Tag: انٹرنیٹ

  • پاکستان میں انٹرنیٹ اچانک سست کیوں ہو جاتا ہے؟ ایک ڈیجیٹل معمہ

    پاکستان میں انٹرنیٹ اچانک سست کیوں ہو جاتا ہے؟ ایک ڈیجیٹل معمہ

    شام کا وقت ہے۔ لوگ اپنے اپنے موبائل فون میں مصروف ہیں۔ ایک نوجوان ویڈیو دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اسکرین بار بار رک جاتی ہے۔ چند لمحے چلتی ہے، پھر ٹھہر جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب بہت سے لوگوں کے ذہن میں ایک ہی سوال ابھرتا ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ اچانک سست کیوں ہو جاتا ہے؟

    یہ مسئلہ صرف ایک شخص کا نہیں۔ ویڈیو رک جانا، فائل ڈاؤن لوڈ نہ ہونا، یا آن لائن میٹنگ کا اچانک فریز ہو جانا، یہ سب پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لاکھوں لوگوں کا روزمرہ تجربہ بن چکا ہے۔ لیکن اس سست رفتاری کے پیچھے صرف ایک وجہ نہیں بلکہ کئی مختلف عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

    پاکستان کا زیادہ تر انٹرنیٹ دراصل سمندر کے نیچے بچھائی گئی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے دنیا کے باقی حصوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ کیبلز ہزاروں کلومیٹر لمبی ہوتی ہیں اور سمندر کی تہہ میں بچھائی جاتی ہیں۔ انہی کے ذریعے ڈیٹا ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک سفر کرتا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات ان کیبلز کو نقصان مچھلیوں سے نہیں بلکہ بڑے جہازوں کے اینکر یا سمندری زلزلوں سے پہنچتا ہے۔ جب ان میں سے کسی ایک کیبل میں خرابی پیدا ہو جائے تو اس کا اثر صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔

    ایک اور اہم وجہ بڑھتا ہوا دباؤ بھی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد اب کروڑوں میں پہنچ چکی ہے۔ لاکھوں لوگ ایک ہی وقت میں ویڈیوز دیکھتے ہیں، آن لائن گیمز کھیلتے ہیں اور بڑی فائلیں ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔ جب اتنی بڑی تعداد بیک وقت نیٹ ورک استعمال کرتی ہے تو موجودہ انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور رفتار کم محسوس ہونے لگتی ہے۔

    حالیہ برسوں میں پاکستان میں انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی اور سائبر سکیورٹی کے لیے ایک قومی انٹرنیٹ فائر وال اور ویب مانیٹرنگ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا۔ اس نظام کا مقصد غیر قانونی ویب سائٹس کو بلاک کرنا اور آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کرنا بتایا جاتا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اس طرح کے نظام کی لاگت بیس سے تیس ارب پاکستانی روپے کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

    جب ڈیٹا اس طرح کے فلٹرنگ نظام سے گزرتا ہے تو اسے اضافی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی اضافی عمل بعض اوقات انٹرنیٹ کی رفتار کو سست محسوس کروا دیتا ہے، کیونکہ ہر ڈیٹا پیکٹ کو مزید جانچ کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کا بڑا حصہ چند بڑے گیٹ ویز کے ذریعے ملک میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی ایک مقام پر تکنیکی مسئلہ پیدا ہو جائے تو اس کا اثر بیک وقت لاکھوں صارفین تک پہنچ سکتا ہے۔

    یوں دیکھا جائے تو پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری صرف ایک تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں۔ سمندر کے نیچے بچھائی گئی کیبلز، بڑھتا ہوا ڈیجیٹل دباؤ، مقامی انفراسٹرکچر کی محدود گنجائش اور سکیورٹی نگرانی کے نظام، یہ سب مل کر اس رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔

    ڈیجیٹل دنیا میں رفتار ہی طاقت سمجھی جاتی ہے۔ مگر کبھی کبھی اس رفتار کے پیچھے چھپی ہوئی پیچیدہ کہانیاں ہمیں یہ یاد دلاتی ہیں کہ انٹرنیٹ صرف ایک بٹن دبانے کا نام نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ایک وسیع اور پیچیدہ نظام کا نتیجہ ہے۔

  • فائو جی اسپیکٹرم کی نیلامی: رواں سال کے وسط سے ملک کے پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی کے اجرا کا اعلان

    فائو جی اسپیکٹرم کی نیلامی: رواں سال کے وسط سے ملک کے پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی کے اجرا کا اعلان

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے کچھ ماہ میں ملک کے پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی کا آغاز کردیا جائے گا اور بہتر اسپیکٹرم دستیابی کے بعد آئندہ چار سے پانچ ماہ میں فور جی انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

     منگل کے روز اسلام آباد میں فائو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے فائنل راؤنڈ میں مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم 507 ملین ڈالر میں فروخت کردیے گئے، نیلامی میں تین بڑی ٹیلی کام کمپنیز زونگ، جاز اور یوفون، نے مختلف فریکوئنسی بینڈز حاصل کیے۔

    اہم 2600 میگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈ کے لیے کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جو فائو جی سروس کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ نیلامی کے نتیجے میں یوفون کے برانڈ کے تحت خدمات فراہم کرنے والی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ، پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے اپنے ڈیجیٹل ٹیلی کام برانڈ’ اونک‘ (onic) ، زونگ نے 110 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ جاز نے 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔

    حکومت نے مختلف فریکوئنسی بینڈز کے لیے بنیادی قیمتیں مقرر کی تھیں جن میں 700 میگا ہرٹز کے ایک لاٹ کی قیمت 32.5 ملین ڈالر، 1800 میگا ہرٹز کے لیے 16.8 ملین ڈالر، 2100 میگا ہرٹز کے لیے 70 ملین ڈالر، 2300 میگا ہرٹز کے لیے 10 ملین ڈالر، 2600 میگا ہرٹز کے لیے 12.5 ملین ڈالر اور 3500 میگا ہرٹز کے لیے 6.5 ملین ڈالر رکھی گئی تھی۔

    نیلامی کے عمل کا آغاز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، سابق وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کی چیئرپرسن اور کمیٹی کے دیگر اراکین کی موجودگی میں ہوا۔

    پہلے مرحلے کی بولی کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نےبتایا کہ 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم 10 میگا ہرٹز کے 19 لاٹس کی صورت میں پیش کیا تھا، تاہم کمپنیوں کی جانب سے 30 لاٹس کی طلب سامنے آئی جس کے بعد مزید 11 لاٹس یعنی 110 میگا ہرٹز نیلامی کے لیے شامل کیے گئے۔ پی ٹی اے نے 2600 میگا ہرٹز بینڈ کی قیمت میں بنیادی قیمت کے مقابلے میں پانچ فیصد اضافہ بھی کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ویب 3.0 جیسے جدید شعبوں کی ترقی کے لیے بھی اسپیکٹرم کی دستیابی اور 5جی ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر آن لائن تعلیم اور گھر سے کام جیسے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔

    وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ ملک میں پہلی بار 5جی متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ اس سے 4جی سروس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

    وزیر آئی ٹی نے مزید بتایا کہ حکومت ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ، بین الاقوامی کیبل سسٹمز سے رابطے اور فائبر نیٹ ورک کے پھیلاؤ پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ ملک بھر میں بہتر اور سستا انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکے۔

  • 2024 میں پاکستان کی 80 لاکھ نئی خواتین کے انٹرنیٹ سے جڑنے کے ساتھ ایک لاکھ 35 ہزار سائبر کرائم شکایات، ملک میں پہلی نیشنل اسٹریٹجی کا آغاز

    2024 میں پاکستان کی 80 لاکھ نئی خواتین کے انٹرنیٹ سے جڑنے کے ساتھ ایک لاکھ 35 ہزار سائبر کرائم شکایات، ملک میں پہلی نیشنل اسٹریٹجی کا آغاز

    سال 2024 میں پاکستان میں 80 لاکھ نئی خواتین انٹرنیٹ سے جڑیں، جو ڈیجیٹل شمولیت میں ایک بڑی پیش رفت ہے، مگر اسی سال ایک لاکھ 35 ہزار سائبر کرائم شکایات بھی سامنے آئیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف 826 مقدمات عدالت تک پہنچ سکے، یعنی محض اعشاریہ چھ فیصد۔

    یہ اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی معلومات کے غلط استعمال جیسے جرائم پاکستان میں خواتین کے لیے تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ بن رہے ہیں۔

    اسلام آباد میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد کے خلاف پاکستان کی پہلی قومی حکمت عملی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزق نے اس صورتحال کی نشاندہی کی۔

    موبائل فون، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل دیا ہے۔ کاروبار، تعلیم اور سماجی رابطے اب بڑی حد تک آن لائن ہو چکے ہیں۔ لیکن اس نئی دنیا کے ساتھ ایک نیا خطرہ بھی سامنے آیا ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے۔

    اسی پس منظر میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد کے خلاف پاکستان کی پہلی قومی حکمت عملی متعارف کرائی گئی ہے۔

    یہ حکمت عملی دراصل اس بڑھتے ہوئے مسئلے کو تسلیم کرنے کی ایک کوشش ہے جس میں خواتین کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں، نجی معلومات کے غلط استعمال اور دیگر ڈیجیٹل حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنا، متاثرہ افراد کو تحفظ دینا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ذمہ دارانہ رویوں کو فروغ دینا ہے۔

    تقریب کے دوران قانون و انصاف کے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے اس اقدام کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ حکمت عملی نہ صرف ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنائے گی بلکہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ڈیجیٹل دنیا کو زیادہ محفوظ اور بااختیار بنانے میں بھی مدد دے گی۔

    ماہرین کے مطابق یہی وہ خلا ہے جسے یہ نئی حکمت عملی پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو، انصاف کا نظام مؤثر ہو اور متاثرہ افراد کو فوری مدد مل سکے۔

    پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا ایک اہم پہلو آگاہی بھی ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو نہ صرف آن لائن محفوظ رہنے کے طریقے سکھانا ضروری ہے بلکہ انہیں یہ اعتماد بھی دینا ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا میں ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

    قومی اسمبلی کی جینڈر مین اسٹریمنگ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد کا مقابلہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ مضبوط ادارہ جاتی نظام اور جوابدہی سے ہی ممکن ہے۔

    ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تیزی سے روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں یہ نئی قومی حکمت عملی ایک ایسے راستے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں خواتین اور لڑکیاں نہ صرف آن لائن موجود ہوں بلکہ خود کو محفوظ اور بااختیار بھی محسوس کر سکیں۔

    اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی آن لائن دنیا کو واقعی خواتین کے لیے محفوظ بنا سکے گی یا یہ بھی صرف ایک پالیسی دستاویز بن کر رہ جائے گی۔

  • پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ سروس کے لیے اسپیکٹرم نیلامی کا اعلان

    پاکستان میں فائیو جی انٹرنیٹ سروس کے لیے اسپیکٹرم نیلامی کا اعلان

    پاکستان میں ٹیلی مواصلات کے نظام کی نگرانی اور ضابطہ کاری کے ذمہ دار ریاستی ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے فائیو جی انٹرنیٹ سروس متعارف کرانے کے لیے 10 مارچ کو اسپیکٹرم نیلامی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں نیکسٹ جنریشن انٹرنیٹ سروسز کے فروغ کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔

    پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ فائیو جی سروس، فور جی کے مقابلے میں 10 سے 100 گنا تک زیادہ تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حکام کے مطابق فائیو جی کی آمد سے نہ صرف صارفین کو بہتر انٹرنیٹ سروس میسر آئے گی بلکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق فائیو جی نیٹ ورکس کی محفوظ تنصیب اور آپریشن کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ صارفین کے ڈیٹا اور قومی ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے تحفظ کو بھی ترجیح دی جائے گی۔

    پی ٹی اے کی تیاری

    پاکستان میں پہلے ہی فور جی نیٹ ورک کی دستیابی کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم متعدد صارفین انٹرنیٹ کی رفتار سے متعلق شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا فائیو جی سروس عام صارف کے لیے قابلِ برداشت قیمت پر دستیاب ہو سکے گی یا نہیں۔

    پی ٹی اے کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 80 فیصد موبائل فونز ایسے اسپیکٹرم بینڈز کو سپورٹ کرتے ہیں جو فائیو جی سروس کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم نیٹ ورک انفراسٹرکچر، ٹاورز کی فائیبر کنیکٹیویٹی اور دیگر بنیادی سہولیات پر کام ابھی جاری ہے تاکہ فائیو جی کی خدمات معیاری انداز میں صارفین تک پہنچائی جا سکیں۔

    ممکنہ چیلنجز

    ماہرین کے مطابق فائیو جی سروسز کے آغاز کے لیے حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان میں ٹیلی کام کمپنیوں کی مالی ضروریات، صارفین کے لیے فائیو جی ڈیوائسز کی افورڈیبلٹی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جیسے مسائل شامل ہیں۔

    فائیو جی کے اثرات اور توقعات

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف موبائل انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ گیمنگ، لائیو اسٹریمنگ اور بزنس ایپلیکیشنز کے استعمال میں بھی بہتری متوقع ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلیکیشنز اور جدید ڈیجیٹل سروسز کے فروغ کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں

     

  • ڈیجیٹل سروے کے نتائج: تعلیم، صحت اور انٹرنیٹ رسائی میں ‘بہتری’، چیلنجز برقرار

    ڈیجیٹل سروے کے نتائج: تعلیم، صحت اور انٹرنیٹ رسائی میں ‘بہتری’، چیلنجز برقرار

    نئے سال کے آغاز پر وفاقی حکومت کے ادارے پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک کے سماجی اشاریوں میں مجموعی طور پر کچھ حد تک بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ سروے یکم جنوری کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے باضابطہ طور پر جاری کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا مکمل طور پر ڈیجیٹل ہاؤس ہولڈ سروے ہے، جس کا مقصد عوام کے معاشی اور سماجی حالات کی درست اور حقیقی تصویر پیش کرنا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کا موجودہ مرحلہ ستمبر 2024 سے جون 2025 تک مکمل کیا گیا۔ اس دوران اینڈرائیڈ ٹیبلٹس پر مبنی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پاکستان بھر میں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت، 32 ہزار 814 گھرانوں سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل طریقہ کار سے ڈیٹا کی شفافیت اور درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

    سروے کے نتائج کو صوبائی سطح پر دو الگ رپورٹس کی صورت میں مرتب کیا گیا ہے، جن میں سماجی رپورٹ اور معاشی رپورٹ شامل ہیں۔ سماجی رپورٹ میں تعلیم، معلومات و مواصلاتی ٹیکنالوجی، صحت، آبادی و خاندانی بہبود، رہائش، پانی، صفائی ستھرائی اور خوراک کی عدم تحفظ سے متعلق اہم اشاریوں پر تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ معاشی رپورٹ میں گھرانوں کی آمدنی اور اخراجات کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اخراجات کی بنیاد پر غربت کے تخمینے کے لیے ضروری اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    تعلیم اور صحت کی صورتحال

    تعلیم کے شعبے سے متعلق سروے کے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک میں شرح خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گئی ہے، جسے ماہرین تعلیمی شعبے میں بتدریج بہتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح اسکول سے باہر بچوں کی شرح میں بھی معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے، لیکن تعلیمی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔

    دوسری جانب یونیسف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سرکاری اعداد و شمار سے قدرے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ یونیسف کے مطابق سال 2025 میں پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر تھا۔ اندازوں کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو اس عمر کے مجموعی بچوں کی آبادی کا 35 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف قومی ترقی کے لیے تشویش ناک ہے بلکہ مستقبل کی افرادی قوت پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

    صحت کے شعبے میں سروے کے نتائج نسبتاً مثبت رجحانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی مکمل ویکسینیشن کی شرح 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ نوزائیدہ اور شیر خوار بچوں کی اموات میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ صاف ایندھن استعمال کرنے والے گھرانوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے، جسے ماحولیاتی بہتری اور صحت مند طرزِ زندگی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    ڈیجیٹل رسائی میں خاطرخواہ اضافہ

    ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے سروے کے نتائج خاص طور پر نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ افراد کی سطح پر انٹرنیٹ استعمال 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں، تقریباً 96 فیصد گھرانوں میں موبائل یا اسمارٹ فون کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں آن لائن تعلیم، ای-کامرس اور ڈیجیٹل روزگار کے مواقع میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

    اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں موبائل فونزکی درآمدات پر801.13ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 40.51فیصدزیادہ ہے۔گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں موبائل فونز کی درآمدات پر570.18ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا،نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات پر156.56ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواجونومبر2024کے مقابلہ میں 4.81فیصدزیادہ ہے،نومبر 2024میں موبائل فونزکی درآمدات پر149.37ملین ڈالرزرمبادلہ خرچ ہواتھا۔

    اکتوبرکے مقابلہ میں نومبرمیں موبائل فونزکی درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر8.30فیصدکی کمی ہوئی، اکتوبرمیں موبائل فونزکادرآمدی بل 144.56ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

    غربت میں کمی

    ماہرین معاشیات کے مطابق سروے کے اعداد و شمار غربت میں کمی، سماجی تحفظ کے پروگراموں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ سروے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبے ترتیب دیں اور عوامی فلاح کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے، خاص طور پر تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔

    مجموعی طور پر ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کو پاکستان میں ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان نتائج کو مؤثر پالیسی اقدامات میں تبدیل کیا گیا تو یہ سروے پاکستانی عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی اور دیرپا بہتری لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔