Tag: الذوالفقار

  • نو مئی 1992: شاہ بندر کے قریب ‘الذوالفقار’ تنظیم کے نام پر نیوی کی فائرنگ میں جان سے جانے والے نوجوانوں کی ان لاشوں کے ساتھ کیا ہوا؟

    نو مئی 1992: شاہ بندر کے قریب ‘الذوالفقار’ تنظیم کے نام پر نیوی کی فائرنگ میں جان سے جانے والے نوجوانوں کی ان لاشوں کے ساتھ کیا ہوا؟

    ہر سال کی طرح نو مئی کی تاریخ آتی ہے اور خاموشی سے گزر جاتی ہے۔ اب تو شاہ بندر کا وہ اندوہناک سانحہ بھی کسی کو یاد نہیں رہا کہ نو مئی 1992 کو شاہ بندر کے سمندر کنارے انقلاب کی آس میں جانیں دینے والے ان بے گور و کفن نوجوانوں پر کیا گزری۔

    انقلاب اور آزادی کے نعرے کا بھی ایک عجیب نشہ ہوتا ہے۔ یہ ٹنڈو محمد خان کی ٹھرے (کچی شراب)، ووڈکا، بلیک لیبل، شیواز ریگل، شیمپین یا ہماری بوبک والی سندھی بھنگ کا نشہ نہیں ہے۔ انقلاب اور آزادی کا نشہ بھی ہیروئن اور آئس کے نشے جیسا ہوتا ہے۔ اگر یہ نشہ استعمال کرو تو بھی زندگی داؤ پر لگ جاتی ہے، اور اگر چھوڑ دو تو اس کی تڑپ اور خمار انسان کو آدھا پاگل بنا دیتے ہیں۔

    جب میں قید تھا تو قید کے دوران سینٹرل جیل سکھر کے اُس ہیروئن کے عادی قیدی کا جملہ آج بھی نہیں بھولا، جو ہیروئن پینے سے روکنے پر اپنے بھائی کو قتل کرکے جیل پہنچا تھا، اور پھر پچھتاوے میں سب کچھ کھونے کے بعد کہا کرتا تھا: ‘سائیں، جو لوگ ہیروئن بیچتے ہیں وہ بنگلوں کے مالک بن گئے، اور ہم جیسے جنہوں نے ہیروئن پی، انہوں نے اپنے دونوں جہان گنوا دیے۔’

    طالب علمی کے زمانے میں ہم جیسے نوجوان پرولتاری انقلاب کے سحر سے متاثر تھے۔ دنیا کے مشہور روسی ادیب اور ناول نگار Maxim Gorky کے ناول ماں کے علاوہ سرخ لالٹین، ہو چی من کی خود نوشت، چے گویرا کی ڈائری، موسیٰ سے مارکس تک، دنیا میں تہذیب کا ارتقا اور روس، چین، ویتنام، کیوبا، انگولا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں آنے والے انقلابات اور آزادی کی تحریکوں پر لکھی گئی کتابیں پڑھ کر ہمیں محسوس ہوتا تھا کہ یہاں بھی کوئی مارکس، اینگلز، لینن، ماؤ زے تنگ، ہو چی منہ، فیڈل کاسترو یا چے گویرا جنم لینے والا ہے۔

    پھر ہم ہوتے تھے اور ہمارے اوپر ہیروئن جیسے انقلاب کا نشہ ہوتا تھا۔ ہم آنے والے انقلاب اور آزادی کے خمار میں اس قدر گم ہوتے تھے کہ ہمارے کئی دوست روسی کامریڈز کے ناموں سے متاثر ہوکر اپنے اور اپنے دوستوں کے ناموں کے آخر میں ‘وف’ لگانے لگے، جیسے آج کل پرانے گانوں کو ری مکس کیا جاتا ہے۔ یوں قادری ‘قادریوف’ اور شبیر ‘شبیر وف’ بن گئے۔

    انقلابی تحریکوں پر لکھی گئی کتابوں کے وہ صفحات، جن میں اس راستے پر چلنے والوں پر ہونے والے تشدد، تکلیفوں، اذیتوں اور ریاستی اداروں کے ظلم کا ذکر ہوتا تھا، انہیں پڑھ کر مزاحمتی سوچ اور حوصلے کو تقویت ملتی تھی۔

    ایسے ہی انقلاب، سوچ اور راستے کے نوجوان مسافروں کو 9 مئی 1992 کو مار کر ان کی لاشیں شاہ بندر کے سمندر کنارے پھینک دی گئیں۔

    نو مئی 1992 کو مرتضیٰ مرڑانی، رضا مرڑانی، محمد علی بھٹو، نواز لاکھو، احمد علی سومرو، یوسف کلو اور مظہر اقبال بھٹی کی بے گور و کفن لاشیں انقلاب اور آزادی کی آس میں سمندر کنارے پڑی رہیں۔ جبکہ 14 نوجوانوں، حسن راجڑ، بگن خاصخیلی، مقصود بلوچ، گلاب ماچھی، نظیر لغاری، رفیق سومرو، رحمت اللہ ملک، صدرالدین کھونہارو، پیر بخش پنہور، صدرالدین سولنگی، خان محمد میمن، میہار خاصخیلی، علی نواز میمن اور پریم کمار کو زندہ گرفتار کرکے ٹارچر سیلوں میں بھیج دیا گیا۔

    ایف آئی آر میں مرتضیٰ بھٹو کو اس کیس کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا۔

    درحقیقت یہ واقعہ نو مئی 1992 کو اُس وقت پیش آیا جب کھلے سمندر میں پاکستان کی حدود سے 250 ناٹیکل میل دور پاکستان نیوی کی اسپیشل ٹاسک فورس کے کمانڈوز نے ایک لانچ کو روکنے کی کوشش کی۔ لانچ نے وارننگ کے باوجود رکنے سے انکار کیا تو نیول ٹاسک فورس نے مدد کے لیے ہیلی کاپٹر طلب کیے اور لانچ پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں سات نوجوان مارے گئے اور 14 نوجوان زندہ پکڑے گئے۔

    دو دن تک نوجوانوں کی لاشیں شاہ بندر کے سمندر کنارے پڑی رہیں۔ آخرکار 11 مئی کو نیول ٹاسک فورس والوں نے لاڈیوں تھانے کے ایس ایچ او کو طلب کرکے سرکار کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرائی۔ اس کے بعد کراچی سے صحافیوں کی ایک ٹیم کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بلایا گیا۔

    نیول ٹاسک فورس کے لیفٹیننٹ کمانڈر سعید اختر بھٹی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نیوی کی اسپیشل ٹاسک فورس کے کمانڈوز گشت پر تھے کہ انہیں ایک لانچ نظر آئی۔ ٹاسک فورس نے انہیں رکنے کو کہا لیکن انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر جوابی کارروائی میں فائرنگ کی گئی، جس میں ‘الذوالفقار’ تنظیم کے سات ‘دہشت گرد’ مارے گئے اور 14 گرفتار کرلیے گئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار افراد کے پاس سے اسلحہ، مختلف خطوط، دستاویزات، بڑی مقدار میں سونا اور پاکستانی کرنسی برآمد ہوئی ہے۔ گرفتار شدگان کا تعلق الذوالفقار سے ہے اور وہ ایک پڑوسی ملک میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں، اور اب بھی تربیت کے لیے اسی ملک جا رہے تھے۔

    صحافیوں کو صرف بریفنگ دے کر واپس کراچی لے جایا گیا۔

    دوسری طرف تین دن سے سمندر کنارے پڑی نوجوانوں کی لاشوں کو پلاسٹک کے شاپرز میں لپیٹ کر کراچی کے ایدھی مردہ خانے منتقل کردیا گیا۔

    اس واقعے اور نیول ٹاسک فورس کی پریس کانفرنس کے جواب میں مرتضیٰ بھٹو کے حامی سپاف ورکنگ کمیٹی نے بیان جاری کیا کہ ان تمام نوجوانوں کو گھروں سے اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا اور بعد میں قتل کردیا گیا۔ ان نوجوانوں کا کسی دہشت گردی یا دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    ہمارے ہاں انقلاب اور دھرتی کی آزادی کی آس میں کئی نوجوان اپنی جانوں کے نذرانے دیتے رہے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ لیڈر تو اپنی جان بچا لیتے ہیں لیکن ایسی خواب نما تحریکوں کا ایندھن اکثر کارکن ہی بنتے ہیں۔

    اس واقعے کے ڈیڑھ سال بعد نومبر 1993 میں مبینہ تنظیم الذوالفقار کے سربراہ مرتضیٰ بھٹو وطن واپس آئے۔ اگرچہ وہ الذوالفقار کی مسلح جدوجہد کو خیرباد کہہ کر جمہوری سیاسی جدوجہد کا حصہ بننے کے لیے واپس آئے تھے، لیکن ان کی ماضی کی مسلح جدوجہد ہی ان کا جرم بن چکی تھی۔ آخرکار 20 ستمبر 1996 کو مرتضیٰ بھٹو اپنی وزیر اعظم بہن کی حکومت میں اپنے گھر 70 کلفٹن کراچی کے قریب شہید کردیے گئے۔

    مرتضیٰ بھٹو کے نام اور آزاد سندھ کے نام پر سیاست کی دکان کھول کر کئی نوجوان لگژری گاڑیوں اور بنگلوں کے مالک بن گئے، جبکہ سندھودیش اور میر مرتضیٰ کے سچے عاشقوں نے اپنی جانیں ٹوڑی پھاٹک، شاہ بندر، باکھوڑی موری اور ریاستی اداروں کی اذیت گاہوں میں قربان کردیں۔

    اور جن لوگوں نے سندھ کی آزادی کی تحریک، الذوالفقار اور مرتضیٰ بھٹو کے نام کو ‘ہیروئن’ کی طرح بیچا، وہ آخرکار آرام سے بس گئے۔

  • قصہ ‘الذوالفقار’ تنظیم کا: سات مئی 1984، جب رزاق جھرنا کو پھانسی دی گئی

    قصہ ‘الذوالفقار’ تنظیم کا: سات مئی 1984، جب رزاق جھرنا کو پھانسی دی گئی

    یہ قصہ اُس دن سے شروع ہوتا ہے جب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے ذوالفقار علی بھٹو کو احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان قصوری کے مبینہ قتل کے مقدمے میں سزائے موت سنائی۔ بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی۔

    چیف جسٹس انوار الحق کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے چار ججوں کی اکثریت سے سزائے موت برقرار رکھی، جبکہ تین ججوں نے اختلاف کرتے ہوئے بھٹو کو بری کرنے کا فیصلہ دیا۔ چونکہ عدالتی نظام میں اکثریتی فیصلہ نافذالعمل ہوتا ہے، اس لیے سپریم کورٹ نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت برقرار رکھی۔

    سپریم کورٹ سے اپیل مسترد ہونے کے بعد بھٹو کی پھانسی کی فائل جنرل ضیا الحق کی میز پر موجود تھی۔ دوسری جانب راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل کے پھانسی گھاٹ میں قید ذوالفقار علی بھٹو سے چند فوجی افسران، سول انتظامیہ اور جیل حکام ملاقات کے لیے پہنچے۔ وہ سفید کاغذات ساتھ لائے تھے اور انہوں نے بھٹو صاحب سے کہا کہ اگر وہ جنرل ضیا الحق کے نام رحم کی اپیل لکھ دیں تو شاید ان کی جان بچ سکتی ہے۔

    انہوں نے یہ بھی پیشکش کی کہ اگر بھٹو چاہیں تو انہیں قلم اور کاغذ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

    ذوالفقار علی بھٹو نے سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا: ‘کیا تم سمجھتے ہو کہ میں جنرل ضیا سے اپنی جان کی بھیک مانگوں گا؟ میں اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اپنی زندگی بچانے کے لیے جنرل ضیا سے رحم کی اپیل کروں۔’

    اس انکار کے بعد ضیا الحق نے پھانسی کی منظوری پر دستخط کر دیے، اور تین اور چار اپریل 1979 کی درمیانی شب تقریباً دو بجے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

    کہا جاتا ہے کہ جس قلم سے جنرل ضیا الحق نے پھانسی کے حکم پر دستخط کیے، اُس قلم کو چوہدری شجاعت حسین کے والد اور چوہدری پرویز الٰہی کے چچا چوہدری ظہور الٰہی نے ‘تاریخی قلم’ قرار دیتے ہوئے بطور یادگار اپنے پاس رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ روایات کے مطابق جنرل ضیا نے وہ قلم انہیں تحفے میں دے دیا، اور بعد ازاں انہیں اپنی کابینہ میں بھی شامل کیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جلاوطنی میں موجود ان کے دونوں بیٹوں، میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے جنرل ضیا حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے شام کے صدر حافظ الاسد، لیبیا کے معمر قذافی اور متحدہ عرب امارات کے شیخ زاید سے ملاقاتیں کیں، جنہوں نے مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

    اسی دوران افغانستان میں سوویت حمایت یافتہ حکومت قائم تھی، جبکہ امریکہ اور پاکستان مشترکہ طور پر افغان مجاہدین کی معاونت کر رہے تھے۔ اس کے ردعمل میں افغان حکومت نے میر مرتضیٰ بھٹو کی حمایت کی۔ پاکستان سے کئی نوجوان خفیہ طور پر کابل پہنچے، جہاں ابتدا میں ‘پاکستان لبریشن آرمی’ قائم کی گئی، جسے بعد میں ‘الذوالفقار’ کا نام دیا گیا۔

    اس تنظیم کا مقصد ضیا الحق کی حکومت اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی میں کردار ادا کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں کرنا تھا۔ الذوالفقار کی ہٹ لسٹ میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین اور چوہدری ظہور الٰہی بھی شامل تھے۔

    کابل میں تنظیم کے ہیڈکوارٹر میں ایک اجلاس کے دوران مولوی مشتاق پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ اس مقصد کے لیے چار رکنی ‘ڈیتھ اسکواڈ’ تشکیل دیا گیا، جس میں خیرپور میرس کے لالا اسد شیخ، بھکر کے رزاق جھرنا، رحمت اللہ انجم اور جاوید ملک شامل تھے۔

    تنظیم کے ارکان نے چیف جسٹس مولوی مشتاق کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔ اتفاق سے 25 ستمبر 1981 کو ذوالفقار علی بھٹو کیس کے تین اہم کردار ایک ہی گاڑی میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن سے گزر رہے تھے۔ ان میں چیف جسٹس مولوی مشتاق، سرکاری وکیل ایم اے رحمان ایڈووکیٹ اور چوہدری ظہور الٰہی شامل تھے۔

    جونہی گاڑی ماڈل ٹاؤن چورنگی کے قریب پہنچی، دو گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے انہیں روک لیا۔ پہلے دستی بم پھینکا گیا، پھر گاڑی پر اسٹین گن سے فائرنگ کی گئی۔ حملے میں چوہدری ظہور الٰہی اور ان کے ڈرائیور نسیم موقع پر ہلاک ہو گئے، جبکہ مولوی مشتاق اور ایم اے رحمان شدید زخمی ہوئے۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہے۔

    واقعے کے بعد ضیا کی حکومت متحرک ہو گئی۔ تحقیقات کے دوران لاہور سے ایک شخص گرفتار ہوا، جس کے قبضے سے رزاق جھرنا کا بیگ برآمد ہوا۔ بعد ازاں سیکیورٹی اداروں نے رزاق جھرنا کو گرفتار کر لیا۔

    کافی عرصے تک انہیں لاہور کے شاہی قلعے میں رکھا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے اعتراف کیا کہ اصل ہدف مولوی مشتاق تھے، تاہم موقع پر تمام افراد ایک ساتھ نظر آنے پر کارروائی کر دی گئی۔

    رزاق جھرنا کا مقدمہ کوٹ لکھپت جیل میں ایک خصوصی فوجی عدالت میں چلایا گیا۔ شناختی پریڈ کے لیے مولوی مشتاق، ایم اے رحمان اور دیگر کو طلب کیا گیا، مگر کسی نے شرکت نہیں کی اور نہ ہی فوجی عدالت میں گواہی دی۔ اس کے باوجود خصوصی فوجی عدالت نے رزاق جھرنا کو سزائے موت سنائی۔

    اسی دوران کراچی میں پوپ کی آمد کے موقع پر جنرل ضیا الحق استقبالی تقریب میں شریک تھے کہ قریب ہی ایک خودکش دھماکہ ہوا، جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ بعد میں اس کی شناخت خیرپور میرس کے لالا اسلم پٹھان کے نام سے ہوئی۔

    الذوالفقار کے سربراہ میر مرتضیٰ بھٹو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ ہدف پوپ نہیں بلکہ جنرل ضیا تھے۔

    بعد ازاں 20 نومبر 1981 کو کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں سیکیورٹی اداروں کی کارروائی کے دوران سپاف سندھ کے مرکزی نائب صدر لالا اسد شیخ مارے گئے۔ حکام کے مطابق وہ چوہدری ظہور الٰہی قتل کیس اور دیگر کارروائیوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔

    تنظیم کے ایک اور رکن رحمت اللہ انجم 14 ستمبر 1983 کو لاہور کے ایک سنیما میں دھماکے کے دوران مارے گئے۔

    آخرکار سات مئی 1984 کو کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رزاق جھرنا کو پھانسی دے دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ پھانسی سے قبل وہ اپنی کوٹھڑی میں انقلابی نغمے گاتے رہے اور تختۂ دار پر چڑھنے سے پہلے جنرل ضیا الحق اور آمریت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

    رزاق جھرنا ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی میت وصول کرنے کے لیے ان کے ضعیف والدین اور بہن بھائی جیل پہنچے۔ ان کا خاندان آج بھی محنت کش زندگی گزار رہا ہے۔