Tag: برسی

  • 20 مئی 1984: فوجی آمر ضیا کی مارشلا کے خلاف لڑنے والے شہید صدیق راہو کی 42ویں برسی کا دن

    20 مئی 1984: فوجی آمر ضیا کی مارشلا کے خلاف لڑنے والے شہید صدیق راہو کی 42ویں برسی کا دن

    سندھ کی تاریخ ایسے بے شمار سورماؤں اور جانبازوں کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے، جنہوں نے اپنی ذاتی خوشیوں، آسائشوں اور سنہری جوانی کو اس دھرتی کے مظلوم، پسے ہوئے اور محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے قربان کر دیا۔

    انہی امر کرداروں میں ایک نام شہید محمد صدیق راہو کا بھی ہے۔ وہ سندھ کے نامور عوامی رہنما، کسانوں اور مزدوروں کی آواز، شہید فاضل راہو کے بڑے صاحبزادے تھے۔ آج کا دن، یعنی 20 مئی، اس عظیم ہیرو کی شہادت کا دن ہے، جس نے آمریت کے سیاہ دور میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔

    جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں جب سندھ سمیت پورا ملک آمریت کے سخت عذاب سے گزر رہا تھا، تب سندھ کے عوام ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) کے پلیٹ فارم پر ڈٹ کر کھڑے ہوئے۔ اس جدوجہد کی پاداش میں شہید فاضل راہو کو جیل کی تاریک کوٹھڑیوں میں قید کر دیا گیا۔

    اس کٹھن وقت میں، جب گھر کا بڑا سہارا قید میں ہو، صدیق راہو کم عمری کے باوجود ایک بہادر اور باہمت نوجوان بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے قید والد کی غیر موجودگی میں چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کی، بلکہ اپنے والد کے سیاسی ورثے اور تحریک کی ذمہ داریوں کو بھی انتہائی جرات کے ساتھ سنبھالا۔ انہوں نے کسانوں، مزدوروں اور محروم طبقات کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث وہ وقت کے ظالم حکمرانوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے۔

    وقت کے جابر حکمران اس نوجوان کے بڑھتے ہوئے سیاسی شعور اور عوامی مقبولیت سے سخت خوفزدہ تھے۔ جس طرح آج کے دور میں کالی ویگو گاڑیاں اور نامعلوم افراد نوجوانوں کو اغوا کر کے لاپتہ کر دیتے ہیں، اسی طرح اُس دور میں بھی ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں راستے سے ہٹانے کی سازش تیار کی گئی۔

    صدیق راہو کی گاڑی کو ایک لینڈ روور گاڑی نے پیچھے سے زور دار ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں ان کی گاڑی الٹ گئی اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔ ظالم قوتوں نے صرف حادثے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انسانیت سوز مظالم کرتے ہوئے ان کے علاج پر بھی پابندیاں عائد کیں تاکہ وہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آخرکار 20 مئی 1984 کو یہ نوجوان، جو کسانوں اور مزدوروں کے حقوق کے لیے لڑ رہا تھا، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہو گیا۔

    صدیق راہو کی شادی کو ابھی ایک سال ہی ہوا تھا۔ وہ اپنے پیچھے چند ماہ کے بیٹے ذوالفقار صدیق راہو، اپنی نوجوان اہلیہ شہناز صدیق راہو، اور بہن بھائیوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔

    جب سینٹرل جیل میں قید والد، شہید فاضل راہو کو اپنے بڑے بیٹے کی شہادت کی خبر ملی، تو وہ منظر پوری سندھ کو ہلا دینے والا تھا۔ مگر ایک عظیم باپ اپنے بیٹے کی قربانی پر ٹوٹنے کے بجائے مزید مضبوط ہو کر کھڑا رہا۔ صدیق راہو کی شہادت کو ابھی ایک سال ہی گزرا تھا اور ان کی پہلی برسی پر تحریک کے ساتھی اور گھر والے غم میں ڈوبے ہوئے تھے کہ دوسری جانب آمریت کی سیاہ قوتوں نے 17 جنوری 1987 کو ایک اور سازش کے تحت شہید فاضل راہو کو بھی شہید کرا دیا۔ باپ اور بیٹے دونوں نے اپنے خون سے اس دھرتی کی آزادی اور کسانوں کے حقوق کی تاریخ رقم کی۔

    شہید صدیق راہو کی پوری زندگی اور شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جمہوریت، آزادی اور محنت کش طبقے کے حقوق کی قیمت ہمیشہ عظیم قربانیوں کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔

    آج شہید صدیق راہو کی برسی کے موقع پر پوری سندھ انہیں اور ان کے عظیم والد شہید فاضل راہو کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ ان کی جدوجہد آج بھی سندھ کے مظلوم طبقے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

    شہید صدیق راہو کو سرخ سلام!

  • باچا خان کے نظریے سے اسمبلی تک، مردوں کی سیاست میں اپنی الگ پہچان بنانے والی بیگم نسیم ولی خان کی چوتھی برسی

    باچا خان کے نظریے سے اسمبلی تک، مردوں کی سیاست میں اپنی الگ پہچان بنانے والی بیگم نسیم ولی خان کی چوتھی برسی

    بیگم نسیم ولی خان پاکستان کی معروف سیاسی رہنما، جمہوریت پسند شخصیت اور پشتون قوم پرست سیاست کے اہم خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون تھیں۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے بانی رہنما خان عبدالولی خان کی اہلیہ اور باچا خان کے خاندان کی بہو تھیں۔ انہیں پاکستان کی پہلی خواتین اپوزیشن لیڈروں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

    بیگم نسیم ولی خان 1936 میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام نسیم شاہ تھا۔ وہ ایک تعلیم یافتہ اور سیاسی شعور رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان، المعروف باچا خان، کے صاحبزادے عبدالولی خان 1948 سے 1953 تک جیل میں نظر بند رہے۔ اس دوران اُن کی پہلی اہلیہ تاج بی بی 1953 میں انتقال کر گئیں، جن سے اُن کے بیٹے اسفندیار ولی خان پیدا ہوئے۔ بعد ازاں 1954 میں ولی خان نے نسیم ولی خان سے دوسری شادی کی۔

    بیگم نسیم ولی خان سے عبدالولی خان کے ایک بیٹے سنگین ولی خان اور ایک بیٹی ڈاکٹر گلالئی ولی خان پیدا ہوئیں۔ اُن کے سگے بیٹے سنگین ولی خان کچھ عرصہ قبل وفات پا گئے تھے۔

    شادی کے بعد وہ عملی سیاست میں مزید متحرک ہوئیں اور نیشنل عوامی پارٹی، بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔

    جب ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر پابندی عائد کی اور ولی خان سمیت بلوچ قوم پرست رہنماؤں نواب خیر بخش مری، سردار عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو، میر شیر محمد مری المعروف جنرل شیروف، میر گل خان نصیر اور دیگر کو غداری اور بغاوت کے الزامات کے تحت سینٹرل جیل حیدرآباد میں قید کیا، تو 1975 میں بیگم نسیم ولی خان اپنے شوہر ولی خان کی جیل میں موجودگی کے باعث عملی سیاست میں آئیں۔

    انہوں نے نیپ، این ڈی پی اور اے این پی کے پلیٹ فارم سے ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ تین مرتبہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن بھی منتخب ہوئیں۔

    1970 اور 1980 کی دہائی میں جب پاکستان میں فوجی حکومتوں اور سیاسی بحرانوں کا دور تھا، اس وقت بیگم نسیم ولی خان نے جمہوریت، پارلیمانی سیاست اور صوبائی حقوق کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ وہ خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک مضبوط آواز سمجھی جاتی تھیں۔

    1977 کے عام انتخابات میں بیگم نسیم ولی خان پہلی خاتون تھیں جنہوں نے سرحد صوبے سے جنرل الیکشن جیت کر قومی اسمبلی کی رکن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی رہیں، اور اس حیثیت سے انہیں پاکستان کی پہلی خاتون اپوزیشن لیڈر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

    بیگم نسیم ولی خان کو ایک باوقار، جرات مند اور اصولی سیاست دان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خواتین کی سیاسی شرکت، جمہوریت، وفاقی اکائیوں کے حقوق اور پشتون شناخت کے مسائل پر کھل کر آواز اٹھائی۔ وہ اکثر فوجی مداخلت اور غیر جمہوری اقدامات پر تنقید کرتی تھیں۔

    ان کے بیٹے اسفندیار ولی خان بھی پاکستان کے معروف سیاست دان اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر رہے۔ اس طرح بیگم نسیم ولی خان ایک ایسے سیاسی خاندان کا حصہ رہیں جس نے برصغیر اور پاکستان کی سیاست پر گہرا اثر چھوڑا۔

    بیگم نسیم ولی خان کے اپنے سوتیلے بیٹے اسفندیار ولی خان کے ساتھ اختلافات بھی رہے۔

    بعد کے برسوں میں وہ عملی سیاست سے نسبتاً دور ہوگئیں، تاہم ان کی سیاسی اور نظریاتی حیثیت برقرار رہی۔ بیگم نسیم ولی خان کا انتقال 16 مئی 2021 کو ہوا۔ ان کی وفات کو پشتون قوم پرست سیاست اور جمہوری جدوجہد کے ایک اہم باب کا اختتام قرار دیا گیا۔

  • ‘پیشہ ور قاتلوں’ سے مخاطب ہونے والے محبت اور مزاحمت کے شاعر احمد فراز

    ‘پیشہ ور قاتلوں’ سے مخاطب ہونے والے محبت اور مزاحمت کے شاعر احمد فراز

    احمد فراز اردو کے ان شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری نے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ بنائی۔ محبت، جدائی، احتجاج اور ضمیر کی آواز ان کی شاعری کے نمایاں موضوعات رہے۔

    احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ فراز تخلص انہوں نے شعوری طور پر اختیار کیا تاکہ شاعری کو ایک الگ شناخت دی جا سکے۔

    وہ 1931 میں آج کے دن 12 جنوری کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے اور 2008 میں اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے اردو اور فارسی ادب میں تعلیم حاصل کی اور عملی زندگی میں ادب سے وابستہ رہے۔ وہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے پہلے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔

    فراز کو خاص طور پر غزل کے شاعر کے طور پر شہرت ملی۔ ان کی کئی غزلیں پاکستان اور انڈیا کے معروف گلوکاروں نے گائیں، جس سے ان کی شاعری وسیع حلقوں تک پہنچی۔ ان کی ایک مقبول غزل کے اشعار ہیں:
    رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
    آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
    اسی طرح ایک اور غزل کے یہ اشعار آج بھی یاد رکھے جاتے ہیں:
    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
    احمد فراز کی شاعری صرف محبت تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے ریاستی جبر، ناانصافی اور آمریت کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ اسی وجہ سے ان کی شاعری میں مزاحمت کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔

    انہیں پاکستان کے اعلیٰ سرکاری اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ احمد فراز کو ہلالِ امتیاز دیا گیا۔ سنہ 2004 میں سابق فوجی آمر مشرف کے دورِ حکومت میں یہ اعزاز دیا گیا، تاہم دو برس بعد انہوں نے سرکاری پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہلالِ امتیاز واپس کر دیا۔

    احمد فراز کی نظم ‘پیشہ ور قاتلوں’ سے خطاب کو ان کی مزاحمتی شاعری کی نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس میں ریاستی تشدد اور آمریت پر براہِ راست سوال اٹھائے گئے۔ نظم کے یہ اشعار ان کے اس موقف کی عکاسی کرتے ہیں:
    آج پشاور سے لاہور و بولان تک
    تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
    ایک آمر کی دستار کے واسطے
    کس کے آگے ہو تم سرنگوں غازیو
    آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے
    اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
    آج تم آئینہ ہو میرے سامنے
    پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں
    یہ موقف ان کی فکری اور اخلاقی وابستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ فراز نے خود اپنی شاعری کے کردار کو ایک شعر میں یوں بیان کیا تھا:

    میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
    احمد فراز کی پہچان ایک ایسے شاعر کی ہے جو محبت بھی لکھتا تھا اور سوال بھی اٹھاتا تھا۔ ان کی شاعری آج بھی پڑھی جاتی ہے، سنی جاتی ہے اور یاد رکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اردو ادب میں ایک مستقل حوالہ بن چکے ہیں۔
    کم لوگ جانتے ہیں کہ احمد فراز صرف رومان کے شاعر نہیں تھے۔ وہ ریاستی جبر اور آمریت کے سخت ناقد تھے، اسی وجہ سے انہیں جلاوطنی بھی اختیار کرنا پڑی۔

    فوجی آمر ضیا کے دور میں فراز نے ملک چھوڑا۔ یہ جلاوطنی خود ساختہ تھی، مگر اس کی وجہ براہِ راست سیاسی دباؤ تھا۔ ان کی مزاحمتی شاعری اسی دور میں زیادہ واضح اور تلخ ہوئی۔

    وہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے سربراہ تھے، مگر فوجی حکومت کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔
    فراز کی کئی محبت بھری نظمیں دراصل سیاسی استعارے بھی رکھتی ہیں۔ محبوب، فاصلہ، جدائی اور وصال اکثر ریاست، عوام اور آزادی کی علامت بن جاتے ہیں۔

    ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ احمد فراز کو عوامی مقبولیت مشاعروں سے ملی، مگر ادبی حلقوں میں انہیں ابتدا میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعد میں یہی شاعری کلاسیک کا درجہ پا گئی۔

    احمد فراز نے پشتو اور فارسی ادب سے بھی اثر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان نرم ہونے کے باوجود وزن رکھتی ہے۔
    فراز کو زندگی میں ہی کلاسیک شاعر مانا گیا۔ یہ اعزاز اردو شاعری میں کم لوگوں کو نصیب ہوا۔
    احمد فراز صرف محبت کا شاعر نہیں تھے۔ وہ نرم لہجے میں مزاحمت لکھنے والے شاعر تھے۔