پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ریاست کو ایک بڑے انتظامی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 1947 میں نہ صرف سیاسی ڈھانچہ تشکیل دینا تھا بلکہ ایک مؤثر بیوروکریسی بھی قائم کرنا ضروری تھی۔ اس نازک مرحلے پر ہجرت کرکے آنے والے اردو اسپیکنگ مہاجرین، خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ، ریاستی نظام کو سنبھالنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئے۔
سرکاری اداروں، دفتروں اور پالیسی سازی کے مراکز میں ان کی موجودگی نے ابتدائی انتظامی بحران کو سنبھالنے میں مدد دی۔
وقت کے ساتھ حالات بدلے، مگر ایک نیا سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا آج شہری سندھ کے تعلیم یافتہ نوجوان اعلیٰ سرکاری عہدوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے سی ایس ایس 2025 کے نتائج نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔
ملک بھر سے 12,792 امیدواروں نے امتحان دیا، مگر صرف 355 تحریری مرحلہ عبور کر سکے، یوں کامیابی کی شرح محض 2.67 فیصد رہی۔ بعد ازاں 170 امیدواروں کو تقرری کے لیے منتخب کیا گیا جن میں مرد اور خواتین تقریباً برابر تعداد میں شامل ہیں۔
ان نتائج کا ایک اہم پہلو سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ دیہی سندھ سے 25 امیدوار کامیاب ہوئے، جن میں سے 22 کو مختص نشستوں پر ایلوکیشن ملی، جبکہ 3 امیدوار نشستوں کی کمی کے باعث شامل نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس شہری سندھ، جس میں کراچی، حیدرآباد اور سکھر شامل ہیں، وہاں سے صرف 5 امیدوار کامیاب ہوئے، حالانکہ ان کے لیے مختص نشستوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری سندھ کے امیدوار اپنی دستیاب نشستیں بھی مکمل طور پر حاصل نہیں کر پا رہے۔
ماہرین اس صورتحال کو ایک نئے قسم کے انتظامی بحران سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ محض نتائج تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں شہری سندھ کے نوجوان مقابلے کے امتحانات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
اس کی وجوہات میں تعلیمی معیار میں کمی، سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال، اور مواقع کے بارے میں مایوسی جیسے عوامل شامل کیے جا رہے ہیں۔
کچھ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ سرکاری ملازمت نہ ملنے کا شکوہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر مقابلے کے میدان سے باہر رہ کر مکمل نظام کو مورد الزام ٹھہرانا بھی ایک یکطرفہ رویہ ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ تیاری، سمت اور حوصلے کی کمی ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پالیسی سطح پر اصلاحات کی جائیں، تعلیمی نظام کو مضبوط کیا جائے، اور میرٹ اور نمائندگی کے درمیان ایسا توازن قائم کیا جائے جو نہ صرف انصاف پر مبنی ہو بلکہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا اعتماد بھی دے سکے۔
اگر یہ خلا برقرار رہا تو مستقبل میں انتظامی ڈھانچہ ایک بار پھر اسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے، جسے پاکستان نے اپنے قیام کے وقت بڑی مشکل سے سنبھالا تھا۔
