ایران جنگ کے اثرات: امریکہ میں مہنگائی تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

جنگ

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات اب عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور صارفین پر مالی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپریل 2026 میں امریکہ میں مہنگائی کی شرح گزشتہ تین برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کی سب سے بڑی وجہ تیل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جو ایران کے ساتھ جاری جنگ اور مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث پیدا ہوئیں۔

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی اس جنگ کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں کیونکہ سامان کی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ آخرکار صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

امریکی شہریوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث اپنی بچتوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی بچت کی شرح کم ہو کر صرف 2.6 فیصد رہ گئی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خاندان اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنی محفوظ رقم استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری درکار ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں محدود نوعیت کے حملے بھی ہوئے ہیں، لیکن دونوں فریق مذاکرات جاری رکھنے پر متفق دکھائی دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی اب بھی نازک مرحلے میں ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور سرمایہ کار مستقبل کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر مہنگائی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی اور تنخواہوں میں اسی تناسب سے اضافہ نہ ہوا تو صارفین اپنی خریداری کم کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کا خاتمہ قریب ہے، لیکن انہوں نے حال ہی میں یہ بھی تسلیم کیا کہ مذاکرات ابھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوئے اور کئی اہم معاملات پر اتفاقِ رائے ہونا باقی ہے۔

اسی بارے میں: