پاکستانی میڈیا کا بحران: برطرفیاں، تنخواہوں میں تاخیر اور پیکا کا بڑھتا ہوا دباؤ

میڈیا

پاکستان میں الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا اس وقت ایک گہرے بحران سے گزر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمین کو برطرف کیا جا رہا ہے اور متعدد ادارے اپنے آپریشنز محدود یا بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال کی نمایاں مثال ڈیجیٹل پلیٹ فارم نکتہ (Nukta) ہے، جسے معروف ٹی وی اینکر کامران خان کی سربراہی میں بڑے پیمانے پر تشہیر کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ تاہم، قلیل عرصے میں ہی اس ادارے نے 37 صحافیوں اور دیگر عملے کو برطرف کر دیا اور بعد ازاں اسے ایک اور ٹی وی چینل انتظامیہ اے آر وائی کو فروخت کر دیا گیا۔ اس پیش رفت نے میڈیا انڈسٹری میں عدم استحکام اور مستقبل کے حوالے سے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اسی طرح ملک کے بڑے میڈیا ادارے ڈان کے اردو ڈیجیٹل پلیٹ فارم DawnNews.tv کو بھی یکم دسمبر 2025 کو شدید مالی دباؤ اور اشتہارات میں نمایاں کمی کے باعث بند کر دیا گیا۔ اس بندش کے نتیجے میں کم از کم 12 صحافی بے روزگار ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ادارے کی اردو ڈیجیٹل صحافت کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ واقعات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا ادارے بدلتے معاشی حالات اور ڈیجیٹل تبدیلی کے دباؤ کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔حال ہی میں  متعدد ٹی وی نیوز چینل، جیسا کہ آج نیوز، اب تک، نیوز ون اور جی ٹی وی نے کئی اینکرز، رپورٹرز، کیمرہ مین اور نیوز روم اسٹاف کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے نکال دیا گیا۔  

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان، جنرل سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری اور مجلس عاملہ  ٹی وی چینلز میں ہونے والی ملک گیر برطرفیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں کے یوجے کا کہنا ہے آج ٹی وی نے کراچی سمیت ملک بھر میں بڑی تعداد میں اینکرز ،کیمرہ مینوں، نیوز روم اور لاہور اسلام آباد ، کوئٹہ بیوروز میں کام کرنے والے لوگوں کو بڑی تعداد میں بغیر کسی نوٹس کے غیرقانونی طور پر برطرف کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں موجود 8 ڈی ایس این جیز میں سے پانچ کو بند کردیا گیا ہے۔

ایک اور بیان میں کے یو جے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جی ٹی وی نے کراچی اور لاہور سے رپورٹرز، نیوز ڈیسک پر کام کرنے والے صحافیوں، کیمرہ مین، ڈرائیور، آفس بوائے سمیت پندرہ سے زائد افراد کو اچانک بغیر کسی جواز کے نوکری سے فارغ کیا  ہے۔ کے یوجے نے جی ٹی وی میں ہونے والی غیر قانونی برطرفیوں کو صحافتی اقدار اور ملازمین کے حقوق کی کھلی ورزی قراردیا ہے۔

کے یوجے نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ایسے واقعات کا نوٹس لیں تاکہ صحافتی برادری کو عدم تحفظ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ٹی وی انتظامیہ کی جانب سے اشتہارات میں کمی اور ناظرین کے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف رجحان کو ان ملازمین کی چھانٹی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی صحافیوں کو مہینوں تک اپنی تنخواہیں نہیں ملتیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل نہ صرف لیبر قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے صحافیوں کا حوصلہ بھی ٹوٹتا ہے، اور بہت سے تجربہ کار افراد اس پیشے کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

پیکا قانون کا بے دریغ استعمال

ریاستی اداروں کی جانب سے نیوز ڈیسک کے امور میں بےجا مداخلت ایک عام شکایت رہی ہے، مگر اب یہ سرکاری اداری من پسند خبر کے نشر نا ہونے یا حکومتی اداروں کے خلاف جاری کسی خبر کا بہانہ بناکر صحافیوں کے خلاف پیکا قانون کے تحت کیس درج کررہے ہیں اور صحافیوں کو گرفتار کرکے کئی ہفتوں تک جیل میں رکھ کر تشدد کیا جاتا ہے۔

مختلف رپورٹس کے مطابق صرف 2025 کے چند مہینوں میں ہی درجنوں صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صحافت پر قانونی گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔

اس کی ایک نمایاں مثال کراچی کے صحافی محمد اسلم شاہ کی گرفتاری ہے، جنہیں پیکا قانون کے تحت حراست میں لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 29 دسمبر 2025 کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ایک افسر کی شکایت پر ان کے خلاف پیکا کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس میں سوشل میڈیا پر مبینہ ہتک عزت کے الزامات شامل تھے۔ بعد ازاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 6 اور 7 جنوری 2026 کے درمیان انہیں گرفتار کر لیا۔

مقدمے میں پیکا کی دفعات 20 اور 24 شامل کی گئیں، جو عزت کے خلاف جرائم اور سائبر اسٹاکنگ سے متعلق ہیں۔

گرفتاری کے بعد ہیومین رائیٹس کمیشن آف پاکستان  اور کراچی پریس کلب سمیت مختلف صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے آزادی صحافت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ تنظیموں کا کہنا تھا کہ پیکا قانون کا استعمال صحافیوں کو دبانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق اسلم شاہ کو ایک ہفتے سے زائد عرصہ حراست میں رکھا گیا جبکہ وکلا کے مطابق ان کی درخواست ضمانت کی سماعت میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی، جس کی وجہ پراسیکیوٹر اور کیس ریکارڈ کی عدم دستیابی بتائی گئی۔

اسی طرح چند دن پہلے دادو میں بھی صحافیوں اور سوشل میڈیا کے صارفین کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ ان پر الزام ہے کہ ام رباب کیس کے فیصلے کی مبینہ غلط رپورٹنگ کی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنمائوں کے خلاف ام رباب کے والد اور دیگر رشتیداران کے قتل کا مقدمہ زیرسماعت تھا۔ عدالتی فیصلے میں تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

مقامی صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف پیکا قانوں کے تحت درج مقدمات کو بھی کئی حلقوں نے آزادی اظہار پر قدغن قرار دیا ہے اور کہا کہ ایسے مقدمات اظہار کی آزادی کو دبانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

مارچ  میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں پوری دنیا میں تیل کے بحران نے جنم لیا۔ پاکستان بھی متاثرین میں شامل ہے۔ پاکستان نے بڑے پیمانے پر تیل کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ کردیا۔

کراچی کے صحافی نادر خان کے خلاف مبینہ طور پر ایل پی جی اسمگلنگ سے متعلق رپورٹ نشر کرنے کے فوراً بعد نیشنل سائبر کرائیم انویسٹی گیشن ایجنسی نے رپورٹر کے خلاف تیزی سے مقدمہ درج کر لیا، جس پر صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صحافی نے کراچی پورٹ پر مبینہ ایل پی جی اسمگلنگ سے متعلق خبر شائع کی، جس کے صرف چند منٹ بعد ہی ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ ہیومین رائیٹس کمیشن آف پاکستان سمیت مختلف اداروں نے اس اقدام کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر مکمل تحقیقات کے کارروائی تشویشناک ہے اور اس سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کا تاثر ملتا ہے۔

پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک مشکل پیشہ رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے۔ پہلے صحافیوں کو جسمانی خطرات کا سامنا تھا، اب معاشی عدم استحکام اور قانونی دباؤ نے ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے، جہاں خود سنسرشپ بڑھ رہی ہے۔

اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت اور میڈیا مالکان کو چاہیے کہ صحافیوں کو بروقت تنخواہیں ادا کریں، ملازمت کا تحفظ یقینی بنائیں اور ایسے قوانین پر نظرثانی کریں جو آزادی صحافت کو متاثر کرتے ہیں۔

اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان نہ صرف اپنے صحافیوں سے محروم ہو جائے گا بلکہ میڈیا کی ساکھ اور آزادی بھی شدید متاثر ہوگی، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نہایت ضروری ستون ہیں۔

اسی بارے میں: