Tag: ریلوے اسٹیشن

  • سندھ: عمرکوٹ کے ڈھورونارو ریلوے اسٹیشن، جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سفر کیا

    سندھ: عمرکوٹ کے ڈھورونارو ریلوے اسٹیشن، جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سفر کیا

    سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں واقعہ ڈھورونارو شہر کی ریلوے سٹیشن، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ریلوے کے ذریعے سفر کیا۔
    جہاں انہوں نے مختصر خطاب کیا۔ جيسلمير اور جودھپور کے راجا بھی ریل کے راستے سے ڈھورونارو آئے تھے۔
    ڈھورونارو ریلوی سٹیشن ، جو قیام پاکستان سے پہلے انگریز سرکار کے زیر قیادت قائم ہوا، ایک تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا حامل مقام ہے۔

    یہ ریلوے سٹیشن نہ صرف ٹرانسپورٹ کا ایک اہم مرکز تھا بلکہ اس کے ارد گرد کے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا بھی ایک بڑا سلسلہ تھا۔ 20ویں صدی کے اوائل میں، جب ہندوستان کے بڑے شہروں کے درمیان سفر کرنے کا کوئی اور متبادل نہیں تھا، اس وقت اس ڈھورونارو ریلوے سٹیشن نے مال و متاع اور تجارت کے تبادلے میں اہم کردار ادا کیا۔
    یہ سٹیشن مونا باؤ سے میر پورخاص تک ریلوے لائن کا حصہ تھا، جو اس علاقے میں لوگوں کے آمد و رفت کی ایک سہولت فراہم کرتا تھا۔ یہاں نہ صرف مقامی لوگ بلکہ دور دراز کے علاقے سے بھی لوگ روزگار کی تلاش میں آتے تھے۔ ڈھورونارو کا کاروباری مرکز بننے کے پیچھے یہاں قائم ہونے والی فیکٹریوں کا بھی بڑا ہاتھ تھا، جو مقامی لوگوں کو ملازمت فراہم کرتی تھیں۔

    ڈھورونارو کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک بار اس ریلوی سٹیشن کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس سٹیشن کے ذریعے سفر کیا اور یہاں مختصر خطاب بھی کیا۔ اس واقعے نے اس جگہ کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا۔ یہ ان کی قیادت کا ایک لمحہ تھا، جس نے لوگوں کی قومی تحریک میں جوش و ولولہ پیدا کیا۔

    اس سٹیشن کی تاریخی حیثیت اس کے ڈھانچے، طرز تعمیر اور یہاں کی وہ یادیں ہیں جو لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں۔ آج بھی، یہ سٹیشن نہ صرف اپنے ماضی کی کہانیوں کو سناتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان کی تاریخ سے جوڑتا ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں ایک خاص قسم کی روحانیت اور قومی جذبہ موجود ہے، جو ملک کے اتحاد اور سلامتی کی علامت ہے۔
    ڈھورونارو ریلوی سٹیشن کی شاندار تاریخ ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ یہ صرف ایک ٹرانزٹ پوائنٹ نہیں ہے، بلکہ ایک اہم ثقافتی اور معاشیاتی مرکز تھا، جو آج بھی اپنے ماضی کے آثار کی گواہی دیتا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جو ہمیں ہمارے قومی ورثے کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔

    یہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق ڈھورونارو ایک زمانے میں تجارت و کاروبار کا بڑا مرکز تھا، یہ شہر بئراجی اور صحرائی علائقوں کے مکینون کی ذریعہ معاش ہوا کرتا تھا، ہندوستان سے تجارت کے لیے لوگ ریل گاڑی کے ذریعے ڈھورونارو آتے تھے۔

    مقامی سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت محمد ہاشم مہر نے ساگا ڈجیٹل کو بتایا کہ ڈھورونارو سندھ کا تاریخی، ٹقافتی، اور تجارتی شہر تھا، ایک دور تھا کہ یہاں فیکٹریاں ڈھورونارو کا تعارف تھیں، دور دراز سے لوگ روزگار کیلئے یہاں آتے تھے۔ ڈھورونارو سے جڑی ناقابل فراموش تاریخ ہے۔

    محمد ہاشم نے مزید بتایا کہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی ریل گاڑی کے زریعے ڈھورونارو پہنچے تھے، جيسلمير اور جودھپور کے راجا بھی ریل کے راستے سے ڈھورونارو آئے تھے۔
    مقامی سینئر صحافی عارف قریشی نے ساگا ڊیجيٹل کو بتایا کہ دھورونارو ایک دور میں مچھلی، کپاس اور مرچی کا مرکز تھا، وہ دور شہر اور پسگردائی کی خوشحالی کا دور تھا۔ آج بھی ماروی ایکسپریس کھوکھروپار سے ميرپورخاص چلتی ہے، لیکن مقرر اوقات پر گاڑی کے نہ آنے اور بوگیان کم ہونے کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔

  • ساگا تحقیق: برطانوی دور میں تعمیر ہونے والی کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی پوشیدہ تاریخ

    ساگا تحقیق: برطانوی دور میں تعمیر ہونے والی کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی پوشیدہ تاریخ

    کراچی انہتائی تیز رفتار والا شہر ہے، مگر اس کی گلیوں، عمارتوں اور راستوں میں ایسی کہانیاں دفن ہیں جن تک آج بھی بہت کم لوگوں کی رسائی ہے۔ انہی میں ایک کہانی کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی بھی ہے، جو آج ہمیں ایک عام سا مسافر گزرگاہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پتھروں اور دیواروں میں برطانوی دور کی وہ تاریخ محفوظ ہے جو کبھی کھل کر بیان نہ کی جا سکی۔

    ساگا ڈیجیٹل کی تحقیق کے مطابق اس اسٹیشن کی بنیاد کسی عام شہری کے سفر کے لیے نہیں رکھی گئی تھی۔ برطانوی حکومت نے اسے ایک خالص فوجی ضرورت کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اس زمانے میں یہ پورا علاقہ مکمل عسکری زون ہوا کرتا تھا، جہاں آنے جانے کے راستے، پلیٹ فارم کی ساخت اور اندرونی راستے سب جنگی منصوبہ بندی کے مطابق بنائے گئے تھے۔ یہاں ہر حرکت فوجی نظم کے تحت چلتی تھی اور عام شہری اس حصے کے قریب بھی نہیں آ سکتے تھے۔

    یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ اسٹیشن کے پچھلے حصے میں ایک خفیہ فوجی پلیٹ فارم بنایا گیا تھا۔ اس پلیٹ فارم پر اسلحہ، رسد، فوجی اہلکار اور گھوڑے تک منتقل کیے جاتے تھے، وہ بھی اس خاموشی کے ساتھ کہ مسافروں کو اس کی موجودگی کا احساس تک نہ ہو۔ آج بھی یہ جگہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، مگر عوام کے لیے بند ہے اور اس کی دیواروں میں وہی پرانی خاموشی گونجتی ہے۔

    کینٹ اسٹیشن کا زیرِزمین حصہ بھی اپنی جگہ ایک الگ داستان رکھتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں تنگ سرنگیں ہوا کرتی تھیں جن کے ذریعے سامان براہِ راست پلیٹ فارم تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہ سرنگیں وقت کے ساتھ ختم تو ہو گئیں، مگر ان کے نشانات آج بھی اسٹیشن کی گہرائیوں میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ کچھ بوڑھے ملازم اب بھی ان سرنگوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جیسے وہ کل کی بات ہو۔

    ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ کراچی کی پرانی ٹرام کا آخری اسٹاپ بھی یہی کینٹ اسٹیشن تھا۔ اس زمانے میں ٹرام اور ٹرین کا ملاپ اس شہر کی زندگی کا دھڑکتا ہوا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ایک طرف سے ٹرام میں آتے اور سیدھے ٹرین پکڑ کر مختلف شہروں کا سفر کرتے تھے۔ یہ منظر اب یادوں میں ہے مگر کبھی شہر کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔

    انیس سو ساٹھ کی دہائی میں کینٹ اسٹیشن سندھ بھر سے آنے والے کارگو کا اہم مرکز بن چکا تھا۔ اناج، کپاس، سبزیاں اور سامانِ تجارت ٹرینوں کے ذریعے یہاں لایا جاتا اور یہی سے پورے ملک میں منتقل ہوتا تھا۔ عمارت کے اوپر بنا وہ چھوٹا سا برج، جو آج خالی اور خاموش کھڑا ہے، کبھی ریلوے یارڈ کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ وہاں سے پورے علاقے کی سرگرمیاں دیکھی جاتی تھیں اور اسی کی اونچائی سے ٹرینوں کی آمدورفت کنٹرول کی جاتی تھی۔

    پاکستان بننے کے بعد بھی یہ اسٹیشن منفرد حیثیت رکھتا رہا۔ کچھ عرصہ ایسا بھی تھا جب یہاں بورڈ تین نہیں بلکہ چار زبانوں میں لکھے جاتے تھے۔ اردو، سندھی، انگریزی اور حتیٰ کہ ہندی تک کے بورڈ یہاں نظر آتے تھے، جو اس جگہ کی تہذیبی اور تاریخی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔

    کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن آج ہمیں ایک مصروف مسافر ٹرمینل دکھائی دیتا ہے، مگر یہ محض ایک اسٹیشن نہیں۔ یہ شہر کی ان پوشیدہ کہانیوں کا حصہ ہے جو ان بند راستوں، دیواروں اور خاموش پلیٹ فارموں میں آج بھی سانس لے رہی ہیں۔ یہ وہ تاریخ ہے جو شہر کی روح کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، چاہے وقت نے اسے دھول میں کیوں نہ چھپا دیا ہو۔