جیفری ایپسٹین کمسن لڑکیوں کے جنسی استحصال میں ملوث ایک مجرم تھا۔ اس کے جزیرے پر اس کے بااثر دوست آتے رہے اور وہاں کیا کچھ ہوتا رہا، اس کی تفصیلات اب دنیا کے سامنے آ رہی ہیں۔
ان جرائم میں اس کی سب سے قریبی ساتھی گلین میکسوئل بھی شامل تھی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس پوری کہانی کا مرکزی کردار تھی اور تقریباً ہر مرحلے پر شریک رہی۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ گلین میکسوئل کون ہے؟
ایپسٹین اور میکسوئل کی ملاقات 1990 میں نیو یارک میں ہوئی۔ جلد ہی قربت بڑھی اور دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ ایپسٹین ایک بڑا فنانسر تھا اور اس کے پاس دولت تھی، جبکہ میکسوئل کے پاس وہ سماجی حیثیت اور تعلقات تھے جن کی ایپسٹین کو ضرورت تھی۔ یوں یہ تعلق دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔
گلین میکسوئل 1961 میں فرانس میں پیدا ہوئی۔ وہ ایک بااثر اور طاقتور باپ کی بیٹی تھی۔ پانچ نومبر 1991 کو اس کے والد رابرٹ میکسوئل اسپین کے قریب سمندر میں اپنی کشتی سے گر کر ہلاک ہو گئے۔
باپ کی موت کے بعد گلین میکسوئل امریکا منتقل ہو گئی۔ وہاں اس کی دوبارہ ملاقات جیفری ایپسٹین سے ہوئی۔ دونوں نے فلوریڈا کے پام بیچ میں رہائش اختیار کی، جو امریکا کے مہنگے اور پوش علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسی علاقے میں ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی بااثر شخصیات کے محل نما گھر موجود تھے۔
یہیں سے ایپسٹین اور میکسوئل نے ایک طاقتور نیٹ ورک کی بنیاد رکھی۔ وقت کے ساتھ کئی اثرورسوخ رکھنے والے افراد اس دائرے میں شامل ہوتے گئے۔ ان میں ڈونلڈ ٹرمپ، بل کلنٹن، بل گیٹس، اسٹیفن ہاکنگ، ایلون مسک، نوم چومسکی اور رچرڈ برینسن جیسے نام زیر بحث رہے۔
گلین میکسوئل کا کردار کمسن لڑکیوں کو ورغلا کر، جھانسہ دے کر اور قابو میں لانا تھا۔ 1994 سے 2004 کے دوران وہ یہ کام مسلسل کرتی رہی۔ وہ لڑکیوں کو پھنساتیں، ان کی ذہنی تیاری کرتیں اور پھر انہیں ایپسٹین کے سامنے پیش کرتیں۔
گواہی دینے والی لڑکیوں کے مطابق گلین جان بوجھ کر کمزور اور متوسط طبقے کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو نشانہ بناتی تھیں۔ انہیں مہنگے تحفے دیے جاتے اور نامناسب گفتگو کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا تھا۔
یہ سلسلہ برسوں تک چلتا رہا۔ ایپسٹین اور میکسوئل بڑے ناموں کو اپنے دائرے میں رکھتے رہے۔ مگر یہ نیٹ ورک آخرکار بے نقاب کیسے ہوا؟
14 مارچ 2005 کو پام بیچ پولیس کو ایک فون کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والی خاتون نے بتایا کہ پام بیچ کے ایک بنگلے میں اس کی 14 سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ تفتیش آگے بڑھی تو 30 سے زیادہ لڑکیوں کے نام سامنے آئے اور جرم کے طریقۂ کار میں ایک واضح پیٹرن سامنے آیا۔
تمام متاثرہ لڑکیاں متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھیں اور انہیں ذاتی اخراجات کے لیے اضافی رقم کی ضرورت ہوتی تھی۔ انہیں بتایا جاتا کہ پام بیچ کے ایک بنگلے میں جیفری ایپسٹین نامی شخص رہتا ہے، جو نوجوان لڑکیوں کو مساج کے عوض 200 ڈالر دیتا ہے۔
انہیں بنگلے تک چھوڑا جاتا، جہاں ایپسٹین زیادتی کرتا، رقم دیتا اور پھر ایک اور لڑکی لانے کی پیشکش کرتا۔ اس پورے عمل میں گلین میکسوئل برابر کی شریک رہی۔
کیس چلا، مگر الزامات کی سنگینی کے باوجود سزا محدود رہی۔ 2008 میں ایپسٹین کو 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، مگر وہ صرف 13 ماہ جیل میں گزار کر رہا ہو گیا۔ رہائی کے بعد اس نے دوبارہ وہی سرگرمیاں شروع کر دیں اور بااثر حلقوں میں اس کی آمدورفت جاری رہی۔
وقت گزرتا رہا۔ جولائی 2019 میں ایپسٹین ایک بار پھر قانون کی گرفت میں آیا۔ نیو یارک میں اس کے بنگلے سے بچوں سے متعلق قابل اعتراض مواد برآمد ہوا۔ اس بار ضمانت مسترد کر دی گئی اور گھر سے جعلی پاسپورٹ بھی ملا، جس سے فرار کی تیاری کا تاثر ملا۔
جولائی 2020 میں گلین میکسوئل کو گرفتار کر لیا گیا، جو 2012 میں ایپسٹین سے الگ ہو چکی تھی۔ گلین میکسوئل کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو وہ اس وقت کاٹ رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں جیفری ایپسٹین کا نام ایک بار پھر خبروں میں آیا۔ دستاویزات کا ایک بڑا پلندہ منظر عام پر آیا، جسے ایپسٹین فائلز کہا جا رہا ہے۔ ان فائلز میں عدالتی دستاویزات، نجی جہازوں کے سفری ریکارڈ، بدنام زمانہ بلیک بک، ای میلز، مالی لین دین کی تفصیلات اور ہزاروں نام اور نمبرز شامل ہیں۔
ان دستاویزات میں کم عمر بچوں کی تصاویر کے ساتھ ساتھ کئی بااثر افراد کے نام سامنے آنے کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ کلائنٹس لسٹ پر رہی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں وہ بڑے نام شامل ہیں جو کسی نہ کسی سطح پر ایپسٹین سے جڑے رہے۔
گلین میکسوئل ایپسٹین کے جرائم کی شراکت دار رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ مزید انکشافات کر سکتی ہے؟
اس سوال کا جواب آنے والا وقت ہی دے گا۔
