Tag: میڈیا

  • میڈیا مافیا اور میرا صحافی بننے کا تجربہ

    میڈیا مافیا اور میرا صحافی بننے کا تجربہ

    یہ نومبر 1980 کی بات ہے، جب پاکستان ٹیلی وژن کے علاوہ ملک میں کوئی نجی الیکٹرانک چینل موجود نہیں تھا اور پرنٹ میڈیا اپنے عروج پر تھا۔ سندھی اخبارات میں روزنامہ ہلالِ پاکستان، عبرت، مہران اور سندھ نیوز نمایاں شمار ہوتے تھے۔

    اُن دنوں سندھ کے اکثر شہروں میں اخبارات سے وابستہ افراد کو ‘صحافی’ کے بجائے ‘اخباری نمائندہ’ کہا جاتا تھا۔ مین پوری اور گٹکے کے بجائے شہروں میں سرکاری لائسنس کے تحت بھنگ اور افیون کے اڈے قائم تھے، جہاں حکومت کے مقرر کردہ ٹھیکیدار نشہ آور اشیا فروخت کرتے تھے۔

    جنرل ضیا الحق نے انہی دنوں ملک بھر میں رقص و سرود کے مراکز اور ‘بازارِ حسن’ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ لاہور کی ہیرا منڈی، کراچی کا نیپیئر روڈ، حیدرآباد کا سری گھاٹ، نواب شاہ کی مریم روڈ، سکھر کا گھنٹہ گھر، لاڑکانہ کی نگار ایمپائر سینما کے قریب واقع علاقہ اور قمبر کے اسٹیشن روڈ پر قائم بازارِ حسن سرکاری طور پر تو بند کر دیے گئے تھے، مگر پولیس کی سرپرستی میں یہ سرگرمیاں بدستور جاری تھیں۔

    اُس زمانے میں پولیس اور بعض اخباری نمائندوں کی آمدنی کا ایک ذریعہ جوا، چرس، دیسی شراب کے کاروبار اور بازارِ حسن کے دلالوں سے وصول ہونے والی بھتہ خوری بھی تھی۔ انہی دنوں حیدرآباد سے شائع ہونے والے ایک سندھی اخبار نے مختلف شہروں میں اخباری نمائندوں کی ضرورت کا اشتہار دیا، جس میں میرے آبائی شہر قمبر کا نام بھی شامل تھا۔

    مجھے بھی اخباری نمائندہ بننے کا شوق تھا، چنانچہ میں حیدرآباد پہنچ گیا۔ مختلف شہروں سے آئے دیگر امیدوار بھی وہاں موجود تھے۔ اُس دور میں جس طرح آج کسی ٹی وی چینل کا لوگو فخر سمجھا جاتا ہے، ویسے ہی اُس زمانے میں اخباری نمائندگی کا کارڈ باعثِ اعزاز تصور کیا جاتا تھا۔

    اخبار کے دفتر میں ایک سب ایڈیٹر امیدواروں کے انٹرویو لے رہے تھے۔ جب میری باری آئی تو رسمی سوالات کے بعد انہوں نے خوشخبری سنائی کہ مجھے قمبر تعلقے کا نمائندہ مقرر کیا جا رہا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اخبار کی پچاس کاپیاں فروخت کرنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ 23 مارچ، 14 اگست اور دیگر قومی دنوں کے اشتہارات بھی حاصل کرکے ادارے کو بھجوانے ہوں گے۔

    اُن دنوں سیاسی خوشامد پر مبنی اشتہارات کا رواج نہیں تھا۔ سب ایڈیٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ ادارہ کوئی تنخواہ، ڈاک یا سفری اخراجات ادا نہیں کرے گا۔ اُس دور میں انٹرنیٹ نہیں تھا، اس لیے فوری خبریں ٹیلیفون ایکسچینج کے پی سی او سے بھیجی جاتیں، جبکہ دیگر خبریں ڈاک کے ذریعے روانہ کی جاتیں۔

    صحافی بننے کے شوق میں میں نے تمام شرائط قبول کر لیں۔ نمائندگی کا کارڈ ملا تو خوشی خوشی واپس قمبر آ گیا اور دوستوں کو بتایا کہ اب میں بھی صحافی بن گیا ہوں۔

    دو دن بعد حیدرآباد سے لاڑکانہ اور پھر قمبر، شہدادکوٹ، گڑھی خیرو اور جیکب آباد جانے والی ریل گاڑی کے ذریعے اخباروں کا بنڈل میرے نام قمبر ریلوے اسٹیشن پہنچا۔ ایک ہاکر وہ بنڈل میرے پاس لے آیا۔ میں نے اُس سے کہا کہ اخباریں فروخت کر دے، مگر اُس نے جواب دیا کہ پہلے ہی اس کے پاس کئی اخبارات ہیں جو فروخت نہیں ہوتیں، اس لیے گاہک مجھے خود تلاش کرنے ہوں گے۔

    کئی دن گزر گئے مگر گاہک نہ ملے، جبکہ اخباروں کے بنڈل مسلسل پہنچتے رہے۔ پریشانی کے عالم میں میں نے قمبر کے ایک سینئر اردو بولنے والے اخباری نمائندے، مرحوم رئیس الدین ہاشمی، سے مشورہ کیا۔

    انہوں نے کہا: ‘یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ سرکاری محکموں، جوئے اور منشیات کے اڈوں سے متعلق سچی یا جھوٹی خبریں بھیجو، خود ہی گاہک مل جائیں گے۔’

    میں نے پولیس تھانے، مختیارکار، ایس ڈی ایم، سول اسپتال اور دیگر محکموں سے متعلق خبریں ادارے کو بھیجنا شروع کر دیں۔ خبریں شائع ہونا شروع ہوئیں تو ایس ایچ او، مختیارکار، انجینئرز اور دیگر افسران کی جانب سے ملاقات کے پیغامات آنے لگے۔

    جب میں ان سے ملا تو انہوں نے بڑی محبت سے کہا: ‘قادری، ایسی چھوٹی موٹی باتیں تو چلتی رہتی ہیں، خبر لگانے سے پہلے ہم سے رابطہ کر لیتے۔’

    اِن خبروں کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف اخبار کے گاہک بڑھ گئے بلکہ طلب میں بھی اضافہ ہو گیا۔

    قمبر میں اسٹیشن روڈ اور دوست علی روڈ پر جوا اور منشیات کے اڈے چلتے تھے۔ میں نے ان کے خلاف خبریں شائع کیں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ان خبروں کی تراشیں محکمہ اطلاعات کے ذریعے ایس پی لاڑکانہ تک پہنچ جائیں گی۔ نتیجتاً پولیس نے کارروائی کی اور کئی اڈے بند ہو گئے۔

    اگلے روز علاقے کے ایک مشہور جرائم پیشہ شخص کا پیغام آیا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر کوئی کام ہے تو خود آ جائے۔

    وہ شخص بالآخر میرے گھر آیا۔ پہلے دھمکیاں دیں، پھر نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا: ‘دنیا سے سب لیتے دیتے ہیں، تمہیں بھی خوشی سے دیں گے۔ ماہانہ پانچ سو روپے مل جایا کریں گے۔’

    1980 میں پانچ سو روپے بڑی رقم تھی۔ میں نے جواب دیا کہ مجھے رقم نہیں چاہیے، صرف اخبار کے گاہک دلا دیں۔ اُس نے فوراً کہا کہ اُس کے جوئے کے اڈے پر روزانہ پانچ اخباریں بھیج دیا کروں۔ اسی طرح منشیات کے ایک اور اڈے کے مالک نے بھی تین اخباروں کی ادائیگی قبول کر لی۔

    دوسری طرف تھانے میں جب ماہانہ بل لینے گیا تو اخبار کا کل بل اسی روپے بنتا تھا، مگر بڑے منشی نے مجھے چار سو روپے دیتے ہوئے کہا:

    ‘اخبار تو پڑھتے نہیں، تمہاری خاطر لیتے ہیں۔’

    میں نے دیکھا کہ بہت سے اخباری نمائندوں کے پولیس، منشیات فروشوں اور شراب فروشوں سے قریبی تعلقات تھے اور اُن کا گزر بسر انہی روابط پر تھا۔

    میری اخباری نمائندگی کا دورانیہ صرف دس ماہ رہا۔ اگست 1981 میں مجھے مارشل لا حکومت اور فوج کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں مارشل لا ریگولیشن 13 اور 33 کے تحت گرفتار کرکے لاڑکانہ جیل بھیج دیا گیا۔

    ایک سال مقدمہ چلنے کے بعد سمری ملٹری کورٹ نے مجھے اور میرے ساتھی توصیف ملک کو ایک سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی اور لانڈھی جیل کراچی منتقل کر دیا گیا۔ 1983 میں رہائی کے بعد میں صحافت کے بجائے عملی سیاست میں آ گیا، لیکن سیاست میں بھی خود کو ‘مس فٹ’ ہی پایا۔

    میں نے اپنے کئی صحافی دوستوں کو دیکھا، جو ابتدا میں ٹوٹی پھوٹی موٹرسائیکل اور معمولی لباس کے مالک ہوتے تھے، مگر وقت کے ساتھ خوشحال ہو گئے۔

    اب الیکٹرانک میڈیا آنے کے بعد صحافت ایک باقاعدہ مافیا کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں مقامی رپورٹرز سے لے کر میڈیا ہاؤسز کے مالکان تک شامل ہیں۔ لینڈ گریبنگ، ٹھیکے، خبروں کا انتظام، جرائم پیشہ افراد اور پولیس کے درمیان معاملات طے کرانا، پریس کلبوں کے نام پر گرانٹس، وزرا اور مشیروں کی تشہیر، حتیٰ کہ شراب، شباب اور ڈانس پارٹیوں تک میں بعض صحافیوں کا کردار دیکھا جا سکتا ہے۔

    جتنی جس کی صلاحیت ہے، وہ اتنا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اب تو کئی صحافی رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں بھی داخل ہو چکے ہیں۔ بعض اضلاع میں ایس ایچ اوز کی تعیناتیاں بھی صحافیوں کی مرضی سے ہوتی ہیں۔

    جیل میں میری ملاقات حیدرآباد کے معروف شخصیت داؤد خان پٹھان سے ہوئی۔ رہائی کے بعد جب میں ان سے ملنے گیا تو حیران رہ گیا کہ ایک ہی عمارت میں ایک طرف جوا، چرس، افیون اور شراب کے اڈے چل رہے تھے، جبکہ دوسری طرف روزنامہ نوائے آسمان کا دفتر قائم تھا۔

    میں نے حیرت سے پوچھا: ‘یہ سب تو سمجھ آتا ہے، مگر اخبار کا دفتر؟’

    داؤد خان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ‘اخبار کھول کر میں اخبار کا مالک بھی بن گیا، بے روزگار صحافیوں کو روزگار بھی دیا، اور یہی صحافی میرے مخبر بھی ہیں۔ تھانوں سے لے کر ڈی آئی جی آفس تک کی خبریں مجھے یہی دیتے ہیں۔’

    میری اس مختصر تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ تمام صحافی یا میڈیا سے وابستہ افراد کرپٹ ہیں۔ آج بھی کئی صحافی ایسے ہیں جو اپنے پیشے سے مخلص، بااصول اور دیانت دار ہیں، اور ساری زندگی مشکلات میں گزار دیتے ہیں۔

    لیکن جب میڈیا مالکان اپنے نمائندوں سے مفت یا انتہائی کم معاوضے پر کام لیں گے، تو رپورٹرز اور نمائندے آخر اپنا نظام کیسے چلائیں گے؟

    فی الحال اجازت، پھر کسی اور نشست میں بات ہوگی۔

  • پاکستانی میڈیا کا بحران: برطرفیاں، تنخواہوں میں تاخیر اور پیکا کا بڑھتا ہوا دباؤ

    پاکستانی میڈیا کا بحران: برطرفیاں، تنخواہوں میں تاخیر اور پیکا کا بڑھتا ہوا دباؤ

    پاکستان میں الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا اس وقت ایک گہرے بحران سے گزر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمین کو برطرف کیا جا رہا ہے اور متعدد ادارے اپنے آپریشنز محدود یا بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال کی نمایاں مثال ڈیجیٹل پلیٹ فارم نکتہ (Nukta) ہے، جسے معروف ٹی وی اینکر کامران خان کی سربراہی میں بڑے پیمانے پر تشہیر کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ تاہم، قلیل عرصے میں ہی اس ادارے نے 37 صحافیوں اور دیگر عملے کو برطرف کر دیا اور بعد ازاں اسے ایک اور ٹی وی چینل انتظامیہ اے آر وائی کو فروخت کر دیا گیا۔ اس پیش رفت نے میڈیا انڈسٹری میں عدم استحکام اور مستقبل کے حوالے سے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

    اسی طرح ملک کے بڑے میڈیا ادارے ڈان کے اردو ڈیجیٹل پلیٹ فارم DawnNews.tv کو بھی یکم دسمبر 2025 کو شدید مالی دباؤ اور اشتہارات میں نمایاں کمی کے باعث بند کر دیا گیا۔ اس بندش کے نتیجے میں کم از کم 12 صحافی بے روزگار ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی ادارے کی اردو ڈیجیٹل صحافت کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہو گیا۔ یہ واقعات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا ادارے بدلتے معاشی حالات اور ڈیجیٹل تبدیلی کے دباؤ کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔حال ہی میں  متعدد ٹی وی نیوز چینل، جیسا کہ آج نیوز، اب تک، نیوز ون اور جی ٹی وی نے کئی اینکرز، رپورٹرز، کیمرہ مین اور نیوز روم اسٹاف کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے نکال دیا گیا۔  

    کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان، جنرل سیکرٹری سردار لیاقت کشمیری اور مجلس عاملہ  ٹی وی چینلز میں ہونے والی ملک گیر برطرفیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں کے یوجے کا کہنا ہے آج ٹی وی نے کراچی سمیت ملک بھر میں بڑی تعداد میں اینکرز ،کیمرہ مینوں، نیوز روم اور لاہور اسلام آباد ، کوئٹہ بیوروز میں کام کرنے والے لوگوں کو بڑی تعداد میں بغیر کسی نوٹس کے غیرقانونی طور پر برطرف کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں موجود 8 ڈی ایس این جیز میں سے پانچ کو بند کردیا گیا ہے۔

    ایک اور بیان میں کے یو جے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جی ٹی وی نے کراچی اور لاہور سے رپورٹرز، نیوز ڈیسک پر کام کرنے والے صحافیوں، کیمرہ مین، ڈرائیور، آفس بوائے سمیت پندرہ سے زائد افراد کو اچانک بغیر کسی جواز کے نوکری سے فارغ کیا  ہے۔ کے یوجے نے جی ٹی وی میں ہونے والی غیر قانونی برطرفیوں کو صحافتی اقدار اور ملازمین کے حقوق کی کھلی ورزی قراردیا ہے۔

    کے یوجے نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور ایسے واقعات کا نوٹس لیں تاکہ صحافتی برادری کو عدم تحفظ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    ٹی وی انتظامیہ کی جانب سے اشتہارات میں کمی اور ناظرین کے ڈیجیٹل میڈیا کی طرف رجحان کو ان ملازمین کی چھانٹی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

    تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی صحافیوں کو مہینوں تک اپنی تنخواہیں نہیں ملتیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ عمل نہ صرف لیبر قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے صحافیوں کا حوصلہ بھی ٹوٹتا ہے، اور بہت سے تجربہ کار افراد اس پیشے کو چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

    پیکا قانون کا بے دریغ استعمال

    ریاستی اداروں کی جانب سے نیوز ڈیسک کے امور میں بےجا مداخلت ایک عام شکایت رہی ہے، مگر اب یہ سرکاری اداری من پسند خبر کے نشر نا ہونے یا حکومتی اداروں کے خلاف جاری کسی خبر کا بہانہ بناکر صحافیوں کے خلاف پیکا قانون کے تحت کیس درج کررہے ہیں اور صحافیوں کو گرفتار کرکے کئی ہفتوں تک جیل میں رکھ کر تشدد کیا جاتا ہے۔

    مختلف رپورٹس کے مطابق صرف 2025 کے چند مہینوں میں ہی درجنوں صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صحافت پر قانونی گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔

    اس کی ایک نمایاں مثال کراچی کے صحافی محمد اسلم شاہ کی گرفتاری ہے، جنہیں پیکا قانون کے تحت حراست میں لیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق 29 دسمبر 2025 کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ایک افسر کی شکایت پر ان کے خلاف پیکا کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس میں سوشل میڈیا پر مبینہ ہتک عزت کے الزامات شامل تھے۔ بعد ازاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے 6 اور 7 جنوری 2026 کے درمیان انہیں گرفتار کر لیا۔

    مقدمے میں پیکا کی دفعات 20 اور 24 شامل کی گئیں، جو عزت کے خلاف جرائم اور سائبر اسٹاکنگ سے متعلق ہیں۔

    گرفتاری کے بعد ہیومین رائیٹس کمیشن آف پاکستان  اور کراچی پریس کلب سمیت مختلف صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے آزادی صحافت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ تنظیموں کا کہنا تھا کہ پیکا قانون کا استعمال صحافیوں کو دبانے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

    ذرائع کے مطابق اسلم شاہ کو ایک ہفتے سے زائد عرصہ حراست میں رکھا گیا جبکہ وکلا کے مطابق ان کی درخواست ضمانت کی سماعت میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی، جس کی وجہ پراسیکیوٹر اور کیس ریکارڈ کی عدم دستیابی بتائی گئی۔

    اسی طرح چند دن پہلے دادو میں بھی صحافیوں اور سوشل میڈیا کے صارفین کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ ان پر الزام ہے کہ ام رباب کیس کے فیصلے کی مبینہ غلط رپورٹنگ کی گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی رہنمائوں کے خلاف ام رباب کے والد اور دیگر رشتیداران کے قتل کا مقدمہ زیرسماعت تھا۔ عدالتی فیصلے میں تمام ملزمان کو بری کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

    مقامی صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کے خلاف پیکا قانوں کے تحت درج مقدمات کو بھی کئی حلقوں نے آزادی اظہار پر قدغن قرار دیا ہے اور کہا کہ ایسے مقدمات اظہار کی آزادی کو دبانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

    مارچ  میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں پوری دنیا میں تیل کے بحران نے جنم لیا۔ پاکستان بھی متاثرین میں شامل ہے۔ پاکستان نے بڑے پیمانے پر تیل کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ کردیا۔

    کراچی کے صحافی نادر خان کے خلاف مبینہ طور پر ایل پی جی اسمگلنگ سے متعلق رپورٹ نشر کرنے کے فوراً بعد نیشنل سائبر کرائیم انویسٹی گیشن ایجنسی نے رپورٹر کے خلاف تیزی سے مقدمہ درج کر لیا، جس پر صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صحافی نے کراچی پورٹ پر مبینہ ایل پی جی اسمگلنگ سے متعلق خبر شائع کی، جس کے صرف چند منٹ بعد ہی ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ ہیومین رائیٹس کمیشن آف پاکستان سمیت مختلف اداروں نے اس اقدام کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بغیر مکمل تحقیقات کے کارروائی تشویشناک ہے اور اس سے صحافیوں کو ہراساں کرنے کا تاثر ملتا ہے۔

    پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک مشکل پیشہ رہا ہے، لیکن موجودہ حالات میں خطرات کی نوعیت بدل چکی ہے۔ پہلے صحافیوں کو جسمانی خطرات کا سامنا تھا، اب معاشی عدم استحکام اور قانونی دباؤ نے ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے، جہاں خود سنسرشپ بڑھ رہی ہے۔

    اس بحران سے نکلنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت اور میڈیا مالکان کو چاہیے کہ صحافیوں کو بروقت تنخواہیں ادا کریں، ملازمت کا تحفظ یقینی بنائیں اور ایسے قوانین پر نظرثانی کریں جو آزادی صحافت کو متاثر کرتے ہیں۔

    اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان نہ صرف اپنے صحافیوں سے محروم ہو جائے گا بلکہ میڈیا کی ساکھ اور آزادی بھی شدید متاثر ہوگی، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نہایت ضروری ستون ہیں۔