[rank_math_breadcrumb]

نجی جائیداد پر موبائل ٹاور لگانے کا اختیار: ٹیلی کام ترمیمی بل پر سینیٹ کمیٹی آئینی سوالات کھڑے کردیے

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی، براڈ بینڈ کی توسیع اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے نفاذ کی بات کی جا رہی ہے، قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ترمیمی بل 2026 ایک نئے تنازع کا باعث بن گیا ہے۔

بل میں شامل بعض شقوں نے نجی ملکیت کے حقوق، شہری آزادیوں اور پارلیمانی قانون سازی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن جس کی صدارت سینیٹر پلوشہ خان نے کی، بل کا جائزہ لیتے ہوئے نہ صرف اس کی متعدد شقوں پر شدید اعتراضات اٹھائے بلکہ حیرت کا اظہار بھی کیا کہ ایسا قانون قومی اسمبلی سے کس طرح منظور ہو گیا۔

16 جون کو ہونے والے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین نے متفقہ طور پر اس مؤقف کا اظہار کیا کہ بل کی بعض شقیں آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہیں۔

کمیٹی نے بل پر مزید غور مؤخر کرتے ہوئے وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کو ہدایت کی کہ وہ متنازع دفعات پر نظرثانی کرے اور آئندہ اجلاس میں وضاحت کے ساتھ دوبارہ پیش کرے۔

بل کی سب سے زیادہ متنازع شق نجی املاک سے متعلق ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں یا لائسنس یافتہ آپریٹرز کو بعض حالات میں نجی یا سرکاری زمینوں اور عمارتوں پر موبائل ٹاورز، فائبر نیٹ ورک اور دیگر مواصلاتی تنصیبات قائم کرنے کے لیے قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔

مزید یہ کہ اگر کوئی مالک، کرایہ دار یا ادارہ اس عمل میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کا سبب بنے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی اور اس پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمانے کی حد پانچ کروڑ روپے تک رکھی گئی ہے۔

کمیٹی کے اجلاس کے دوران کئی اراکین نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی شہری کو اس کی رضامندی کے بغیر اپنی زمین یا عمارت پر ٹیلی کام انفراسٹرکچر نصب کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین شہریوں کو نجی ملکیت کا حق دیتا ہے اور کسی بھی قانون سازی میں اس حق کا تحفظ بنیادی شرط ہونا چاہیے۔

اجلاس میں شریک وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے حکام نے بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ، براڈ بینڈ اور مستقبل کی فائیو جی سروسز کے لیے جدید انفراسٹرکچر ناگزیر ہے۔

ان کا مؤقف تھا کہ متعدد علاقوں میں زمین کے مالکان یا مختلف اداروں کی جانب سے اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ٹیلی کام منصوبے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، جس سے لاکھوں صارفین متاثر ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو عوامی مفاد کا منصوبہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی تعمیر کے لیے خصوصی قانونی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

تاہم کمیٹی کے اراکین اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مفاد کی آڑ میں شہریوں کے آئینی حقوق کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق اگر ٹیلی کام کمپنیوں کو نجی املاک تک رسائی درکار ہے تو اس کے لیے واضح قانونی طریقہ کار، مالکان کی رضامندی، مناسب معاوضہ اور شفاف اپیل کا نظام موجود ہونا چاہیے۔

کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ خان نے اجلاس کے بعد مختلف ٹی وی چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی نے بل کو موجودہ شکل میں کیسے منظور کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے بھی اس بل کی بعض شقوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں بعض اوقات ایسے قوانین بھی منظور ہو جاتے ہیں جن پر تفصیلی بحث نہیں ہوتی، حالانکہ ان کے اثرات لاکھوں شہریوں کے حقوق پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

پلوشہ خان نے کہا کہ قائمہ کمیٹی اس بل کو اپنی سفارشات اور اعتراضات کے ساتھ واپس بھیجے گی تاکہ ضروری ترامیم کے بعد ہی اسے دوبارہ منظور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق قانون سازی کا مقصد صرف ترقیاتی منصوبوں کو سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس بل کی بعض شقیں مستقبل میں عدالتی چیلنجز کا سامنا کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شہری کی ملکیت کو اس کی مرضی کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے یا اس پر غیر متناسب جرمانہ عائد کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سینیٹ کمیٹی نے بل کے قانونی اور آئینی پہلوؤں پر مزید غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

دوسری جانب ٹیلی کام انڈسٹری سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، آن لائن کاروبار، ای گورننس، تعلیم اور صحت کی جدید سہولتوں کے لیے مضبوط مواصلاتی نیٹ ورک ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مسلسل رکاوٹیں رہیں تو ملک فائیو جی اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کے میدان میں مزید پیچھے رہ سکتا ہے۔

تاہم اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو جدید ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اختیار کی جانے والی قانونی راہ کتنی منصفانہ اور آئینی ہے۔ ایک طرف عوام کو بہتر موبائل اور انٹرنیٹ خدمات درکار ہیں،

دوسری جانب نجی ملکیت اور شہری حقوق کا تحفظ بھی جمہوری ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر قانون میں اس توازن کو برقرار نہ رکھا گیا تو یہ معاملہ نہ صرف عدالتوں بلکہ عوامی سطح پر بھی ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

فی الحال سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بل کو روک کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ ترقی کے نام پر کسی بھی قانون کو آئینی اور قانونی جانچ پڑتال سے بالاتر نہیں رکھا جا سکتا۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت کمیٹی کے اعتراضات کو کس حد تک تسلیم کرتی ہے اور مجوزہ قانون میں کیا تبدیلیاں لائی جاتی ہیں۔