محمد انور کے پاس آخری چند گھنٹے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی دکان کے سارے شلوار کُرتے فروخت ہو جائیں اور وہ رات گئے گھر پہنچ کر عید کی نماز کی تیاری کرے۔
کراچی کے مرکزی بازاروں میں شمار ہونے والی کوآپریٹو مارکیٹ، جو کہ صدر میں واقع ہے، یہاں محمد انور کئی سالوں سے مردانہ شلوار قمیض فروخت کر رہا ہے مگر اس بار اسے مال توقع سے کم فروخت ہونے پر کچھ مایوسی ہے۔
عید الفطر صرف نماز کی ادائیگی کا تہوار نہیں بلکہ پورے مہینے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے روزے رکھنے اور عبادت گزاری کے بعد شکر گزاری اور خوشیاں بانٹنے کا بھی دن ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی رمضان المبارک کے مہینے کے دوران بازار سج جاتے ہیں، شہر کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں۔ مرد اور بچے تو کپڑے اور جوتے ہی خریدتے ہیں مگر خواتین کے لیے چوڑیوں اور مہندی کا انتخاب بھی اہم ہوتا ہے۔
دو روز قبل ہی یہ واضح ہو گیا تھا کہ پاکستان میں عید الفطر ہفتہ 21 مارچ کو منائی جائے گی، اس لیے جمعہ کو چاند رات ہونے کے پیش نظر جس ہجوم کی توقع تھی، محمد انور کے مطابق وہ ہجوم بازار میں نظر نہیں آیا۔
محمد انور کا کہنا ہے کہ اس سال رمضان میں چالیس سے پچاس فیصد تک کاروبار کم ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے والوں کا تعلق عموماً مڈل کلاس گھرانوں سے ہوتا ہے جو کہ مہنگائی کا شکوہ کرتے نظر آئے۔
صدر کے مصروف ترین علاقے میں بوہری بازار، کریم سینٹر، زینب مارکیٹ اور دیگر بازاروں میں کاروبار کرنے والے تاجروں نے بھی ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس دفعہ کاروبار اور منافع نہ صرف توقع سے کم رہا بلکہ گزشتہ برسوں کے لحاظ سے بھی مایوس کن تھا۔
تاجروں کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے گھریلو بجٹ کو بہت متاثر کیا ہے، کئی خریدار کپڑے پسند کرنے کے بعد قیمت سن کر دوسری دکان کا رخ کر لیتے ہیں۔
کریم سینٹر میں خریداری کے لیے آئے ہوئے چوبیس سالہ محمد صالح نے بتایا کہ وہ دو گھنٹے سے ایک شلوار قمیض اور ایک جینز کی پینٹ خریدنے کے لیے کئی دکانوں پر گئے ہیں، مگر قیمت ان کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے، اس لیے انہوں نے صرف شلوار قمیض خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں تقریباً 6 سے 7 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ 2023 کی بلند ترین سطح سے کچھ کمی کے باوجود گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔
ایران جنگ کی وجہ سے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ بیشتر اشیا کی قیمتیں بڑھتی ہوئی نظر آئی ہیں۔ یہ اثر رمضان کے پورے مہینے کے دوران بازاروں میں نظر آیا ہے۔
بیشتر بازاروں، بالخصوص صدر، طارق روڈ اور حیدری جیسے علاقوں میں روایتی گہما گہمی اور رش معمول سے کم تھا۔ ان بازاروں میں اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کی اکثریت خریداری کے لیے رخ کرتی ہے۔
دوسری جانب لوئر مڈل کلاس کے بازار، لیاقت آباد اور دیگر علاقوں میں گہما گہمی معمول کے مطابق دیکھنے میں آئی۔ یہاں کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کاروبار پر فرق تو پڑا ہے مگر بہت زیادہ نہیں۔
سلیم نامی دکاندار کا کہنا تھا کہ یہاں خریداری کے لیے آنے والوں کا تعلق قریبی علاقوں سے ہوتا ہے جو کم قیمت چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بازار کم آمدنی والوں کے لیے اہم ہے جو برانڈز کی تلاش میں نہیں ہوتے، جبکہ طارق روڈ وغیرہ جانے والے اپنے لیے معیاری اور برانڈز کے کپڑے اور دیگر اشیا تلاش رہے ہیں۔
طارق روڈ سے خریداری کو ترجیح دینے والی ایک خاتون صارف نے شکوہ کیا کہ جو سوٹ 4000 روپے کا مل جاتا تھا، اب 7 سے 8 ہزار روپے کا مل رہا ہے۔
اسی طرح گھریلو اشیا، کپڑوں اور لوازمات کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے لیے خریداری کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
متعدد خریداروں کا کہنا تھا کہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان کی قوت خرید کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث انہیں عید کے اخراجات میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔
تاجر تنظیموں نے بھی کاروباری حالات پر افسردگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروبار چالیس سے پچاس فیصد متاثر ہوا ہے، تاہم عید الفطر کے بعد حتمی اور مجموعی جائزہ سامنے آ سکے گا۔

