Tag: اٹلی

  • ویرونا کی جولیٹ، محبت کی علامت یا ایک جدید سیاحتی روایت؟

    ویرونا کی جولیٹ، محبت کی علامت یا ایک جدید سیاحتی روایت؟

    اٹلی کے تاریخی شہر ویرونا میں واقع جولیٹ کا کانسی کا مجسمہ دنیا کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد اس مجسمے کے ساتھ تصویر بنوانے اور ایک مخصوص روایت میں حصہ لینے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ عام عقیدہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مجسمے کے دائیں سینے کو چھو لے تو اسے محبت میں کامیابی اور خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجسمے کا یہ حصہ باقی جسم کے مقابلے میں زیادہ چمکدار دکھائی دیتا ہے۔ تاہم اس روایت کے پیچھے کی کہانی اور خود جولیٹ کے کردار کی تاریخ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

    سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جولیٹ کوئی حقیقی تاریخی شخصیت نہیں تھی۔ وہ انگریز ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کے مشہور المیہ ڈرامے ‘رومیو اینڈ جولیٹ’ کا ایک فرضی کردار ہے۔ اگرچہ ویرونا میں مونٹیکی اور کیپولیٹ جیسے ناموں سے ملتے جلتے خاندان قرون وسطیٰ میں موجود تھے، لیکن جولیٹ کی حقیقی تاریخی موجودگی کا کوئی مستند ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے باوجود شیکسپیئر کی کہانی نے جولیٹ کو محبت کی عالمی علامت بنا دیا۔

    جولیٹ کے نام سے منسوب عمارت، جسے آج ‘جولیٹ ہاؤس’ کہا جاتا ہے، دراصل ایک قرون وسطیٰ کی عمارت ہے جس کا تعلق کپیلو خاندان سے تھا۔ یہ عمارت بیسویں صدی کے آغاز میں عوامی توجہ کا مرکز بنی اور بعد میں اسے سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمارت کی مشہور بالکونی بھی اصل قرون وسطیٰ کا حصہ نہیں بلکہ بیسویں صدی میں تزئین و آرائش کے دوران شامل کی گئی تھی تاکہ اسے شیکسپیئر کی کہانی سے مزید جوڑا جا سکے۔

    جولیٹ کا مشہور کانسی کا مجسمہ اطالوی مجسمہ ساز نریو کوستانتینی نے تخلیق کیا تھا۔ مجسمہ انیس سو انہتر میں تیار کیا گیا اور بعد میں ویرونا کے لائینز کلب کی حمایت سے انیس سو بہتر میں جولیٹ ہاؤس کے صحن میں نصب کیا گیا۔ اس مجسمے کا مقصد شیکسپیئر کی ہیروئن کو محبت اور وفاداری کی علامت کے طور پر خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ مجسمہ خود ویرونا کی شناخت بن گیا۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ مجسمے کو چھونے والی روایت شیکسپیئر کے زمانے یا قرون وسطیٰ سے تعلق نہیں رکھتی۔ یہ ایک جدید سیاحتی روایت ہے جو بیسویں صدی کے آخری عشروں میں مقبول ہوئی۔ آہستہ آہستہ یہ خیال پھیل گیا کہ جولیٹ کے دائیں سینے کو چھونے سے محبت میں خوش نصیبی حاصل ہوتی ہے۔ اس روایت نے اتنی مقبولیت حاصل کی کہ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس عمل کو انجام دینے لگے۔

    مسلسل چھونے کے باعث اصل مجسمے کو نقصان پہنچنا شروع ہوگیا۔ چالیس سال سے زیادہ عرصے تک کھلے صحن میں موجود رہنے کے بعد اس میں دراڑیں اور ساختی کمزوریاں پیدا ہو گئیں۔ بالآخر دو ہزار چودہ میں اصل مجسمہ محفوظ رکھنے کے لیے عمارت کے اندر منتقل کر دیا گیا جبکہ صحن میں اس کی ایک نئی نقل نصب کی گئی۔ اس کے باوجود سیاح آج بھی اسی روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بعد کے برسوں میں نقل مجسمے کو بھی مسلسل چھونے کی وجہ سے نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

    ایک اور کم معروف حقیقت یہ ہے کہ ویرونا میں جولیٹ کو آج بھی محبت کی علامت کے طور پر زندہ رکھا گیا ہے۔ دنیا بھر سے ہزاروں افراد ہر سال جولیٹ کے نام خطوط بھیجتے ہیں جن میں وہ اپنے جذبات، محبت کی کہانیاں اور ذاتی مسائل بیان کرتے ہیں۔ مقامی رضاکار ان خطوط کا جواب دیتے ہیں، جس کی وجہ سے جولیٹ کا کردار صرف ایک ادبی شخصیت نہیں بلکہ ایک ثقافتی روایت بن چکا ہے۔

    آج جولیٹ کا مجسمہ محض ایک فن پارہ نہیں بلکہ عالمی ثقافت، ادب اور سیاحت کا منفرد امتزاج بن چکا ہے۔ اگرچہ اس سے وابستہ خوش قسمتی کی روایت کی کوئی تاریخی بنیاد موجود نہیں، لیکن اس نے ویرونا کو دنیا کے رومانوی ترین شہروں میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال لاکھوں سیاح اس مجسمے کے سامنے کھڑے ہو کر محبت کی اس مشہور داستان سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔

  • عجائبات ساگا: کولوسیم، طاقت کا میدان، جہاں آج بھی خاموش چیخیں سنی جاسکتی ہیں

    عجائبات ساگا: کولوسیم، طاقت کا میدان، جہاں آج بھی خاموش چیخیں سنی جاسکتی ہیں

    روم کے آسمان پر جب سورج ڈھلتا ہے تو سنہری روشنی ایک عظیم، ٹوٹے مگر باوقار ڈھانچے پر ٹھہر جاتی ہے۔ یہ ہے Colosseum، اٹلی کے شہر Rome میں واقع وہ میدان جس نے دو ہزار برس سے زیادہ عرصے تک طاقت، خون اور تماشے کی تاریخ اپنے اندر سمیٹ رکھی ہے۔ رومن فورم کے قریب کھڑا یہ عجوبہ محض پتھروں کی ترتیب نہیں، ایک سلطنت کی نفسیات کا عکس ہے۔

    اس کی تعمیر 70 سے 80 عیسوی کے درمیان شہنشاہ Vespasian نے شروع کروائی اور اس کے بیٹے Titus نے مکمل کی۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پچاس سے اسی ہزار تک لوگ ایک ساتھ بیٹھ سکتے تھے۔ یہ اس دور کا سب سے بڑا عوامی اسٹیڈیم تھا، مگر یہاں کھیل صرف کھیل نہیں تھے۔

    ریت سے بھرے اس میدان میں گلیڈی ایٹر ایک دوسرے کے مقابل آتے۔ تلواروں کی جھنکار، ڈھالوں کی ٹکر اور مجمعے کا شور فضا کو چیر دیتا۔ بعض اوقات جنگلی جانور چھوڑے جاتے، جو قیدیوں یا جنگجوؤں پر حملہ آور ہوتے۔ اور تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کبھی کبھار پورا میدان پانی سے بھر دیا جاتا تاکہ مصنوعی بحری جنگوں کا منظر پیش کیا جا سکے۔ تفریح کے نام پر موت کو ایک جشن کی صورت دکھایا جاتا تھا۔

    لیکن کولوسیم کا اصل راز زمین کے نیچے تھا۔ ہائپوگیم، دو منزلہ سرنگوں اور کمروں کا پیچیدہ نظام۔ یہاں لفٹیں، خفیہ دروازے اور راستے بنائے گئے تھے۔ غلام اور جانور اچانک زمین پھاڑ کر اوپر آتے، جیسے کوئی جادو ہو۔ تماشائی حیران رہ جاتے، اور شہنشاہ کی طاقت کا سکہ مزید مضبوط ہو جاتا۔

    یہ سب صرف عوامی دل لگی نہیں تھی۔ یہ سیاست تھی۔ روٹی اور کھیل کے ذریعے عوام کو مصروف رکھنا، تاکہ اقتدار محفوظ رہے۔ کولوسیم دراصل ایک اسٹیڈیم سے بڑھ کر طاقت کا مظاہرہ تھا، جہاں ہر مقابلہ سلطنت کی بالادستی کا اعلان بن جاتا۔

    صدیوں میں اسے لوٹا گیا، زلزلوں نے نقصان پہنچایا، اس کے سنگ مرمر دوسرے تعمیراتی منصوبوں میں استعمال ہوئے۔ مگر اس کے محراب آج بھی قائم ہیں۔ آج یہاں خاموشی ہے۔ نہ تلواروں کی آواز، نہ ہجوم کا شور۔ سیاح آتے ہیں، تصویریں لیتے ہیں، اور چلے جاتے ہیں۔

    مگر اگر آپ ان دیواروں کو غور سے دیکھیں، تو یوں لگتا ہے جیسے وقت ابھی ختم نہیں ہوا۔ جیسے ریت میں جذب وہ چیخیں اب بھی ہوا میں معلق ہوں۔ کولوسیم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت کا میدان ہمیشہ صرف کھیل کا میدان نہیں ہوتا، کبھی کبھی وہ انسانیت کا امتحان بھی بن جاتا ہے۔

    یہی ہے عجوبہ ساگا کا سفر۔ جہاں تاریخ صرف سنائی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے۔

     

  • اٹلی ساڑھے 10 ہزار ہنرمند پاکستانیوں کو ورک ویزے دے گا؟ مگر کیوں؟

    اٹلی ساڑھے 10 ہزار ہنرمند پاکستانیوں کو ورک ویزے دے گا؟ مگر کیوں؟

    پاکستان اور اطالوی حکام کے درمیان روم میں ہونے والی ملاقات میں ساڑھے دس ہزار پاکستانیوں کو اٹلی کے ورک ویزے دینے کا اہم فیصلہ ہوا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے اطالوی ہم منصب میٹیو پینٹے ڈوسی کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں سکیورٹی، منشیات کی روک تھام اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق اس ملاقات میں  اطالوی وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ان کا ملک قانونی نقل مکانی کے عمل کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساڑھے دس ہزار ہنرمند ورکرز کو ویزے فراہم کرے گا،

    جس سے دونوں ممالک کے درمیان افرادی قوت کے تبادلے میں تیزی آئے گی۔

    ملاقات کے دوران ایک اور اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ پاکستانی سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو اب اٹلی کے ویزے سے استثنا حاصل ہوگا، یعنی وہ بغیر ویزا اٹلی کا سفر کر سکیں گے۔

    اطالوی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے کچھ عرصہ قبل کی گئی تجویز کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔

    دونوں وزرائے داخلہ نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں ان جرائم کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

    محسن نقوی نے اطالوی حکام کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے اپنے ہوائی اڈوں اور سمندری سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو انتہائی سخت کر دیا ہے، جس کی وجہ سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔

    اطالوی وزیرداخلہ نے کہا کہ اٹلی پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے اور قانونی طریقے سے اٹلی آنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

    پاکستانی حکام نے بتایا کہ پاکستان نے 2023 میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں تیز کر دیں،

    جب یونان کے ایک قصبے کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے سینکڑوں تارکینِ وطن، جن میں متعدد پاکستانی بھی شامل تھے، جان سے گئے۔ یہ سانحہ بحیرۂ روم کے خوفناک ترین حادثات میں شمار ہوتا ہے۔

    حکام مسلسل ان سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں جو شہریوں کو خطرناک راستوں سے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، جبکہ ہوائی اڈوں پر نگرانی سخت کی گئی ہے اور جعلی دستاویزات میں ملوث افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔

    ملاقات کے دوران محسن نقوی نے اٹلی کی جیلوں میں قید 146 پاکستانی شہریوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور ان میں سے 42 قیدیوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

    انہوں نے اطالوی وزیر داخلہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعاون سے انسانی اسمگلنگ، انسداد منشیات اور سرحدی سیکیورٹی کے مسائل پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ غیرقانونی طریقں سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں سینکڑوں پاکستانی جان سے جا چکے ہیں۔ صرف گزشتہ تین سالوں میں سمندر کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش میں تین سو سے ذائد پاکستانیوں کی اموات ہوئی ہے۔

  • گلیوں کے بجائے نہریں رکھنے والا دنیا کا واحد بڑا شہر، جہاں ایک بھی گاڑی نہیں چلتی

    گلیوں کے بجائے نہریں رکھنے والا دنیا کا واحد بڑا شہر، جہاں ایک بھی گاڑی نہیں چلتی

    اٹلی کا شہر وینس دنیا کے چند منفرد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد بڑا شہر ہے جہاں ایک بھی گاڑی نہیں چلتی۔ یہاں آمدورفت سڑکوں پر گاڑیوں سے نہیں بلکہ نہروں میں چلنے والی کشتیوں سے ہوتی ہے، اسی لیے وینس کو پانی پر قائم ایک زندہ شہر کہا جاتا ہے جو صدیوں سے اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    وینس زمین پر نہیں بلکہ پانی کے اوپر بسایا گیا شہر ہے۔ یہ شہر تقریباً 118 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے باریک نہروں کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں سڑکوں کی جگہ نہریں ہیں اور لوگ روزمرہ زندگی میں کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، حتیٰ کہ ایمبولینس اور پولیس بھی پانی ہی میں چلتی ہے۔

    اس شہر میں 400 سے زائد پل موجود ہیں جو ان جزیروں کو آپس میں ملاتے ہیں۔ ریالٹو پل اور برج آف سائز دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر پل کا اپنا انداز اور تاریخ ہے اور کئی پل ایسے ہیں جو صدیوں سے بغیر کسی بڑی تبدیلی کے آج بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

    وینس کی عمارتیں لکڑی کے مضبوط ستونوں پر کھڑی ہیں جو سینکڑوں سال پہلے پانی میں گاڑے گئے تھے۔ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ یہ لکڑی پانی میں گلنے کے بجائے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو جاتی ہے کیونکہ پانی میں آکسیجن کی کمی لکڑی کو خراب ہونے سے بچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وینس کی کئی عمارتیں آج بھی قائم ہیں۔

    ہر سال وینس کو ایک قدرتی مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے مقامی زبان میں آکوا آلٹا کہا جاتا ہے۔ اس دوران سمندر کی سطح بلند ہو جاتی ہے اور تاریخی عمارتوں اور چوکوں میں پانی بھر جاتا ہے۔ سینٹ مارک اسکوائر اس کیفیت کی سب سے نمایاں مثال ہے جہاں لوگ عارضی راستوں پر چلتے نظر آتے ہیں۔

     

    وینس کی عمارتیں لکڑی کے مضبوط ستونوں پر کھڑی ہیں جو سینکڑوں سال پہلے پانی میں گاڑے گئے تھے۔ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ یہ لکڑی پانی میں گلنے کے بجائے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو جاتی ہے

    تاریخ میں وینس صدیوں تک ایک طاقتور بحری جمہوریہ رہا۔ یہ شہر یورپ اور مشرق کے درمیان تجارت کا بڑا مرکز تھا اور ریشم، مصالحہ جات اور قیمتی اشیا کی تجارت نے اسے بے پناہ دولت دی۔ اسی تجارتی طاقت نے وینس کو فن تعمیر، مصوری اور موسیقی کا مرکز بنایا۔

    دنیا کا مشہور وینس کارنیول بھی اسی شہر میں منعقد ہوتا ہے۔ اس موقع پر لوگ صدیوں پرانے نقاب پہن کر جشن مناتے ہیں۔ یہ نقاب کبھی سماجی فرق مٹانے کی علامت تھے تاکہ امیر اور غریب ایک جیسے نظر آئیں اور آزادانہ گھل مل سکیں۔

    وینس میں گونڈولا کشتی چلانا آسان کام نہیں۔ اس کے لیے باقاعدہ لائسنس درکار ہوتا ہے اور یہ پیشہ نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ روایتی گونڈولا ہمیشہ سیاہ رنگ کی ہوتی ہے، یہ پابندی اس لیے لگائی گئی تھی تاکہ دکھاوے اور طبقاتی فرق کو کم کیا جا سکے۔

    آج وینس کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ مقامی آبادی کم ہو رہی ہے جبکہ سیاحوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے برسوں میں وینس کو مزید ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے، مگر اس کے باوجود وینس انسانی تاریخ، ثقافت اور پانی پر بسنے کے منفرد تجربے کی ایک زندہ علامت ہے۔