تیل کے بعد پانی: مشرقِ وسطیٰ میں نئی واٹر وار کا آغاز

تیل

دنیا طویل عرصے تک یہ سمجھتی رہی کہ جنگوں کی اصل وجہ تیل کے کنوؤں پر قبضہ یا زمینی سرحدوں کے تنازعات ہوتے ہیں۔ مگر مشرقِ وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے نئے تنازعات ایک مختلف حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اب صرف تیل کی ریفائنریاں ہی نہیں بلکہ پینے کے میٹھے پانی کے ذرائع بھی جنگی خطرات کی زد میں آ رہے ہیں۔

جب دبئی کے جبل علی ڈی سیلینیشن کمپلیکس جیسے اہم منصوبے جنگی خطرات کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو یہ صرف ایک عمارت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس انسانی نظام کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے جس پر کروڑوں لوگوں کی زندگی کا انحصار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں پانی تیل سے بھی زیادہ قیمتی اور حساس وسیلہ بن چکا ہے۔

فروری 2026 کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات، قدرتی گیس کے پلانٹس، ہوا بازی اور سیاحت کے شعبے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایسے حملے نہ صرف خلیجی ممالک کی معیشت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان کی محفوظ اور مستحکم ریاستوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیج فارس کے دیگر ممالک اپنی ریگستانی زمینوں کے نیچے موجود تیل و گیس کو صرف آمدنی کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ اسی توانائی کی مدد سے سمندری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بھی بناتے ہیں۔

خلیجی خطے میں چار سو سے زائد ڈی سیلینیشن پلانٹس کام کر رہے ہیں جو سمندر کے نمکین پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان منصوبوں کے بغیر کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں بڑے پیمانے پر شہری زندگی کا برقرار رہنا انتہائی مشکل ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اب صرف پیٹرو اسٹیٹس نہیں بلکہ سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے والی بڑی عالمی طاقتیں بن چکی ہیں۔

دنیا کے دس بڑے ڈی سیلینیشن پلانٹس میں سے آٹھ جزیرہ نما عرب میں واقع ہیں جبکہ باقی اسرائیل میں ہیں۔ عرب ممالک مجموعی طور پر عالمی ڈی سیلینیشن صلاحیت کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ رکھتے ہیں اور خلیج کے ساحلی علاقوں میں واقع پلانٹس دنیا کے تیس فیصد سے زیادہ میٹھے پانی کی مصنوعی پیداوار فراہم کرتے ہیں۔ اس پانی پر خطے کے تقریباً دس کروڑ لوگوں کا انحصار ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پانی کے نظام ہمیشہ جنگی خطرات کا شکار رہے ہیں۔ خلیج جنگ کے دوران تیل کے پھیلاؤ نے سمندری ماحول اور پانی کی فراہمی کو شدید متاثر کیا تھا۔ بعد کے برسوں میں یمن کے حوثی حملوں نے سعودی عرب کے چند واٹر پلانٹس کو بھی نشانہ بنایا۔ اگرچہ اب تک بڑے پیمانے پر پانی کے انفراسٹرکچر کو تباہ نہیں کیا گیا، مگر ماہرین کے مطابق یہ تنصیبات جنگی حکمت عملی میں اہم ہدف بن سکتی ہیں۔

پانی اور توانائی کی تاریخ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ڈی سیلینیشن پلانٹس کو چلانے کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے۔ اگر توانائی کے ذرائع یا بجلی کے نظام متاثر ہوں تو پانی کی پیداوار بھی رک سکتی ہے۔ اسی لیے ماہرین اب اس بحران کو پانی، توانائی اور سکیورٹی کے باہم جڑے ہوئے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

آج کی جنگ صرف زمین پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ جدید واٹر پلانٹس صنعتی کنٹرول سسٹمز اور اسکاڈا نیٹ ورکس کے ذریعے چلتے ہیں جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑے ہوتے ہیں۔ سائبر حملوں کے ذریعے پمپ بند کیے جا سکتے ہیں، والوز کھولے جا سکتے ہیں یا سسٹم کو غلط ڈیٹا دکھایا جا سکتا ہے۔ ایک چھوٹا سا سافٹ ویئر حملہ لاکھوں لوگوں کی پانی کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہری آبادی کی بنیادی ضروریات جیسے پانی اور خوراک کو نشانہ بنانا جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم جدید تنازعات میں اس اصول کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اگر پانی کے بڑے منصوبے متاثر ہوئے تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ افریقہ میں دریائے نیل کے ڈیم پر مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے تنازعات ہوں یا جنوبی ایشیا میں دریاؤں کی تقسیم کے مسائل، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل کی کشیدگیاں پانی کے گرد گھوم سکتی ہیں۔

تاریخ میں جنگوں کے مقاصد بدلتے رہے ہیں، مگر پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا انسانیت کے لیے سب سے خطرناک راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ رجحان بڑھا تو آنے والے برسوں میں جنگیں صرف زمین یا تیل کے لیے نہیں بلکہ پانی کے لیے بھی لڑی جائیں گی۔ اور اگر پانی کی جنگ شروع ہو گئی تو اس کی قیمت صرف ایک خطہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

 

اسی بارے میں: