کراچی میں ہندو نوجوانوں کے گروپ کے رکن کُنال کمار اور ان کے دوست گزشتہ کئی سالوں سے ہر سال رمضان المبارک کے مہینے میں افطار کا اہتمام کر رہے ہیں۔
ان نوجوانوں کی جانب سے کراچی کے کلفٹن بلاک 8 میں واقع ایدھی مرکز کے سامنے روڈ کنارے لگائی جانے والی افطار میں ماہ رمضان کے دوران 200 سے 250 لوگ افطار کرنے آتے ہیں، جن میں آس پاس کی عمارتوں کے چوکیدار، مزدور، رکشہ ڈرائیور اور دیگر افراد شرکت کرتے ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نوجوان کُنال کمار نے کہا: ’ہمارے پاس جگہ نہیں تھی۔ ہم نے ایدھی فاؤنڈیشن سے جگہ کے لیے درخواست کی تو انہوں نے ہمیں ایدھی مرکز کلفٹن کے سامنے جگہ دی، جہاں ہم چھ سالوں سے ہر سال رمضان میں افطار لگاتے ہیں۔‘
ان دوستوں کے گروپ کی جانب سے لگائے گئے افطار میں کھجور، پھل، سموسے، شربت کے ساتھ بریانی شامل ہوتی ہے۔
کُنال کمار کے مطابق جب وہ یونیورسٹی کے طالب علم تھے تو اس وقت انہوں نے اپنے چند مسلمان دوستوں کو افطار کرانا شروع کیا، مگر بعد میں ان کے دوست بیرون ممالک چلے گئے۔
کُنال کمار کے مطابق: ’جب میرے دوست بیرون ملک چلے گئے اور رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے سوچا کہ افطار کو جاری رہنا چاہیے۔ میں نے اپنے ہندو دوستوں سے بات چیت کی تو انہوں نے نہ صرف میری ہمت افزائی کی بلکہ میرا ساتھ دینے کا بھی وعدہ کیا۔‘
کُنال اور ان کے دوست مختلف کاروبار کرتے ہیں، مگر رمضان میں افطار کے لیے وقت نکالتے ہیں۔
بقول کُنال: ’ہم رمضان میں روزانہ افطار سے قبل سامان لا کر ایدھی مرکز آتے ہیں۔ پھل کاٹنے، شربت بنانے کے ساتھ پھلوں اور بریانی کے تھال تیار کرتے ہیں۔ اس کے بعد روڈ کے برابر فٹ پاتھ پر دریاں بچھا کر افطار لگاتے ہیں۔‘
’ہمارے افطار میں روزانہ 200 سے 250 افراد افطار کرتے ہیں، جن میں اکثریت آس پاس کے دفاتر میں کام کرنے والے چوکیداروں، مزدوروں اور سکیورٹی گارڈز کی ہوتی ہے۔ ہم بغیر کسی پوچھ گچھ کے افطار کراتے ہیں۔ کسی سے یہ بھی نہیں پوچھتے کہ انہوں نے روزہ رکھا ہے یا نہیں۔ ہمارا مقصد ہے لوگوں کو کھانا کھلایا جائے۔‘
کُنال کا کہنا تھا کہ ’یہ سندھ کی صوفی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔ سندھ میں ہندو اور مسلمان بغیر مذہبی تفریق کے آپس میں مل کر مذہبی تہوار ہم آہنگی سے مناتے ہیں۔‘
’جب تک جان ہے، رمضان المبارک میں لوگوں کے لیے افطار کا اہتمام کرتے رہیں گے۔‘
