پاکستان کی سیاسی اور مزدور تحریک کی تاریخ ایسے بے شمار کرداروں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے شہرت، اقتدار یا ذاتی مفاد کے بجائے اپنے نظریات اور عوام کے حقوق کے لیے پوری زندگی وقف کر دی۔ انہی شخصیات میں عثمان بلوچ کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔
عثمان بلوچ صرف ایک ٹریڈ یونین رہنما ہی نہیں بلکہ ایک سرگرم سماجی اور سیاسی کارکن بھی ہیں، جنہوں نے کئی دہائیوں تک محنت کشوں کے حقوق، جمہوریت اور سماجی انصاف کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ حال ہی میں ان کی خودنوشت ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ کی تقریب رونمائی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہوئی۔ وہ علاج کی غرض سے امریکہ میں ہونے کے باعث تقریب میں شریک نہ ہو سکے، تاہم ان کے دیرینہ ساتھیوں، مزدور رہنماؤں، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد نے اس تقریب میں شرکت کی۔
یہ کتاب محض ایک فرد کی زندگی کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی مزدور تحریک، بائیں بازو کی سیاست اور جمہوریت کے لیے ہونے والی جدوجہد کا ایک مستند تاریخی ریکارڈ بھی ہے۔ اسے صرف خودنوشت کہنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں پاکستان کی سیاسی تاریخ، بائیں بازو کی تحریکوں، مزدور سیاست کے عروج اور زوال اور مختلف ادوار کی جدوجہد کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
عثمان بلوچ کی مزدوروں اور محروم طبقات کے حقوق کے لیے جدوجہد کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ شعور انہیں اپنے خاندان سے ورثے میں ملا۔ ان کے والد کراچی کے قدیم علاقے لیاری میں مزدور تحریکوں اور محروم طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں سرگرم رہتے تھے۔
اسی ماحول نے عثمان بلوچ کی شخصیت اور سوچ کی تشکیل کی۔ نوجوانی ہی میں انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ مزدور صرف معاشی استحصال کا شکار نہیں بلکہ انہیں سیاسی اور سماجی انصاف سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ یہی احساس آگے چل کر ان کی پوری زندگی کا مقصد بن گیا۔
کتاب میں وہ اپنے گھر کے قریب موجود ایک برگد کے قدیم درخت کا ذکر کرتے ہیں۔ اس درخت کے نیچے ایک تخت رکھا ہوتا تھا، جہاں ان کے والد محمد ابراہیم اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ درحقیقت یہ ایک سیاسی بیٹھک تھی، جہاں مختلف قومی اور سیاسی موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی۔
عثمان بلوچ لکھتے ہیں کہ اسی بیٹھک میں انہوں نے ریشمی رومال تحریک اور خلافت تحریک سمیت کئی تاریخی واقعات کے بارے میں جانا۔ اس وقت ان کی ذمہ داری مہمانوں کے لیے چائے پانی کا انتظام کرنا ہوتی تھی، لیکن وہ خاموشی سے بیٹھ کر بڑی توجہ کے ساتھ یہ تمام گفتگو سنتے رہتے تھے۔ یہی نشستیں ان کی سیاسی تربیت کا پہلا مدرسہ ثابت ہوئیں۔

ان کی خودنوشت ‘ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ اسی طویل جدوجہد کی داستان ہے۔ اس کتاب کو معروف انسانی حقوق کے کارکن کامریڈ واحد بلوچ نے عثمان بلوچ کے ساتھ طویل نشستوں، انٹرویوز اور سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا ہے۔ یہی انداز اس کتاب کو عام خودنوشتوں سے منفرد بناتا ہے۔ قاری کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود عثمان بلوچ کے سامنے بیٹھا ان کی زندگی کے تجربات، یادیں اور مشاہدات سن رہا ہو۔
کتاب کے آغاز میں عثمان بلوچ کے ساتھیوں اور قریبی رفقا کے مضامین شامل ہیں، جن میں ان کی شخصیت، جدوجہد اور کردار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان لکھنے والوں میں مرحوم جسٹس (ریٹائرڈ) رشید اے رضوی، پروفیسر انیس زیدی، ڈاکٹر توصیف احمد خان، کامریڈ واحد بلوچ، عبدالخالق جونیجو اور تحریک نسواں کی روح رواں شیما کرمانی
شامل ہیں۔ ان مضامین میں عثمان بلوچ کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو صرف نظریاتی گفتگو تک محدود نہیں رہے بلکہ ہر تحریک میں عملی طور پر صف اول میں موجود رہے۔
کتاب کے آخری حصے میں عثمان بلوچ کے قریبی دوستوں اور ساتھیوں کے تاثرات شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں کامریڈ حبیب الرحمان ہزاروی، باور خان، فیض اللہ خان، ناصر منصور، محمد جعفر، سلیم صدیقی، بصیر نوید، حسن اطہر، عبدالحئی، سید شمس الدین، منظور رضی، محمد عثمان، جان بلوچ، منان باچا ایڈووکیٹ، اسلم کھوکھر، کامریڈ سلطان اور حیات بلوچ شامل ہیں۔ ان سب نے عثمان بلوچ کی شخصیت، ان کی سیاسی وابستگی، مزدور تحریک میں کردار اور ذاتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مشاہدات بیان کیے ہیں، جو اس کتاب کو مزید معتبر اور دلچسپ بنا دیتے ہیں۔
پاکستان کی مزدور تحریک
ساٹھ کی دہائی میں کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر تھا۔ یہاں کی فیکٹریاں، بندرگاہیں اور صنعتی بستیاں مزدور تحریک کا مرکز سمجھی جاتی تھیں، جبکہ لیاری ان سرگرمیوں کا اہم گڑھ تھا۔ عثمان بلوچ نے اپنے عملی سفر کا آغاز بھی انہی صنعتی علاقوں سے کیا۔ انہوں نے نہ صرف مزدوروں کو منظم کیا بلکہ ہر اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا جہاں محنت کش اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے تھے۔
ان کی سیاسی اور مزدور جدوجہد کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ کراچی کی تاریخی ولیکا ٹیکسٹائل مل پر مزدوروں کے قبضے کی تحریک ہو، جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف مزدوروں کی مزاحمت ہو یا 1971-72 میں سائٹ کراچی کی طاقتور مزدور تحریک، عثمان بلوچ ہر جگہ صف اول میں نظر آتے ہیں۔
بعض ساتھیوں نے انہیں ایک ‘ملیٹنٹ مزدور رہنما‘ قرار دیا ہے، جو نہ صرف پرجوش تقاریر کرتے ہیں بلکہ ہر مشکل مرحلے پر مزدوروں کے شانہ بشانہ کھڑے بھی رہتے ہیں۔
وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئے، مگر ایک مرتبہ ان کو امریکی کونسل ممبر کو حیدرآباد میں تھپڑ رسید کرنے کے پاداش میں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ کتاب میں لکھتے ہیں: ’یہ واقعہ 1968ء یا 1969ء کا ہے امریکی کونسل کا ممبر حیدرآباد کے اورینٹ ہوٹل میں پریس کانفرنس کر رہے تھے میں مشہور لیبر لیڈر احسان عظیم کے ساتھ پریس کانفرنس میں جا پہنچا۔‘
’سوال جواب کے سیشن میں، میں نے امریکہ کے مزدوروں کی جدوجہد اور شکاگو کے شہدا کے بارے میں سوال کیا، کونسل ممبر نے کہا امریکہ مزدوروں کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے اور ان کے قانونی حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔‘
ـمیں نے دوبارہ دلیل دی کہ بینک آف امریکہ جس کی ایک برانچ پاکستان میں ہے وہاں یونین بنانے پر پابندی ہے۔ میرے سوال پر کونسل ممبر غصے میں آ گئے اور ترش روئی سے کہا کہ میں یہاں تمام پیراسائٹ (خون چوسنے والا) کے لیے نہیں آیا ہوں۔‘
’میری غیرت نے اس کو برداشت نہیں کیا اور میں نے کونسل ممبر کے چہرے پر ایک تھپڑ جڑ دیا اور ’Down with Imperialism‘ (سامراج مردہ باد) کا نعرہ لگاتے ہوئے باہر آ گیا۔ تمام میٹنگ منتشر ہو گئی اور مجھے گرفتار کر لیا۔‘
فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران سیاسی جماعتوں اور مزدور تنظیموں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ٹریڈ یونین رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور مزدور تحریک کو کمزور کرنے کی منظم کوششیں کی گئیں۔ اس مشکل دور میں بھی عثمان بلوچ ان رہنماؤں میں شامل رہے جنہوں نے شدید دباؤ کے باوجود اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوئے اور طویل عرصے تک روپوش بھی رہے۔
کتاب میں شامل مرحوم جسٹس رشید اے رضوی کے مضمون میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ روپوشی کے دوران عثمان بلوچ اکثر ان کے گھر میں پناہ لیتے تھے۔ ان کا رشید اے رضوی کے گھر آنا جانا معمول تھا، کیونکہ رضوی صاحب کی والدہ عثمان بلوچ سے بے حد محبت کرتی تھیں اور انہیں اپنے خاندان کا فرد سمجھتی تھیں۔
جنرل ضیاء الحق کی ہوائی حادثے میں ہلاکت کے بعد 1988 سے 1999 تک کے جمہوری ادوار میں بھی عثمان بلوچ نے مزدور تحریک کو دوبارہ منظم کرنے اور کارکنوں کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1982 میں جب کرامت علی کی سربراہی میں متحدہ لیبر فیڈریشن کے رہنمائوںنے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کی بنیاد رکھی تو عثمان بلوچ دیگر سیاسی، سماجی اور مزدور رہنماؤں کے ساتھ اس ادارے کے بانی اراکین میں شامل تھے۔

سیاسی طور پر وہ بائیں بازو کی عوامی ورکرز پارٹی سے وابستہ رہے ہیں۔ مرحوم یوسف مستی خان سے ان کے دیرینہ تعلقات رہے ہیں۔ ان کی سیاسی تربیت میں مشہور سیاسی شخصیت اور پاکستان نیشنل پارٹی کے سربرہ میر غوث بخش بزنجو نے کی۔
پاکستان میں مزدور تحریک کی تاریخ دراصل قیام پاکستان سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔ برصغیر میں صنعت، تجارت، ریلوے اور دیگر شعبوں میں مضبوط ٹریڈ یونینیں موجود تھیں۔ ایک دلچسپ تاریخی حقیقت یہ بھی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح 1925 میں آل انڈیا پوسٹل اسٹاف یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے، جس کے تقریباً 70 ہزار ارکان تھے۔ انہوں نے انڈین ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس نے برصغیر میں مزدوروں کے تنظیمی حقوق کو قانونی تحفظ فراہم کیا۔
قیام پاکستان کے بعد بھی ٹریڈ یونین تحریک مضبوط ہوتی رہی، لیکن جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے بعد اس پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ ٹریڈ یونین ایکٹ معطل کر دیا گیا، مزدور تنظیموں کی سرگرمیاں محدود کر دی گئیں اور متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔
بعد کے ادوار میں بھی بار بار لگنے والے مارشل لا، سیاسی پابندیوں، نجکاری، صنعتوں کی بندش اور صنعتی پالیسیوں میں تبدیلیوں نے پاکستان کی ٹریڈ یونین تحریک کو شدید متاثر کیا۔ اس کے باوجود مزدور تنظیموں نے ہر دور میں صرف اجرتوں میں اضافے، ملازمت کے تحفظ اور بہتر کام کے حالات کے لیے ہی آواز بلند نہیں کی بلکہ جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ عثمان بلوچ انہی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود اس جدوجہد کی روایت کو زندہ رکھا اور اپنی پوری زندگی محنت کش طبقے کے حقوق کے لیے وقف کیے رکھی۔
پاکستان کی سیاسی و سماجی تاریخ
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف مصنف کی ذاتی یادداشتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے اہم ادوار کو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ کراچی کی صنعتی بستیوں، کراچی پورٹ ٹرسٹ کی ہڑتالوں، مزدور تنظیموں کے قیام، فیکٹریوں میں ہونے والی جدوجہد اور محنت کشوں کی تنظیم سازی کو نہایت تفصیل اور باریک بینی سے بیان کیا گیا ہے۔ ان واقعات کے ذریعے قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کی صنعتی ترقی کے پس منظر میں محنت کش طبقے نے کتنی قربانیاں دی ہیں اور کن مشکلات کا سامنا کیا ہے۔
کتاب میں خصوصاً ستر اور اسی کی دہائی کی مزدور تحریک کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے۔ اس زمانے میں کراچی کو پاکستان کی مزدور تحریک کا مضبوط ترین مرکز سمجھا جاتا تھا۔ ہزاروں مزدور بہتر اجرت، محفوظ کام کے ماحول اور اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے منظم انداز میں جدوجہد کر رہے تھے۔ عثمان بلوچ نے ان تحریکوں کو نہ صرف قریب سے دیکھا
بلکہ ان کی قیادت اور تنظیم سازی میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ ان کی یادداشتیں اس دور کے سیاسی ماحول، مزدوروں کی امیدوں، ان کے حوصلے اور ریاستی ردعمل کی ایک واضح اور حقیقی تصویر پیش کرتی ہیں۔
اس خودنوشت میں پاکستان کی بائیں بازو کی سیاست کے عروج اور زوال پر بھی کھل کر گفتگو کی گئی ہے۔ عثمان بلوچ صرف کامیابیوں کا ذکر نہیں کرتے بلکہ ترقی پسند سیاست کی اندرونی کمزوریوں، تنظیمی اختلافات، دھڑے بندی اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے فکری بحران کا بھی بے لاگ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ یہی غیر جانبداری اور دیانت داری اس کتاب کو ایک معتبر تاریخی دستاویز بناتی ہے۔
ادبی اور تاریخی اعتبار سے بھی ’ہم اپنی کرنی کر گزرے‘ ایک اہم کتاب ہے۔ عام طور پر تاریخ حکمرانوں، جرنیلوں یا بڑے سیاست دانوں کے نقطۂ نظر سے لکھی جاتی ہے، لیکن یہ کتاب تاریخ کو محنت کش طبقے کی آنکھ سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس میں فیکٹری کا مزدور، بندرگاہ کا کارکن، یونین کا سرگرم رکن اور سیاسی کارکن اپنی اصل صورت میں سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد سیاسی مبصرین، محققین اور مزدور تحریک کا مطالعہ کرنے والے اسے پاکستان کی مزدور تحریک کے حوالے سے ایک بنیادی ماخذ قرار دیتے ہیں۔
کتاب کے ایک باب ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ میں عثمان بلوچ نے متحدہ انڈیا کی تحریک آزادی کے کئی لازوال کرداروں پر مضامین تحریر کیے ہیں۔ ان میں بھگت سنگھ، باتو کیشور دت، کھدی رام بوس، سوریا سین، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی شہید، ہیمو کالانی اور نرائن داس بھچر شامل ہیں۔ اسی باب میں انہوں نے سندھ کی ہاری اور عوامی تحریک کے نمایاں کرداروں عنایت اللہ شہید اور مائی بختاور کی جدوجہد کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
ذاتی زندگی کی تفصیل
عثمان بلوچ کے آباؤ اجداد کا تعلق بلوچستان کے ضلع دالبندین سے تھا، لیکن ان کے پردادا وہاں کی خشک سالی، غربت اور مقامی سرداروں کی باہمی چپقلشوں سے تنگ آ کر بلوچستان کے علاقے ڈیرہ جمالی منتقل ہو گئے۔
اسی زمانے میں برطانوی حکومت نے دریائے سندھ کے بائیں کنارے ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کیا۔ خوش قسمتی سے عثمان بلوچ کے پردادا کو بھی اس منصوبے میں ملازمت مل گئی۔ اس ملازمت کے باعث خاندان سندھ کے ضلع دادو میں پیارو گوٹھ ریلوے اسٹیشن کے قریب پاٹ شریف منتقل ہو گیا۔ ان کے دادا کی ایک بہن کی شادی مقامی سندھی خاندان، قاضی صدیقی، میں ہوئی تھی، لیکن کچھ عرصے بعد ان کے بہنوئی کا انتقال ہو گیا اور ان کی بیوہ کو اپنے چار بچوں سمیت گھر چھوڑنا پڑا۔
عثمان بلوچ لکھتے ہیں کہ ان کے خاندان نے ان بچوں کے وراثتی حقوق کے لیے انگریز عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ بچوں کو زمین کی پیداوار میں حصہ دیا جائے۔ اس فیصلے کے بعد مقامی لوگوں نے ان کے خاندان پر انگریزوں کا حمایتی ہونے کا الزام لگا دیا۔
اس صورت حال کے باعث ان کے دادا اپنی بہن اور اس کے بچوں کو لے کر کوٹری منتقل ہو گئے، مگر وہاں بھی خود کو محفوظ محسوس نہ کیا، چنانچہ بعد ازاں کراچی آ گئے۔ برطانوی حکومت کی ملازمت کے باعث انہیں سرکاری رہائش بھی مل گئی۔ بعد میں ان کے دادا کی شادی دھابیجی کے ایک بااثر زمیندار جھنڈا خان کی صاحبزادی فاطمہ سے ہوئی، جن کے بطن سے 1905 میں عثمان بلوچ کے والد محمد ابراہیم پیدا ہوئے۔
عثمان بلوچ 1937 میں کراچی کے لیاری کوارٹرز میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی ابتدائی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے لیاری کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی، جن میں لیاری ایس ایم اسکول نمایاں ہے۔ بعد ازاں لیاری کے بگڑتے ہوئے سماجی ماحول کے باعث ان کے والد نے انہیں ایک عزیز کے گھر لاڑکانہ بھیج دیا، جہاں ان کا داخلہ لاڑکانہ گورنمنٹ ہائی اسکول میں کرایا گیا۔
وہ لکھتے ہیں کہ لاڑکانہ میں قیام کے دوران انہیں جاگیردارانہ معاشرے کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ انہوں نے ہاریوں اور ملازموں پر ہونے والے ظلم، انسانوں کی تذلیل اور طاقتور طبقے کی سخت گیری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ سب کچھ انہیں اندر تک جھنجھوڑ گیا۔ اسی وجہ سے وہ اس ماحول کو چھوڑ کر دوبارہ کراچی آ گئے اور بندر روڈ پر قائم این جے وی ہائی اسکول میں داخلہ لے لیا۔
کراچی میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے انہیں ملازمت بھی کرنا پڑی۔ انہوں نے ایس ایم کالج سے انٹرمیڈیٹ اور اسلامیہ کالج سے گریجویشن مکمل کی۔ اس دوران انہوں نے ایک مقامی عدالت میں ملازمت اختیار کی، لیکن ایک خاتون کے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی پاداش میں انہیں اپنی سرکاری ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
بعد ازاں انہیں کراچی کی ایک گیس کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے باقاعدہ ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا آغاز کیا۔ اسی کمپنی میں کام کرتے ہوئے ان کی ملاقات ایک خاتون کمپین ملازمہ گلشن سے ہوئی، جو اسماعیلی کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھیں۔
عثمان بلوچ نے اپنی کتاب میں اپنی شریک حیات کے بارے میں ایک تفصیلی باب تحریر کیا ہے۔ اس سے قبل گلشن کی شادی اپنی برادری کے ایک شخص سے ہوئی تھی، لیکن ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے باعث یہ رشتہ قائم نہ رہ سکا۔ اس شخص سے گلشن کو کچھ اولاد بھی تھی۔ گلشن کا رویہ کمپنی کے مزدوروں کے ساتھ انتہائی ہمدردانہ تھا اور وہ جلد ہی ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں بھی شریک ہونے لگیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان باہمی اعتماد اور ذہنی ہم آہنگی پیدا ہوئی اور والدین کی رضامندی سے 1974 میں ان کی شادی ہو گئی۔
بعد میں گلشن کو آغا خان اسپتال میں ملازمت مل گئی۔ اسی دوران امریکہ میں مقیم گلشن کے والد کی کوششوں سے انہیں 1979 میں امریکہ میں مستقل رہائش کی اجازت مل گئی۔ انہوں نے عثمان بلوچ کو بھی امریکہ منتقل ہونے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں رہ کر مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
البتہ اپنی اہلیہ کے اصرار پر وہ کچھ عرصے کے لیے امریکہ گئے اور تقریباً آٹھ ماہ قیام کے بعد دوبارہ کراچی واپس آ گئے۔ گلشن بھی انہیں تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئیں، اس لیے وہ بھی ان کے ساتھ واپس پاکستان آ گئیں۔ اس کے بعد کئی برسوں تک دونوں کا پاکستان اور امریکہ آنا جانا جاری رہا۔
2020 میں عثمان بلوچ کی طبیعت خراب ہوئی تو مشہور ڈاکٹر اور پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کے روح رواں ٹیپو سلطان نے ان کے مختلف طبی معائنے کرائے، جن سے معلوم ہوا کہ وہ پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے فوری طور پر گلشن کو اطلاع دی، جنہوں نے انہیں فوراً امریکہ آنے کا مشورہ دیا۔ امریکہ میں ان کا مکمل علاج ہوا۔ کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے حاضرین کو بتایا کہ عثمان بلوچ کا علاج امریکہ میں کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اور وہ اب روبہ صحت ہیں۔
اسی دوران 2022 میں معلوم ہوا کہ ان کی اہلیہ گلشن الزائمر (بھول جانے والی بیماری) کے مرض میں مبتلا ہیں۔ وہ مسلسل زیر علاج رہیں، لیکن 9 مئی 2024 کو ان کا انتقال ہو گیا۔
اپنی کتاب میں عثمان بلوچ اس صدمے کا ذکر انتہائی درد بھرے انداز میں کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: *’گلشن کا اور میرا ساتھ پچاس برس رہا۔ گلشن کی وفات نے میری دنیا اجاڑ دی اور میں یکدم تنہا ہو گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں بہت زندہ دل ہوں اور واقعی ایسا ہی ہے، لیکن گلشن کی وفات کے بعد میرا دل اندر سے مر گیا ہے۔ میں پوری کوشش کر رہا ہوں کہ اس صدمے سے خود کو سنبھال سکوں۔’*
عثمان بلوچ آج بھی مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد سے وابستہ ہیں۔ اگرچہ بیماری کے باعث وہ کچھ عرصے سے پاکستان سے دور ہیں، لیکن اس دوری نے انہیں پاکستان کے محنت کش طبقے کے مسائل سے الگ نہیں کیا۔ وہ مسلسل ملکی حالات پر نظر رکھتے ہیں اور مزدور تحریک سے اپنا تعلق برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
آج جب پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک ماضی کے مقابلے میں انتہائی کمزور دکھائی دیتی ہے، صنعتی ڈھانچہ تبدیل ہو رہا ہے اور روزگار کی نوعیت بھی تیزی سے بدل رہی ہے، ایسے وقت میں عثمان بلوچ کی زندگی اور ان کی خودنوشت نئی نسل کے لیے ایک اہم سبق رکھتی ہے۔ یہ کتاب یاد دلاتی ہے کہ مزدوروں کے حقوق، جمہوری آزادیوں اور سماجی انصاف کی جدوجہد کبھی آسان نہیں رہی، لیکن انہی جدوجہدوں نے معاشروں میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھی ہے۔ یہی پیغام اس کتاب کو محض ایک خودنوشت نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی، سماجی اور مزدور تحریک کی تاریخ کا ایک اہم حوالہ بنا دیتا ہے۔

