[rank_math_breadcrumb]

ذوالفقار علی بھٹو کی 47 ویں برسی: بھٹو سے محترمہ بے نظیر بھٹو، نصرت بھٹو آخری 30 منٹ کی ملاقات میں کیا ہوا؟

جیل سپرنٹنڈنٹ نے ملاقات کا وقت ختم ہونے کا اعلان کیا تو بے نظیر بھٹو نے جیل کی سلاخوں کو پکڑ لیا، برائے مہربانی دروازہ کھول دیں، میں اپنے پاپا کو الوداع کہنا چاہتی ہوں۔

بی بی مسلسل التجا کرتی رہیں مگر سپرنٹنڈنٹ نے انکار کردیا۔

یہ پھانسی کے تختے پر لٹکنے سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی اپنی اہلیہ اور بیٹی سے آخری ملاقات تھی۔۔

اپنی پیاری بیٹی اور اہلیہ سے جدائی کے وقت بھٹو صاحب نے کہا: ‘آج شب علائم دنیا سے آزاد ہوجاؤں گا، میں اپنی والدہ اور اپنے والد کے پاس چلا جاؤں گا، میں لاڑکانہ میں اپنے اجداد کی زمینوں کی طرف جارہا ہوں تاکہ اس سرزمین کا، اس کی خوشبو اور اس کی فضا کا حصہ بن جاؤں۔’

بھٹو صاحب نے اپنے جملے مکمل کرتے ہوئے آخر میں مسکراتے ہوئے کہا ۔’ آج کل لاڑکانہ میں بہت گرمی ہے۔’

‘میں وہاں ایک سائبان تعمیر کردوں گی’ بے نظیر بھٹو بمشکل یہ جملہ مکمل کر پاتی ہیں اور جیل حکام نے آگے بڑھ کر انہیں الگ کردیا،

بی بی نے آخری جملہ ادا کیا، ‘الوداع پاپا’

بے نظیر بھٹو نے اپنی خود نوشت Daughter of East میں لکھا: ‘راولپنڈی سینٹرل جیل میں 4 اپریل 1979 کو صبح صادق سے بھی بہت پہلے انہوں نے میرے والد کو قتل کردیا۔ چند کلومیٹر دور سہالہ کے ویران پولیس ٹریننگ کیمپ میں اپنی والدہ کے ساتھ مقید، میں نے اپنے والد کی موت کے اس لمحے کو محسوس کیا، وہ رات ہم دونوں پر بہت بھاری اور کرب آمیز گزری، ہم ایک دوسرے سے سمٹی رہیں۔’

‘ہم وزیر اعظم کی تدفین کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہیں،’ بی بی یہ اپنی بات مکمل نہ کر پائی تھی کہ چھوٹے جیلر نے بتایا ‘وہ انہیں دفنانے کے لیے پہلے ہی لے جاچکے ہیں’

یہ سن کر بی بی کا لہجہ سخت ہوگیا، ‘ان کے گھر والوں کے بغیر میت لے گئے؟،

فوجی حکومت کے جرائم پیشہ افراد بھی جانتے ہیں میت کے ساتھ جانا، تدفین میں شامل ہونا، چہرہ دیکھنا ہمارا مذہبی فریضہ ہے’۔ بے نظیر بھٹو نے جذباتی لہجے میں جیلر پر غصہ کیا۔

جیلر نے یہ بھی نہیں بتایا کہ سابق وزیر اعظم کی میت کو پھانسی کے بعد کہاں لے گئے ہیں؟ بس جیل کی سیل کوٹھری میں ذوالفقار علی بھٹو کا بچا کچھا سامان بی بی کے حوالے کردیا۔

لمبی قمیض اور ڈھیلا پاجامہ جو انہوں نے آخری دنوں میں پہنا تھا، کیونکہ بطور سیاسی قیدی انہوں نے مجرم کی وردی پہننے سے انکار کردیا تھا۔کھانے کا ٹفن، گوکہ کچھ دنوں سے انہوں نے کھانے پینے سے انکار کردیا تھا، بستر کے کپڑے جن کی اجازت اس وقت ملی تھی جب چارپائی کے ٹوٹے ہوئے تاروں سے ان کی کمر چھلنی ہوچکی تھی، ان کا پینے کا پیالہ۔

ان کی انگوٹھی کہاں ہے؟ بی بی کے پوچھنے پر جیلر نے جیب ٹٹولی اور انگوٹھی نکال کر دی۔

بی بی لکھتی ہیں ہم ماں اور بیٹی کو پھانسی سے ایک روز قبل ملاقات کے لیے جایا گیا تو میرے والد نے جیل کی سیل کوٹھری سے آواز دی، ‘آج تم دونوں اکٹھے کیوں آئی ہو؟ کیا یہ آخری ملاقات ہے’ نصرت بھٹو خاموش رہیں مگر بی بی نے جواب دیا۔’ میرا خیال ہے ایسا ہی ہے۔’

ذوالفقار علی بھٹو نے قریب ہی کھڑے جیلر سے پوچھا، ‘کیا یہ آخری ملاقات ہے؟’

جیلر نے اثبات میں سر ہلایا، ‘کیا تاریخ کا تعین ہوگیا’ ذوالفقار علی بھٹو نے فوری سوال کیا۔ جیلر نے بتایا کہ کل کا دن طے ہوا ہے، قواعد کے مطابق صبح پانچ بجے۔ بیوی اور بیٹی سے آخری ملاقات طے شدہ وقت ایک گھنٹہ کے بجائے 30 منٹ کروائی گئی۔

‘غسل اور شیو کرنے کے لیے انتظامات کرو، دنیا خوبصورت ہے اسے میں اسی حالت میں الوداع کہنا چاہتا ہوں’ ذوالفقار علی بھٹو نے جیلر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

انہوں نے اپنی کتابیں بی بی کے حوالے کرتے ہوئے کہا انہیں لے جاؤ، میں چاہتا ہوں میری کسی چیز کو یہ لوگ ہاتھ نہ لگائیں۔

وہ چند سگار جو وکلا چھوڑ گئے تھے بی بی کے حوالے کرتے ہوئے کہا صرف آج رات کے لیے ایک رکھ لیتا ہوں، شالیمار کولون کی شیشی بھی رکھ لی، اپنی انگوٹھی اتار کر دینے لگے تو نصرت بھٹو نے اصرار کیا ‘اسے پہنے رکھیں’۔ جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا ٹھیک ہے پہن لیتا ہوں مگر بعد میں اسے بے نظیر کے حوالے کر دینا۔

‘دوسرے بچوں کو میرا پیار دینا،’ نصرت بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

انہوں نے کہا میں تمہاری مرضی پر چھوڑتا ہوں اگر چاہو تو پاکستان سے اس وقت تک باہر چلی جاؤ جب تک آئین معطل ہے اور مارشل لاء نافذ ہے۔

‘ہم باہر نہیں جا سکتے، ہم جرنیلوں کو یہ تاثر نہیں دیں گے کہ وہ جیت چکے ہیں۔’ نصرت بھٹو نے جواب دیا۔ ‘اور تم پنکی؟’ بھٹو صاحب نے بی بی کو مخاطب کیا تو انہوں نے بھی کہا ‘میں بھی کبھی نہیں جا سکتی۔’