3,562 ارب روپے کے خسارے والا سندھ بجٹ وزیرِ اعلیٰ نے سندھ اسمبلی میں پیش کیا۔ جس میں 75 فیصد آمدنی یعنی 2,263 ارب روپے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے ساتویں ایوارڈ کے تحت آئیں گے، جس میں 147 ارب روپے براہِ راست گیس، پٹرولیم رائلٹی اور گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کے بھی شامل ہیں۔
جبکہ 25 فیصد آمدنی صوبائی وسائل سے حاصل ہوگی، جس میں اہم مد سروسز پر جی ایس ٹی ہے، جس کا تخمینہ 450 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر سیس 140 ارب، اسٹیمپ ڈیوٹی 40 ارب، موٹر وہیکل ٹیکس 30 ارب، ایکسائز 15 ارب، الیکٹرسٹی ڈیوٹی چھ ارب، زرعی ٹیکس چھ ارب، پراپرٹی ٹیکس 1.4 ارب، بینکوں سے قرض 61 ارب، بیرونی قرض 264 ارب اور گزشتہ سال سے بچے ہوئے 91 ارب روپے شامل ہیں۔
آمدنی کا تخمینہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، جاری سال میں بھی آمدنی میں 300 ارب روپے کا خسارہ ہے۔ جاری سال کے دوران زرعی آمدنی کا تخمینہ آٹھ ارب روپے رکھا گیا تھا لیکن صرف 2 ارب روپے ہی وصول ہو سکے۔ لائف انشورنس پر بھی جی ایس ٹی عائد ہے، جو کہ نامناسب ہے اور دنیا میں کہیں بھی ایسا نہیں ہے۔ انڈیا میں یہ نافذ کیا گیا تھا لیکن گزشتہ سال انشورنس پینیٹریشن کم ہونے کے تجربے کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔
اخراجات میں اہم اخراجات ملازمین سے متعلق ہیں، جن میں تنخواہیں، گروپ انشورنس، پنشن اور پروویڈنٹ فنڈ شامل ہیں۔ جولائی 2024 سے نئے ملازمین کے لیے پنشن اسکیم تبدیل کر دی گئی ہے، جس سے فوری طور پر تو نہیں لیکن طویل مدت میں پنشن کے اخراجات کم ہوں گے، کیونکہ اب یہ تنخواہ کی بنیاد پر ملنے کے بجائے پنشن کنٹریبیوشن (حصہ داری) کی بنیاد پر ملے گی، جس کا حساب گریڈ، عمر اور جنس کے مطابق ہوگا۔
جبکہ ترقیاتی بجٹ جاری سال کے 1,000 ارب روپے کے مقابلے میں کم کر کے 400 ارب روپے رکھا گیا ہے، کیونکہ 260 ارب روپے پہلی مرتبہ آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی گرانٹ کے طور پر وفاق کو دیے جائیں گے۔
بظاہر یہ ایک سال کے لیے ہے لیکن اس میں دو سال تک کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ کے پی (خیبر پختونخوا) نے تب تک یہ گرانٹ دینے سے انکار کیا ہے، جب تک ان کے رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہو جاتی۔ 400 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے 100 ارب روپے کراچی ڈویژن کے سات اضلاع کے پانی، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کیے جائیں گے۔
سب سے زیادہ بجٹ تعلیم کے لیے 551 ارب، صحت کے لیے 354 ارب، امن و امان کے لیے 216 ارب، بلدیات کے لیے 201 ارب اور آبپاشی کے لیے 89 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
جاری سال حکومت کے صحت کے کچھ منصوبوں، جن میں دل کے دس ہسپتال شامل ہیں، کی کارکردگی بہتر ہے، جہاں سے دوسرے صوبوں کے مریض بھی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ پنجاب اور کے پی میں اربوں روپے کی ہیلتھ انشورنس اسکیمیں شہریوں کو فراہم کی جا رہی ہیں، جو سندھ میں نہیں ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دوسرے صوبوں کے مریضوں کے اخراجات ہیلتھ انشورنس کے تحت متعلقہ صوبوں سے وصول کیے جائیں، تاکہ سندھ میں صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
ان ہسپتالوں میں بہت زیادہ رش ہے، کیونکہ مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس لیے بنیادی صحت کے مراکز (BHUs) کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ شہروں میں پارک کھولنا بھی ضروری ہے، کیونکہ جتنا پارکوں میں رش بڑھے گا، اتنا ہی ہسپتالوں میں رش کم ہوگا۔
تعلیم پر بھی کثیر رقم خرچ کی جا رہی ہے لیکن رپورٹ کے مطابق 70 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر گھوم رہے ہیں، جنہیں اسکولوں میں داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ قریبی چھوٹے چھوٹے گاؤں میں اسکول کھولنے کے بجائے، انہیں کسی درمیانی جگہ پر یکجا کر کے بڑے اسکول کھولے جائیں۔
آبادی کے اضافے پر قابو پانے کی بھی ضرورت ہے۔ بجٹ کے مطابق 7.5 ارب روپے کی لاگت سے 5 کروڑ درسی کتابیں چھاپ کر تقسیم کی گئیں۔ سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق، سچل گوٹھ کراچی اور جیکب آباد میں درسی کتابیں کباڑیوں اور کچرے کے ڈھیر پر دیکھی گئیں۔ اس لیے سندھ میں طرزِ حکمرانی کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
سندھ کے بنیادی مسائل گندا پانی، اسکول سے باہر بچے، بنیادی صحت اور تعلیم کی کمی ہیں، جن کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے!
سندھ بجٹ کے مطابق سیلاب زدگان کے لیے ایک کمرے کے 10 لاکھ گھر مکمل ہوئے، جن میں سے 2 لاکھ خیرپور میں تھے، جبکہ مردم شماری کے مطابق خیرپور ضلع میں کل خاندانوں کی تعداد 4.5 لاکھ ہے۔ ورلڈ بینک نے اس اقدام کو سراہا ہے، جس کی معاونت بھی اس میں شامل ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق کی جانی چاہیے۔
انڈس ہسپتال کو 12 ارب روپے کی امداد دی گئی۔ اسی طرح SIUT کی بھی مدد کی گئی۔ گجر خان، سرگودھا، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوٹ ادو میں بھی دو سال کے اندر 4.5 ارب روپے خرچ کر کے سندھ کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر SIUT کے یونٹس کھولے گئے ہیں۔ اسی طرح کی خیر سگالی کی ضرورت بلوچستان میں بھی ہے۔
سندھ میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ ایک اچھا قدم ہے لیکن اہم منصوبوں، جن پر وفاق کو کام کرنا چاہیے، وہ سندھ کے معاملات میں چشم پوشی سے کام لیتا ہے۔ جبکہ این ایف سی میں سب سے زیادہ آمدنی سندھ سے آتی ہے لیکن حیدرآباد-سکھر موٹروے گزشتہ تیس سالوں سے التوا کا شکار ہے، جبکہ باقی صوبوں میں دھڑا دھڑ موٹرویز بن چکی ہیں۔
این ایف سی ایوارڈ، جو کہ 2015 سے التوا کا شکار ہے، وہ دیا جائے، جس میں آبادی کا تناسب 82.5 سے کم کر کے 50 فیصد کیا جائے۔ انڈیا میں یہ 17.5 فیصد ہے۔ آمدنی کا تناسب بڑھا کر 10 فیصد اور آبادی میں اضافے کی کمی کا بھی 10 فیصد وزن مقرر کیا جائے۔
سندھ میں دوسرے ممالک اور صوبوں سے آبادکاری کے اضافے کو روکنے کے لیے آئین کے مطابق سندھ کو اقدامات کرنے چاہئیں، تاکہ سندھ کے اپنے وسائل کے مطابق صحیح معنوں میں نشوونما ہو سکے۔
بجٹ میں وزیرِ اعلیٰ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کیٹی بندر پر بندرگاہ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کو دھابیجی کے صنعتی زون سے منسلک کیا جائے گا۔ بجٹ میں دونوں کے لیے کوئی رقم نظر نہیں آئی ہے۔ سندھ کو عالمی فنانشل ہب (مالیاتی مرکز) بنانے کے لیے شاہراہِ بھٹو کے قریب SIFC بھی بنایا جائے گا۔
ان منصوبوں میں ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا لیکن بحریہ ٹاؤن، پورٹ قاسم اور اسٹیل مل کی طرح مقامی لوگوں کے گاؤں ان کی مرضی اور معاوضے کے بغیر مسمار کرنے اور بیرونی آبادکاری کو دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ عام طور پر بندرگاہیں وفاق کے زیرِ اختیار ہوتی ہیں لیکن حکومت چین کی مدد سے اسے اپنے کنٹرول میں کیسے چلائے گی، اس پر نظر رکھنی ہوگی!
سندھ میں غربت، بے روزگاری اور پانی کی قلت اہم مسائل ہیں، جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کو اپنی کارکردگی میرٹ کے اصولوں کے تحت گورننس کے ذریعے بہتر بنانی ہوگی۔ الیکٹرانک گورننس کے کچھ منصوبے بہتر ہیں۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے متعلق شکایات کو دیکھنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کا کوئی متبادل نہیں ہے، اس لیے ان کی کارکردگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سوچ کو ترک کرنا ہوگا، جس سے سب سے زیادہ فائدہ خود انہیں ہی ملے گا۔

