Tag: بجٹ 2026-27

  • زاویہ: وفاقی بجٹ، نئی مالیاتی آمریت، صوبوں کے بجٹ سے کٹوتی، عوام کے حقوق پر ڈاکہ

    زاویہ: وفاقی بجٹ، نئی مالیاتی آمریت، صوبوں کے بجٹ سے کٹوتی، عوام کے حقوق پر ڈاکہ

    پاکستان کے بجٹ کی بنیاد آمدنی کے ذرائع، ان سے حاصل ہونے والی متوقع آمدنی، اور جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والی رقوم کی صوبوں میں تقسیم کے تخمینوں پر رکھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دفاع، تنخواہوں اور پنشن جیسے اہم اخراجات، مختلف وزارتوں کے امور کے لیے مختص بجٹ، ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز، اور لیے گئے قرضوں کے سود اور اصل رقم کی ادائیگی بھی بجٹ کا حصہ ہوتی ہے۔

    رواں مالی سال کے لیے مجموعی بجٹ کا حجم 18 ہزار 771 ارب روپے رکھا گیا ہے، جبکہ مجموعی آمدنی کا تخمینہ 20 ہزار ارب روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔ اس میں سے 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکسوں کی مد میں جمع کیے جائیں گے، جن میں سے ایک بڑا حصہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیا جانا ہے۔

    گزشتہ برسوں کی طرح اس مرتبہ بھی بجٹ پیش کرنے سے قبل وفاقی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے مختلف افواہیں گردش کرتی رہیں۔ پہلے یہ تاثر دیا گیا کہ صوبوں کو توڑ کر انہیں کمشنری سطح کی چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ عوامی ردعمل سامنے آنے پر دوسرا شوشہ چھوڑا گیا کہ کراچی اور گوادر کو وفاق کے انتظام میں دیا جائے تاکہ ان کے نظم و نسق کو بہتر بنایا جا سکے اور ان کے مالی وسائل وفاق کے مفاد میں بھی استعمال کیے جا سکیں۔

    اسی سلسلے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ آئینی ترمیم کے ذریعے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی کر کے صوبوں کا حصہ کم کیا جائے گا۔

    اسٹیبلشمنٹ کے اس دباؤ کے نتیجے میں حکمران جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن)، نے پسپائی اختیار کی اور ان کی صوبائی حکومتوں نے بھی اپنے حصے کے مالی وسائل میں کمی قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

    اب جو وفاقی بجٹ منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے، وہ کسی بھی لحاظ سے عوام دوست نہیں، نہ ہی یہ ملک میں پائیدار خوشحالی اور ترقی کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے، جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وفاقی سیکرٹری خزانہ بھی موجود تھے، کہا کہ ’یہ بجٹ سرکاری ملازمین، صنعت کاروں، غیر ملکی تاجروں اور ان ٹھیکیداروں کا ہے جو سرکاری گھر بنائیں گے۔‘ یہ بیان آدھا سچ اس لیے ہے کہ سرکاری ملازمین میں اصل فائدہ گریڈ 17 سے اوپر کے افسران کو پہنچایا گیا ہے، جبکہ سب سے زیادہ فائدہ دفاعی اداروں سے وابستہ ملازمین کو ملا ہے۔ اس کا مالی بوجھ بالآخر صوبوں اور اس ملک کے غریب عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔

    ہر سال بجٹ پیش کرنے سے قبل گزشتہ مالی سال کے بجٹ کے استعمال اور اس کے نتائج کا جائزہ قومی اقتصادی سروے (اکنامک سروے) میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ٹیکس وصولی کے اہداف کس حد تک حاصل ہوئے، مختلف محکموں نے اپنے لیے مختص فنڈز کس حد تک استعمال کیے، اور ان کے نتائج کیا برآمد ہوئے۔

    اسی طرح زراعت، صنعت، غیر ملکی تجارت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خدمات کے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے، ساتھ ہی یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان شعبوں نے ملکی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ میں کتنا اضافہ کیا۔ اس دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا بھی خصوصی جائزہ لیا جاتا ہے۔

    اقتصادی سروے برائے 2025-26 میں خود حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ خدمات کے شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے علاوہ زراعت، غیر ملکی تجارت، صنعتی پیداوار، قومی بچت اور ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل نہیں کیے

    جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی 40 ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ ملک نہ بھیجتے تو ملکی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جاتی۔

    اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ملک میں معاشی ترقی کی وجہ سے فی کس آمدنی بڑھ کر سالانہ 1900 ڈالر، یا پاکستانی کرنسی میں تقریباً پانچ لاکھ تئیس ہزار روپے ہو گئی ہے۔

    مگر جب ماہرینِ معیشت فی کس آمدنی کا حساب لگاتے ہیں تو وہ اربوں روپے کمانے والوں اور دو وقت کی روٹی کو ترسنے والوں کی آمدنی کو یکجا کر کے اسے پوری آبادی پر تقسیم کر دیتے ہیں۔

    اس لیے یہ اعداد و شمار عام آدمی کی حقیقی معاشی حالت کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ صرف یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں، بڑے تاجروں اور دلالوں نے مالی سال 2025-26 کے دوران غیر معمولی منافع کمایا، جبکہ عام عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

    پاکستان کے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کو حکومتی حلقے معاشی استحکام سے ترقی کی جانب سفر کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ سرکاری بیانات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک شدید معاشی بحران سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ لیکن جب بجٹ کے اعداد و شمار، مالیاتی بندوبست اور وسائل کی تقسیم کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

    یہ ایک ایسی معیشت کی تصویر ہے جہاں ترقی کے دعوے تو کیے جا رہے ہیں، مگر وسائل کی تقسیم کے اصول صوبائی حقوق کو کمزور کرنے والے دکھائی دیتے ہیں۔ عوام سے مسلسل قربانیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ مراعات انہی طبقات کو دی جا رہی ہیں جو پہلے ہی اقتدار اور دولت کے مراکز کے قریب ہیں۔

    صوبوں کو بچت پر مجبور کیا جا رہا ہے، لیکن وفاق اپنے اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ غربت میں اضافے کے باوجود دفاعی اخراجات، قرضوں پر سود کی ادائیگی اور اشرافیہ کو دی جانے والی رعایتیں بدستور اولین ترجیح بنی ہوئی ہیں۔

    اس بجٹ کا سب سے متنازع اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو مالی اعتبار سے ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو پاکستان کی وفاقی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا تھا۔

    ان اصلاحات کا مقصد وسائل کی مرکزیت کو کم کرنا، صوبوں کو زیادہ مالی خودمختاری دینا اور مختلف قومی و علاقائی اکائیوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط بنانا تھا۔ مگر موجودہ بجٹ میں اختیار کیا گیا مالیاتی بندوبست یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا پاکستان بتدریج اس راستے سے واپس ہٹ رہا ہے اور ایک مرتبہ پھر ایوب خان کے مارشل لا کے ون یونٹ ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے؟

    وفاق نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے نیشنل فنانس کمیشن اوارڈ کے تحت صوبوں کو پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کے دوران اپنے بجٹ میں سے 18 سو ارب روپے کی بچت کر کے وفاق کو فراہم کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبوں کو اپنی آمدنی اور اخراجات کے درمیان اتنا بڑا مالی سرپلس پیدا کرنا ہوگا، جسے وفاق اپنے مالیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ صوبوں سے اس پیمانے کی مالی قربانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ جب تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی، بلدیاتی ادارے، پینے کے پانی کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور سماجی خدمات جیسی بنیادی ذمہ داریاں صوبوں کے سپرد ہیں تو وہ 1.8 کھرب روپے کی بچت کیسے کریں گے؟ کیا صوبائی

    حکومتیں عوامی خدمات پر اخراجات کم کریں گی؟ کیا ترقیاتی منصوبوں کو مؤخر کر دیا جائے گا؟ کیا صحت اور تعلیم کے بجٹ محدود کیے جائیں گے؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس مالی سرپلس کی اصل قیمت صوبوں کے عوام ہی ادا کریں گے۔

    یہ حصہ بھی ادارت کے بعد پیش ہے۔ میں نے صرف زبان، روانی، جملوں کی ساخت، املا اور رموزِ اوقاف درست کیے ہیں۔ دلیل، اندازِ بیان اور طوالت میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔

    لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ وفاقی حکومت خود آئندہ مالی سال کے لیے 15.264 کھرب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کر رہی ہے۔ عام طور پر ایسی صورتِ حال میں صوبوں کا حصہ بھی اسی تناسب سے بڑھنا چاہیے، لیکن بجٹ میں قابلِ تقسیم پول (ڈویزیبل پول) کو 13.35 کھرب روپے پر منجمد رکھا گیا ہے۔

    دوسرے الفاظ میں، اگر وفاق اپنا ٹیکس ہدف مکمل طور پر حاصل بھی کر لے، تب بھی تقریباً 1.9 کھرب روپے صوبوں کے ساتھ شیئر نہیں کیے جائیں گے۔ اس طرح ایک طرف صوبوں سے 1.8 کھرب روپے کا سرپلس لیا جا رہا ہے اور دوسری طرف 1.9 کھرب روپے قابلِ تقسیم پول سے روکے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صوبے ایک ہزار ارب روپے سے زائد کے اپنے حصے سے محروم ہو جائیں گے۔ اس طرح مجموعی طور پر صوبوں کو تقریباً 3 ہزار ارب روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یہ اعداد و شمار محض مالی حساب کتاب نہیں، بلکہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے سے متعلق ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں۔ جب صوبوں سے اتنی بڑی رقم مالی گنجائش کے نام پر وفاق کی طرف منتقل کی جاتی ہے تو پھر اٹھارہویں آئینی ترمیم کا مقصد، این ایف سی ایوارڈ کا فلسفہ اور صوبائی خودمختاری کا دعویٰ کس حد تک برقرار رہتا ہے؟ خصوصاً سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے صوبے، جو پہلے ہی ترقیاتی پسماندگی، موسمیاتی تبدیلیوں، پانی کی قلت اور بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، ان پر اس نوعیت کی مالی مرکزیت کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    یہاں یہ سوال پاکستان پیپلز پارٹی سے بھی کیا جا سکتا ہے، جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری کا کریڈٹ لیتی ہے، کہ آخر اس نے سندھ کے این ایف سی ایوارڈ کے حصے میں آنے والے وسائل خاموشی سے وفاق کے حوالے کرنے پر، وہ بھی مسلسل تین برس کے لیے، کیوں آمادگی ظاہر کی؟

    اس صورتِ حال کو اگر دفاعی اخراجات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ اس بجٹ کی ترجیحات کس کے گرد گھومتی ہیں۔ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے لیے دفاعی اخراجات کی مد میں 3 ہزار ارب روپے مختص کیے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں یہ رقم تقریباً ڈھائی ہزار ارب روپے تھی، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ لگ بھگ 2 ہزار 100 ارب روپے سے کچھ زائد تھی۔

    اس طرح صرف دو برس کے دوران دفاعی بجٹ میں تقریباً 878 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ فیصد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دفاعی بجٹ میں دو برس کے دوران تقریباً 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت مسلسل مالی خسارے، آئی ایم ایف کی شرائط اور عوام سے قربانیوں کی ضرورت کا ذکر کر رہی ہے۔

    اگر دفاعی بجٹ کی اندرونی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو 967 ارب روپے تنخواہوں اور الاؤنسز، 743 ارب روپے آپریشنل اخراجات، 926 ارب روپے ہتھیاروں، گولہ بارود اور فوجی سازوسامان کی خریداری، جبکہ 363 ارب روپے فوجی عمارتوں اور انفراسٹرکچر کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ صرف ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی خریداری کے لیے رکھی گئی رقم ہی تقریباً ایک کھرب روپے کے قریب بنتی ہے۔

    اس کے علاوہ 822 ارب روپے فوجی پنشنوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو دفاعی بجٹ سے الگ شمار ہوتے ہیں۔ اگر فوجی پنشنوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو مجموعی فوجی اخراجات 3 ہزار 800 ارب روپے سے تجاوز کر جاتے ہیں۔

    وفاقی وزارتِ خزانہ نے 2024 سے نئی بھرتیوں کے لیے پنشن کا پرانا نظام ختم کر کے ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کر کے ریٹائرمنٹ کے وقت انہیں منافع کے ساتھ رقم واپس دی جائے گی۔ تاہم یہ قانون، اعلان کے باوجود، اب تک دفاعی اداروں کے ملازمین پر نافذ نہیں کیا گیا۔

    رواں سال کی بجٹ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر خزانہ نے دفاعی اداروں کے لیے پنشن کے نئے نظام کے نفاذ کو 2027 تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ شاید ایسا ہونا ہی تھا، کیونکہ کہاوت ہے کہ "جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔”

    انگریزی اخبار ڈان نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ جوہری اثاثوں کی ترقی، حفاظت اور ان کے استعمال کے لیے بھی 400 ارب روپے سے زائد مختص کیے جاتے ہیں۔

    اسی طرح بین الاقوامی معاہدوں اور بیرونی قرضوں کے ذریعے حاصل کیے جانے والے فوجی سازوسامان اور عسکری تربیت پر ہونے والے اخراجات بھی دفاعی بجٹ میں شامل نہیں کیے جاتے۔ اگر ان تمام اخراجات کو بھی مجموعی دفاعی اخراجات میں شامل کیا جائے تو یہ رقم تقریباً 5 ہزار ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

    یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ صوبوں سے حاصل کی جانے والی تقریباً 3 ہزار ارب روپے کی رقم کے ذریعے مالی گنجائش پیدا کی جا رہی ہے، اور یہ رقم تقریباً دفاعی بجٹ کے ظاہری حجم کے برابر ہے۔ اس لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا وفاق اپنے مالی بحران کا حل صوبوں کے وسائل کو مرکز کی طرف منتقل کر کے دفاعی اور دیگر مرکزی اخراجات کو برقرار رکھنے میں تلاش کر رہا ہے؟

    اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جہاں دفاعی بجٹ میں 17.7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، وہاں عام سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے صرف 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔

    گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں مہنگائی کی شدید لہر نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خوراک، بجلی، گیس، ادویات، ٹرانسپورٹ اور رہائش کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں 7 فیصد اضافہ عملی طور پر محض ایک علامتی اقدام محسوس ہوتا ہے۔ اگر مہنگائی کے مجموعی اثرات کو مدنظر رکھا جائے تو عام ملازم کی حقیقی آمدنی تقریباً 60 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔

    ایک دیانت دار چپراسی، اسکول کا استاد، چھوٹا کلرک، نرس، پولیس اہلکار یا ریٹائرڈ پنشنر اپنی روزمرہ زندگی کے اخراجات کا جائزہ لے کر آسانی سے محسوس کر سکتا ہے کہ اس کی آمدنی میں اضافے کی رفتار مہنگائی کی رفتار سے کہیں کم ہے۔ نتیجتاً اس کا معیارِ زندگی بہتر ہونے کے بجائے مزید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔

    اگر حکومت واقعی متوسط اور نچلے طبقے کو ریلیف دینا چاہتی تو تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کو مہنگائی کی حقیقی شرح سے منسلک کرنا ضروری تھا۔

    اس کے برعکس، بجٹ میں زیادہ آمدنی والے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں نمایاں رعایتیں دی گئی ہیں۔ لاکھوں روپے سالانہ آمدنی رکھنے والے افسران، کارپوریٹ ملازمین اور اعلیٰ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے۔

    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عام ملازم کو صرف 7 فیصد اضافہ دیا جا رہا ہے تو پھر زیادہ فائدہ انہی لوگوں کو کیوں پہنچایا جا رہا ہے جو پہلے ہی معاشی طور پر نسبتاً محفوظ اور مستحکم حیثیت رکھتے ہیں؟

    اسی طرح صنعت کاروں اور کارپوریٹ شعبے کے لیے بھی بڑی مراعات تجویز کی گئی ہیں۔ سپر ٹیکس میں کمی، مختلف ٹیکسوں میں رعایتوں اور دیگر سہولتوں کے نتیجے میں تقریباً 200 ارب روپے کے ریلیف کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

    حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ مراعات سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیں گی، لیکن پاکستان کی معاشی تاریخ بتاتی ہے کہ اس نوعیت کی رعایتیں اکثر منافع میں تو اضافہ کرتی ہیں، مگر روزگار، اجرتوں اور سماجی بہبود پر ان کے اثرات محدود رہتے ہیں۔

    سوال یہ نہیں کہ صنعتوں کو سہارا دیا جائے یا نہ دیا جائے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب حکومت ہر سطح پر مالی تنگی اور وسائل کی کمی کا ذکر کر رہی ہے تو پھر انہی وسائل کی تقسیم کس سماجی اور معاشی ترجیح کے تحت کی جا رہی ہے؟

    اگر 200 ارب روپے کی رعایت دینے کی گنجائش موجود تھی تو اس کا کتنا حصہ زرعی تحقیق، آبپاشی کے نظام، زرعی قرضوں یا چھوٹے کاشتکاروں کی معاونت کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا؟ اسی طرح اس رقم کا کتنا حصہ سرکاری اسپتالوں اور سرکاری اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانے پر خرچ کیا جا سکتا تھا؟

    رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو دی گئی رعایتیں بھی اسی بحث کو جنم دیتی ہیں۔ جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکسوں میں کمی، مختلف محصولات میں تخفیف یا ان کا خاتمہ، اور تعمیراتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ایک بار پھر رئیل اسٹیٹ کو ترقی کا انجن بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    لیکن پاکستان کے معاشی تجربے سے یہ واضح ہے کہ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری وقتی معاشی سرگرمیاں تو پیدا کرتی ہے، مگر نہ اس سے برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے، نہ صنعت مضبوط ہوتی ہے اور نہ ہی پائیدار روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود جب زراعت اور پیداواری شعبوں کے بجائے رئیل اسٹیٹ کو ترجیح دی جاتی ہے تو اس کے طویل المدتی اثرات ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

    اگر بجٹ کو صرف آمدنی اور اخراجات کے اعداد و شمار تک محدود رکھنے کے بجائے سیاسی معیشت (پولیٹیکل اکانومی) کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک اور اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ پاکستان کے مالی بحران کی بنیادی وجہ نہ صوبوں کے اخراجات ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہیں۔

    وفاقی بجٹ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سب سے بڑا مالی بوجھ قرضوں پر سود کی ادائیگی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران تقریباً 8 ہزار ارب روپے صرف قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم وفاقی حکومت کے ترقیاتی اخراجات سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ اب پیداوار، تعلیم، صحت اور روزگار کے بجائے ماضی میں لیے گئے قرضوں کی قیمت چکانے پر خرچ ہو رہا ہے۔

    یہ وہ قرضے ہیں جو مختلف ادوار میں حکمرانوں نے حاصل کیے، لیکن ان کا بڑا حصہ پیداواری سرمایہ کاری کے بجائے غیر ضروری اخراجات اور حکومتی عیاشیوں پر صرف کیا گیا۔ اگر یہ قرضے مؤثر اور شفاف انداز میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جاتے تو نہ صرف قرضوں کا بوجھ اس حد تک نہ بڑھتا بلکہ ملک کی معاشی ترقی بھی کہیں زیادہ نمایاں ہوتی۔

    ایسی صورتِ حال میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ اگر ملک کے مالی وسائل کا بڑا حصہ قرضوں کے سود اور دفاعی اخراجات پر خرچ ہو رہا ہے تو پھر ترقی کے دعووں کی بنیاد آخر کیا ہے؟ کیا ترقی کا مطلب صرف مالیاتی خسارے کو کم کرنا ہے، یا عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانا بھی اس کا حصہ ہونا چاہیے؟

    اگر غربت کی شرح 22 فیصد سے بڑھ کر 29 فیصد ہو چکی ہو، بے روزگاری برقرار ہو، تعلیم اور صحت کے شعبے بحران کا شکار ہوں، اور صوبوں کے مالی وسائل مسلسل محدود کیے جا رہے ہوں، تو پھر ایسے معاشی استحکام کو عام آدمی اپنی روزمرہ زندگی میں کیسے محسوس کر سکتا ہے؟

    اس ملک میں سب سے زیادہ غیر ملکی زرِ مبادلہ تجارت سے نہیں، بلکہ بیرونِ ملک محنت مزدوری کرنے والے پاکستانی بھیجتے ہیں، جو اپنی سخت محنت کی کمائی وطن واپس بھیج کر معیشت کا سہارا بنتے ہیں۔ مگر اس بجٹ میں ان کے لیے

    نہ کوئی خصوصی تجویز دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ ذکر مالی سہولت رکھی گئی ہے۔ ان کے لیے اکانومی کلاس کے ہوائی ٹکٹوں پر عائد ٹیکس میں بھی کوئی کمی نہیں کی گئی، جبکہ دوسری جانب بزنس کلاس کے ٹکٹوں پر لاکھوں روپے کے ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے، تاکہ سرمایہ دار، جاگیردار، بڑے تاجر، حکمران اور اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ بااثر افراد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ دنیا بھر کے سفر مزید آسانی سے کر سکیں۔

    ایک طرف ملک میں بسوں اور ریل گاڑیوں کے کرائے مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف صاحبِ حیثیت طبقے کے لیے ہر ممکن سہولت پیدا کی جا رہی ہے۔

    ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صوبوں کے بجٹ میں کی جانے والی کٹوتی، جسے رضاکارانہ طور پر وفاق کو واپس کیے جانے والے وسائل کا نام دیا جا رہا ہے، کے ساتھ ساتھ دفاعی اخراجات میں اضافے پر بھی کم از کم پانچ برس کے لیے پابندی عائد کی جاتی، اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ماضی کے قرضوں کی واپسی پر خرچ کی جاتی تاکہ ملک بتدریج قرضوں کے بوجھ سے نجات حاصل کر سکے۔

    اس ملک کی حقیقی ترقی کا پیمانہ عوام کی خوشحالی، بہتر معیارِ زندگی، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع ہونے چاہییں، نہ کہ یہ کہ وزیرِ اعظم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کتنے غیر ملکی دورے کیے یا امریکی صدر ٹرمپ نے ان کی کتنی تعریف کی۔

  • سندھ بجٹ 2026-27 کا تفصیلی جائزہ

    سندھ بجٹ 2026-27 کا تفصیلی جائزہ

    3,562 ارب روپے کے خسارے والا سندھ بجٹ وزیرِ اعلیٰ نے سندھ اسمبلی میں پیش کیا۔ جس میں 75 فیصد آمدنی یعنی 2,263 ارب روپے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے ساتویں ایوارڈ کے تحت آئیں گے، جس میں 147 ارب روپے براہِ راست گیس، پٹرولیم رائلٹی اور گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کے بھی شامل ہیں۔

    جبکہ 25 فیصد آمدنی صوبائی وسائل سے حاصل ہوگی، جس میں اہم مد سروسز پر جی ایس ٹی ہے، جس کا تخمینہ 450 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر سیس 140 ارب، اسٹیمپ ڈیوٹی 40 ارب، موٹر وہیکل ٹیکس 30 ارب، ایکسائز 15 ارب، الیکٹرسٹی ڈیوٹی چھ ارب، زرعی ٹیکس چھ ارب، پراپرٹی ٹیکس 1.4 ارب، بینکوں سے قرض 61 ارب، بیرونی قرض 264 ارب اور گزشتہ سال سے بچے ہوئے 91 ارب روپے شامل ہیں۔

    آمدنی کا تخمینہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، جاری سال میں بھی آمدنی میں 300 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ جاری سال کے دوران زرعی آمدنی کا تخمینہ آٹھ ارب روپے رکھا گیا تھا لیکن صرف 2 ارب روپے ہی وصول ہو سکے۔ لائف انشورنس پر بھی جی ایس ٹی عائد ہے، جو کہ نامناسب ہے اور دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہے۔ انڈیا میں یہ نافذ کیا گیا تھا لیکن گزشتہ سال انشورنس پینیٹریشن کم ہونے کے تجربے کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔

    اخراجات میں اہم اخراجات ملازمین سے متعلق ہیں، جن میں تنخواہیں، گروپ انشورنس، پنشن اور پروویڈنٹ فنڈ شامل ہیں۔ جولائی 2024 سے نئے ملازمین کے لیے پنشن اسکیم تبدیل کر دی گئی ہے، جس سے فوری طور پر تو نہیں لیکن طویل مدت میں پنشن کے اخراجات کم ہوں گے، کیونکہ اب یہ تنخواہ کی بنیاد پر ملنے کے بجائے پنشن کنٹریبیوشن (حصہ داری) کی بنیاد پر ملے گی، جس کا حساب گریڈ، عمر اور جنس کے مطابق ہوگا۔

    جبکہ ترقیاتی بجٹ جاری سال کے 1,000 ارب روپے کے مقابلے میں کم کر کے 400 ارب روپے رکھا گیا ہے، کیونکہ 260 ارب روپے پہلی مرتبہ آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی گرانٹ کے طور پر وفاق کو دیے جائیں گے۔

    بظاہر یہ ایک سال کے لیے ہے لیکن اس میں دو سال تک کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ کے پی (خیبر پختونخوا) نے تب تک یہ گرانٹ دینے سے انکار کیا ہے، جب تک ان کے رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی۔ 400 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے 100 ارب روپے کراچی ڈویژن کے سات اضلاع کے پانی، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کیے جائیں گے۔

    سب سے زیادہ بجٹ تعلیم کے لیے 551 ارب، صحت کے لیے 354 ارب، امن و امان کے لیے 216 ارب، بلدیات کے لیے 201 ارب اور آبپاشی کے لیے 89 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

    جاری سال حکومت کے صحت کے کچھ منصوبوں، جن میں دل کے دس ہسپتال شامل ہیں، کی کارکردگی بہتر ہے، جہاں سے دوسرے صوبوں کے مریض بھی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ پنجاب اور کے پی میں اربوں روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیمیں شہریوں کو فراہم کی جا رہی ہیں، جو سندھ میں نہیں ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ دوسرے صوبوں کے مریضوں کے اخراجات ہیلتھ انشورنس کے تحت متعلقہ صوبوں سے وصول کیے جائیں، تاکہ سندھ میں صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

    ان ہسپتالوں میں بہت زیادہ رش ہے، کیونکہ مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے بنیادی صحت کے مراکز (BHUs) کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ شہروں میں پارک کھولنا بھی ضروری ہے، کیونکہ جتنا پارکوں میں رش بڑھے گا، اتنا ہی ہسپتالوں میں رش کم ہوگا۔

    تعلیم پر بھی کثیر رقم خرچ کی جا رہی ہے لیکن رپورٹ کے مطابق 70 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر گھوم رہے ہیں، جنہیں اسکولوں میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ قریبی چھوٹے چھوٹے گاؤں میں اسکول کھولنے کے بجائے، انہیں کسی درمیانی جگہ پر یکجا کر کے بڑے اسکول کھولے جائیں۔

    آبادی کے اضافے پر قابو پانے کی بھی ضرورت ہے۔ بجٹ کے مطابق 7.5 ارب روپے کی لاگت سے 5 کروڑ درسی کتابیں چھاپ کر تقسیم کی گئیں۔ سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق، سچل گوٹھ کراچی اور جیکب آباد میں درسی کتابیں کباڑیوں اور کچرے کے ڈھیر پر دیکھی گئیں۔ اس لیے سندھ میں طرزِ حکمرانی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

    سندھ کے بنیادی مسائل گندا پانی، اسکول سے باہر بچے، بنیادی صحت اور تعلیم کی کمی ہیں، جن کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے!

    سندھ بجٹ کے مطابق سیلاب زدگان کے لیے ایک کمرے کے 10 لاکھ گھر مکمل ہوئے، جن میں سے 2 لاکھ خیرپور میں تھے، جبکہ مردم شماری کے مطابق خیرپور ضلع میں کل خاندانوں کی تعداد 4.5 لاکھ ہے۔ ورلڈ بینک نے اس اقدام کو سراہا ہے، جس کی معاونت بھی اس میں شامل ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جانی چاہیے۔

    انڈس ہسپتال کو 12 ارب روپے کی امداد دی گئی۔ اسی طرح SIUT کی بھی مدد کی گئی۔ گجر خان، سرگودھا، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوٹ ادو میں بھی دو سال کے اندر 4.5 ارب روپے خرچ کر کے سندھ کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر SIUT کے یونٹس کھولے گئے ہیں۔ اسی طرح کی خیر سگالی کی ضرورت بلوچستان میں بھی ہے۔

    سندھ میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ ایک اچھا قدم ہے لیکن اہم منصوبوں، جن پر وفاق کو کام کرنا چاہیے، وہ سندھ کے معاملات میں چشم پوشی سے کام لیتا ہے۔ جبکہ این ایف سی میں سب سے زیادہ آمدنی سندھ سے آتی ہے لیکن حیدرآباد-سکھر موٹروے گزشتہ تیس سالوں سے التوا کا شکار ہے، جبکہ باقی صوبوں میں دھڑا دھڑ موٹرویز بن چکی ہیں۔

    این ایف سی ایوارڈ، جو کہ 2015 سے التوا کا شکار ہے، وہ دیا جائے، جس میں آبادی کا تناسب 82.5 سے کم کر کے 50 فیصد کیا جائے۔ انڈیا میں یہ 17.5 فیصد ہے۔ آمدنی کا تناسب بڑھا کر 10 فیصد اور آبادی میں اضافے کی کمی کا بھی 10 فیصد وزن مقرر کیا جائے۔

    سندھ میں دوسرے ممالک اور صوبوں سے آبادکاری کے اضافے کو روکنے کے لیے آئین کے مطابق سندھ کو اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ سندھ کے اپنے وسائل کے مطابق صحیح معنوں میں نشوونما ہو سکے۔

    بجٹ میں وزیرِ اعلیٰ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کیٹی بندر پر بندرگاہ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کو دھابیجی کے صنعتی زون سے منسلک کیا جائے گا۔ بجٹ میں دونوں کے لیے کوئی رقم نظر نہیں آئی ہے۔ سندھ کو عالمی فنانشل ہب (مالیاتی مرکز) بنانے کے لیے شاہراہِ بھٹو کے قریب SIFC بھی بنایا جائے گا۔

    ان منصوبوں میں ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا لیکن بحریہ ٹاؤن، پورٹ قاسم اور اسٹیل مل کی طرح مقامی لوگوں کے گاؤں ان کی مرضی اور معاوضے کے بغیر مسمار کرنے اور بیرونی آبادکاری کو دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ عام طور پر بندرگاہیں وفاق کے زیرِ اختیار ہوتی ہیں لیکن حکومت چین کی مدد سے اسے اپنے کنٹرول میں کیسے چلائے گی، اس پر نظر رکھنی ہوگی!

    سندھ میں غربت، بے روزگاری اور پانی کی قلت اہم مسائل ہیں، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کو اپنی کارکردگی میرٹ کے اصولوں کے تحت گورننس کے ذریعے بہتر بنانی ہوگی۔ الیکٹرانک گورننس کے کچھ منصوبے بہتر ہیں۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے متعلق شکایات کو دیکھنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کا کوئی متبادل نہیں ہے، اس لیے ان کی کارکردگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سوچ کو ترک کرنا ہوگا، جس سے سب سے زیادہ فائدہ خود انہیں ہی ملے گا۔

  • ‘قومی ضروریات’ کے لیے سندھ کے ترقیاتی بجٹ سے 175 ارب روپے وفاق کو دیے: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    ‘قومی ضروریات’ کے لیے سندھ کے ترقیاتی بجٹ سے 175 ارب روپے وفاق کو دیے: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کا ترقیاتی پروگرام 575 ارب روپے سے کم کرکے 400 ارب روپے کر دیا گیا۔

    جمعرات کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت قومی سطح کی اہم ضروریات کے لیے سندھ کو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ساتھ ہونے والے اس انتظام کی بنیاد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے، جس کے تحت ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں سندھ کے آئینی حق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ کے لیے وفاقی محصولات میں 13.350 کھرب روپے کی بنیاد پر حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں کو وفاق کو گرانٹس دینے کا اختیار حاصل ہے اور قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے مفاد میں چاروں صوبائی حکومتوں نے مشترکہ طور پر وفاق کی مالی معاونت کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ 13 ہزار 350 ارب روپے تک ملنے کی توقع ہے۔

    وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس حد سے زیادہ حاصل ہونے والی آمدنی پہلے صوبوں کے ذریعے منتقل ہوگی اور بعد ازاں وفاق کو دی جائے گی۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر رواں سال اپنا ہدف حاصل کر لے گا کیونکہ محصولات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک اقدامات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت ٹیکس حکام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ مئی تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں میں 441 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی 52 ارب روپے کا خسارہ ہے، جس کے باعث مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود صوبے کے مجموعی اخراجات 850 ارب روپے سے تجاوز ہونے کی توقع ہے۔ ان اخراجات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز، کسانوں کے لیے امدادی پیکیج، ایندھن اور بجلی پر سبسڈی، اور گل پلازہ واقعے سے متعلق اضافی اخراجات شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ ماضی میں ایک ہزار ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کر چکا ہے اور رواں سال بھی ترقیاتی اخراجات کی رفتار برقرار رکھی گئی ہے۔

    زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومتی معاونت کے نتیجے میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے 35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 49 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو زرعی شعبے کی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ طے شدہ 260 ارب روپے سے زائد اگر کوئی قومی ضرورت سامنے آتی ہے تو اس کی مالی ذمہ داری وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پوری کرے گی۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے ہیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مالی احتیاط ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے فروغ کا ذریعہ بننی چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی آمدنی کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی مجموعی آمدنی 3 ہزار 83 ارب روپے ہے، جبکہ مجموعی بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے ایک ہزار 264 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں 15 فیصد اور 2025 میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا، جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کے لیے 155 ارب روپے اور جامعات کے لیے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اہم اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 26.4 ارب روپے، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے لیے 12 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے لیے 14 ارب روپے، انڈس اسپتال کے لیے 8 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (ایس آئی سی ایچ) کے لیے 1.7 ارب روپے، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے لیے 3.5 ارب روپے اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر گرانٹس حاصل کرنے والے بڑے اداروں کے لیے 686 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں کی معاونت کو بھی جاری رکھا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے بتایا کہ غیر ملکی منصوبوں کے لیے تقریباً 225 ارب روپے کی امداد متوقع ہے، جبکہ امدادی اداروں کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے صوبائی حصہ اور مساوی گرانٹس بھی اخراجات کا اہم حصہ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 400 ارب روپے غیر ملکی منصوبہ جاتی امداد سے منسلک تھے، تاہم رواں سال نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ رقم تقریباً 225 ارب روپے رہنے کی توقع ہے، جس کا انحصار منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار پر ہوگا۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وفاقی ترقیاتی معاونت، جس میں عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی امداد شامل ہے، تقریباً 64 ارب روپے متوقع ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے کیے گئے مالی وعدوں کو موصول ہونے والی حقیقی رقوم کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔

  • صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی آئندہ تین سال تک جاری رہے گی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی آئندہ تین سال تک جاری رہے گی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ صوبوں کے ترقیاتی فنڈز میں کی گئی کٹوتی آئندہ تین سال تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے ملک کو درپیش اہم مالی ضروریات پوری کرنے میں وفاق کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور یہی تعاون آنے والے برسوں میں بھی جاری رہے گا۔

    ہفتہ کے روز اسلام آباد میں پوسٹ-بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے مختلف معاشی اور مالی امور پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے صوبوں کے ترقیاتی فنڈز کو منجمد کرنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں نے قومی مفاد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ صوبوں کی جانب سے فراہم کیے گئے وسائل کا کچھ حصہ دفاعی بجٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی انتظام آئندہ تین برس تک برقرار رہنے کی توقع ہے تاکہ قومی مالیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 4.3 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اصل ضرورت وسائل کے بہتر استعمال اور مؤثر منصوبہ بندی کی ہے۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ نجی شعبے کو زیادہ مواقع مل سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے، جس سے معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

    بورڈ آف انویسٹمنٹ اور ایس آئی ایف سی کے انضمام کا امکان

    پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ سے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ممکنہ انضمام کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کو ضم کرنا حکومت کے رائٹ سائزنگ پروگرام کا حصہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بی او آئی اور ایس آئی ایف سی کے مقاصد ایک جیسے ہیں کیونکہ دونوں ادارے سرمایہ کاری کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں میں بعض معاملات میں دہراؤ پایا جاتا ہے، اسی لیے ایک مشترکہ سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو نظام زیادہ مؤثر ثابت ہوگا تاکہ انہیں تمام سہولتیں ایک ہی جگہ پر دستیاب ہوں۔

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اصولی طور پر دونوں اداروں کے انضمام کا فیصلہ کر چکے ہیں، تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد کا طریقہ کار ابھی طے ہونا باقی ہے۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

    وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کے بارے میں بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

    محمد اورنگزیب کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں تنخواہوں اور پنشن میں کیا گیا اضافہ مناسب اور اطمینان بخش ہے، خصوصاً اس لیے کہ حکومت نے ٹیکسوں میں بھی کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔

    پٹرولیم لیوی میں اضافے کی تجویز نہیں

    ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کی شرح میں ردوبدل کیا جاتا ہے، لیکن اس وقت مجموعی طور پر لیوی بڑھانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات آئندہ مالی سال میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے اپنے مالی منصوبوں میں ان ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھا ہے تاکہ معیشت پر پڑنے والے دباؤ سے نمٹا جا سکے۔

    یہ بجٹ تنخواہ دار طبقے اور صنعت کے لیے ہے، بلال اظہر کیانی

    وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مجوزہ بجٹ تنخواہ دار طبقے، صنعت کاروں، برآمد کنندگان، تعمیراتی شعبے اور گھر بنانے کے خواہش مند افراد کے لیے ریلیف فراہم کرتا ہے۔

    انہوں نے تسلیم کیا کہ گزشتہ برسوں میں تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس بوجھ برداشت کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار ٹیکس میں ایسی رعایت دی گئی ہے جس سے ہر تنخواہ دار فرد کو نمایاں فائدہ ہوگا۔

    بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے کم آمدنی والے طبقے کو ترجیح دی ہے، خاص طور پر وہ افراد جن کی سالانہ آمدنی 22 لاکھ روپے تک ہے۔ ان کے مطابق ان طبقات کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ برآمد کنندگان کے لیے ایڈوانس ٹیکس ختم کرنا اور سپر ٹیکس کی چھ مختلف شرحوں کو ختم کرنا کاروباری برادری کے اہم مطالبات تھے، جنہیں حکومت نے پورا کیا ہے۔

    وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے تمام چیمبرز آف کامرس اور صنعتی تنظیموں کی تجاویز سنی ہیں اور بجٹ میں ان کے کئی مطالبات کو شامل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سینیٹری پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر عائد بعض ٹیکس ختم کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان کا تعلق سماجی بہبود سے ہے۔

    ریلیف کا راستہ ایک دن میں نہیں بنا، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے جو مالی گنجائش پیدا ہوئی ہے، وہ ایک دن میں نہیں بنی بلکہ اس کے لیے مسلسل معاشی اصلاحات کی گئی ہیں۔

    انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں کی جانے والی اصلاحات کو غیر معمولی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے نظام کو سیاسی اثر و رسوخ اور سفارش کلچر سے پاک کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت شفافیت بڑھانے اور محصولات کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چینی کی صنعت میں نگرانی اور شفافیت بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔