سیٹھ سلیمان داؤد کا خاندان اصل میں موجودہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر ‘بانٹوا’ (عبدالستار ایدھی کا آبائی گاؤں) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس وقت کراچی میں بانٹوا میمن برادری کا کاروبار پر بڑا اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے سن 1900 میں اپنی کاروباری زندگی کا آغاز ایک چھوٹی دکان سے کیا۔
انہوں نے اپنے بیٹوں احمد داؤد، صدیق داؤد اور میر محمد داؤد کی ایسی تربیت کی کہ وہ آگے چل کر ہندوستان کے بڑے تاجروں میں شمار ہونے لگے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے داؤد خاندان نے ٹیکسٹائل تجارت میں بہت نام کمایا تھا۔
سیٹھ سلیمان داؤد کے بیٹوں میں سیٹھ احمد داؤد سب سے زیادہ بااثر شخصیت تھے۔ انہیں پاکستان میں ‘صنعتکاری کا باپ’ بھی کہا جاتا تھا۔ 1947 میں قائداعظم محمد علی جناح کی اپیل پر سیٹھ احمد داؤد نے اپنا سارا کاروبار ہندوستان سے ختم کرکے پاکستان (کراچی) منتقل کردیا۔
داؤد خاندان نے کراچی میں پہلی کپڑے کی مل ‘داؤد کاٹن ملز’ قائم کی، جو اس وقت پاکستان کی بڑی ملوں میں شمار ہوتی تھی۔ داؤد گروپ کا کاروبار تیزی سے ترقی کرتا گیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی:
1۔ داؤد ہرکیولس (Dawood Hercules):
امریکی کمپنی ہرکیولس کے ساتھ مل کر پاکستان کی پہلی بڑی کیمیائی کھاد (Fertilizer) کمپنی قائم کی۔
2۔ کاغذ کی صنعت:
مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں کرنافلی پیپر ملز قائم کی۔
3۔ پیٹرولیم:
پاکستان گم (Pakistan Gum) اور پیٹرولیم کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی۔
4۔ بینکاری اور انشورنس:
سینٹرل انشورنس کمپنی اور بینکاری کے شعبے میں بھی ان کا بڑا حصہ تھا۔
1970 کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب بڑی صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا گیا تو داؤد گروپ کو شدید مالی نقصان پہنچا۔ ان کی کئی اہم ملیں اور کارخانے حکومت کے قبضے میں چلے گئے۔
سیٹھ احمد داؤد کچھ عرصہ ملک سے باہر رہے، پھر واپس آکر کاروبار کو دوبارہ منظم کیا۔ اس خاندان نے ‘داؤد فاؤنڈیشن’ کے نام سے سماجی و فلاحی ادارہ قائم کیا۔ داؤد خاندان نے صرف دولت ہی نہیں کمائی بلکہ خیرات اور تعلیمی کاموں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
داؤد فاؤنڈیشن، جو 1960 میں قائم ہوئی، نے پاکستان میں انجینئرنگ کے شعبے میں کراچی کو ‘داؤد کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی’ کا بڑا تحفہ دیا، جو بعد میں ‘داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی’ کے نام سے مشہور ہوا۔
داؤد گروپ کے نام سے کئی اسکول، اسپتال اور لائبریریاں آج بھی کام کر رہی ہیں۔ بعد میں احمد داؤد کے بیٹے حسین داؤد نے اینگرو (Engro) کے ساتھ الحاق کرکے ‘داؤد گروپ آف کمپنیز’ کو مزید وسعت دی۔
آج یہ خاندان پاکستان کے طاقتور ترین کاروباری گروپوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے کئی صنعتی ادارے اور کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں چند یہ ہیں:
1۔ داؤد انویسٹمنٹ بینک لمیٹڈ
2۔ داؤد تکافل
3۔ داؤد ہرکولیس کیمیکلز
4۔ داؤد جوٹ ملز
5۔ داؤد شپنگ کمپنی
6۔ داؤد پیٹرولیم لمیٹڈ
7۔ بورے والا ٹیکسٹائل ملز
8۔ داؤد سینٹرل انشورنس کمپنی
9۔ داؤد یاماہا لمیٹڈ
10۔ اسلام آباد آٹو موٹو کمپنی لمیٹڈ
11۔ بلوچستان انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
12۔ الفا انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ
13۔ گیئر ہابنگ لمیٹڈ
14۔ ڈائی کاسٹنگ لمیٹڈ
15۔ اومیگا فارگنگ لمیٹڈ
16۔ کریسنٹ پاک انڈسٹریز
17۔ طٰہٰ گارمنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ
18۔ طٰہٰ ٹیکسٹائل پرائیویٹ لمیٹڈ
19۔ اِن باکس بزنس پرائیویٹ لمیٹڈ
20۔ ڈاولینس پاکستان لمیٹڈ
21۔ ڈیسکان پاکستان
22۔ حبکو پاور پلانٹ
23۔ اینگرو کارپوریشن
سیٹھ سلیمان داؤد کی محنت اور احمد داؤد کے وژن نے ایک ایسی سلطنت قائم کی جو آج بھی ‘داؤد گروپ’ اور ‘اینگرو’ کی صورت میں پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
15 مئی 1987 کو سیٹھ احمد داؤد کے چھوٹے بھائی سیٹھ احمد سلیمان داؤد ضلع ٹنڈو محمد خان میں اپنے زرعی فارموں سے مرسڈیز کار میں واپس کراچی آرہے تھے کہ بلڑی شاہ کریم کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں اغوا کرلیا۔
پاکستان کی بااثر ارب پتی فیملی کے فرد سیٹھ احمد سلیمان داؤد کے اغوا کی خبر ملتے ہی جنرل ضیا الحق کی پوری انتظامی مشینری حرکت میں آگئی۔ داؤد فیملی کے تعلقات نہ صرف جنرل ضیا سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام سے تھے بلکہ عرب حکمرانوں سے بھی ان کی جان پہچان تھی، اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومت ان کی بازیابی کے لیے سرگرم ہوگئی۔
بڑی کوششوں کے بعد کراچی سے آنکھوں کے معروف ڈاکٹر رضوی کو حکومتی اداروں نے اپنی تحویل میں لیا۔ اسی ڈاکٹر کے ذریعے ضلع جامشورو کے کوہستان کے بااثر ملک خاندان کے چند افراد کو بھی ریاستی اداروں نے حراست میں لیا، جن کے ذریعے سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو اغوا کرنے والے ڈاکوؤں سے رابطہ قائم ہوا۔
داؤد فیملی اپنے فرد کی زندہ بازیابی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار تھی۔ آخرکار جامشورو کوہستان کے ملک سرداروں اور کراچی سے گرفتار کیے گئے مشہور ماہرِ چشم ڈاکٹر رضوی کے ذریعے ڈاکوؤں کو تاوان دے کر سیٹھ احمد سلیمان داؤد کو 20 دن بعد بازیاب کرا لیا گیا۔
سیٹھ احمد سلیمان داؤد کی بازیابی کے بعد پولیس نے اس اغوا میں ڈاکٹر رضوی، کوہستان کے ملکوں کے علاوہ جن ڈاکوؤں کو ملوث ظاہر کیا ان میں سندھ کے بدنام مجرم مٹھو قصائی، غلام نبی سہاگ، لالا علی مراد اور دیگر شامل تھے۔

