کراچی انہتائی تیز رفتار والا شہر ہے، مگر اس کی گلیوں، عمارتوں اور راستوں میں ایسی کہانیاں دفن ہیں جن تک آج بھی بہت کم لوگوں کی رسائی ہے۔ انہی میں ایک کہانی کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن کی بھی ہے، جو آج ہمیں ایک عام سا مسافر گزرگاہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے پتھروں اور دیواروں میں برطانوی دور کی وہ تاریخ محفوظ ہے جو کبھی کھل کر بیان نہ کی جا سکی۔
ساگا ڈیجیٹل کی تحقیق کے مطابق اس اسٹیشن کی بنیاد کسی عام شہری کے سفر کے لیے نہیں رکھی گئی تھی۔ برطانوی حکومت نے اسے ایک خالص فوجی ضرورت کے تحت تعمیر کیا تھا۔ اس زمانے میں یہ پورا علاقہ مکمل عسکری زون ہوا کرتا تھا، جہاں آنے جانے کے راستے، پلیٹ فارم کی ساخت اور اندرونی راستے سب جنگی منصوبہ بندی کے مطابق بنائے گئے تھے۔ یہاں ہر حرکت فوجی نظم کے تحت چلتی تھی اور عام شہری اس حصے کے قریب بھی نہیں آ سکتے تھے۔
یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ اسٹیشن کے پچھلے حصے میں ایک خفیہ فوجی پلیٹ فارم بنایا گیا تھا۔ اس پلیٹ فارم پر اسلحہ، رسد، فوجی اہلکار اور گھوڑے تک منتقل کیے جاتے تھے، وہ بھی اس خاموشی کے ساتھ کہ مسافروں کو اس کی موجودگی کا احساس تک نہ ہو۔ آج بھی یہ جگہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، مگر عوام کے لیے بند ہے اور اس کی دیواروں میں وہی پرانی خاموشی گونجتی ہے۔
کینٹ اسٹیشن کا زیرِزمین حصہ بھی اپنی جگہ ایک الگ داستان رکھتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں تنگ سرنگیں ہوا کرتی تھیں جن کے ذریعے سامان براہِ راست پلیٹ فارم تک پہنچایا جاتا تھا۔ یہ سرنگیں وقت کے ساتھ ختم تو ہو گئیں، مگر ان کے نشانات آج بھی اسٹیشن کی گہرائیوں میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ کچھ بوڑھے ملازم اب بھی ان سرنگوں کی کہانیاں سناتے ہیں، جیسے وہ کل کی بات ہو۔
ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ کراچی کی پرانی ٹرام کا آخری اسٹاپ بھی یہی کینٹ اسٹیشن تھا۔ اس زمانے میں ٹرام اور ٹرین کا ملاپ اس شہر کی زندگی کا دھڑکتا ہوا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ایک طرف سے ٹرام میں آتے اور سیدھے ٹرین پکڑ کر مختلف شہروں کا سفر کرتے تھے۔ یہ منظر اب یادوں میں ہے مگر کبھی شہر کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔
انیس سو ساٹھ کی دہائی میں کینٹ اسٹیشن سندھ بھر سے آنے والے کارگو کا اہم مرکز بن چکا تھا۔ اناج، کپاس، سبزیاں اور سامانِ تجارت ٹرینوں کے ذریعے یہاں لایا جاتا اور یہی سے پورے ملک میں منتقل ہوتا تھا۔ عمارت کے اوپر بنا وہ چھوٹا سا برج، جو آج خالی اور خاموش کھڑا ہے، کبھی ریلوے یارڈ کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ وہاں سے پورے علاقے کی سرگرمیاں دیکھی جاتی تھیں اور اسی کی اونچائی سے ٹرینوں کی آمدورفت کنٹرول کی جاتی تھی۔
پاکستان بننے کے بعد بھی یہ اسٹیشن منفرد حیثیت رکھتا رہا۔ کچھ عرصہ ایسا بھی تھا جب یہاں بورڈ تین نہیں بلکہ چار زبانوں میں لکھے جاتے تھے۔ اردو، سندھی، انگریزی اور حتیٰ کہ ہندی تک کے بورڈ یہاں نظر آتے تھے، جو اس جگہ کی تہذیبی اور تاریخی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔
کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن آج ہمیں ایک مصروف مسافر ٹرمینل دکھائی دیتا ہے، مگر یہ محض ایک اسٹیشن نہیں۔ یہ شہر کی ان پوشیدہ کہانیوں کا حصہ ہے جو ان بند راستوں، دیواروں اور خاموش پلیٹ فارموں میں آج بھی سانس لے رہی ہیں۔ یہ وہ تاریخ ہے جو شہر کی روح کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، چاہے وقت نے اسے دھول میں کیوں نہ چھپا دیا ہو۔
