[rank_math_breadcrumb]

‘پاکستان کے کاٹن کیپیٹل’ سانگھڑ میں 120 کاٹن جننگ فیکٹریاں فعال، کاٹن فیکٹری میں کپاس کن مراحل سے گزر کر روئی بنتی ہے؟

‘پاکستان کے کاٹن کیپیٹل’ کہلانے والے ضلع سانگھڑ میں اس وقت تقریباً 120 کاٹن جننگ فیکٹریاں فعال ہیں، جہاں کھیتوں سے حاصل ہونے والی کپاس کو مختلف صنعتی مراحل سے گزار کر ملکی ٹیکسٹائل صنعت اور برآمدی منڈیوں کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

فیکٹریوں میں کسانوں کی جانب سے لائی گئی کپاس سب سے پہلے ٹرالیوں کے ذریعے وصول کی جاتی ہے، جہاں ابتدائی مرحلے میں اس کا وزن اور معیار جانچا جاتا ہے۔ اس کے بعد کپاس کو صفائی اور پروسیسنگ کے لیے جدید مشینوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

اگلے مرحلے میں کپاس کو جننگ مشین سے گزارا جاتا ہے، جہاں کپاس کے ریشے کو بیج سے الگ کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران کپاس کے بیج الگ کر لیے جاتے ہیں، جبکہ صاف روئی کو مزید پراسیسنگ کے لیے آگے بھیج دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں صاف روئی کو ہائیڈرولک پریس کے ذریعے دباکر بڑی گانٹھوں، جنہیں ‘کاٹن بیلز’ کہا جاتا ہے، کی شکل دی جاتی ہے۔ ان بیلز کو مضبوطی سے پیک کیا جاتا ہے تاکہ انہیں محفوظ انداز میں ٹیکسٹائل ملوں یا برآمدی مراکز تک منتقل کیا جا سکے۔

تیار شدہ روئی پاکستان کی مختلف ٹیکسٹائل ملوں کو فراہم کی جاتی ہے، جہاں اسے دھاگا، کپڑا اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اعلیٰ معیار کی روئی بیرونِ ملک بھی برآمد کی جاتی ہے، جس سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق ضلع سانگھڑ ملک کے اہم کپاس پیدا کرنے والے اضلاع میں شامل ہے، جہاں کاٹن جننگ انڈسٹری نہ صرف زرعی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن میں اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ ہزاروں افراد کو روزگار بھی فراہم کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سانگھڑ کو ‘پاکستان کے کاٹن کیپیٹل’ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

اسی بارے میں: