دل دائیں جانب ہونے پر خاتون ڈاکٹر کی برطرفی، سندھ ہائیکورٹ نے اسٹیٹ بینک کا فیصلہ معطل کردیا

دل دائیں جانب ہونے کی ایک نایاب پیدائشی طبی کیفیت کے باعث ملازمت سے برطرف کی جانے والی ایک نوجوان خاتون نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، جس پر عدالت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے درخواست گزار کو فوری طور پر ٹریننگ پر بھیجنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، جبکہ کیس کی مزید سماعت اگست 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔

درخواست گزار ایمان گلزار، جو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (LUMS) کی گریجویٹ ہیں، نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں میرٹ پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر او جی ٹو (آفیسر گریڈ 2) کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں طبی معائنے کے دوران دل کی غیر معمولی پوزیشن کی بنیاد پر ملازمت سے نکال دیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر ضمیر گھمرو نے عدالت کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمان گلزار ایک انتہائی ذہین اور قابل طالبہ ہیں اور انہوں نے تمام مراحل میرٹ پر مکمل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض دل کی پوزیشن کی وجہ سے کسی امیدوار کو ملازمت سے محروم کرنا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

بیرسٹر ضمیر گھمرو نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ اسٹیٹ بینک میں خواتین کی نمائندگی پہلے ہی محدود ہے، ایسے میں ایک اہل خاتون امیدوار کو صرف ایک پیدائشی طبی کیفیت کی بنیاد پر ملازمت سے نکالنا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ طبی بنیادوں پر کسی شخص کو بلاجواز نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ دل کا دائیں جانب ہونا ایک پیدائشی کیفیت ہے اور یہ بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ کئی افراد اس حالت کے ساتھ مکمل طور پر معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق دل کے دائیں جانب ہونے کی حالت کو ڈیگسٹروکارڈیا (Dextrocardia) کہا جاتا ہے۔ بعض افراد میں صرف دل دائیں جانب ہوتا ہے جبکہ بعض میں جسم کے دیگر اندرونی اعضاء بھی الٹی سمت میں موجود ہوتے ہیں، جسے سائٹس اِنورسس (Situs Inversus) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نایاب پیدائشی حالت ہے جو پیدائش کے وقت ہی موجود ہوتی ہے اور بہت سے افراد میں اس کے باوجود صحت، ذہانت، جسمانی صلاحیت یا روزمرہ زندگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔

عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر عملدرآمد معطل کرتے ہوئے ایمان گلزار کو فوری طور پر ٹریننگ میں شامل کرنے کا حکم دیا اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کر لی کہ ایک پیدائشی اور طبی طور پر معمول سمجھی جانے والی کیفیت کو ملازمت سے برطرفی کی بنیاد کیوں بنایا گیا۔

یہ مقدمہ نہ صرف ملازمت میں مساوی مواقع اور امتیازی سلوک کے سوالات کو اجاگر کر رہا ہے بلکہ اس بات پر بھی توجہ مبذول کرا رہا ہے کہ آیا پیدائشی طبی خصوصیات رکھنے والے افراد کو پیشہ ورانہ مواقع سے محروم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت اگست 2026 میں ہوگی، جس میں عدالت فریقین کے تفصیلی مؤقف کا جائزہ لے گی۔