پی آئی اے طیارہ حادثے میں بچ جانے والے ظفر مسعود کی کتاب ‘سیٹ ‘1C ، موت کے قریب ایک غیر معمولی تجربے سے ہم کیا سکھیں؟

ظفر مسعود کو بے ہوش ہونے سے پہلے جو آخری بات یاد ہے وہ یہ تھی کہ طیارے کے نیچے جانے انہوں نے اپنے اندر سے ایک آواز سنی: ‘ابھی تمہارا وقت نہیں آیا۔’

بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود پاکستان انٹرنیشنل ایئلائینز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 803 کے حادثے میں بچ جانے والے دو افراد میں سے ایک ہیں، یہ طیارہ 22 مئی 2020 کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ طیارے میں 99 مسافر اور عملے کے آٹھ ارکان سوار تھے۔

طیارہ حادثے میں صرف دو افراد زندہ بچے تھے۔ زندہ بچ جانے والے زبیر کے کچھ تجربات بھی بیان کرتے ہیں، جو ملبے میں ایک خلا دیکھ کر جلتے ہوئے طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے اسی راستے سے اتر کر طیارے کے ایک پر تک رسائی حاصل کی اور بالآخر کراچی کی ماڈل کالونی میں ایک گھر کی چھت پر جا گرے

زندہ بچنے والے دوسرے ظفر مسعود تھے، جن کی کہانی مختلف اور متاثر کن ہے۔

طیارہ حادثے کے پانچ سال بعد مئی 2025 کو انہوں حادثے کی روداد پر کتاب چھپی، ‘سیٹ 1C’۔ اس کتاب میں انہوں نے اس سانحے سے پہلے اور بعد کے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔

وہ حادثے کے فوراً بعد بے ہوش ہو گئے تھے اور انہیں زمین سے طیارے کے ابتدائی ٹکرانے کے بعد کے صرف تقریباً 30 سیکنڈ یاد ہیں۔ درحقیقت، جیسا کہ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں، طیارہ حتمی تباہی سے پہلے کئی بار زمین سے ٹکرایا اور پھر آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

ظفر مسعود، جو معروف فلم اور ٹی وی ایکٹر منور سعید کے اکلوتے بیٹے ہیں، انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔ وہ غیر شادی شدہ ہیں اور بینک آف پنجاب میں 16 اپریل 2020 کو صدر اور سی ای او بننے سے پہلے کئی قومی اور بین الاقوامی کاروباری اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب عالمی وبا کرونا (کورونا) کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں تقریباً دو مہینوں تک چلنے والے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے چند روز بعد پیش آیا۔ اس دن رمضان المبارک کا آکری جمع تھا، عید قریب تھی، لوگ گھروں کو لوٹنے کے بے تاب تھے۔

‘سیٹ 1C’ مختلف موضوعات پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر کتاب کے ایک باب حادثے کے مختلف پہلوؤں سے جڑا ہوا ہے اور بین الاقوامی حوالوں سے تقویت پاتا ہے۔

مثال کے طور پر ‘Arrogance’ کے عنوان سے باب میں وہ پائلٹ کے مبینہ حد سے زیادہ متکبر اور مغرور ہونے اور کراچی ایئرپورٹ کے کنٹرول ٹاور کے عملے کے رویے پر روشنی ڈالتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں: ‘پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے خود ہی لینڈنگ رن وے کو تبدیل کر لیا۔ مزید یہ کہ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ کنٹرول ٹاور کا کچھ عملہ جمعۃ الوداع کی نماز ادا کرنے کے لیے اپنی ڈیوٹی چھوڑ گیا تھا کیونکہ وہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ تھا۔’ وہ پاکستانی معاشرے میں تکبر کے وسیع رجحانات پر بھی تفصیل سے لکھتے ہیں اور عالمی مثالوں سے موازنہ کرتے ہیں۔

کتبا کے ایک اور باب ‘Goodness’ میں وہ عام پاکستانیوں کی ہمدردی اور انسان دوستی کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح مقامی افراد نے سرکاری امدادی ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے ہی فوری طور پر انہیں اور زبیر کو بچانے کی کوشش کی۔

چونکہ جلتا ہوا طیارہ ماڈل کالوںی کے گھروں کی چھتوں اور تنگ گلیوں میں گرا تھا، اس لیے جلتے ہوئے ملبے تک پہنچنا انتہائی مشکل تھا۔ زبیر، جو حادثے کے دوران ہوش میں رہے، اپنی جدوجہد بیان کرتے ہیں کہ کس طرح وہ جلتے ہوئے ڈھانچے سے نکل کر ایمبولینس تک پہنچے۔

زبیر کی داستان نہایت دلچسپ ہے، طیارے کے پر سے ایک گھر کی چھت پر گرنے کے بعد وہ گھر کی ایک خاتون کے پیچھے پیچھے بھاگتے ہوئے نیچے گلی میں آئے، اور پاس ہی گلی میں ایک سبزی فروش کے پاس گئے اور پانی مانگا۔

سبزی فروش نے ابتدا میں اس کو نظر انداز کیا، کیوں کہ حادثے کی وجہ سے اس کی توجہ کاروبار سے ہٹ گئی تھی، مگر بعد میں اس نے پینے کے لیےپانی دے دیا۔

دوسری جانب ظفر مسعود کی جان بچنا کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ وہ لکھتے ہیں کہ عینی شاہدین کے مطابق ان کی نشست سیدھی ایک عمارت کی تیسری منزل کی چھت پر جا گری۔ ٹکراؤ کا زاویہ ایسا تھا کہ ان کی چوٹوں کی شدت کم ہو گئی۔ پھر وہ نشست چھت سے پھسل کر نیچے کھڑی ایک گاڑی کے بونٹ پر آ گری، جس نے ان کے گرنے کے اثر کو مزید کم کر دیا۔

اگر وہ سخت سڑک پر گرتے تو شاید اس کو شدید چوٹیں آتیں۔ اس وقت تک طیارے کا باقی حصہ گلی میں مزید آگے جا کر تباہ ہو چکا تھا۔

میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ باب ‘Dues’ تھا، جس میں وہ بے ہوش ہونے سے پہلے اپنے موت کے قریب تجربے (Near Death Experience – NDE) کو بیان کرتے ہیں۔ یہ مختصر 30 سیکنڈ کا تجربہ ان واقعات سے بہت مشابہ ہے جو ماضی کی تحقیقات اور دیگر زندہ بچ جانے والوں کی کہانیوں میں بیان کیے گئے ہیں۔

یہ 30 سیکنڈ ان کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ثابت ہوئے۔ اس دوران ان کو ایک ایسا نفسیاتی تجربہ ہوا جو ایسے افراد کو پیش آتا ہے جو موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں یا عارضی طور پر طبی

لحاظ سے مردہ قرار دیے جاتے ہیں۔ ایسے تجربات میں اکثر جسم سے باہر نکلنے کا احساس، کسی سرنگ نماں غار سے گزرنے کا تصور، تیز روشنی کا سامنا یا گہری طمانیت کا احساس شامل ہوتا ہے۔

وہ “Dues” کے باب میں ان تجربات کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ دوسری طرف زبیر کو ایسا کوئی تجربہ نہیں ہوا کیونکہ وہ پورے وقت ہوش میں رہے۔

ایک متجسس قاری کے طور پر میں نے مختلف مصنفین کے این ڈی ای تجربات کا مطالعہ کیا ہوا تھا، جن میں اکثر ایک جیسا سکون محسوس کرتے ہیں جو موت کے قریب ہونے کے باوجودبیان کیا گیا ہے۔ عام طور پر تاثر ہوتا ہے کہ موت ایک تکلیف دہ عمل ہے۔

چند برس پہلے کراچی میں میرے ایک دوست آصف علی آزاد نے بھی ایسا ہی تجربہ بیان کیا تھا جب وہ تقریباً ڈوب گئے تھے مگر خوش قسمتی سے بچا لیے گئے۔

ایک اور تفصیلی اور متاثر کن بیان ہانگ کانگ میں مقیم سندھی خاتون انیتا مورجانی کا ہے، جو اپنی ایک انگریزی کتاب Dying to Be Me: My Journey from Cancer, to Near Death, to True Healing اور بے شمال یوٹیوب ویڈیوز میں اپنا تجربہ بیان کرتی ہیں۔

خاتون انیتا مورجانی اس وقت کینسر کے آخری اسٹیج پر تھیں اور بیان کرتی ہیں کہ ڈاکٹرز نے انہوں مردہ قرار دے دیا تھا۔ موت کے قریب پہنچنے پر انہیں کسی آواز نے واپس جانے کو کہا کیونکہ ان کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔

ظفر مسعود لکھتے ہیں کہ بے ہوش ہونے سے پہلے انہوں نے ایک اندرونی آواز سنی جو انہیں یقین دلا رہی تھی کہ وہ زندہ بچ جائیں گے۔ وہ لکھتے ہیں:

’میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ تجربہ اتنا ہی گہرا تھا جتنا مجھ سے پہلے لوگوں نے بیان کیا ہے، اگرچہ شاید اتنا ڈرامائی نہیں تھا۔ ایک غیر متزلزل سکون تھا، ایسا ٹھہراؤ جو میرے تمام خیالات اور وجود پر حاوی تھا۔

‘میں طیارے کو گرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور اپنے اردگرد خوف محسوس کر رہا تھا، مگر وہ خوف میرے اندر نہیں تھا۔

‘یہ میرے خیالات کا مفلوج ہونا نہیں تھا؛ میں خود کو صورتحال سے الگ محسوس نہیں کر رہا تھا، مگر میرے خیالات میں نہ گھبراہٹ تھی نہ خوف۔ بلکہ ان میں وہ گہرا سکون تھا جس کا ذکر کئی زندہ بچ جانے والے کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق اس وقت انہوں نے این ڈی ای کے بارے میں کچھ نہیں پڑھا تھا، اس لیے اپنے احساسات کو کسی موجودہ معلومات کے ساتھ جوڑ نہیں سکتا تھا۔ ’میں صرف یہ جانتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘

وہ عالمی سطح پر لکھی گئی این ڈی ای تحقیق کا حوالہ بھی دیتے ہیں، خاص طور پر ماہر ارضیات البرٹ ہائم کا، جنہیں 1871 میں سوئٹزرلینڈ میں ایسا ہی تجربہ ہوا تھا۔ فروری 1892 میں ہائم نے زیورخ میں سوئس الپائن کلب میں ایسے کئی واقعات پیش کیے۔

تاہم ظفر مسعود انیتا مورجانی کے تجربات سے ناواقف ہیں۔ کراچی میں گذشتہ ادب فیسٹیول 2025 کے بعد میں نے ان سے این ڈی ای کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مختصراً اس کی تصدیق کی۔ وہ کتاب میں لکھتے ہیں: ’ایک بات جو نمایاں تھی، وہ یہ کہ تحقیق میں بیان کردہ مماثلتوں کے علاوہ، لوگوں کی ذمہ داریاں کس طرح ان کے ذہن میں نمایاں ہو جاتی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بہت بڑے خیالات سے بھی دوچار ہوں۔

‘مثال کے طور پر ہائم کو ایک لیکچر کی فکر تھی جو انہیں اگلے دن دینا تھا۔ ڈیڑھ صدی بعد ایک اور طیارہ حادثے کے زندہ بچ جانے والے، رِک الیاس نے بتایا کہ ان کے آخری خیالات اپنی بیوی اور خاندان کے بارے میں تھے اور زندگی سے منفی توانائی ختم کرنے کی خواہش کے بارے میں تھے۔‘

ظفر مسعود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان کو اپنی ذمہ داریاں وقت پر پوری کردینی چاہئیں کیونکہ موت غیر متوقع پر آسکتی ہے اور وہ پچھتاوے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی۔ ’بغیر کسی پچھتاوے کے مرنا‘، ان کے اس چیپٹر کا خلاصہ ہے۔ ان کے مطابق ’کوئی پچھتاوا نہیں‘ زندگی کے فیصلوں میں رہنما اصول ہونا چاہیے تاکہ ہم بہتر انسان بن سکیں۔

’یہ انسانی فطرت کی عکاسی ہے کہ مختلف ادوار اور حالات کے باوجود، زندہ بچ جانے والے افراد اپنی ذمہ داریوں کو یاد کرتے ہیں، چاہے وہ معمولی ہوں یا اہم۔ یہ میرے تجربے کی زیادہ درست عکاسی تھی بہ نسبت ان خوبصورت بادلوں اور موسیقی کے جن کا کچھ لوگ ان ڈی اے کے دوران ذکر کرتے ہیں۔‘

آخری سے پہلے والے باب ‘Legacy’میں وہ حادثے سے پہلے اور بعد اپنی فلاحی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘میں ہر شخص کو ترغیب دینا چاہتا ہوں، چاہے وہ کتنا ہی کم عمر یا کم تجربہ کار کیوں نہ ہو، کہ وہ اپنے بچپن کے خوابوں کو ہر قیمت پر پورا کرے، اس بات پر غور کرے کہ وہ دنیا میں کیا چھوڑ کر جانا چاہتا ہے، اور ایسی وراثت کو بنانے کی کوشش کرے۔’

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ‘ظفر مسعود فاؤنڈیشن’ قائم کی ہے، جس کا بنیادی مقصد ہر قسم کی ٹرانسپورٹ یا سفر، ہوائی سفر، سڑک، ریل اور سمندری سفر میں مسافروں کی حفاظت کو فروغ دینا ہے۔