صوبوں کے فنڈز میں کٹوتی آئندہ تین سال تک جاری رہے گی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ صوبوں کے ترقیاتی فنڈز میں کی گئی کٹوتی آئندہ تین سال تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے ملک کو درپیش اہم مالی ضروریات پوری کرنے میں وفاق کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور یہی تعاون آنے والے برسوں میں بھی جاری رہے گا۔

ہفتہ کے روز اسلام آباد میں پوسٹ-بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے مختلف معاشی اور مالی امور پر حکومت کا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے صوبوں کے ترقیاتی فنڈز کو منجمد کرنے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں نے قومی مفاد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ صوبوں کی جانب سے فراہم کیے گئے وسائل کا کچھ حصہ دفاعی بجٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی انتظام آئندہ تین برس تک برقرار رہنے کی توقع ہے تاکہ قومی مالیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 4.3 کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اصل ضرورت وسائل کے بہتر استعمال اور مؤثر منصوبہ بندی کی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کی طرف بڑھنا ہوگا تاکہ نجی شعبے کو زیادہ مواقع مل سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے، جس سے معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ اور ایس آئی ایف سی کے انضمام کا امکان

پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ سے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ممکنہ انضمام کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مختلف وزارتوں اور اداروں کو ضم کرنا حکومت کے رائٹ سائزنگ پروگرام کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی او آئی اور ایس آئی ایف سی کے مقاصد ایک جیسے ہیں کیونکہ دونوں ادارے سرمایہ کاری کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں اداروں میں بعض معاملات میں دہراؤ پایا جاتا ہے، اسی لیے ایک مشترکہ سیکریٹری تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو نظام زیادہ مؤثر ثابت ہوگا تاکہ انہیں تمام سہولتیں ایک ہی جگہ پر دستیاب ہوں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اصولی طور پر دونوں اداروں کے انضمام کا فیصلہ کر چکے ہیں، تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد کا طریقہ کار ابھی طے ہونا باقی ہے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کے بارے میں بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

محمد اورنگزیب کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں تنخواہوں اور پنشن میں کیا گیا اضافہ مناسب اور اطمینان بخش ہے، خصوصاً اس لیے کہ حکومت نے ٹیکسوں میں بھی کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔

پٹرولیم لیوی میں اضافے کی تجویز نہیں

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات پٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی کی شرح میں ردوبدل کیا جاتا ہے، لیکن اس وقت مجموعی طور پر لیوی بڑھانے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات آئندہ مالی سال میں بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے اپنے مالی منصوبوں میں ان ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھا ہے تاکہ معیشت پر پڑنے والے دباؤ سے نمٹا جا سکے۔

یہ بجٹ تنخواہ دار طبقے اور صنعت کے لیے ہے، بلال اظہر کیانی

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مجوزہ بجٹ تنخواہ دار طبقے، صنعت کاروں، برآمد کنندگان، تعمیراتی شعبے اور گھر بنانے کے خواہش مند افراد کے لیے ریلیف فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ گزشتہ برسوں میں تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس بوجھ برداشت کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار ٹیکس میں ایسی رعایت دی گئی ہے جس سے ہر تنخواہ دار فرد کو نمایاں فائدہ ہوگا۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت نے کم آمدنی والے طبقے کو ترجیح دی ہے، خاص طور پر وہ افراد جن کی سالانہ آمدنی 22 لاکھ روپے تک ہے۔ ان کے مطابق ان طبقات کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ برآمد کنندگان کے لیے ایڈوانس ٹیکس ختم کرنا اور سپر ٹیکس کی چھ مختلف شرحوں کو ختم کرنا کاروباری برادری کے اہم مطالبات تھے، جنہیں حکومت نے پورا کیا ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت نے تمام چیمبرز آف کامرس اور صنعتی تنظیموں کی تجاویز سنی ہیں اور بجٹ میں ان کے کئی مطالبات کو شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سینیٹری پیڈز اور مانع حمل مصنوعات پر عائد بعض ٹیکس ختم کیے جا رہے ہیں کیونکہ ان کا تعلق سماجی بہبود سے ہے۔

ریلیف کا راستہ ایک دن میں نہیں بنا، عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے جو مالی گنجائش پیدا ہوئی ہے، وہ ایک دن میں نہیں بنی بلکہ اس کے لیے مسلسل معاشی اصلاحات کی گئی ہیں۔

انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں کی جانے والی اصلاحات کو غیر معمولی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے نظام کو سیاسی اثر و رسوخ اور سفارش کلچر سے پاک کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت شفافیت بڑھانے اور محصولات کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چینی کی صنعت میں نگرانی اور شفافیت بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ اس سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔