری ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 2022 کے سیلاب کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ حالیہ طوفانی بارشوں نے ایک بار پھر ملک کے بالائی علاقوں اور پنجاب کو سیلابی ریلوں کی نذر کر دیا ہے۔
شنگھائی کے سیلاب کے عالمی معاشی اثرات
شنگھائی کا بحران صرف ماحولیاتی نہیں، بلکہ اس کا عالمی معیشت اور رسد کے نظام پر براہ راست اور سنگین اثر پڑ رہا ہے۔ شنگھائی اور اس کے گرد و نواح کے صوبے، ژے جیانگ اور جیانگ سو، دنیا بھر کے اسمارٹ فونز، مائیکرو چپس اور گاڑیوں کے پرزوں کی تیاری کا گڑھ ہیں۔ وائی گاؤ چیاؤ اور یانگ شان ٹرمینلز جیسی اہم بندرگاہوں کی عارضی بندش نے بحری کنٹینروں کا ایک ایسا ذخیرہ پیدا کر دیا ہے جس کے اثرات امریکہ اور یورپ کی منڈیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ دنیا بھر میں رسد اور مال برداری کے کرایوں میں اضافہ متوقع ہے، جو پہلے سے جاری عالمی مہنگائی کو مزید ہوا دے گا۔
موسمیاتی انصاف کا تضاد، کاربن کا گناہ اور ہماری سزا
اس عالمی بحران کا سب سے بڑا تضاد اس کا غیر منصفانہ ہونا ہے۔ جرمنی، امریکہ اور چین جیسے صنعتی ممالک دنیا کو آلودہ کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک ان کے گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ یہیں سے جنم لیتا ہے ‘موسمیاتی انصاف’ کا تصور۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں اس مقدمے کو دنیا کے سامنے بڑے جاندار طریقے سے پیش کیا ہے۔ تاہم، حالیہ آئی ایم ایف کے موسمیاتی قرضے کے تحت 1.3 ارب ڈالر کے حصول کے بعد، پاکستان کی ماحولیاتی سفارت کاری ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ اب پاکستان کو ‘امداد مانگنے والے ملک’ کی روایتی چھاپ کو مٹا کر ایک سخت اور تزویراتی سفارت کاری کا لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔

پاکستان کے لیے تزویراتی لائحہ عمل: اندرونی اصلاحات اور سفارتی محاذ
اس ماحولیاتی اور معاشی جنگ کو جیتنے کے لیے پاکستان کو ایک ایسی دورویہ حکمت عملی کی ضرورت ہے جو بیک وقت اندرونی حکمرانی کی اصلاح اور بیرونی جارحانہ سفارت کاری پر مبنی ہو:
‘اسپنج سٹی’ ماڈل کا مقامی نفاذ اور صوبائی خودمختاری
پاکستان کو چین کے ‘اسپنج سٹیز’ پروگرام سے سیکھنا ہوگا۔ کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں، جہاں چند ملی میٹر کی بارش بھی شہری سیلاب کا سبب بنتی ہے، وہاں ‘سبز چھتوں کی ٹیکنالوجی’، بارش کے باغات اور پانی جذب کرنے والے فرش کو عمارتوں کے ضوابط کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی، 18ویں آئینی ترمیم کی روح کے مطابق صوبوں کو زیادہ خود مختاری اور بین الاقوامی فنڈز تک براہ راست رسائی دینی چاہیے۔ سندھ کا چیلنج سمندری طوفان اور ساحلی کٹاؤ ہے، جبکہ پنجاب کا چیلنج اسموگ اور شہری سیلاب ہے۔ صوبے وفاقی سرخ فیتہ شاہی سے آزاد ہو کر اپنے مخصوص چیلنجز کے مطابق زیادہ مؤثر اور تیز رفتار منصوبے بنا سکتے ہیں۔
موسمیاتی اعداد و شمار اور حکمرانی کو جدید بنانا
بین الاقوامی موسمیاتی فنڈز، جیسے سبز موسمیاتی فنڈ، سے امداد حاصل کرنے میں پاکستان کو سب سے بڑی مشکل سائنسی اعداد و شمار کی کمی کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ پاکستان کو سپارکو اور محکمہ موسمیات کے اشتراک سے ایک ‘مرکزی قومی موسمیاتی اعداد و شمار بینک’ قائم کرنا چاہیے، تاکہ عالمی فورمز پر سائنسی بنیادوں پر موسمیاتی جواز ثابت کر کے فنڈز جلدی حاصل کیے جا سکیں۔
اس کے ساتھ ہی، وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تحت بیوروکریٹک سرخ فیتہ شاہی سے پاک ایک خودمختار شعبہ بنایا جائے جو صرف منصوبے تیار کرنے اور مالی معاونت کے حصول کے لیے کام کرے۔
‘نقصان اور تلافی فنڈ’ کو متحرک کرنا
پاکستان نے موسمیاتی کانفرنسوں میں عالمی ‘نقصان اور تلافی فنڈ’ کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا تھا، لیکن اب تک اس فنڈ میں امیر ممالک کی طرف سے رقم جمع کرانے کی رفتار انتہائی سست ہے۔ پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کے سب سے بڑے بلاک ‘جی 77’ کی قیادت کرتے ہوئے امیر ممالک پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اس فنڈ کو خیراتی رقم کے بجائے قانونی معاوضے کے طور پر تسلیم کریں۔
‘موسمیاتی قرضوں کے تبادلے’ کا کارڈ
پاکستان پر اس وقت اربوں ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے، جس کی اقساط ادا کرنا ملکی معیشت کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کو عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سامنے ‘قرضوں کے بدلے ماحولیاتی اقدامات’ کا فارمولا رکھنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مغربی ممالک پاکستان کا وہ قرضہ معاف کر دیں، اور پاکستان اس معاف شدہ رقم کو اپنے ملک میں جنگلات لگانے، ‘اسپنج سٹیز’ بنانے اور سبز توانائی کی طرف منتقل ہونے کے لیے استعمال کرے۔ یہ ایک ‘دونوں کے لیے فائدہ مند’ صورتحال ہوگی۔
مکہ اکارڈ اور سی پیک کا موسمیاتی گٹھ جوڑ
پاکستان کو اپنی موسمیاتی سفارت کاری کو اپنے تزویراتی اتحادوں کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ سعودی عرب کے پاس ‘گرین ریاض’ جیسے کھربوں ڈالر کے منصوبے ہیں، جبکہ چین سبز ٹیکنالوجی کا عالمی رہنما ہے۔ پاکستان کو ان ممالک کے ساتھ مل کر ایک ‘علاقائی موسمیاتی سلامتی بلاک’ بنانا چاہیے، جو مغربی فنڈز پر انحصار کم کر کے ایشیا کے اندر ہی ماحول دوست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے۔
خلاصہ کلام یہ کہ شنگھائی کا سیلاب اس بات کا حتمی اعلان ہے کہ اب دنیا ‘موسمیاتی تبدیلی کے بعد’ کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں روایتی سلامتی اور فوجی معاہدے، جیسے مکہ اکارڈ، ملکی دفاع کے لیے جتنے بھی اہم ہوں، وہ آپ کو آسمان سے برستی آفتوں سے نہیں بچا سکتے۔
پاکستان کے پاس اب سستی اور غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔ پاکستان کو دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ: ‘ہم خیرات نہیں مانگ رہے، ہم اس تباہی کا ہرجانہ اور انصاف مانگ رہے ہیں جس کے ذمہ دار آپ ہیں!’
اگر آج دنیا کے امیر ممالک نے پاکستان جیسے صف اول کے متاثرہ ممالک کا ہاتھ نہ تھاما، تو کل یہ تباہی شنگھائی سے ہوتی ہوئی ان کے اپنے جزیروں اور ساحلوں کو بھی نگل جائے گی۔

