گل حسن کلمتی: کراچی کی تاریخ، تہذیب اور عوامی جدوجہد کا امین

گل حسن کلمتی

سندھ کی قوم پرست جماعتوں، مقامی آبادیوں اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے کراچی بحریہ ٹاؤن کے خلاف چھ جون 2021 کو  ایک بڑا احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں صوبے بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین کا مؤقف تھا کہ مقامی لوگوں کی زمینیں غیر قانونی طور پر ہتھیائی جا رہی ہیں اور انہیں اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

پرامن دھرنا جاری تھا اور سندھی میڈیا اور کچھ نیشنل ٹی وی چینلز اس کو کور کر رہا تھا۔ پھر اچانک ہزاروں کے دھرنے میں بھگدڑ مچ گئی۔ بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے پر کچھ شرپسندوں نے آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔

پولیس کو کارروائی کرنی پڑی، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ آگ نے پورے گیٹ کو لپیٹ میں لے لیا تھا۔ بڑی تعداد میں احتجاجی کارکن واپس جانا شروع ہوگئے۔ مگر پھر پولیس نے احتجاج کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع کر دیں۔

احتجاجی دھرنے کے رہنماؤں کا الزام تھا کہ پرامن احتجاج کو بدنام اور ناکام بنانے کے لیے یہ کارروائیاں بحریہ ٹاؤن انتظامیہ اور بعض ریاستی اداروں کے ایجنٹوں نے کیں۔

واقعے کے بعد متعدد قوم پرست کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ ان گرفتار افراد میں دیگر سیاسی اور سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے مرکزی رہنما گل حسن کلمتی بھی شامل تھے، جنہیں پولیس نے مقامی آبادیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں نشانہ بناکر دہشت گردی کا الزام عائد کیا۔

یہ واقعہ گل حسن کلمتی کی عوامی جدوجہد اور سندھ کے مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے ان کی عملی وابستگی کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا ہے۔

2019 میں مشہور آرکیٹیکٹ اور محقق عارف حسن کی تحقیق کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی کے زیرِ استعمال زیادہ تر زمین صدیوں سے مقامی دیہاتیوں اور مال مویشی پالنے والی برادریوں کی ملکیت تھی۔

تاہم بااثر سیاسی شخصیات اور طاقتور حلقوں نے مقامی لوگوں کو دھمکیاں دے کر اور ان کے گھروں کو مسمار کرکے یہ زمینیں زبردستی حاصل کیں۔

اس عمل کے نتیجے میں 40 سے زائد دیہات متاثر ہوئے اور ہزاروں افراد کو اپنی زمینوں اور گھروں سے محروم ہونا پڑا۔

ان کی تحقیق کے مطابق مقامی آبادیوں کی اس بے دخلی میں پولیس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بحریہ ٹاؤن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کئی تاریخی مزارات، مندروں اور ثقافتی ورثے کے دیگر مقامات کو بھی بلڈوز کر دیا گیا۔

یہ تمام عمل ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی معاونت سے انجام دیا گیا، جس کے دوران ملیر ڈیولپمنٹ ایکٹ کے تحت 2006 میں منظور کردہ پلاٹوں کی تقسیم کے قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس کے علاوہ 1912 کے کالونائزیشن ایکٹ کی دفعہ 17 کی بھی خلاف ورزی کی گئی۔

گل حسن کلمتی کے قریبی ساتھی اور سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کے رہنما حفیظ بلوچ کے مطابق، گل حسن کلمتی 2013 سے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مقامی آبادیوں پر ہونے والے مظالم اور زمینوں پر قبضوں کے خلاف سرگرم تھے۔ کراچی انڈیجینس رائٹس الائنس جو بعد میں سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس بنا، کے قیام میں بھی وہ بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔

کلمتی اپنی وفات تک الائنس کے مرکزی جنرل سیکریٹری کے فرائض انجام دیتے رہے اور ملیر، گڈاپ اور دیگر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے زمین، وسائل اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔

حفیظ بلوچ، جو کہ کلمتی کے انتقال کے بعد، آج کل الائنس کے سیکریٹری جنرل ہیں، بتاتے ہیں کہ گل حسن کلمتی کراچی بحریہ ٹاؤن کو ’بھیڑیا ٹاؤن‘ کہا کرتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف بحریہ ٹاؤن، مگر ڈی ایچ اے سٹی ملیر و گڈاپ ٹاؤن کی کئی اور دیگر ہاؤسنگ اسکیموں اور منصوبوں کے خلاف بھی تحریک چلائی۔ 

کلمتی کے بحریہ ٹاؤن مخالفت کی ایک اور بڑی وجہ اس کی انتظامیہ کی جانب سے سندھ کے تاریخی آثاروں کی تباہی بھی تھا۔ گل حسن کلمتی کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے علاقے میں بدھ مت کے آثار اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کے قیام گاہ (تکیہ) کے نشانات موجود تھے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ بدھ مت کے یہ تاریخی آثار اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تکیہ اب بحریہ ٹاؤن کی تعمیرات کے نیچے دفن ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جہاں آج بحریہ ٹاؤن کی عظیم الشان مسجد (گرینڈ مسجد) تعمیر کی گئی ہے، وہی مقام دراصل شاہ عبداللطیف بھٹائی کے تکیے کی جگہ تھی۔ گل حسن کلمتی کا کہنا تھا کہ گرینڈ مسجد کی تعمیر کے دوران اس تاریخی مقام کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا اور اس کے تمام آثار ختم ہو گئے۔

گل حسن کلمتی کے مطابق اگر آپ بحریہ ٹاؤن کے پہلے مرحلے میں جاتے تو وہاں جبلِ پیارو نامی تاریخی پہاڑی موجود تھی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بھی اپنے کلام میں پیارو پہاڑی کا ذکر کیا ہے کیوں کہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی کی شاعری میں ذکر کیے جانے والے محبوب کی داستان سسی، پُنہوں داستان کی کردار سسی اپنے محبوب پنہوں کی تلاش میں ہوت قبیلے کے نشانات کا پیچھا کرتی ہوئی اسی راستے سے گزری تھی۔

ایک محقق اور ادیب

‘کراچی کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا’ کے نام سے جانے جانے والے گل حسن کلمتی صرف مزاہمتی تحریک کے رہنما نہیں تھے، وہ ایک اعلیٰ پائے کے ادیب، محقق، دانشور بھی تھے۔ ان کی کئی کتابیں کراچی کی تاریخ، سندھ کے تاریخی مقامات اور سندھ کے ساحلی علاقوں اور جزیروں پر چھپ چکی ہیں۔

گل حسن کلمتی صرف ایک مصنف یا مورخ نہیں تھے بلکہ کراچی کی تاریخ، ثقافت، آثارِ قدیمہ، مقامی آبادیوں، ساحلی علاقوں اور سندھ کی تہذیبی وراثت کے محافظ سمجھے جاتے تھے۔ انہیں اکثر ‘کراچی کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا’ کہا جاتا تھا کیونکہ شہر کی تاریخ، قدیم بستیوں، آثارِ قدیمہ، جزائر اور مقامی برادریوں کے بارے میں ان کے علم کی مثال کم ہی ملتی ہے۔

گل حسن کلمتی پانچ جولائی 1957 کو کراچی کے علاقے گڈاپ ٹاؤن کے گاؤں اراضی بلوچ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک عام متوسط گھرانے سے تھا، مگر بچپن ہی سے انہیں تاریخ، ثقافت اور عوامی مسائل سے گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے سندھ مسلم آرٹس اینڈ کامرس کالج سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں جامعہ کراچی سے 1983 میں صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ بعد میں انہوں نے سندھی ادب میں بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبے میں کام کیا اور لیاری کے ایک اسکول میں استاد رہے۔ بعد میں وہ سندھ کے بلدیاتی نظام سے وابستہ ہوئے، لیکن سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ ان کی اصل شناخت تحقیق، تحریر اور سماجی جدوجہد بنی۔

گل حسن کلمتی کی سیاسی زندگی نوجوانی میں ہی شروع ہوگئی تھی۔ طالب علمی کے دور میں وہ ترقی پسند طلبہ سیاست سے وابستہ رہے۔ انہوں نے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور بعد میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت مختلف ترقی پسند تحریکوں میں کردار ادا کیا۔ وہ سندھ کے قومی اور جمہوری حقوق کی تحریکوں سے بھی جڑے رہے۔ ان کی سیاست اقتدار کے حصول کے لیے نہیں بلکہ عوامی حقوق، ثقافتی شناخت اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے تھی۔

کراچی یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کرنے کے بعد مختلف اخباروں اور آن لائن ویب سائٹس کے لیے کالم اور بلاگ لکھتے رہے، مگر ان کی اصل شناخت ان کی کراچی کے چپے چپے کے بارے میں معلومات تھی جن پر انہوں نے تفصیل سے کتابیں لکھیں۔

کراچی میں زمینوں پر قبضوں، مقامی آبادیوں کی بے دخلی اور ساحلی علاقوں کی تباہی کے خلاف انہوں نے بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ کراچی صرف عمارتوں اور سڑکوں کا نام نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تہذیب، ثقافت اور انسانی تاریخ کا شہر ہے۔ اسی لیے انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے نام پر مقامی آبادیوں کی بے دخلی کے خلاف بھی جدوجہد کی۔

گل حسن کلمتی کی سب سے بڑی پہچان ان کی تحقیقی اور ادبی خدمات ہیں۔ انہوں نے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں متعدد کتابیں تحریر کیں۔ ان کی بیشتر تصانیف کراچی، سندھ کے ساحلی علاقوں، جزائر، آثارِ قدیمہ اور تاریخی شخصیات پر مبنی ہیں۔ ان کی تحریروں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ صرف کتابی معلومات پر انحصار نہیں کرتے تھے بلکہ خود میدان میں جا کر تحقیق کرتے، لوگوں سے ملتے، قدیم مقامات کا دورہ کرتے اور پھر اپنی مشاہداتی تحقیق کو قلم بند کرتے تھے۔

کراچی: سندھ جی مارئی

گل حسن کلمتی کی سب سے مشہور کتاب ‘ کراچی: سندھ جی مارئی‘ ہے، جس کا انگریزی میں ترجمہ Karachi: Glory of the East کے نام سے ہوچکا ہے۔اس کتاب کو کراچی کی تاریخ پر ایک مستند دستاویز قرار دیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے کراچی کی قدیم تاریخ، بندرگاہی حیثیت، مختلف ادوار کی تہذیبی تبدیلیوں، آبادیوں کی نقل و حرکت، نوآبادیاتی دور اور جدید شہری ترقی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں کراچی کو صرف ایک جدید میگا سٹی کے طور پر نہیں بلکہ ایک تاریخی اور تہذیبی مرکز کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

یہ کتاب صرف کراچی کی تاریخ نہیں بلکہ اس کی تہذیبی شناخت اور اجتماعی یادداشت کو محفوظ کرنے کی ایک اہم دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس کتاب کی تیاری کے لیے گل حسن کلمتی نے کئی برس تحقیق کی۔ انہوں نے قدیم دستاویزات، سرکاری ریکارڈ، تاریخی حوالوں اور مقامی روایات کو یکجا کرکے کراچی کی ایسی تاریخ مرتب کی جو عام طور پر دستیاب نہیں تھی۔ اسی وجہ سے یہ کتاب محققین، طلبہ اور کراچی کی تاریخ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک اہم حوالہ بن گئی۔

انہوں نے کتاب کا مقدمہ ‘وطن سے ہمارے پیمانِ وفا کو زیرِ مت کریں’ کے عنوان سے تحریر کیا، مگر کتاب کے تقریباً چار سو صفحات دراصل اسی عہدِ وفا کی عملی تفسیر معلوم ہوتے ہیں۔ سیکڑوں تصاویر اور تحریروں پر مشتمل یہ کتاب محض ایک جدید شہر نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا آئینہ دار ہے۔

اس کے صفحات میں وہ تمام لوگ زندہ نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی محنت، جدوجہد اور خوابوں سے کراچی کی شناخت تشکیل دی۔ یوں یہ کتاب نہ صرف شہر کی تاریخ بیان کرتی ہے بلکہ ان کرداروں کی یاد کو بھی محفوظ کرتی ہے جن کے بغیر کراچی کی کہانی ادھوری ہے۔

کراچی کی شخصیات پر ان کی ایک اور کتاب "کراچی جا لافانی کردار” بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے کراچی کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے والی تقریباً پچیس نمایاں شخصیات کی زندگیوں اور خدمات کو قلم بند کیا۔

یہ صرف شخصیات کے حالاتِ زندگی کا مجموعہ نہیں بلکہ کراچی کی سماجی اور تاریخی ارتقا کی داستان بھی ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے شہر کی فکری، سماجی اور ثقافتی تاریخ سامنے آتی ہے۔

گل حسن کلمتی نے کراچی کی رہائشی اسکیموں اور شہری توسیع کے اثرات پر بھی تحقیق کی۔ ان کی ایک اہم تحقیق میں یہ جائزہ لیا گیا کہ شہری تعمیرات اور رہائشی منصوبوں نے مقامی آبادیوں خصوصاً خواتین کی معاشی زندگی کو کس طرح متاثر کیا۔ اس تحقیق نے ترقی کے نام پر ہونے والی بے دخلیوں اور معاشی تبدیلیوں کی نشاندہی کی۔

کراچی ساحل بچاؤ تحریک

ساحلی سندھ اور جزائر پر ان کا کام منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی کتاب ‘کوسٹل آئی لینڈز آف سندھ: چرنا سے جاکھی’ سندھ کے ساحلی جزائر پر ایک جامع تحقیق ہے۔ اس کتاب کے لیے انہوں نے 2013 سے 2018 تک مختلف ساحلی علاقوں اور جزیروں کا سفر کیا۔ وہ چرنا جزیرے سے لے کر جاکھی بندر تک گئے، جہاں انہوں نے قدرتی ماحول، مقامی آبادیوں، ماہی گیروں کی زندگی، سمندری حیاتیات اور تاریخی آثار کا مشاہدہ کیا۔

اس کتاب میں سندھ کے ساحلی جزیروں کی جغرافیائی، تاریخی، ماحولیاتی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ گل حسن کلمتی کا مؤقف تھا کہ یہ جزائر صرف زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ سندھ کی تہذیبی اور معاشی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منصوبہ بند ترقیاتی منصوبے اور ماحولیاتی تبدیلیاں ان جزیروں کے وجود کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

آثارِ قدیمہ کے میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے کراچی اور اس کے گردونواح میں واقع قدیم بستیوں، تاریخی مقامات، قبرستانوں، مندروں، درگاہوں اور قدیم تجارتی راستوں پر وسیع تحقیق کی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ کراچی کی تاریخ صرف ڈیڑھ دو سو سال پرانی نہیں بلکہ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ انہوں نے مختلف تحریروں اور لیکچرز میں بھنبھور، ملیر، گڈاپ اور ساحلی علاقوں کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ان کی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ تاریخ کو صرف حکمرانوں اور جنگوں تک محدود نہیں رکھتے تھے بلکہ عام لوگوں، ماہی گیروں، کسانوں، مزدوروں اور مقامی برادریوں کی تاریخ بھی سامنے لاتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ‘عوامی مورخ’ بھی کہا جاتا تھا۔

انہوں نے سفرنامے بھی لکھے جن میں ‘برف جو دوزخ’ خاص طور پر مشہور ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے شمالی علاقوں کے سفر کے دوران برفانی حالات میں پیش آنے والے تجربات کو بیان کیا ہے۔

گل حسن کلمتی نے معروف براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی مشہور بی بی سی ریڈیو سیریز اور کتاب "شیر دریا” (دریائے سندھ) کا سندھی میں ترجمہ ‘سندھو جی سفر کہانی’ کیا۔ اس کتاب میں دریائے سندھ کے منبع سے لے کر سمندر میں اس کے اختتام تک کے سفر، راستے میں آنے والے شہروں، تاریخی مقامات، تہذیبوں، ثقافتوں اور وہاں بسنے والے لوگوں کی زندگی کا دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب دریائے سندھ کی تاریخ، اہمیت اور اس سے جڑی تہذیبی وراثت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم ادبی اور تحقیقی دستاویز سمجھی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ ان کی درجنوں کتابیں سندھی اور اردو زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں، جن میں برف جو دوزخ، ملیر: تاریخ، ثقافت اور سماج،  گڈاپ جی تاریخ، کراچی جا قدیم آثار، سندھ جا سامونڈی بندر، منگھو پیر، مورڑو میر بحر، کراچی جا قبرستان، لیاری: تاریخ اور ثقافت، کراچی جا قدیم گوٹھ، ساحلی سندھ اور اس کے جزائر پر مختلف تحقیقی کتابچے اور مطالعات۔

گل حسن کلمتی صرف کتابیں لکھنے تک محدود نہیں رہے۔ وہ اخبارات اور رسائل میں باقاعدگی سے مضامین اور کالم بھی لکھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں کراچی کی تاریخ، شہری منصوبہ بندی، ثقافتی ورثہ، ماحولیات، انسانی حقوق اور سماجی مسائل نمایاں موضوعات تھے۔ ان کی تحریریں علمی ہونے کے باوجود عام قاری کے لیے آسان اور دلچسپ ہوتی تھیں۔

سندھی زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ مختلف ادبی، ثقافتی اور تحقیقی اداروں سے وابستہ رہے اور نوجوان محققین کی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کے لیکچرز اور عوامی گفتگوؤں میں ہمیشہ تحقیق، تنقیدی سوچ اور اپنی تاریخ کو جاننے کی تلقین ہوتی تھی۔

17 مئی 2023 کو گل حسن کلمتی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر سندھ بھر کے ادیبوں، دانشوروں، سیاسی کارکنوں، سماجی رہنماؤں اور عام شہریوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کے جنازے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ سندھ صوبائی اسمبلی نے ان کی وفات پر قرارداد کے ذریعے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔

گل حسن کلمتی کی وفات کے بعد بھی ان کا کام زندہ ہے۔ کراچی کی تاریخ پر تحقیق کرنے والا شاید ہی کوئی طالب علم یا محقق ہو جو ان کی کتابوں سے استفادہ نہ کرتا ہو۔ انہوں نے شہر کی گلیوں، ساحلوں، جزیروں، قدیم بستیوں اور مقامی آبادیوں کی تاریخ کو محفوظ کرکے آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی خزانہ چھوڑا ہے۔

آج جب کراچی تیزی سے بدل رہا ہے اور اس کی تاریخی شناخت مختلف چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے، گل حسن کلمتی کی تحریریں اور تحقیق پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک فرد اپنی محنت، تحقیق اور عوامی وابستگی کے ذریعے پورے شہر کی اجتماعی یادداشت کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

گل حسن کلمتی بلاشبہ سندھ کے ان نادر دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ کو کتابوں سے نکال کر عوام تک پہنچایا اور اپنے شہر کی روح کو قلم بند کر دیا۔

اسی بارے میں: