30 مئی 1986: جب معروف طلبہ رہنما فقیر اقبال ہیسبانی قتل ہوگئے

فقیر اقبال ہیسبانی

جنرل ضیا کے مارشل لا والے دنوں میں سندھ ہر حوالے سے متاثر ہوا۔ سندھ کی مضبوط طلبہ تنظیموں کو تقسیم کرکے اور لڑا کر ایک دوسرے کا جانی دشمن بنایا گیا۔ طلبہ تنظیموں کے جھگڑوں میں کئی نوجوان مارے گئے۔ یہ وہ دن تھے جب سندھ کی طلبہ تنظیمیں ایک دوسرے کے خلاف متحارب تھیں۔

چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ، ڈگری کالج لاڑکانہ، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، ٹیکنیکل کالج خیرپور، سپیریئر سائنس کالج خیرپور، قائد عوام انجینئرنگ یونیورسٹی نواب شاہ، ایل ایم سی جامشورو، مہران یونیورسٹی جامشورو اور سندھ یونیورسٹی جامشورو شدید متاثر ہوئے۔ ایک دوسرے پر فائرنگ معمول بن گئی۔

جولائی 1983 میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں کی فائرنگ میں جیئے سندھ چانڈکا کے رہنما میر اشتیاق ٹالپر قتل ہوگئے۔ 1983 اور 1984 کے سال چانڈکا میڈیکل کالج اور ڈگری کالج لاڑکانہ سپاف اور جساف کے درمیان جھگڑوں کی وجہ سے میدانِ جنگ بنے رہے۔

1984 میں چانڈکا میں جیئے سندھ والوں کی فائرنگ کے نتیجے میں روپ چند قتل ہوگیا جبکہ صفی اللہ جوکھیو سینے میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ مطلب طلبہ تنظیموں کے جھگڑوں میں کافی طلبہ مارے گئے۔

1984 میں پورے سندھ میں جیئے سندھ اور سپاف کے یہ جھگڑے شدت اختیار کر گئے۔ انہی جھگڑوں کے دوران 17 اکتوبر 1984 کو ٹوڑی پھاٹک کے مقام پر سندھ یونیورسٹی جامشورو سے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ جانے والے طلبہ کی بسوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ نوجوان، انور عباسی، ذکریا میمن، امان اللہ وسطڑو، مالک خشک اور مٹھو بلیڈی کی موت ہوگئی۔

گل محمد جکھرانی، دودو مہیری، ستار موریو، نظیر تونیو، اقبال تونیو عرف دریا خان، عمرالدین زرداری، سکندر میرانی سمیت کئی طلبہ گرفتار کیے گئے۔ اگر ٹوڑی پھاٹک والا واقعہ نہ ہوتا تو چانڈکا اور ڈگری کالج لاڑکانہ میں جساف اور سپاف کے درمیان تاریخی خونریزی ہوتی۔

1983 سے 1986 تک کے تین سال تعلیمی ادارے جھگڑوں اور مسلح گروہوں کے قبضے میں رہے۔ اکثر تعلیمی ادارے انہی جھگڑوں کی وجہ سے بند رہے۔ جیئے سندھ کے اندر بھی تنظیمی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوا۔ جیئے سندھ کے ایک دھڑے کو صالحین اور دوسرے دھڑے کو کھڑتالی گروپ کہا گیا۔

کھڑتالی گروپ نے سندھ یونیورسٹی کی آرٹس فیکلٹی کے پاس جیئے سندھ کے دوسرے دھڑے کے رہنما ذوالفقار منگی پر ستار راجپر، غلام نبی سہاغ اور دیگر کے ساتھ حملہ کیا، مگر قادر مگسی اور دوسرے ساتھی پہنچ گئے اور ذوالفقار منگی کو بچا لیا۔

جیئے سندھ کے دونوں گروپوں میں جھگڑے شدت اختیار کرتے گئے۔ 16 مارچ 1986 کو ایل ایم سی میں جیئے سندھ کے کھڑتالی گروپ کے حملے میں جیئے سندھ کے ایک دھڑے کا کمال راہمون قتل ہوگیا اور ڈاکٹر قادر مگسی سمیت کئی طلبہ زخمی ہوئے۔

کچھ عرصے بعد 1986 میں ہی جساف کے کچھ کارکنوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں سپاف کے سابق مرکزی صدر مرحوم امیر علی ایری اور جمیل سومرو (موجودہ ایم پی اے لاڑکانہ) کو مبینہ طور پر اغوا کرکے سندھ یونیورسٹی ہاسٹل میں یرغمال بنایا اور ان کی تذلیل کی۔

اسی دوران سندھ یونیورسٹی، ایل ایم سی اور مہران یونیورسٹی سے سپاف اور جیئے سندھ کے کھڑتالی گروپ کے رہنماؤں اور کارکنوں کو نکالنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سپاف اور کھڑتالی گروپ کے کارکنوں کے سندھ یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔

جساف کے کارکن مسلح ہو کر سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹلوں پر قابض ہوگئے۔

ان دنوں مرحوم سید غوث علی شاہ، ڈاکٹر عبدالستار راجپر، ظفر راجپر، اقبال نظامانی اور دوسرے لوگ جساف کھڑتالی گروپ کی قیادت کر رہے تھے۔ جساف کی جانب سے سپاف اور کھڑتالی گروپ کو سندھ یونیورسٹی سے نکالنے اور امیر علی ایری کی تذلیل کے بعد سپاف اور کھڑتالی گروپ کے لوگ جامشورو کے تینوں اداروں سے نکل کر ایل ایم سی سٹی ہاسٹل میں آ کر رہنے لگے، جو اب سول ہسپتال حیدرآباد کی او پی ڈی کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے سندھ یونیورسٹی پر دوبارہ قبضے کی منصوبہ بندی شروع ہوئی۔

فقیر اقبال ہیسبانی اور فقیر بخش ہیسبانی سندھ کے مشہور صوفی بزرگ شاعر فقیر خوش خیر محمد ہیسبانی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا گاؤں ضلع خیرپور کے تعلقہ فیض گنج میں واقع ہے۔ فقیر اقبال ہیسبانی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی، بعد میں سپیریئر سائنس کالج خیرپور اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔

انہوں نے سپاف میں شمولیت اختیار کی اور مارشل لا کے خلاف احتجاج کے الزام میں گرفتار ہو کر سینٹرل جیل خیرپور اور سینٹرل جیل کراچی میں قید رہے۔

1985 میں بے نظیر بھٹو صاحبہ نے سپاف کی مرکزی باڈی تحلیل کر دی اور نئی تنظیم سازی کے لیے امیر علی ایری کو سپاف کا مرکزی آرگنائزر مقرر کیا۔ امیر علی ایری کی کوششوں سے 1985 میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں سپاف اور پی ایس ایف کا آل پاکستان ورکرز کنونشن منعقد ہوا۔

فیصلہ کیا گیا کہ سپاف کے مرکزی انتخابات 5 جنوری 1986 کو گڑھی خدا بخش بھٹو میں منعقد ہوں گے۔

پانچ جنوری 1986 کو گڑھی خدا بخش بھٹو میں سپاف کے مرکزی انتخابات منعقد ہوئے۔ فقیر اقبال ہیسبانی سپاف کی مرکزی صدارت کے امیدوار تھے۔ بعد میں وہ سپاف کے مرکزی صدر منتخب ہوئے۔

10 اپریل 1986 کو بے نظیر بھٹو صاحبہ نے جلاوطنی ختم کرکے لاہور واپسی کا اعلان کیا۔ فقیر اقبال ہیسبانی نے بے نظیر بھٹو کی چیف سیکیورٹی انچارج کے طور پر پنجاب اور سندھ میں ذمہ داریاں ادا کیں۔

فقیر اقبال ہیسبانی کا قتل

30 مئی 1986 کی رات، 21 رمضان المبارک 1406ھ، فجر کی اذان کے وقت محمد علی جکھرانی اور ان کے ساتھی رکشے میں کلاشنکوف اور ہزاروں گولیاں لے کر پٹھان کالونی کی چڑھائی سے گزر رہے تھے کہ پولیس اور فورسز نے انہیں روک لیا۔ تلاشی کے دوران محمد علی جکھرانی وہاں سے نکل کر سٹی ہاسٹل پہنچ گئے، مگر ان کا ایک ساتھی گرفتار ہوگیا۔

محمد علی جکھرانی نے فقیر اقبال ہیسبانی اور دوسرے ساتھیوں کو صورتحال بتائی۔ فقیر اقبال ہیسبانی، لالا جہانگیر پٹھان اور ظفر راجپر کے ساتھ گرفتار ساتھی کو چھڑانے نکلے۔ جیسے ہی ان کی گاڑی سٹی ہاسٹل سے پٹھان کالونی کی طرف بڑھی، سول ہسپتال حیدرآباد کے پیچھے موجود فورسز اور پولیس نے فائرنگ شروع کر دی۔

شدید فائرنگ کے بعد جب ہم موقع پر پہنچے تو فقیر اقبال ہیسبانی گاڑی میں فوت ہوچکے تھے جبکہ لالا جہانگیر شدید زخمی تھے۔ ہم دونوں کو سول ہسپتال حیدرآباد لے گئے۔ کچھ دیر بعد ہسپتال کو پولیس اور ایف سی نے گھیرے میں لے لیا۔ سپاف کے کارکنوں نے ہسپتال کی عمارت پر قبضہ کر لیا اور مورچے سنبھال لیے۔ قیدیوں کے وارڈ پر تعینات آٹھ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا اور ان کے ہتھیار لے لیے گئے۔

بعد میں بے نظیر بھٹو کی ہدایات پر مخدوم خلیق الزمان، سید علی نواز شاہ، ملک لال خان، الٰہی بخش قائمخانی، سید حسین شاہ بخاری، مولا بخش چانڈیو اور دیگر رہنماؤں نے انتظامیہ سے مذاکرات کیے۔ آخرکار شام تک مذاکرات کامیاب ہوئے، یرغمال پولیس اہلکاروں اور ہتھیاروں کو واپس کیا گیا اور فقیر اقبال ہیسبانی کی میت ان کے گاؤں لے جائی گئی جہاں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں تدفین ہوئی۔

تعزیتی جلسے میں سید غوث علی شاہ، ڈاکٹر ستار راجپر اور دیگر رہنماؤں نے جساف کھڑتالی گروپ کو ختم کرکے سپاف میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔

لالا جہانگیر پٹھان سلطان کوٹ کے رہائشی تھے اور سپاف کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اس حملے میں زخمی ہوئے اور ریڑھ کی ہڈی متاثر ہونے کے باعث عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے۔ بعد میں 6 فروری 1999 کو انہوں نے شکارپور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خودکشی کر لی۔

بعد میں کئی ساتھی پولیس، ایف آئی اے، کسٹمز، پی آئی اے اور دیگر سرکاری اداروں میں ملازم ہوگئے، جبکہ کچھ غربت کی زندگی گزارتے رہے۔ کئی دوست اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

اگست 1988 میں جنرل ضیا 34 فوجی افسران سمیت بہاولپور کے قریب فضائی حادثے میں مارا گیا۔ اس کے بعد عام انتخابات ہوئے اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں۔ مارچ 1989 میں ٹوڑی واقعے کے قیدی عدالت سے ضمانت پر رہا ہوئے اور سندھ بھر میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔