سبین محمود: مکالمے کی آواز جو خاموش نہ ہو سکی

کراچی کی روشن، متحرک اور باشعور سماجی زندگی میں اگر کسی ایک نام کو جرات، مکالمے اور کھلے خیالات کی علامت کہا جائے تو وہ سبین محمود تھیں۔ ایک ایسی خاتون جنہوں نے نہ صرف سوال اٹھانے کا حوصلہ دیا بلکہ اختلافِ رائے کو معاشرے کی طاقت سمجھا۔

24 اپریل 2015 کی شام کو سبین محمود نے کراچی میں صوبہ بلوچستان کے مسائل پر Unsilencing Balochistan کے عنوان سے اپنے ادارے ’ٹی ٹو ایف‘میں ایک اہم مذاکرہ منعقد کیا، جس میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کی گئی۔ اس پروگرام میں مسنگ پرسنس کے لیے کام کرنے والے معروف کارکن ماما قدیر بھی شریک تھے۔

اسی رات، جب وہ اپنی والدہ کے ہمراہ پروگرام سے واپس لوٹ رہی تھیں، تو نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ انہیں چار سے پانچ گولیاں ماری گئیں۔ یہ حملہ کراچی کے مصروف علاقے میں ایک سگنل پر ہوا، جو T2F سے چند سو میٹر کے فاصلے پر تھا۔

اس حملے میں سبین محمود موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں، جبکہ ان کی والدہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں آغا خان اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ ایک ٹارگٹ کلنگ تھی، جسے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت درج کیا گیا۔

ایک خواب: مکالمہ، برداشت اور تبدیلی

سبین محمود انسانی حقوق کی کارکن، کاروباری شخصیت اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ایک تخلیقی ذہن تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی صرف مکالمے اور تنقیدی سوچ سے آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کا سب سے بڑا خواب ’انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کو بہتر بنانا‘ ہے۔

اسی وژن کے تحت انہوں نے ’Peace Niche‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا، جو عوامی مفاد کے لیے ایک سماجی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا رہا۔ 2006 میں انہوں نے کراچی میں ’دی سیکنڈ فلور (T2F)‘ کے نام سے ایک پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی، جو جلد ہی ایک منفرد ادبی و ثقافتی مرکز بن گیا۔ یہاں مکالمے، تھیٹر، شاعری، فلم اور سماجی موضوعات پر کھلی گفتگو کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔

خوف کے مقابل کھڑے ہونے والی آواز

سبین محمود ان چند لوگوں میں شامل تھیں جو خوف کے ماحول میں بھی کھل کر بات کرنے پر یقین رکھتی تھیں۔ انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ اگر ہم خوف کو خود پر حاوی کر لیں تو ہم کبھی کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہی سوچ ان کے ہر عمل میں نظر آتی تھی۔

سبین محمود کی موت نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے بھی افسوس کا اظہار کیا اور تحقیقات کا حکم دیا۔

سوشل میڈیا پر بھی غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ملک کے نامور دانشوروں، صحافیوں اور کارکنوں نے اسے آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دیا۔

’ اسٹریٹس اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بھرپور احتجاج کے بعد سب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی آواز کو کبھی مرنے نہیں دیا جائے گا،‘ سماجی کارکن زینیہ شوکت نے کہا۔

ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ چاہے ان کے کام کا کون سا پہلو ان کے قتل کی وجہ بنا، سبین کے قتل کا گہرا تعلق ان کے کام سے تھا جو وہ اس شہر کے لیے کر رہی تھیں۔

انصاف کی جدوجہد

20 مئی 2015 تک حکام نے اس قتل میں ملوث مرکزی ملزم سعد عزیز کو گرفتار کر لیا، جس نے جرم کا اعتراف بھی کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم ٹی ٹو ایف کے پروگرامز میں باقائدگی سے شرکت کرتا رہتا تھا۔ اس کیس نے کراچی میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے نیٹ ورکس پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے۔

سبین محمود کا ملزم طاہر عزیز، جسے فوجی عدالت نے مقدمہ چلا کر بعد میں پھانسی دے دی گےی، ایک اور ہولناک واقعے ’’سفورا گوٹھ قتلِ عام‘‘ میں بھی شریکِ ملزم تھا، جس میں اسماعیلی برادری کے 45 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

سبین محمود کی زندگی اگرچہ مختصر تھی، مگر ان کا کام اور فکر آج بھی زندہ ہے

سبین محمود اس پاکستان کی نمائندہ تھیں جو کھلا، روشن خیال اور مکالمے پر یقین رکھتا ہے۔ ان کی آواز خاموش ضرور ہوئی، مگر ان کا پیغام آج بھی گونج رہا ہے: سوال کریں، بات کریں، اور خوف کے آگے نہ جھکیں۔

اسی بارے میں: