Tag: این ایف سی

  • این ایف سی ایوارڈ منجمد: وفاق کو مالی سہارا یا وفاقیت کو نقصان؟

    این ایف سی ایوارڈ منجمد: وفاق کو مالی سہارا یا وفاقیت کو نقصان؟

    پاکستان کے بجٹ سے متعلق ہونے والی بحثوں میں عام طور پر ٹیکسوں، مہنگائی، تنخواہوں کے اضافے اور ترقیاتی منصوبوں پر بات کی جاتی ہے، لیکن اس سال ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے اثرات صرف ایک مالی سال تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان اعتماد کی بنیادوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

    یہ معاملہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور صوبوں کے آئینی حصے سے وابستہ ہے۔ وفاقی حکومت ایک طرف تو آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کے مطابق صوبوں سے مالی بچتیں (سرپلس) حاصل کر رہی ہے، تو دوسری طرف اگلے تین سال تک صوبوں کے این ایف سی حصے کو موجودہ سطح پر ہی منجمد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    اب اگر یہ دوسرا اقدام بھی عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کا سب سے بڑا اثر ان صوبوں پر پڑے گا جو پہلے ہی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مگر ان کی ترقی کی رفتار کم ہے۔ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے انہی صوبوں میں سے ایک ہے۔

    ساتواں این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سیاسی اور آئینی معاہدہ تھا۔ اس ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو وفاقی جنرل سیلز ٹیکس اور کسٹم ٹیکسز میں سے 57.5 فیصد حصہ دیا گیا اور ملک کی مختلف اکائیوں کے درمیان مالی توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

    اس وقت یہ تصور پیش کیا گیا تھا کہ اگر صوبوں کو ان کے وسائل اور اختیارات ملیں گے تو نہ صرف وفاق مضبوط ہوگا بلکہ عوامی خدمات بھی بہتر ہوں گی۔ اگرچہ پیٹرول اور اس سے منسلک مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کے بجائے پیٹرولیم لیوی عائد کرکے صوبوں کے حصے پر ڈاکا ڈالا گیا۔

    آج صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آ رہی ہے۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ دفاعی ضروریات، قرضوں کی ادائیگیوں اور مالی خسارے کی وجہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا بڑا حصہ ہے، اور اسی لیے انہیں صوبوں کے مالی وسائل میں سے مزید رقم کی ضرورت ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی مالیاتی بحران کا حل صوبوں کے آئینی حصے میں عملی کٹوتی ہے یا وفاقی حکومت کے شاہ خرچیوں والے فیصلے اور دفاعی اخراجات کا اچانک حد سے زیادہ بڑھ جانا ہے؟

    این ایف سی ایوارڈ پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش تو دسمبر 2025 سے ہی شروع ہو گئی تھی، جب قومی مالیاتی کمیشن کا نئے ایوارڈ کے سلسلے میں افتتاحی اجلاس چار دسمبر کو ہوا تھا اور بظاہر مرکزی وزیر خزانہ، صوبائی متعلقہ وزراء اور سندھ و خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے پورے عمل پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

    اس اجلاس میں صوبوں کے نمائندوں کو وفاق کی جانب سے پہلے تو بڑے پیار اور محبت سے یہ بتایا گیا کہ ساتویں مالیاتی ایوارڈ سے ملک کا معاشی نظام تباہ ہو گیا ہے، ملک پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا ہے اور قرضوں کا بوجھ کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مرکز کی آمدنی اگلے تین سالوں میں ‘ملک کی مجموعی قومی پیداوار’ (جی ڈی پی) کے پانچ فیصد کے برابر بڑھے، اور انگریزی اخبار کے تخمینے کے مطابق یہ تقریباً ساڑھے 6 کھرب روپے سالانہ بنے گی۔

    یہ رقم کہاں سے آئے گی، کون دے گا؟ اس کا ذکر تو نہیں ہوا کہ کون دے گا، لیکن وفاق کی سرخ اور للچائی ہوئی آنکھیں صوبوں کی جانب تھیں۔

    ایف بی آر کے چیئرمین لنگڑیال نے ٹیکسوں کی آمدنی سے صوبوں کو ہونے والی ادائیگیوں کا 5 فیصد روکنے کی بات کی۔ وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد بوسن نے بھی کہا ہے کہ صوبوں اور مرکز کے اخراجات قومی مفادات کے مطابق ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں آئین کیا کہتا ہے، یہ رائے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے لی جائے، تاکہ صوبوں اور مرکز کی حصہ داری کا فیصلہ کیا جا سکے۔

    وفاقی سیکریٹری کی اس الٹی تجویز کے پیچھے بدنیتی شامل تھی، جسے اب ہم دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر این ایف سی کی میٹنگ کے وقت۔ احسن اقبال نے میڈیا کے ذریعے وزیر اعظم کو پیش کردہ جو ورکنگ پیپر منظر عام پر لایا، اس نے کمیشن کی میٹنگ کے معاملے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ جس سے لگتا تھا کہ معاملات اگر اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق نہ ہوئے تو پھر ایک بار پھر آئین میں عوام دشمن اور مضبوط مرکز کے لیے ترمیمات کی جائیں گی۔

    اس پورے عمل سے ایسا لگا کہ سازش تیار ہو چکی ہے، مرکزی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ صوبوں کے مالیاتی حصے پر ڈاکا ڈالنے کے لیے کثیر الجہتی حملہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ عمل پاکستان کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

    اس ورکنگ پیپر میں جو مطالبات احسن اقبال صاحب نے اٹھائے، ان میں وہ دو اہم باتیں بھول گئے کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت تقسیم شدہ وسائل مرکزی حکومت کی ملکیت نہیں ہیں، جیسا کہ مرکزی وزیر اور اسٹیبلشمنٹ والے تاثر دیتے رہے۔ یہ بنیادی طور پر تمام صوبوں کے مشترکہ وسائل ہیں، جن میں وفاق کا بھی حصہ ہے۔

    لیکن یہ سازش صوبائی حکومتوں اور نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی خاموشی کی وجہ سے کامیاب ہو گئی، جس میں بڑا قصور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کا ہے، جنہوں نے صوبوں کے وسائل پر لگنے والے ڈاکے پر خاموشی اختیار کی؛ خاص طور پر سندھ حکومت ہزاروں ارب روپے وفاقی حکومت کے پیچھے بیٹھے آقاؤں کے حوالے کر کے آ گئی، جس کے تحت تمام صوبے تین سال تک پرانی شرح پر کام کریں گے۔

    اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جاری مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی حقیقی ٹیکس وصولی تقریباً ساڑھے 13 کھرب روپے رہنے کا امکان ہے۔ اگلے مالی سال کے لیے ایف بی آر کو تقریباً ساڑھے 15 کھرب روپے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی سال میں تقریباً 2 کھرب روپے کی اضافی وصولی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

    عام حالات میں اس اضافی آمدنی کا 57.5 فیصد حصہ صوبوں کو منتقل ہونا چاہیے تھا۔ اس حساب سے صوبوں کو تقریباً ایک کھرب 10 ارب روپے کی اضافی رقم ملنی چاہیے، لیکن اگر صوبوں کے حصے موجودہ سطح پر ہی تین سال کے لیے منجمد کر دیے جاتے ہیں تو یہ ساری اضافی رقم عملی طور پر وفاق کے پاس رہے گی۔

    اگر سندھ کے حصے کا جائزہ لیا جائے تو اس مالی سال میں سندھ کا حصہ 24.5 کے فارمولے کے تحت این ایف سی ایوارڈ سے تقریباً 2260 ارب روپے بنتا ہے۔ اگر نئے ٹیکس ہدف کے مطابق تقسیم ہوتی تو سندھ کو تقریباً 260 ارب روپے کی اضافی رقم مل سکتی تھی، لیکن اب سندھ کی صوبائی حکومت 260 ارب روپے وفاق کو گرانٹ کے نام پر واپس کر دے گی۔

    اس طرح این ایف سی حصے کو منجمد کرنے یا گرانٹ کی صورت میں واپس کرنے سے سندھ اس اضافی رقم سے محروم رہے گا۔ یہ صرف ایک سال کا نقصان ہے۔ اگر یہی پالیسی تین سال تک جاری رہتی ہے اور وفاق کی وصولیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، تو سندھ کا مجموعی نقصان 900 ارب روپے سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہ رقم سندھ کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت سے دوگنا زیادہ ہے۔

    مگر سندھ کے لیے مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت صوبوں سے مجموعی طور پر تقریباً 2 کھرب روپے کا سرپلس حاصل کرنے کی بات بھی کی جا رہی ہے، جس کی صوبوں نے حامی بھر لی ہے۔ اگر یہ رقم صوبوں کے موجودہ حصے کے تناسب سے تقسیم کی جائے تو سندھ پر تقریباً 485 ارب روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، سندھ سے ایک ہی وقت میں دو مختلف محاذوں پر مالی قربانی دینے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

    پہلی قربانی یہ کہ صوبائی سرپلس وفاق کے مالیاتی اہداف کے لیے استعمال کیا جائے۔ دوسری قربانی یہ کہ آنے والے سالوں میں بڑھتی ہوئی ٹیکس وصولیوں سے حاصل ہونے والے جائز اور آئینی حصے سے بھی محروم رکھا جائے۔ ان فیصلوں کے اثرات سندھ کے حالیہ بجٹ میں نظر آ رہے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کی رقوم کم ہو چکی ہیں اور تنخواہوں اور پنشن میں صرف سات فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    یہ صورتحال صرف ایک مالیاتی مسئلہ نہیں ہے، یہ دراصل ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی روح پر ایک سوال ہے۔ اگر وفاقی حکومت کو ہر مالی بحران کے دوران صوبوں کے حصے کو منجمد کرنے یا واپس لینے کا اختیار حاصل ہو جائے، تو پھر این ایف سی ایوارڈ کی آئینی حیثیت کیا رہ جائے گی؟ پھر صوبائی خودمختاری کا تصور کیا معنی رکھے گا؟ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ موجودہ مالی بحران کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ کیا یہ بحران این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے پیدا ہوا یا وفاقی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے؟

    حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قرضوں کا بوجھ این ایف سی ایوارڈ سے پہلے بھی موجود تھا۔ ایف بی آر کی کمزور کارکردگی، ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا، دفاعی اداروں کے لیے اضافی بجٹ اور دفاعی اداروں کی پنشن کا بوجھ سویلین بجٹ پر ڈالنا، سرکاری اداروں کے نقصانات، غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافہ اور قرضوں پر سود کی ادائیگیاں ملک کے مالیاتی بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان میں سے کسی بھی مسئلے کا تعلق این ایف سی ایوارڈ سے نہیں ہے۔

    گزشتہ کئی سالوں کے دوران وفاقی حکومت نے ایسے کئی ٹیکس نافذ کیے ہیں جو قابل تقسیم پول کا حصہ نہیں ہیں۔ پٹرولیم لیوی اس کی واضح مثال ہے۔ ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی مکمل طور پر وفاق کے پاس رہتی ہے، لیکن جب مالی خسارہ پیدا ہوتا ہے تو انگلی صوبوں کو این ایف سی کے تحت ملنے والے حصے کی طرف اٹھ جاتی ہے۔

    سندھ کے عوام کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہے، کیونکہ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ، بڑی صنعتی سرگرمیاں، بینکنگ، تجارت اور کاروباری مراکز کا بڑا حصہ سندھ میں موجود ہے۔ قومی معیشت میں اتنا بڑا کردار ادا کرنے کے باوجود اگر صوبے کو اپنے جائز حصے میں اضافے سے محروم رکھا جائے تو یقیناً سیاسی ردعمل پیدا ہوگا۔

    18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو پاکستان کی وفاقی تاریخ کا سب سے بڑا متفقہ فیصلہ مانا جاتا ہے۔ اگر آج ان انتظامات کو بغیر کسی نئی آئینی منظوری کے، عملی طور پر کمزور کیا جاتا ہے تو یہ مستقبل میں تمام صوبوں کی وفاق کے خلاف نفرت کو بڑھائے گا۔ شاید وفاق کو قلیل مدت کے لیے کچھ مالی سہارا مل جائے، لیکن اس کی قیمت وفاقی اعتماد کی شکل میں چکانی پڑ سکتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی مرکزیت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ہمیشہ سیاسی بے چینی کو جنم دیا ہے۔

    اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ وفاق کو زیادہ پیسے چاہئیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی مالیاتی ناکامیوں کا بوجھ صوبوں پر منتقل کر کے ملک کے وفاقی معاہدے کو کمزور کرنے والا راستہ درست ہے؟ اگر سندھ سے اگلے تین سالوں کے دوران تقریباً ایک کھرب روپے سے زائد کی قربانی مانگی جا رہی ہے، تو پھر سندھ کے عوام کو یہ سوال پوچھنے کا پورا حق حاصل ہے کہ اس قربانی کے بدلے میں انہیں کیا ملے گا؟ یہ بحث صرف اعداد و شمار کی نہیں ہے، یہ پاکستان کے وفاقی مستقبل، صوبائی حقوق اور آئین کی روح سے متعلق بحث ہے، جس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

  • وفاق اور صوبوں میں این ایف سی ایوارڈ اور بجٹ سرپلس پر مذاکرات تیز، بجٹ 12 جون کو متوقع

    وفاق اور صوبوں میں این ایف سی ایوارڈ اور بجٹ سرپلس پر مذاکرات تیز، بجٹ 12 جون کو متوقع

    وفاقی حکومت نے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اجلاس آج (بدھ) طلب کر لیا ہے، جبکہ امکان ہے کہ وفاقی بجٹ جمع 12 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل این ای سی کا اجلاس تین مرتبہ اور بجٹ پیش کرنے کی تاریخ دو مرتبہ ملتوی کی جا چکی ہے۔ بجٹ سے ایک دن پہلے اقتصادی سروے رپورٹ بھی جاری کی جاتی ہے، جس میں رواں مالی سال کے دوران اقتصادی ترقی کے اعداد وشمار پیش کیے جاتے ہیں۔ بجٹ کی تاریخ میں تبدیلی کے باعث اقتصادی سروے رپورٹ جاری کرنے کی حتمی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

    پہلے 5 جون اور پھر 10 جون کو بجٹ پیش کرنے کے اعلانات کیے گئے تھے، تاہم بعد ازاں دونوں تاریخیں تبدیل کر دی گئیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں کو آگاہ کیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت موجودہ مالی سال میں ملنے والے ان کے مالی حصے میں آئندہ سال کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ اگر صوبوں کو موجودہ سال کے مقررہ حصے سے زیادہ رقم موصول ہوتی ہے تو اضافی رقم وفاق کو واپس کرنا ہوگی۔

    وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ، مالی وسائل کی تقسیم اور صوبائی بجٹ سرپلس کے معاملات پر مذاکرات میں تیزی آ گئی ہے۔ ایک جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کو بڑھتے ہوئے مالی خسارے، قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ دوسری جانب اسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقرر کردہ مالیاتی اہداف بھی پورے کرنا ہیں۔ اسی تناظر میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی تعاون کے ایک نئے طریقہ کار پر غور جاری ہے۔

    این ایف سی ایوارڈ سے متعلق آئینی ضمانت

    اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا بنیادی نظام این ایف سی ایوارڈ کے تحت چلتا ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 160 کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جمع کیے جانے والے قابلِ تقسیم ٹیکسوں کو وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک طے شدہ فارمولے کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے۔

    آئین کے آرٹیکل 160 کی شق (3A) اس امر کی ضمانت دیتی ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں صوبوں کو ملنے والا حصہ، پچھلے این ایف سی ایوارڈ میں ملنے والے حصے سے کم نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کو اپنے مالی حصے میں کمی پر آمادہ کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے۔

    سادہ الفاظ میں کہا جائے تو وفاق صوبوں کے حصے میں کمی نہیں کر سکتا، کیونکہ آئین کے تحت ہر نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو کم از کم اتنا ہی حصہ ملنا ضروری ہے جتنا انہیں گزشتہ ایوارڈ میں ملا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 2009 میں پیش کیے گئے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد اب تک کوئی نیا ایوارڈ سامنے نہیں آ سکا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت 28 ویں آئینی ترمیم کرنا چاہتی ہے، مگر اس کے لیے کوئی بھی سیاسی جماعت آمادہ نہیں ہے۔

    موجودہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابلِ تقسیم محاصل کا 57.5 فیصد حصہ صوبوں کو جبکہ 42.5 فیصد وفاقی حکومت کو ملتا ہے۔ صوبوں کے درمیان بھی یہ رقم ایک مخصوص فارمولے کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے، جس میں آبادی، غربت، پسماندگی، محصولات کی وصولی اور آبادی کی کثافت جیسے عوامل شامل ہیں۔

    اس فارمولے کے تحت پنجاب کو صوبائی حصے کا تقریباً 51.74 فیصد، سندھ کو 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کو 14.62 فیصد جبکہ بلوچستان کو 9.09 فیصد حصہ ملتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے حصے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اخراجات کے لیے مختص ایک فیصد اضافی حصہ بھی شامل ہے۔

    صوبائی بجٹ سرپلس کیا ہے؟

    گزشتہ چند برسوں سے وفاقی حکومت مسلسل مالی وسائل کی کمی کی شکایت کرتی آرہی ہے۔ دوسری جانب صوبائی حکومتیں اپنے بجٹ میں نمایاں سرپلس یا بچت ظاہر کرتی ہیں تاکہ وفاقی مالیاتی خسارہ کم دکھایا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق کی جانب سے متعدد مواقع پر صوبوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ مجموعی مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے زیادہ بجٹ سرپلس پیدا کریں۔

    آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بھی پاکستان کو مجموعی مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور مالی خسارہ محدود رکھنے کی شرائط کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے گزشتہ برس صوبوں سے تقریباً ایک ہزار ارب، یعنی ایک ٹریلین روپے یا اس سے زائد سرپلس پیدا کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ ملکی مالیاتی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔ اس سال سرپلس کا یہ ہدف 1700 ارب روپے کرنے پر زور دیا جارہے۔

    تاہم اس مطالبے پر صوبوں، خصوصاً پنجاب اور سندھ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ صوبائی حکام کا مؤقف تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والا حصہ ان کا آئینی حق ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کٹوتی نہ صرف آئین کی روح کے خلاف ہوگی بلکہ ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور مقامی حکومتوں کے امور بھی متاثر ہوں گے۔

    اسی تناظر میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے یہ تجویز بھی زیرِ گردش رہی کہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دی گئی خودمختاری میں کمی کرتے ہوئے تعلیم اور صحت کے محکمے دوبارہ وفاق کے سپرد کر دیے جائیں۔

    ان اختلافات کے باعث بعض اہم مالیاتی اور اقتصادی فورمز کے اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہوئے ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف پورے کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے مالیاتی انتظامات پر باضابطہ بات چیت شروع ہوئی۔

    بعد ازاں دونوں فریقوں نے ایک درمیانی راستہ اختیار کیا ہے، جسے ’’نیشنل فسکل پیکٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت صوبوں کے بنیادی این ایف سی حصے میں کوئی کٹوتی نہیں کی جائے گی، تاہم صوبائی حکومتیں اپنے موجودہ بجٹ کے اندر رہتے ہوئے مزید سرپلس پیدا کریں گی تاکہ مجموعی قومی مالیاتی خسارہ کم کیا جا سکے۔

    مالی سال 2024-25 کے دوران چاروں صوبوں نے مجموعی طور پر ایک ہزار اٹھائیس ارب روپے کا نقد سرپلس پیدا کیا، جو ملکی مالیاتی اہداف کے حصول میں اہم ثابت ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سرپلس رقم براہِ راست وفاقی حکومت کے خزانے میں منتقل نہیں کی جاتی بلکہ اسٹیٹ بینک میں صوبوں کے اپنے نقد کھاتوں میں موجود رہتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ وفاق اس رقم کو براہِ راست استعمال نہیں کر سکتا، تاہم جب ملک کے مجموعی مالیاتی خسارے کا حساب لگایا جاتا ہے تو صوبوں کی یہ بچت مجموعی خسارہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں صوبائی سرپلس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

    حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال میں صوبائی سرپلس کا سب سے بڑا حصہ پنجاب نے فراہم کیا۔ مختلف سرکاری دستاویزات کے مطابق پنجاب نے تقریباً 630 سے 800 ارب روپے تک بچت ظاہر کی، جبکہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے بھی اپنے حصے کا سرپلس فراہم کر کے مجموعی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔

    سندھ کی شکایت

    سندھ حکومت طویل عرصے سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی محاصل میں اپنے حصے کو ناکافی قرار دیتی رہی ہے۔

    صوبے کا مؤقف ہے کہ ملک کی معیشت اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود اسے قابلِ تقسیم محاصل میں مناسب حصہ نہیں ملتا۔ سندھ کو یہ خدشہ بھی ہے کہ وفاق قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات پورے کرنے کے لیے صوبوں کے مالی وسائل محدود کرنا چاہتا ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سکھر۔حیدرآباد موٹروے اور کے فور واٹر سپلائی منصوبے جیسے اہم منصوبوں کے لیے ناکافی فنڈز پر بھی سندھ نے بارہا اعتراض کیا ہے۔

    پچھلے سال بجٹ کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت پر صوبے سے کیے گئے مالی وعدے پورے نہ کرنے پر تنقید کی۔ مراد علی شاہ نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت صوبے کو واجب الادا مالی وسائل منتقل کرنے میں ناکام رہی تو صوبائی بجٹ کے اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں۔

    خیبر پختونخوا حکومت کا سخت مؤقف

    اس تمام عمل کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف سب سے زیادہ سخت رہا۔ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ابتدا میں وفاقی مطالبات پر شدید اعتراض کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے مالی حقوق ادا نہ کیے گئے تو وہ مطلوبہ بجٹ سرپلس فراہم نہیں کرے گی۔

    یاد رہے کہ اگست 2022 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق خیبر پختونخوا حکومت نے وفاقی وزیرِ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایک متنازع خط لکھا تھا، جس میں صوبے کی جانب سے بجٹ سرپلس (بچت) دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ صوبائی حکومت کا مؤقف تھا کہ وفاق نے صوبے کے 100 ارب روپے واجبات ادا نہیں کیے، جبکہ تباہ کن سیلاب نے بھی صوبے کی مالی صورتحال کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    بعد ازاں فروری 2023 میں سابق صوبائی وزیرِ خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا تھا کہ وہ اپنے اس خط کے مؤقف پر قائم ہیں۔ اس خط میں انہوں نے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجٹ سرپلس دینے کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔

    سابق وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ صوبہ ایسے حالات میں نہیں ہے کہ آئی ایم ایف کی خواہش کے مطابق اپنے بجٹ میں بچت یا سرپلس پیدا کر سکے۔

    بعد ازاں خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم اور دیگر حکام کا مؤقف تھا کہ وفاق نے نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور سابق فاٹا کے انضمام کے بعد واجب الادا فنڈز کی مد میں صوبے کے اربوں روپے ادا نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے جائز مالی حقوق روکے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب اس پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    صوبائی قیادت نے واضح کیا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے حصے میں ایک روپے کی بھی کٹوتی قبول نہیں کی جائے گی۔ ان کا مؤقف تھا کہ وفاق اپنے مالیاتی خسارے کا بوجھ صوبوں پر منتقل کرنا چاہتا ہے۔

    تاہم بعد ازاں آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کو برقرار رکھنے اور ملک میں مالیاتی استحکام یقینی بنانے کے لیے وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی۔ نتیجتاً صوبے نے نیشنل فسکل پیکٹ پر دستخط کرنے اور مشروط طور پر وفاق کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

    معاہدے کے تحت وفاق نے یقین دہانی کرائی کہ صوبے کے بنیادی این ایف سی حصے میں کوئی کٹوتی نہیں ہوگی، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے بجٹ کے اندر سے 150 ارب روپے سے زائد سرپلس پیدا کرنے کا ہدف قبول کر لیا۔

    اگرچہ یہ معاملہ وقتی طور پر حل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم خیبر پختونخوا حکومت اب بھی بعض خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایف بی آر محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا یا این ایف سی کے تحت صوبوں کو اس کا مکمل حصہ بروقت نہ ملا تو مقررہ سرپلس ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

    بجٹ کی تاریخوں میں ردوبدل اس لیے بھی ہورہی ہے کیوں کہ وفاقی حکومت قانون سازی کے ذریعے فنانس بل 2026-27  میں من پسند تبدیلیوں کی خواہش مند ہے۔ قومی اسمبلی بجٹ تجاویز کے ساتھ ہی فنانس بل بھی منظور کرتی ہے۔