پاکستان کے بجٹ سے متعلق ہونے والی بحثوں میں عام طور پر ٹیکسوں، مہنگائی، تنخواہوں کے اضافے اور ترقیاتی منصوبوں پر بات کی جاتی ہے، لیکن اس سال ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے اثرات صرف ایک مالی سال تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، صوبائی خودمختاری اور وفاق و صوبوں کے درمیان اعتماد کی بنیادوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ معاملہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور صوبوں کے آئینی حصے سے وابستہ ہے۔ وفاقی حکومت ایک طرف تو آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کے مطابق صوبوں سے مالی بچتیں (سرپلس) حاصل کر رہی ہے، تو دوسری طرف اگلے تین سال تک صوبوں کے این ایف سی حصے کو موجودہ سطح پر ہی منجمد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اب اگر یہ دوسرا اقدام بھی عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کا سب سے بڑا اثر ان صوبوں پر پڑے گا جو پہلے ہی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، مگر ان کی ترقی کی رفتار کم ہے۔ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے انہی صوبوں میں سے ایک ہے۔
ساتواں این ایف سی ایوارڈ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سیاسی اور آئینی معاہدہ تھا۔ اس ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو وفاقی جنرل سیلز ٹیکس اور کسٹم ٹیکسز میں سے 57.5 فیصد حصہ دیا گیا اور ملک کی مختلف اکائیوں کے درمیان مالی توازن پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
اس وقت یہ تصور پیش کیا گیا تھا کہ اگر صوبوں کو ان کے وسائل اور اختیارات ملیں گے تو نہ صرف وفاق مضبوط ہوگا بلکہ عوامی خدمات بھی بہتر ہوں گی۔ اگرچہ پیٹرول اور اس سے منسلک مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کے بجائے پیٹرولیم لیوی عائد کرکے صوبوں کے حصے پر ڈاکا ڈالا گیا۔
آج صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آ رہی ہے۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ دفاعی ضروریات، قرضوں کی ادائیگیوں اور مالی خسارے کی وجہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا بڑا حصہ ہے، اور اسی لیے انہیں صوبوں کے مالی وسائل میں سے مزید رقم کی ضرورت ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی مالیاتی بحران کا حل صوبوں کے آئینی حصے میں عملی کٹوتی ہے یا وفاقی حکومت کے شاہ خرچیوں والے فیصلے اور دفاعی اخراجات کا اچانک حد سے زیادہ بڑھ جانا ہے؟
این ایف سی ایوارڈ پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش تو دسمبر 2025 سے ہی شروع ہو گئی تھی، جب قومی مالیاتی کمیشن کا نئے ایوارڈ کے سلسلے میں افتتاحی اجلاس چار دسمبر کو ہوا تھا اور بظاہر مرکزی وزیر خزانہ، صوبائی متعلقہ وزراء اور سندھ و خیبر پختونخوا کے وزرائے اعلیٰ نے پورے عمل پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
اس اجلاس میں صوبوں کے نمائندوں کو وفاق کی جانب سے پہلے تو بڑے پیار اور محبت سے یہ بتایا گیا کہ ساتویں مالیاتی ایوارڈ سے ملک کا معاشی نظام تباہ ہو گیا ہے، ملک پر بہت زیادہ قرض چڑھ گیا ہے اور قرضوں کا بوجھ کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مرکز کی آمدنی اگلے تین سالوں میں ‘ملک کی مجموعی قومی پیداوار’ (جی ڈی پی) کے پانچ فیصد کے برابر بڑھے، اور انگریزی اخبار کے تخمینے کے مطابق یہ تقریباً ساڑھے 6 کھرب روپے سالانہ بنے گی۔
یہ رقم کہاں سے آئے گی، کون دے گا؟ اس کا ذکر تو نہیں ہوا کہ کون دے گا، لیکن وفاق کی سرخ اور للچائی ہوئی آنکھیں صوبوں کی جانب تھیں۔
ایف بی آر کے چیئرمین لنگڑیال نے ٹیکسوں کی آمدنی سے صوبوں کو ہونے والی ادائیگیوں کا 5 فیصد روکنے کی بات کی۔ وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد بوسن نے بھی کہا ہے کہ صوبوں اور مرکز کے اخراجات قومی مفادات کے مطابق ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں آئین کیا کہتا ہے، یہ رائے اٹارنی جنرل آف پاکستان سے لی جائے، تاکہ صوبوں اور مرکز کی حصہ داری کا فیصلہ کیا جا سکے۔
وفاقی سیکریٹری کی اس الٹی تجویز کے پیچھے بدنیتی شامل تھی، جسے اب ہم دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر این ایف سی کی میٹنگ کے وقت۔ احسن اقبال نے میڈیا کے ذریعے وزیر اعظم کو پیش کردہ جو ورکنگ پیپر منظر عام پر لایا، اس نے کمیشن کی میٹنگ کے معاملے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ جس سے لگتا تھا کہ معاملات اگر اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے مطابق نہ ہوئے تو پھر ایک بار پھر آئین میں عوام دشمن اور مضبوط مرکز کے لیے ترمیمات کی جائیں گی۔
اس پورے عمل سے ایسا لگا کہ سازش تیار ہو چکی ہے، مرکزی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ صوبوں کے مالیاتی حصے پر ڈاکا ڈالنے کے لیے کثیر الجہتی حملہ کرنا چاہتے ہیں اور یہ عمل پاکستان کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔
اس ورکنگ پیپر میں جو مطالبات احسن اقبال صاحب نے اٹھائے، ان میں وہ دو اہم باتیں بھول گئے کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت تقسیم شدہ وسائل مرکزی حکومت کی ملکیت نہیں ہیں، جیسا کہ مرکزی وزیر اور اسٹیبلشمنٹ والے تاثر دیتے رہے۔ یہ بنیادی طور پر تمام صوبوں کے مشترکہ وسائل ہیں، جن میں وفاق کا بھی حصہ ہے۔
لیکن یہ سازش صوبائی حکومتوں اور نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی خاموشی کی وجہ سے کامیاب ہو گئی، جس میں بڑا قصور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کا ہے، جنہوں نے صوبوں کے وسائل پر لگنے والے ڈاکے پر خاموشی اختیار کی؛ خاص طور پر سندھ حکومت ہزاروں ارب روپے وفاقی حکومت کے پیچھے بیٹھے آقاؤں کے حوالے کر کے آ گئی، جس کے تحت تمام صوبے تین سال تک پرانی شرح پر کام کریں گے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جاری مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی حقیقی ٹیکس وصولی تقریباً ساڑھے 13 کھرب روپے رہنے کا امکان ہے۔ اگلے مالی سال کے لیے ایف بی آر کو تقریباً ساڑھے 15 کھرب روپے کا ہدف دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی سال میں تقریباً 2 کھرب روپے کی اضافی وصولی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
عام حالات میں اس اضافی آمدنی کا 57.5 فیصد حصہ صوبوں کو منتقل ہونا چاہیے تھا۔ اس حساب سے صوبوں کو تقریباً ایک کھرب 10 ارب روپے کی اضافی رقم ملنی چاہیے، لیکن اگر صوبوں کے حصے موجودہ سطح پر ہی تین سال کے لیے منجمد کر دیے جاتے ہیں تو یہ ساری اضافی رقم عملی طور پر وفاق کے پاس رہے گی۔
اگر سندھ کے حصے کا جائزہ لیا جائے تو اس مالی سال میں سندھ کا حصہ 24.5 کے فارمولے کے تحت این ایف سی ایوارڈ سے تقریباً 2260 ارب روپے بنتا ہے۔ اگر نئے ٹیکس ہدف کے مطابق تقسیم ہوتی تو سندھ کو تقریباً 260 ارب روپے کی اضافی رقم مل سکتی تھی، لیکن اب سندھ کی صوبائی حکومت 260 ارب روپے وفاق کو گرانٹ کے نام پر واپس کر دے گی۔
اس طرح این ایف سی حصے کو منجمد کرنے یا گرانٹ کی صورت میں واپس کرنے سے سندھ اس اضافی رقم سے محروم رہے گا۔ یہ صرف ایک سال کا نقصان ہے۔ اگر یہی پالیسی تین سال تک جاری رہتی ہے اور وفاق کی وصولیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، تو سندھ کا مجموعی نقصان 900 ارب روپے سے بھی بڑھ سکتا ہے۔ یہ رقم سندھ کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی لاگت سے دوگنا زیادہ ہے۔
مگر سندھ کے لیے مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت صوبوں سے مجموعی طور پر تقریباً 2 کھرب روپے کا سرپلس حاصل کرنے کی بات بھی کی جا رہی ہے، جس کی صوبوں نے حامی بھر لی ہے۔ اگر یہ رقم صوبوں کے موجودہ حصے کے تناسب سے تقسیم کی جائے تو سندھ پر تقریباً 485 ارب روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، سندھ سے ایک ہی وقت میں دو مختلف محاذوں پر مالی قربانی دینے کے لیے کہا جا رہا ہے۔
پہلی قربانی یہ کہ صوبائی سرپلس وفاق کے مالیاتی اہداف کے لیے استعمال کیا جائے۔ دوسری قربانی یہ کہ آنے والے سالوں میں بڑھتی ہوئی ٹیکس وصولیوں سے حاصل ہونے والے جائز اور آئینی حصے سے بھی محروم رکھا جائے۔ ان فیصلوں کے اثرات سندھ کے حالیہ بجٹ میں نظر آ رہے ہیں، ترقیاتی منصوبوں کی رقوم کم ہو چکی ہیں اور تنخواہوں اور پنشن میں صرف سات فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ صورتحال صرف ایک مالیاتی مسئلہ نہیں ہے، یہ دراصل ساتویں این ایف سی ایوارڈ کی روح پر ایک سوال ہے۔ اگر وفاقی حکومت کو ہر مالی بحران کے دوران صوبوں کے حصے کو منجمد کرنے یا واپس لینے کا اختیار حاصل ہو جائے، تو پھر این ایف سی ایوارڈ کی آئینی حیثیت کیا رہ جائے گی؟ پھر صوبائی خودمختاری کا تصور کیا معنی رکھے گا؟ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ موجودہ مالی بحران کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ کیا یہ بحران این ایف سی ایوارڈ کی وجہ سے پیدا ہوا یا وفاقی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قرضوں کا بوجھ این ایف سی ایوارڈ سے پہلے بھی موجود تھا۔ ایف بی آر کی کمزور کارکردگی، ٹیکس نیٹ کا محدود ہونا، دفاعی اداروں کے لیے اضافی بجٹ اور دفاعی اداروں کی پنشن کا بوجھ سویلین بجٹ پر ڈالنا، سرکاری اداروں کے نقصانات، غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافہ اور قرضوں پر سود کی ادائیگیاں ملک کے مالیاتی بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان میں سے کسی بھی مسئلے کا تعلق این ایف سی ایوارڈ سے نہیں ہے۔
گزشتہ کئی سالوں کے دوران وفاقی حکومت نے ایسے کئی ٹیکس نافذ کیے ہیں جو قابل تقسیم پول کا حصہ نہیں ہیں۔ پٹرولیم لیوی اس کی واضح مثال ہے۔ ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی مکمل طور پر وفاق کے پاس رہتی ہے، لیکن جب مالی خسارہ پیدا ہوتا ہے تو انگلی صوبوں کو این ایف سی کے تحت ملنے والے حصے کی طرف اٹھ جاتی ہے۔
سندھ کے عوام کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہے، کیونکہ ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ، بڑی صنعتی سرگرمیاں، بینکنگ، تجارت اور کاروباری مراکز کا بڑا حصہ سندھ میں موجود ہے۔ قومی معیشت میں اتنا بڑا کردار ادا کرنے کے باوجود اگر صوبے کو اپنے جائز حصے میں اضافے سے محروم رکھا جائے تو یقیناً سیاسی ردعمل پیدا ہوگا۔
18ویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو پاکستان کی وفاقی تاریخ کا سب سے بڑا متفقہ فیصلہ مانا جاتا ہے۔ اگر آج ان انتظامات کو بغیر کسی نئی آئینی منظوری کے، عملی طور پر کمزور کیا جاتا ہے تو یہ مستقبل میں تمام صوبوں کی وفاق کے خلاف نفرت کو بڑھائے گا۔ شاید وفاق کو قلیل مدت کے لیے کچھ مالی سہارا مل جائے، لیکن اس کی قیمت وفاقی اعتماد کی شکل میں چکانی پڑ سکتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مالیاتی مرکزیت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے ہمیشہ سیاسی بے چینی کو جنم دیا ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ وفاق کو زیادہ پیسے چاہئیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی مالیاتی ناکامیوں کا بوجھ صوبوں پر منتقل کر کے ملک کے وفاقی معاہدے کو کمزور کرنے والا راستہ درست ہے؟ اگر سندھ سے اگلے تین سالوں کے دوران تقریباً ایک کھرب روپے سے زائد کی قربانی مانگی جا رہی ہے، تو پھر سندھ کے عوام کو یہ سوال پوچھنے کا پورا حق حاصل ہے کہ اس قربانی کے بدلے میں انہیں کیا ملے گا؟ یہ بحث صرف اعداد و شمار کی نہیں ہے، یہ پاکستان کے وفاقی مستقبل، صوبائی حقوق اور آئین کی روح سے متعلق بحث ہے، جس کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

