یہ قصہ اُس دن سے شروع ہوتا ہے جب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے ذوالفقار علی بھٹو کو احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کے مبینہ قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی۔
چیف جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے چار ججوں کی اکثریت سے سزائے موت برقرار رکھی، جبکہ تین ججوں نے اختلاف کرتے ہوئے بھٹو کو بری کرنے کا فیصلہ دیا۔ چونکہ عدالتی نظام میں اکثریتی فیصلہ نافذالعمل ہوتا ہے، اس لیے سپریم کورٹ نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت برقرار رکھی۔
سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد بھٹو کی پھانسی کی فائل جنرل ضیا الحق کی میز پر موجود تھی۔ دوسری جانب راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل کے پھانسی گھاٹ میں قید ذوالفقار علی بھٹو سے چند فوجی افسران، سول انتظامیہ اور جیل حکام ملاقات کے لیے پہنچے۔ وہ سفید کاغذات ساتھ لائے تھے اور انہوں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ اگر وہ جنرل ضیا الحق کے نام رحم کی اپیل لکھ دیں تو شاید ان کی جان بچ سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ اگر بھٹو چاہیں تو انہیں قلم اور کاغذ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا: ‘کیا تم سمجھتے ہو کہ میں جنرل ضیا سے اپنی جان کی بھیک مانگوں گا؟ میں اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اپنی زندگی بچانے کے لیے جنرل ضیا سے رحم کی اپیل کروں۔’
اس انکار کے بعد ضیا الحق نے پھانسی کی منظوری پر دستخط کر دیے، اور تین اور چار اپریل 1979 کی درمیانی شب تقریباً دو بجے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
کہا جاتا ہے کہ جس قلم سے جنرل ضیا الحق نے پھانسی کے حکم پر دستخط کیے، اُس قلم کو چوہدری شجاعت حسین کے والد اور چوہدری پرویز الٰہی کے چچا چوہدری ظہور الٰہی نے ‘تاریخی قلم’ قرار دیتے ہوئے بطور یادگار اپنے پاس رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ روایات کے مطابق جنرل ضیا نے وہ قلم انہیں تحفے میں دے دیا، اور بعد ازاں انہیں اپنی کابینہ میں بھی شامل کیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جلاوطنی میں موجود ان کے دونوں بیٹوں، میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے جنرل ضیا حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے شام کے صدر حافظ الاسد، لیبیا کے معمر قذافی اور متحدہ عرب امارات کے شیخ زاید سے ملاقاتیں کیں، جنہوں نے مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔
اسی دوران افغانستان میں سوویت حمایت یافتہ حکومت قائم تھی، جبکہ امریکہ اور پاکستان مشترکہ طور پر افغان مجاہدین کی معاونت کر رہے تھے۔ اس کے ردعمل میں افغان حکومت نے میر مرتضیٰ بھٹو کی حمایت کی۔ پاکستان سے کئی نوجوان خفیہ طور پر کابل پہنچے، جہاں ابتدا میں ‘پاکستان لبریشن آرمی’ قائم کی گئی، جسے بعد میں ‘الذوالفقار’ کا نام دیا گیا۔
اس تنظیم کا مقصد ضیا الحق کی حکومت اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی میں کردار ادا کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں کرنا تھا۔ الذوالفقار کی ہٹ لسٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین اور چوہدری ظہور الٰہی بھی شامل تھے۔
کابل میں تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں ایک اجلاس کے دوران مولوی مشتاق پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس مقصد کے لیے چار رکنی ‘ڈیتھ اسکواڈ’ تشکیل دیا گیا، جس میں خیرپور میرس کے لالا اسد شیخ، بھکر کے رزاق جھرنا، رحمت اللہ انجم اور جاوید ملک شامل تھے۔
تنظیم کے ارکان نے چیف جسٹس مولوی مشتاق کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ اتفاق سے 25 ستمبر 1981 کو ذوالفقار علی بھٹو کیس کے تین اہم کردار ایک ہی گاڑی میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن سے گزر رہے تھے۔ ان میں چیف جسٹس مولوی مشتاق، سرکاری وکیل ایم اے رحمان ایڈووکیٹ اور چوہدری ظہور الٰہی شامل تھے۔
جونہی گاڑی ماڈل ٹاؤن چورنگی کے قریب پہنچی، دو گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے انہیں روک لیا۔ پہلے دستی بم پھینکا گیا، پھر گاڑی پر اسٹین گن سے فائرنگ کی گئی۔ حملے میں چوہدری ظہور الٰہی اور ان کے ڈرائیور نسیم موقع پر ہلاک ہو گئے، جبکہ مولوی مشتاق اور ایم اے رحمان شدید زخمی ہوئے۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
واقعے کے بعد ضیا کی حکومت متحرک ہو گئی۔ تحقیقات کے دوران لاہور سے ایک شخص گرفتار ہوا، جس کے قبضے سے رزاق جھرنا کا بیگ برآمد ہوا۔ بعد ازاں سیکیورٹی اداروں نے رزاق جھرنا کو گرفتار کر لیا۔
کافی عرصے تک انہیں لاہور کے شاہی قلعے میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے اعتراف کیا کہ اصل ہدف مولوی مشتاق تھے، تاہم موقع پر تمام افراد ایک ساتھ نظر آنے پر کارروائی کر دی گئی۔
رزاق جھرنا کا مقدمہ کوٹ لکھپت جیل میں ایک خصوصی فوجی عدالت میں چلایا گیا۔ شناختی پریڈ کے لیے مولوی مشتاق، ایم اے رحمان اور دیگر کو طلب کیا گیا، مگر کسی نے شرکت نہیں کی اور نہ ہی فوجی عدالت میں گواہی دی۔ اس کے باوجود خصوصی فوجی عدالت نے رزاق جھرنا کو سزائے موت سنائی۔
اسی دوران کراچی میں پوپ کی آمد کے موقع پر جنرل ضیا الحق استقبالی تقریب میں شریک تھے کہ قریب ہی ایک خودکش دھماکہ ہوا، جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ بعد میں اس کی شناخت خیرپور میرس کے لالا اسلم پٹھان کے نام سے ہوئی۔
الذوالفقار کے سربراہ میر مرتضیٰ بھٹو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ ہدف پوپ نہیں بلکہ جنرل ضیا تھے۔
بعد ازاں 20 نومبر 1981 کو کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں سیکیورٹی اداروں کی کارروائی کے دوران سپاف سندھ کے مرکزی نائب صدر لالا اسد شیخ مارے گئے۔ حکام کے مطابق وہ چوہدری ظہور الٰہی قتل کیس اور دیگر کارروائیوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
تنظیم کے ایک اور رکن رحمت اللہ انجم 14 ستمبر 1983 کو لاہور کے ایک سنیما میں دھماکے کے دوران مارے گئے۔
آخرکار سات مئی 1984 کو کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رزاق جھرنا کو پھانسی دے دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ پھانسی سے قبل وہ اپنی کوٹھڑی میں انقلابی نغمے گاتے رہے اور تختۂ دار پر چڑھنے سے پہلے جنرل ضیا الحق اور آمریت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔
رزاق جھرنا ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی میت وصول کرنے کے لیے ان کے ضعیف والدین اور بہن بھائی جیل پہنچے۔ ان کا خاندان آج بھی محنت کش زندگی گزار رہا ہے۔

