فائو جی اسپیکٹرم کی نیلامی: رواں سال کے وسط سے ملک کے پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی کے اجرا کا اعلان

پاکستان کی وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے کچھ ماہ میں ملک کے پانچ بڑے شہروں میں فائیو جی کا آغاز کردیا جائے گا اور بہتر اسپیکٹرم دستیابی کے بعد آئندہ چار سے پانچ ماہ میں فور جی انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

 منگل کے روز اسلام آباد میں فائو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے فائنل راؤنڈ میں مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم 507 ملین ڈالر میں فروخت کردیے گئے، نیلامی میں تین بڑی ٹیلی کام کمپنیز زونگ، جاز اور یوفون، نے مختلف فریکوئنسی بینڈز حاصل کیے۔

اہم 2600 میگا ہرٹز فریکوئنسی بینڈ کے لیے کمپنیوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جو فائو جی سروس کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ نیلامی کے نتیجے میں یوفون کے برانڈ کے تحت خدمات فراہم کرنے والی پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ، پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (پی ٹی ایم ایل) نے اپنے ڈیجیٹل ٹیلی کام برانڈ’ اونک‘ (onic) ، زونگ نے 110 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ جاز نے 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم حاصل کیا۔

حکومت نے مختلف فریکوئنسی بینڈز کے لیے بنیادی قیمتیں مقرر کی تھیں جن میں 700 میگا ہرٹز کے ایک لاٹ کی قیمت 32.5 ملین ڈالر، 1800 میگا ہرٹز کے لیے 16.8 ملین ڈالر، 2100 میگا ہرٹز کے لیے 70 ملین ڈالر، 2300 میگا ہرٹز کے لیے 10 ملین ڈالر، 2600 میگا ہرٹز کے لیے 12.5 ملین ڈالر اور 3500 میگا ہرٹز کے لیے 6.5 ملین ڈالر رکھی گئی تھی۔

نیلامی کے عمل کا آغاز وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، سابق وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کی چیئرپرسن اور کمیٹی کے دیگر اراکین کی موجودگی میں ہوا۔

پہلے مرحلے کی بولی کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نےبتایا کہ 190 میگا ہرٹز اسپیکٹرم 10 میگا ہرٹز کے 19 لاٹس کی صورت میں پیش کیا تھا، تاہم کمپنیوں کی جانب سے 30 لاٹس کی طلب سامنے آئی جس کے بعد مزید 11 لاٹس یعنی 110 میگا ہرٹز نیلامی کے لیے شامل کیے گئے۔ پی ٹی اے نے 2600 میگا ہرٹز بینڈ کی قیمت میں بنیادی قیمت کے مقابلے میں پانچ فیصد اضافہ بھی کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، بلاک چین اور ویب 3.0 جیسے جدید شعبوں کی ترقی کے لیے بھی اسپیکٹرم کی دستیابی اور 5جی ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر آن لائن تعلیم اور گھر سے کام جیسے نظام کو مزید مضبوط بنائے گا۔

وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ ملک میں پہلی بار 5جی متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ اس سے 4جی سروس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیر آئی ٹی نے مزید بتایا کہ حکومت ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ، بین الاقوامی کیبل سسٹمز سے رابطے اور فائبر نیٹ ورک کے پھیلاؤ پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ ملک بھر میں بہتر اور سستا انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکے۔

اسی بارے میں: