بلوچستان کے وسیع اور خشک پہاڑی سلسلوں کے درمیان ایک ایسا منظر بھی موجود ہے جو بظاہر بنجر زمین میں زندگی کی روانی کا احساس دلاتا ہے۔ یہ منظر دریائے ہنگول کا ہے، جو اس خطے کی رگوں میں دوڑتی ایک زندہ کہانی کی مانند ہے۔
تقریباً 560 کلومیٹر طویل یہ دریا ضلع آواران کی بلند پہاڑیوں سے نکلتا ہے اور ایک طویل سفر طے کرتے ہوئے جنوب میں عرب سمندر سے جا ملتا ہے۔ اپنے راستے میں یہ آواران، گوادر اور لسبیلہ کے علاقوں کو سیراب کرتا ہوا نہ صرف پانی بلکہ ہزاروں برس پرانی ارضیاتی تاریخ بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔
یہ دریا محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے نیشنل پارک، ہنگول نیشنل پارک، کی زندگی بھی ہے۔ 1988 میں قائم ہونے والا یہ پارک تقریباً چھ ہزار ایک سو مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اپنی منفرد جغرافیائی ساخت اور حیاتیاتی تنوع کے باعث عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔
کراچی سے تقریباً 190 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ پارک ایک ہی مقام پر چھ مختلف ماحولیاتی نظام سمیٹے ہوئے ہے، جن میں صحرا، پہاڑ، جنگلات، میدان، مٹی کے آتش فشاں اور سمندری علاقے شامل ہیں۔ یہی تنوع اسے قدرت کا ایک نایاب شاہکار بناتا ہے۔
ہنگول نیشنل پارک کی پہچان اس کی حیرت انگیز چٹانیں بھی ہیں، جن میں سب سے مشہور پرنسیز آف ہوپ کی چٹان ہے۔ یہ منفرد ساخت رکھنے والی چٹان 2004 میں عالمی شہرت یافتہ اداکارہ انجلینا جولی کی توجہ کا مرکز بنی، جنہوں نے اسے یہ نام دیا۔ اس طرح یہ چٹان نہ صرف قدرتی حسن بلکہ عالمی شناخت کی علامت بھی بن گئی۔
اس علاقے کی ایک اور حیران کن خصوصیت مٹی کے آتش فشاں ہیں، جو دنیا کے چند مخصوص خطوں میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں چاندرا گپ کا آتش فشاں ہے، جسے بابا چندر گپ بھی کہا جاتا ہے۔ تقریباً 330 فٹ بلند یہ آتش فشاں پگھلی ہوئی مٹی اور میتھین گیس خارج کرتا ہے اور اپنی نوعیت کا منفرد مظہر ہے۔ لیکن اس کی اہمیت صرف سائنسی یا قدرتی نہیں بلکہ مذہبی بھی ہے۔
ہندو عقیدت مند اسے ایک مقدس مقام مانتے ہیں اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں یہاں آ کر ناریل چڑھاتے ہیں اور اپنی مرادیں مانگتے ہیں۔
یہی عقیدت کا سفر آگے بڑھتے ہوئے ہنگلاج ماتا کے مندر تک پہنچتا ہے، جو ہنگول ندی کے کنارے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ مندر پاکستان میں ہندو برادری کی سب سے بڑی عبادت گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال مارچ یا اپریل میں یہاں چار روزہ یاترا کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں اندازاً ڈھائی لاکھ سے زائد یاتری شرکت کرتے ہیں۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے اس مقام کی ترقی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات بھی کیے گئے ہیں، جو مذہبی رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک مثبت مثال ہے۔
ہنگول نیشنل پارک کی زندگی کا اصل راز اس کا پانی ہے۔ اس خطے کے دیگر ندی نالوں کے برعکس دریائے ہنگول پورا سال بہتا رہتا ہے اور اس کا پانی نسبتاً صاف اور میٹھا ہوتا ہے۔ یہی پانی اس علاقے کی حیاتیاتی زندگی کو ممکن بناتا ہے، جہاں مگر مچھ جیسی نایاب اور خطرے سے دوچار نسل بھی پائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ دریا پرندوں، مچھلیوں اور دیگر جنگلی حیات کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بھی ہے۔
دریائے ہنگول اور اس کے گرد و نواح صرف ایک قدرتی منظر نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی، ثقافتی اور روحانی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ارضیات، حیات اور عقیدت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ بلوچستان کا یہ خطہ آج بھی اپنی خوبصورتی اور اسرار کے ساتھ ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ابھی مکمل طور پر دنیا کے سامنے نہیں آ سکی۔
ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی انوکھی اور دلکش کہانیاں سامنے لاتا ہے جو ہمارے اردگرد موجود ہیں مگر اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔
