Tag: رمضان المبارک

  • رمضان کی راتیں، کوٹلی کی گلیاں اور اسٹریٹ کرکٹ کا شور

    رمضان کی راتیں، کوٹلی کی گلیاں اور اسٹریٹ کرکٹ کا شور

    رمضان المبارک کا مہینہ عبادت، صبر اور روحانی سکون کا پیغام لے کر آتا ہے۔ مگر اسی مہینے کی شامیں اور راتیں کئی شہروں اور قصبوں میں ایک اور رنگ بھی دکھاتی ہیں، کھیل اور خوشی کا رنگ۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے شہر کوٹلی میں افطار کے بعد یہی منظر گلیوں میں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں نوجوان اور بچے اسٹریٹ کرکٹ کے ذریعے رمضان کی خوشیوں کو اور بڑھا دیتے ہیں۔

    افطار ہوتے ہی جب مساجد سے تراویح کی آوازیں گونجتی ہیں اور بازاروں کی رونقیں بڑھنے لگتی ہیں، اسی وقت کوٹلی کی کئی گلیاں کرکٹ کے چھوٹے میدانوں میں بدل جاتی ہیں۔ کہیں پتھروں کو وکٹ بنا دیا جاتا ہے تو کہیں اینٹوں کو جوڑ کر اسٹمپ کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ روشنی کبھی اسٹریٹ لائٹ کی ہوتی ہے اور کبھی گھروں کے باہر لگے بلبوں کی۔

    اس خطے میں اسٹریٹ کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ثقافت بن چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق عہدیداروں اور کئی سابق کھلاڑیوں نے بھی بارہا کہا ہے کہ ملک کے بیشتر بڑے کرکٹرز نے اپنے سفر کا آغاز گلیوں کی کرکٹ سے ہی کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجود نوجوانوں کا جوش کم نہیں ہوتا۔

    کوٹلی کی گلیوں میں کھیلی جانے والی اس کرکٹ کے اپنے منفرد قوانین بھی ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بیٹسمین بہت زور دار شاٹ لگا دے اور گیند کسی دور دراز جگہ جا گرے تو بعض اوقات مقامی اصول کے مطابق اسے آؤٹ قرار دے دیا جاتا ہے تاکہ کھیل جاری رہ سکے اور گیند تلاش کرنے میں زیادہ وقت ضائع نہ ہو۔

    افطار کے بعد شروع ہونے والے یہ میچ اکثر رات گئے تک جاری رہتے ہیں۔ گلیوں میں قہقہے گونجتے ہیں، بچے خوشی سے شور مچاتے ہیں اور نوجوان ہر شاٹ پر داد دیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق روزے کے دوران دن بھر کی تھکن کے بعد ہلکی جسمانی سرگرمی نہ صرف توانائی بحال کرتی ہے بلکہ ذہنی دباؤ بھی کم کرتی ہے۔ اسی لیے بہت سے نوجوان رمضان کی راتوں میں کھیل کو تفریح کے ساتھ صحت مند سرگرمی بھی سمجھتے ہیں۔

    کوٹلی کی یہ گلیاں ہر سال رمضان میں یہی پیغام دیتی ہیں کہ عبادت کے ساتھ خوشی، میل جول اور کھیل بھی زندگی کا خوبصورت حصہ ہیں۔ یہی وہ رنگ ہیں جو رمضان کی راتوں کو یادگار بنا دیتے ہیں، اور یہی وہ کہانیاں ہیں جنہیں ساگا ڈیجیٹل آپ تک پہنچاتا رہتا ہے۔

  • کراچی: ملیے رمضان المبارک کے دوران افطار کا اہتمام کرنے والے ہندو نوجوانوں کے گروپ کے رکن کُنال کمار سے

    کراچی: ملیے رمضان المبارک کے دوران افطار کا اہتمام کرنے والے ہندو نوجوانوں کے گروپ کے رکن کُنال کمار سے

    کراچی میں ہندو نوجوانوں کے گروپ کے رکن کُنال کمار اور ان کے دوست گزشتہ کئی سالوں سے ہر سال رمضان المبارک کے مہینے میں افطار کا اہتمام کر رہے ہیں۔

    ان نوجوانوں کی جانب سے کراچی کے کلفٹن بلاک 8 میں واقع ایدھی مرکز کے سامنے روڈ کنارے لگائی جانے والی افطار میں ماہ رمضان کے دوران 200 سے 250 لوگ افطار کرنے آتے ہیں، جن میں آس پاس کی عمارتوں کے چوکیدار، مزدور، رکشہ ڈرائیور اور دیگر افراد شرکت کرتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نوجوان کُنال کمار نے کہا: ’ہمارے پاس جگہ نہیں تھی۔ ہم نے ایدھی فاؤنڈیشن سے جگہ کے لیے درخواست کی تو انہوں نے ہمیں ایدھی مرکز کلفٹن کے سامنے جگہ دی، جہاں ہم چھ سالوں سے ہر سال رمضان میں افطار لگاتے ہیں۔‘

    ان دوستوں کے گروپ کی جانب سے لگائے گئے افطار میں کھجور، پھل، سموسے، شربت کے ساتھ بریانی شامل ہوتی ہے۔

    کُنال کمار کے مطابق جب وہ یونیورسٹی کے طالب علم تھے تو اس وقت انہوں نے اپنے چند مسلمان دوستوں کو افطار کرانا شروع کیا، مگر بعد میں ان کے دوست بیرون ممالک چلے گئے۔

    کُنال کمار کے مطابق: ’جب میرے دوست بیرون ملک چلے گئے اور رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے سوچا کہ افطار کو جاری رہنا چاہیے۔ میں نے اپنے ہندو دوستوں سے بات چیت کی تو انہوں نے نہ صرف میری ہمت افزائی کی بلکہ میرا ساتھ دینے کا بھی وعدہ کیا۔‘

    کُنال اور ان کے دوست مختلف کاروبار کرتے ہیں، مگر رمضان میں افطار کے لیے وقت نکالتے ہیں۔

    بقول کُنال: ’ہم رمضان میں روزانہ افطار سے قبل سامان لا کر ایدھی مرکز آتے ہیں۔ پھل کاٹنے، شربت بنانے کے ساتھ پھلوں اور بریانی کے تھال تیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد روڈ کے برابر فٹ پاتھ پر دریاں بچھا کر افطار لگاتے ہیں۔‘

    ’ہمارے افطار میں روزانہ 200 سے 250 افراد افطار کرتے ہیں، جن میں اکثریت آس پاس کے دفاتر میں کام کرنے والے چوکیداروں، مزدوروں اور سکیورٹی گارڈز کی ہوتی ہے۔ ہم بغیر کسی پوچھ گچھ کے افطار کراتے ہیں۔ کسی سے یہ بھی نہیں پوچھتے کہ انہوں نے روزہ رکھا ہے یا نہیں۔ ہمارا مقصد ہے لوگوں کو کھانا کھلایا جائے۔‘

    کُنال کا کہنا تھا کہ ’یہ سندھ کی صوفی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔ سندھ میں ہندو اور مسلمان بغیر مذہبی تفریق کے آپس میں مل کر مذہبی تہوار ہم آہنگی سے مناتے ہیں۔‘

    ’جب تک جان ہے، رمضان المبارک میں لوگوں کے لیے افطار کا اہتمام کرتے رہیں گے۔‘