روم کے آسمان پر جب سورج ڈھلتا ہے تو سنہری روشنی ایک عظیم، ٹوٹے مگر باوقار ڈھانچے پر ٹھہر جاتی ہے۔ یہ ہے Colosseum، اٹلی کے شہر Rome میں واقع وہ میدان جس نے دو ہزار برس سے زیادہ عرصے تک طاقت، خون اور تماشے کی تاریخ اپنے اندر سمیٹ رکھی ہے۔ رومن فورم کے قریب کھڑا یہ عجوبہ محض پتھروں کی ترتیب نہیں، ایک سلطنت کی نفسیات کا عکس ہے۔
اس کی تعمیر 70 سے 80 عیسوی کے درمیان شہنشاہ Vespasian نے شروع کروائی اور اس کے بیٹے Titus نے مکمل کی۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پچاس سے اسی ہزار تک لوگ ایک ساتھ بیٹھ سکتے تھے۔ یہ اس دور کا سب سے بڑا عوامی اسٹیڈیم تھا، مگر یہاں کھیل صرف کھیل نہیں تھے۔
ریت سے بھرے اس میدان میں گلیڈی ایٹر ایک دوسرے کے مقابل آتے۔ تلواروں کی جھنکار، ڈھالوں کی ٹکر اور مجمعے کا شور فضا کو چیر دیتا۔ بعض اوقات جنگلی جانور چھوڑے جاتے، جو قیدیوں یا جنگجوؤں پر حملہ آور ہوتے۔ اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کبھی کبھار پورا میدان پانی سے بھر دیا جاتا تاکہ مصنوعی بحری جنگوں کا منظر پیش کیا جا سکے۔ تفریح کے نام پر موت کو ایک جشن کی صورت دکھایا جاتا تھا۔
لیکن کولوسیم کا اصل راز زمین کے نیچے تھا۔ ہائپوگیم، دو منزلہ سرنگوں اور کمروں کا پیچیدہ نظام۔ یہاں لفٹیں، خفیہ دروازے اور راستے بنائے گئے تھے۔ غلام اور جانور اچانک زمین پھاڑ کر اوپر آتے، جیسے کوئی جادو ہو۔ تماشائی حیران رہ جاتے، اور شہنشاہ کی طاقت کا سکہ مزید مضبوط ہو جاتا۔
یہ سب صرف عوامی دل لگی نہیں تھی۔ یہ سیاست تھی۔ روٹی اور کھیل کے ذریعے عوام کو مصروف رکھنا، تاکہ اقتدار محفوظ رہے۔ کولوسیم دراصل ایک اسٹیڈیم سے بڑھ کر طاقت کا مظاہرہ تھا، جہاں ہر مقابلہ سلطنت کی بالادستی کا اعلان بن جاتا۔
صدیوں میں اسے لوٹا گیا، زلزلوں نے نقصان پہنچایا، اس کے سنگ مرمر دوسرے تعمیراتی منصوبوں میں استعمال ہوئے۔ مگر اس کے محراب آج بھی قائم ہیں۔ آج یہاں خاموشی ہے۔ نہ تلواروں کی آواز، نہ ہجوم کا شور۔ سیاح آتے ہیں، تصویریں لیتے ہیں، اور چلے جاتے ہیں۔
مگر اگر آپ ان دیواروں کو غور سے دیکھیں، تو یوں لگتا ہے جیسے وقت ابھی ختم نہیں ہوا۔ جیسے ریت میں جذب وہ چیخیں اب بھی ہوا میں معلق ہوں۔ کولوسیم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت کا میدان ہمیشہ صرف کھیل کا میدان نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ انسانیت کا امتحان بھی بن جاتا ہے۔
یہی ہے عجوبہ ساگا کا سفر۔ جہاں تاریخ صرف سنائی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے۔




