[rank_math_breadcrumb]

سانگھڑ : شدید گرمی میں اور سندھ کی روائتی شربت تھادل کی بڑھتی مقبولیت

محمد قذافی

سانگھڑ میں گرمی کا موسم اپنے عروج کی طرف بڑھ رہا ہے اور درجہ حرارت میں مسلسل اضافے نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تیز دھوپ اور حبس کے باعث لوگ گرمی سے بچاؤ کے لیے مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں، تاہم اس موسم میں ایک بار پھر روایتی دیسی مشروب ‘تھادل’ عوام کی پہلی ترجیح بن کر سامنے آیا ہے۔

شہر بھر میں قائم تھادل کے اسٹالوں پر شہریوں کا رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں لوگ نہ صرف پیاس بجھانے بلکہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے اس روایتی مشروب کا رخ کر رہے ہیں۔ تھادل صدیوں پرانی روایت کا حصہ ہے اور خاص طور پر سندھ کے علاقوں میں اسے گرمی کے موسم کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔

یہ دیسی مشروب مختلف قدرتی اجزاء سے تیار کیا جاتا ہے، جن میں چینی، بادام، سفید زیرہ، الائچی، کالی مرچ، چار مغز، خشخاش، گلاب کے پھول، گل قند، سونف، کالا نمک، سفید پودینہ اور تمر شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اجزاء نہ صرف جسم کو فوری توانائی فراہم کرتے ہیں بلکہ معدے کو ٹھنڈک پہنچانے اور پانی کی کمی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

مقامی حکیموں اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ تھادل کا استعمال جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔ شدید گرمی میں جب جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے، تو ایسے قدرتی مشروبات وقتی طور پر سکون فراہم کرتے ہیں اور بار بار پیاس لگنے کے عمل کو بھی کم کرتے ہیں۔

سانگھڑ شہر اور اس کے گرد و نواح میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی تھادل کے درجنوں نئے اسٹال قائم ہو چکے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک روایتی مشروب کے طور پر زندہ روایت کی علامت ہے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگے مشروبات کے مقابلے میں تھادل ایک سستا، صحت بخش اور قدرتی متبادل ہے، جس کا ذائقہ بھی منفرد ہے اور اثر بھی فوری محسوس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عمر کے افراد اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

گرمی کی اس شدت میں جہاں جدید مشروبات دستیاب ہیں، وہیں سانگھڑ کے لوگ آج بھی اپنی روایات سے جڑے ہوئے ہیں، اور تھادل اس بات کی ایک واضح مثال ہے کہ مقامی دانش اور قدرتی اجزاء پر مبنی روایات آج بھی مؤثر اور زندہ ہیں۔

اسی بارے میں: