اٹلی کا شہر وینس دنیا کے چند منفرد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد بڑا شہر ہے جہاں ایک بھی گاڑی نہیں چلتی۔ یہاں آمدورفت سڑکوں پر گاڑیوں سے نہیں بلکہ نہروں میں چلنے والی کشتیوں سے ہوتی ہے، اسی لیے وینس کو پانی پر قائم ایک زندہ شہر کہا جاتا ہے جو صدیوں سے اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
وینس زمین پر نہیں بلکہ پانی کے اوپر بسایا گیا شہر ہے۔ یہ شہر تقریباً 118 چھوٹے جزیروں پر مشتمل ہے جو ایک دوسرے سے باریک نہروں کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں سڑکوں کی جگہ نہریں ہیں اور لوگ روزمرہ زندگی میں کشتیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، حتیٰ کہ ایمبولینس اور پولیس بھی پانی ہی میں چلتی ہے۔
اس شہر میں 400 سے زائد پل موجود ہیں جو ان جزیروں کو آپس میں ملاتے ہیں۔ ریالٹو پل اور برج آف سائز دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر پل کا اپنا انداز اور تاریخ ہے اور کئی پل ایسے ہیں جو صدیوں سے بغیر کسی بڑی تبدیلی کے آج بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
وینس کی عمارتیں لکڑی کے مضبوط ستونوں پر کھڑی ہیں جو سینکڑوں سال پہلے پانی میں گاڑے گئے تھے۔ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ یہ لکڑی پانی میں گلنے کے بجائے وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو جاتی ہے کیونکہ پانی میں آکسیجن کی کمی لکڑی کو خراب ہونے سے بچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وینس کی کئی عمارتیں آج بھی قائم ہیں۔
ہر سال وینس کو ایک قدرتی مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے مقامی زبان میں آکوا آلٹا کہا جاتا ہے۔ اس دوران سمندر کی سطح بلند ہو جاتی ہے اور تاریخی عمارتوں اور چوکوں میں پانی بھر جاتا ہے۔ سینٹ مارک اسکوائر اس کیفیت کی سب سے نمایاں مثال ہے جہاں لوگ عارضی راستوں پر چلتے نظر آتے ہیں۔

تاریخ میں وینس صدیوں تک ایک طاقتور بحری جمہوریہ رہا۔ یہ شہر یورپ اور مشرق کے درمیان تجارت کا بڑا مرکز تھا اور ریشم، مصالحہ جات اور قیمتی اشیا کی تجارت نے اسے بے پناہ دولت دی۔ اسی تجارتی طاقت نے وینس کو فن تعمیر، مصوری اور موسیقی کا مرکز بنایا۔
دنیا کا مشہور وینس کارنیول بھی اسی شہر میں منعقد ہوتا ہے۔ اس موقع پر لوگ صدیوں پرانے نقاب پہن کر جشن مناتے ہیں۔ یہ نقاب کبھی سماجی فرق مٹانے کی علامت تھے تاکہ امیر اور غریب ایک جیسے نظر آئیں اور آزادانہ گھل مل سکیں۔
وینس میں گونڈولا کشتی چلانا آسان کام نہیں۔ اس کے لیے باقاعدہ لائسنس درکار ہوتا ہے اور یہ پیشہ نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ روایتی گونڈولا ہمیشہ سیاہ رنگ کی ہوتی ہے، یہ پابندی اس لیے لگائی گئی تھی تاکہ دکھاوے اور طبقاتی فرق کو کم کیا جا سکے۔
آج وینس کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ مقامی آبادی کم ہو رہی ہے جبکہ سیاحوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے برسوں میں وینس کو مزید ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہے، مگر اس کے باوجود وینس انسانی تاریخ، ثقافت اور پانی پر بسنے کے منفرد تجربے کی ایک زندہ علامت ہے۔
