صرف تین حروف کا لفظ، عید۔ مگر اس کے اندر صدیوں کی روایت، خوشی اور روحانیت سمائی ہوئی ہے۔ عربی زبان میں عید کا مطلب ہے ‘لوٹ کر آنے والی خوشی’، یعنی ایسا دن جو ہر سال امید، شکر اور مسرت کے ساتھ واپس آتا ہے۔
عید الفطر دراصل رمضان کے اختتام پر شکرگزاری کا دن ہے۔ ایک مہینے کی عبادت، صبر اور ضبط کے بعد، مسلمان اس دن اجتماعی طور پر اللہ کے حضور جھکتے ہیں۔ دنیا بھر میں یکم شوال کی صبح سورج طلوع ہوتے ہی کروڑوں مسلمان مساجد اور عید گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر رنگ، نسل اور زبان کے فرق مٹ جاتے ہیں اور ایک ہی آواز بلند ہوتی ہے، اللہ اکبر۔
دنیا کے سب سے بڑے اجتماعات میں مسجد الحرام، مکہ سرفہرست ہے، جہاں عید کے موقع پر لاکھوں افراد ایک ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ حج کے دنوں میں یہاں کی گنجائش بیس لاکھ سے زائد تک پہنچتی ہے، اور عید کے اجتماعات بھی اپنی وسعت میں غیر معمولی ہوتے ہیں۔ مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں بھی ہر سال لاکھوں مسلمان نماز عید ادا کرتے ہیں، جہاں کی فضا اپنی روحانیت اور سکون کے لیے جانی جاتی ہے۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ بنگلہ دیش کے شہر کشورگنج کی تاریخی شولاکیہ عید گاہ برصغیر کے بڑے اجتماعات میں شامل ہے، جہاں انیسویں صدی سے لاکھوں افراد کھلے میدان میں نماز ادا کرتے آ رہے ہیں۔ اسی طرح یروشلم کی مسجد اقصیٰ میں عید کا اجتماع محض عبادت نہیں بلکہ استقامت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے، جہاں ہزاروں مسلمان مختلف حالات کے باوجود جمع ہوتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈونیشیا، جو دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک ہے، وہاں عید کے اجتماعات اکثر کھلے میدانوں اور سڑکوں پر منعقد ہوتے ہیں، جس سے عید ایک عوامی اور اجتماعی تہوار کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
برصغیر میں بھی عید کی اپنی ایک الگ پہچان ہے۔ اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجد، لاہور کی بادشاہی مسجد اور دہلی کی جامع مسجد جیسے مقامات صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ اجتماعی یادوں اور روایتوں کے مراکز ہیں۔
یہ تمام مناظر ایک سادہ حقیقت بیان کرتے ہیں۔ عید صرف ایک دن نہیں، بلکہ ایک احساس ہے، جو ہر سال لوٹتا ہے اور دلوں کو دوبارہ جوڑ دیتا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل
جہاں کہانیاں صرف دیکھی نہیں جاتیں، بلکہ محسوس بھی کی جاتی ہیں۔



