[rank_math_breadcrumb]

‘پیشہ ور قاتلوں’ سے مخاطب ہونے والے محبت اور مزاحمت کے شاعر احمد فراز

احمد فراز اردو کے ان شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری نے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے دلوں میں بھی جگہ بنائی۔ محبت، جدائی، احتجاج اور ضمیر کی آواز ان کی شاعری کے نمایاں موضوعات رہے۔

احمد فراز کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ فراز تخلص انہوں نے شعوری طور پر اختیار کیا تاکہ شاعری کو ایک الگ شناخت دی جا سکے۔

وہ 1931 میں آج کے دن 12 جنوری کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے اور 2008 میں اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ انہوں نے اردو اور فارسی ادب میں تعلیم حاصل کی اور عملی زندگی میں ادب سے وابستہ رہے۔ وہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے پہلے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔

فراز کو خاص طور پر غزل کے شاعر کے طور پر شہرت ملی۔ ان کی کئی غزلیں پاکستان اور انڈیا کے معروف گلوکاروں نے گائیں، جس سے ان کی شاعری وسیع حلقوں تک پہنچی۔ ان کی ایک مقبول غزل کے اشعار ہیں:
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
اسی طرح ایک اور غزل کے یہ اشعار آج بھی یاد رکھے جاتے ہیں:
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
احمد فراز کی شاعری صرف محبت تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے ریاستی جبر، ناانصافی اور آمریت کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ اسی وجہ سے ان کی شاعری میں مزاحمت کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔

انہیں پاکستان کے اعلیٰ سرکاری اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ احمد فراز کو ہلالِ امتیاز دیا گیا۔ سنہ 2004 میں سابق فوجی آمر مشرف کے دورِ حکومت میں یہ اعزاز دیا گیا، تاہم دو برس بعد انہوں نے سرکاری پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ہلالِ امتیاز واپس کر دیا۔

احمد فراز کی نظم ‘پیشہ ور قاتلوں’ سے خطاب کو ان کی مزاحمتی شاعری کی نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس میں ریاستی تشدد اور آمریت پر براہِ راست سوال اٹھائے گئے۔ نظم کے یہ اشعار ان کے اس موقف کی عکاسی کرتے ہیں:
آج پشاور سے لاہور و بولان تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
ایک آمر کی دستار کے واسطے
کس کے آگے ہو تم سرنگوں غازیو
آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
آج تم آئینہ ہو میرے سامنے
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں
یہ موقف ان کی فکری اور اخلاقی وابستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ فراز نے خود اپنی شاعری کے کردار کو ایک شعر میں یوں بیان کیا تھا:

میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
احمد فراز کی پہچان ایک ایسے شاعر کی ہے جو محبت بھی لکھتا تھا اور سوال بھی اٹھاتا تھا۔ ان کی شاعری آج بھی پڑھی جاتی ہے، سنی جاتی ہے اور یاد رکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اردو ادب میں ایک مستقل حوالہ بن چکے ہیں۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ احمد فراز صرف رومان کے شاعر نہیں تھے۔ وہ ریاستی جبر اور آمریت کے سخت ناقد تھے، اسی وجہ سے انہیں جلاوطنی بھی اختیار کرنا پڑی۔

فوجی آمر ضیا کے دور میں فراز نے ملک چھوڑا۔ یہ جلاوطنی خود ساختہ تھی، مگر اس کی وجہ براہِ راست سیاسی دباؤ تھا۔ ان کی مزاحمتی شاعری اسی دور میں زیادہ واضح اور تلخ ہوئی۔

وہ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے سربراہ تھے، مگر فوجی حکومت کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔
فراز کی کئی محبت بھری نظمیں دراصل سیاسی استعارے بھی رکھتی ہیں۔ محبوب، فاصلہ، جدائی اور وصال اکثر ریاست، عوام اور آزادی کی علامت بن جاتے ہیں۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ احمد فراز کو عوامی مقبولیت مشاعروں سے ملی، مگر ادبی حلقوں میں انہیں ابتدا میں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعد میں یہی شاعری کلاسیک کا درجہ پا گئی۔

احمد فراز نے پشتو اور فارسی ادب سے بھی اثر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان نرم ہونے کے باوجود وزن رکھتی ہے۔
فراز کو زندگی میں ہی کلاسیک شاعر مانا گیا۔ یہ اعزاز اردو شاعری میں کم لوگوں کو نصیب ہوا۔
احمد فراز صرف محبت کا شاعر نہیں تھے۔ وہ نرم لہجے میں مزاحمت لکھنے والے شاعر تھے۔

اسی بارے میں: