Tag: جیفری ایپسٹین

  • جیفری ایپسٹین کی موت معمہ حل نہ ہوسکا: نئی فرانزک رپورٹ نے خودکشی والے سرکاری دعویٰ کو رد کردیا

    جیفری ایپسٹین کی موت معمہ حل نہ ہوسکا: نئی فرانزک رپورٹ نے خودکشی والے سرکاری دعویٰ کو رد کردیا

    جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کی وجہ موت اب بھی معمہ بنی ہوئی ہے۔ سرکاری رپورٹس میں ایپسٹین کی موت کو خود کشی قرار دیا گیا تھا جبکہ بعض فرانزک ماہرین نے اس نتیجے سے اختلاف کرتے ہوئے سرکاری دعویٰ کو رد کردیا ہے۔

    کمسن لڑکیوں کے سوداگر جیفری ایپسٹین امریکی جیل میں 2019 میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بحث کسی منطقی انجام تک پہنچی اور ایپسٹین کی وجہ موت خود کشی غلط ثابت ہوئی تو نئے سوالات جنم لیں گے اوراس وقت کی امریکی انتظامیہ کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔

    سرکاری فرانزک رپورٹ: خودکشی

    ایپسٹین کی موت کے بعد سرکاری پوسٹ مارٹم نیو یارک سٹی آفس آف چیف میڈیکل ایگزامنر نے کیا تھا جس کی رپورٹ میں جیفری ایپسٹین کی موت پھانسی کی وجہ سے ہوئی۔

    سرکاری رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایپسٹین نے جیل کے بستر کی چادر کو بنک بیڈ کے ساتھ باندھ کر پھندا بنایا تاہم جسم پر کسی قسم کی مزاحمت یا قتل کی علامات نہیں ملیں۔

    چیف میڈیکل ایگزامنر ڈاکٹر باربرا سیمپسن نے کہا کہ یہ نتیجہ مکمل پوسٹ مارٹم، جائے وقوعہ کے معائنے اور تمام شواہد کے تفصیلی جائزے کے بعد اخذ کیا گیا۔

    آزاد فرانزک ماہر کا اختلاف

    ایپسٹین کے بھائی نے معروف فرانزک پیتھالوجسٹ ڈاکٹر مائیکل بیڈن کو پوسٹ مارٹم کا مشاہدہ کرنے کے لیے مقرر کیا۔ ڈاکٹر بیڈن کے مطابق ایپسٹین کی بعض چوٹیں خودکشی کے بجائے قتل کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

    فرانزک خدشات: گردن کی متعدد ہڈیوں کا ٹوٹنا

    غیرسرکاری پوسٹ مارٹم اور جانچ کی رپورٹ میں ایپسٹین کی گردن کی تین ہڈیوں کے ٹوٹنے کی نشاندہی کی گئی جن میں ہائیوئیڈ، تھائرائیڈ کارٹلیج اور سروائیکل ہڈی شامل ہیں۔

    ڈاکٹر بیڈن کے مطابق اس قسم کے فریکچر زیادہ تر قتل کے لئے گلا دبانے کے کیسز میں دیکھے جاتے ہیں، خاص طور پر بڑی عمر کے افراد کو گلا دبا کر قتل کیا جائے تو یہی علامات سامنے آتی ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ اگرچہ خودکشی میں بھی ایسے فریکچر ممکن ہیں، لیکن یہ نسبتاً کم ہی دیکھے جاتے ہیں۔

    زخم مشکوک قرار

    ڈاکٹر بیڈن نے کہا کہ گردن کی متعدد ہڈیوں کا ایک ساتھ ٹوٹنا عام جیل کی خودکشیوں میں غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ خودکشی کے زیادہ تر کیسز میں شدید فریکچر کم ہوتے ہیں، متعدد ہڈیوں کا ٹوٹنا بعض اوقات بیرونی طاقت کے استعمال کی نشاندہی کرتا ہے۔

    فرانزک ماہرین کی رائے

    ایپسٹین کی موت کے حوالے سے کچھ فرانزک ما ہرین نے وجہ موت کو مشکوک تو قرار دیا ہے مگرخود کشی کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا ہے۔

    بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پھانسی کے دوران ایسی چوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر بڑی عمر کے افراد میں ان زخموں کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے سے ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں، جس سے فریکچر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بڑی عمر کے افراد میں تقریباً ایک تہائی خودکشی کے کیسز میں اس نوعیت کے فریکچر دیکھے جاتے ہیں

    سرکاری تحقیقات

    ایپسٹین کی موت کی تحقیقات فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) اور امریکی محکمہ انصاف نے بھی کی۔ اور رپورٹس میں بتایا کہ قتل کا کوئی واضح فرانزک ثبوت نہیں ملا۔

    سرکاری رپورٹس میں ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تاہم جیل انتظامیہ کی سنگین غفلت کی نشاندہی ضرور کی گئی تھی۔

    تنازع برقرار رہنے کی وجوہات

    ایپسٹین فائلزنے دنیا بھر کے بااثر ترین افراد کو متاثر کیا ہے اور ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، مبصرین کہتے ہیں فنانسر اور بااثر ترین لوگوں کے رازدار ایپسٹین کی وجہ موت جاننا اس لئے بھی بہت اہم ہے وہ طاقتور ترین لوگوں کا ساتھی تھا۔

    جہاں جیفری ایپسٹین کی وجہ موت زیر بحث ہے وہیں جیل سیکیورٹی کی سنگین غلطیوں کی بھی نشاندہی کی جارہی ہے ۔سی سی ٹی وی فوٹیج نامکمل ہے یا غائب کردی گئی ہے ؟ ایپسٹین کی گردن کی چوٹوں پر فرانزک ماہرین کا اختلاف موجود ہے۔

  • جیفری ایپسٹین اور گلین میکسوئل: جنسی جرائم کے نیٹ ورک کی کہانی

    جیفری ایپسٹین اور گلین میکسوئل: جنسی جرائم کے نیٹ ورک کی کہانی

    جیفری ایپسٹین کمسن لڑکیوں کے جنسی استحصال میں ملوث ایک مجرم تھا۔ اس کے جزیرے پر اس کے بااثر دوست آتے رہے اور وہاں کیا کچھ ہوتا رہا، اس کی تفصیلات اب دنیا کے سامنے آ رہی ہیں۔

    ان جرائم میں اس کی سب سے قریبی ساتھی گلین میکسوئل بھی شامل تھی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس پوری کہانی کا مرکزی کردار تھی اور تقریباً ہر مرحلے پر شریک رہی۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ گلین میکسوئل کون ہے؟

    ایپسٹین اور میکسوئل کی ملاقات 1990 میں نیو یارک میں ہوئی۔ جلد ہی قربت بڑھی اور دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ ایپسٹین ایک بڑا فنانسر تھا اور اس کے پاس دولت تھی، جبکہ میکسوئل کے پاس وہ سماجی حیثیت اور تعلقات تھے جن کی ایپسٹین کو ضرورت تھی۔ یوں یہ تعلق دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔

    گلین میکسوئل 1961 میں فرانس میں پیدا ہوئی۔ وہ ایک بااثر اور طاقتور باپ کی بیٹی تھی۔ پانچ نومبر 1991 کو اس کے والد رابرٹ میکسوئل اسپین کے قریب سمندر میں اپنی کشتی سے گر کر ہلاک ہو گئے۔

    باپ کی موت کے بعد گلین میکسوئل امریکا منتقل ہو گئی۔ وہاں اس کی دوبارہ ملاقات جیفری ایپسٹین سے ہوئی۔ دونوں نے فلوریڈا کے پام بیچ میں رہائش اختیار کی، جو امریکا کے مہنگے اور پوش علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی علاقے میں ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی بااثر شخصیات کے محل نما گھر موجود تھے۔

    یہیں سے ایپسٹین اور میکسوئل نے ایک طاقتور نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔ وقت کے ساتھ کئی اثرورسوخ رکھنے والے افراد اس دائرے میں شامل ہوتے گئے۔ ان میں ڈونلڈ ٹرمپ، بل کلنٹن، بل گیٹس، اسٹیفن ہاکنگ، ایلون مسک، نوم چومسکی اور رچرڈ برینسن جیسے نام زیر بحث رہے۔

    گلین میکسوئل کا کردار کمسن لڑکیوں کو ورغلا کر، جھانسہ دے کر اور قابو میں لانا تھا۔ 1994 سے 2004 کے دوران وہ یہ کام مسلسل کرتی رہی۔ وہ لڑکیوں کو پھنساتیں، ان کی ذہنی تیاری کرتیں اور پھر انہیں ایپسٹین کے سامنے پیش کرتیں۔

    گواہی دینے والی لڑکیوں کے مطابق گلین جان بوجھ کر کمزور اور متوسط طبقے کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو نشانہ بناتی تھیں۔ انہیں مہنگے تحفے دیے جاتے اور نامناسب گفتگو کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا تھا۔

    یہ سلسلہ برسوں تک چلتا رہا۔ ایپسٹین اور میکسوئل بڑے ناموں کو اپنے دائرے میں رکھتے رہے۔ مگر یہ نیٹ ورک آخرکار بے نقاب کیسے ہوا؟

    14 مارچ 2005 کو پام بیچ پولیس کو ایک فون کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والی خاتون نے بتایا کہ پام بیچ کے ایک بنگلے میں اس کی 14 سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ تفتیش آگے بڑھی تو 30 سے زیادہ لڑکیوں کے نام سامنے آئے اور جرم کے طریقۂ کار میں ایک واضح پیٹرن سامنے آیا۔

    تمام متاثرہ لڑکیاں متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھیں اور انہیں ذاتی اخراجات کے لیے اضافی رقم کی ضرورت ہوتی تھی۔ انہیں بتایا جاتا کہ پام بیچ کے ایک بنگلے میں جیفری ایپسٹین نامی شخص رہتا ہے، جو نوجوان لڑکیوں کو مساج کے عوض 200 ڈالر دیتا ہے۔

    انہیں بنگلے تک چھوڑا جاتا، جہاں ایپسٹین زیادتی کرتا، رقم دیتا اور پھر ایک اور لڑکی لانے کی پیشکش کرتا۔ اس پورے عمل میں گلین میکسوئل برابر کی شریک رہی۔

    کیس چلا، مگر الزامات کی سنگینی کے باوجود سزا محدود رہی۔ 2008 میں ایپسٹین کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، مگر وہ صرف 13 ماہ جیل میں گزار کر رہا ہو گیا۔ رہائی کے بعد اس نے دوبارہ وہی سرگرمیاں شروع کر دیں اور بااثر حلقوں میں اس کی آمدورفت جاری رہی۔

    وقت گزرتا رہا۔ جولائی 2019 میں ایپسٹین ایک بار پھر قانون کی گرفت میں آیا۔ نیو یارک میں اس کے بنگلے سے بچوں سے متعلق قابل اعتراض مواد برآمد ہوا۔ اس بار ضمانت مسترد کر دی گئی اور گھر سے جعلی پاسپورٹ بھی ملا، جس سے فرار کی تیاری کا تاثر ملا۔

    جولائی 2020 میں گلین میکسوئل کو گرفتار کر لیا گیا، جو 2012 میں ایپسٹین سے الگ ہو چکی تھی۔ گلین میکسوئل کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو وہ اس وقت کاٹ رہی ہے۔

    حالیہ دنوں میں جیفری ایپسٹین کا نام ایک بار پھر خبروں میں آیا۔ دستاویزات کا ایک بڑا پلندہ منظر عام پر آیا، جسے ایپسٹین فائلز کہا جا رہا ہے۔ ان فائلز میں عدالتی دستاویزات، نجی جہازوں کے سفری ریکارڈ، بدنام زمانہ بلیک بک، ای میلز، مالی لین دین کی تفصیلات اور ہزاروں نام اور نمبرز شامل ہیں۔

    ان دستاویزات میں کم عمر بچوں کی تصاویر کے ساتھ ساتھ کئی بااثر افراد کے نام سامنے آنے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ کلائنٹس لسٹ پر رہی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں وہ بڑے نام شامل ہیں جو کسی نہ کسی سطح پر ایپسٹین سے جڑے رہے۔

    گلین میکسوئل ایپسٹین کے جرائم کی شراکت دار رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ مزید انکشافات کر سکتی ہے؟
    اس سوال کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔

     

  • دنیا کے معروف جنسی اسکینڈل کے مرکزی کردار جیفری ایپسٹین کون تھے؟

    دنیا کے معروف جنسی اسکینڈل کے مرکزی کردار جیفری ایپسٹین کون تھے؟

    دنیا کے معروف جنسی اسکینڈل کے مرکزی کردار جیفری ایپسٹین کا نام ایک دفعہ پھر خبروں کی زینت بنا ہوا ہے۔
    مگر یہ جیفری ایپسٹین ہے کون؟

    جیفری ایک میتھس ٹیچر تھے جو بہت بڑے آدمی بن گئے۔ بڑی بڑی پارٹیز، پرائیویٹ جیٹس اور ایک شان و شوکت والے لائف اسٹائل کی وجہ سے بھی پہچانے جانے لگے۔
    وہ اپنے کلائنٹس کے لاکھوں ڈالرز مینج کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ معروف سیلیبریٹیز، فنکاروں، کاروباری شخصیات اور بڑے سیاست دانوں کے ساتھ ان کا نام جڑنے لگا۔

    ایپسٹین کا نام سیکس ٹریفک اسکینڈل میں پہلی بار 2005 میں اس وقت سامنے آیا جب فلوریڈا میں ایک چودہ سالہ لڑکی کے والدین نے ایپسٹین پر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام لگایا۔ پولیس کو تفتیش کے دوران ایپسٹین کے گھر سے کئی لڑکیوں کی برہنہ تصاویر بھی ملی تھیں، مگر اس وقت ایپسٹین الزامات سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

    پھر 2008 میں ایپسٹین کو 18 ماہ کی قید کی سزا ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ ایپسٹین ایک متنازع ڈیل کے تحت بچنے میں کامیاب ہوا اور معمولی سزا ہوئی۔

    لیکن 2008 میں ہی ایف بی آئی ایپسٹین کے ہاؤس مینجر تک پہنچ گئی اور اہم گواہی حاصل کر لی۔ بعد میں بھی ایپسٹین پر نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات سامنے آتے رہے۔

    2019 میں ایپسٹین کو بالآخر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ اسے نیویارک کی ہائی سیکیورٹی جیل میں رکھا گیا۔ ایک دن وہ اپنے سیل میں بے ہوش پایا گیا۔ اس کی گردن پر کئی نشانات بھی تھے۔ اس واقعے کے بعد ایپسٹین کی نگرانی مزید بڑھا دی گئی۔

    برسوں سے ایپسٹین فائلوں کی جانچ کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔