Tag: تیل

  • سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز کر گئی

    سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 107 ڈالر سے تجاوز کر گئی

    سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کی بندش اور ملک میں تیل کی تنصیبات پر مزید حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

    منگل کو عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 103 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 2.37 فیصد یعنی 2.50 ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 108.18 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 2.43 فیصد اضافے کے بعد 103.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

    رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم تیل پائپ لائن کا بند ہونا اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تازہ حملے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی مارکیٹ میں یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والی رکاوٹ جلد ختم نہیں ہوگی اور بنیادی تنصیبات کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

    سعودی عرب کی ایس- ویسٹ پائپ لائن انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ خلیج میں تیل کی برآمدات کو آبنائے ہرمز سے بچتے ہوئے بحیرہ احمر کی جانب منتقل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ آبنائے ہرمز اس وقت خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔

    رائٹرز کے مطابق جمع کو سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں یہ پائپ لائن متاثر ہوئی تھی۔ سعودی حکام نے ان حملوں کی ذمہ داری ایران نواز عراقی جنگجوؤں پر عائد کی ہے۔ پائپ لائن کی بندش کے باعث سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

    خریداروں اور تاجروں کے مطابق اگر پائپ لائن جلد دوبارہ فعال نہ ہوئی تو سعودی عرب کے پاس برآمد کرنے کے لیے دستیاب خام تیل چند دنوں میں ختم ہوسکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس حملے سے عالمی تیل کی فراہمی کا تقریباً 4 فیصد متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

    تیل کی عالمی مارکیٹ میں تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے پیر کے روز سعودی عرب پر نئے حملے کیے۔

    حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی اڈے کو درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق حملے میں فوجی طیاروں کے ہینگرز، ریڈار سسٹم، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔

    حوثیوں نے یہ حملے یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے ہیں۔ خطے میں جاری جنگ کے باعث سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    ایک آزاد میکرو اکنامک تحقیقی ادارے کیپیٹل اکنامکس (Capital Economics) کے سینئر ماہر اقتصادیات حماد حسین نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں سے تیل کے سرمایہ کاروں کی اس توقع پر اثر پڑ سکتا ہے کہ موجودہ جنگ کتنی شدید اور کتنے عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق سعودی پائپ لائن کی بندش اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں کمی عالمی تیل کی فراہمی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

    پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد صرف چار رہ گئی، جبکہ ایک روز پہلے یہ تعداد 10 تھی۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی اسی اہم سمندری راستے سے گزرتی تھی۔

    اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل معمول پر نہ آئی اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بھی کئی ہفتوں تک بند رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔

    برینٹ 120 سے 130 ڈالر تک پہنچنے کا امکان

    امریکی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس (Goldman Sachs)نے کہا ہے کہ سعودی تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملے خطے میں جاری تنازع میں ایک اہم اور خطرناک اضافہ ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔

    گولڈمین سیکس کے مطابق سعودی عرب کی 2 ملین بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے کی صلاحیت بھی تازہ حملوں سے متاثر ہوسکتی ہے۔ پائپ لائن کی مرمت کے بارے میں اندازے مختلف ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق مرمت جلد مکمل ہوسکتی ہے، جبکہ کچھ تخمینوں میں آٹھ ہفتے تک کا وقت بتایا گیا ہے۔

    کیپیٹل اکنامکس کے ماہر حماد حسین نے خبردار کیا کہ اگر سعودی پائپ لائن کئی ہفتوں تک بند رہی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں بھی اضافہ نہ ہوا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

    دوسری جانب چین سے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ملک کی تیل صاف کرنے والی صنعت میں سرگرمیاں مسلسل دوسرے ماہ بڑھیں۔ چین میں تیل کی ریفائنریوں نے اگست میں تقریباً 13.91 ملین بیرل یومیہ خام تیل پراسیس کیا، جو جولائی کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔

    رائٹرز کے مطابق چین میں تیل کی ریفائنری سرگرمیوں میں اضافہ بڑی حد تک پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے باعث ہوا۔ بیجنگ نے جولائی کے وسط میں ایندھن کی برآمدات پر عائد کچھ پابندیاں نرم کی تھیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، سعودی تیل تنصیبات پر حملے اور آبنائے ہرمز میں کم ہوتی بحری سرگرمیاں عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے بڑے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں پٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • پاکستان اکنامک سروے: ماحول دوست بجلی پہلی بار 53 فیصد سے زائد، مگر تا حال تیل اور گیس پر درآمدی انحصار برقرار

    پاکستان اکنامک سروے: ماحول دوست بجلی پہلی بار 53 فیصد سے زائد، مگر تا حال تیل اور گیس پر درآمدی انحصار برقرار

    پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک کا توانائی کا شعبہ ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف بجلی کی پیداوار میں پن بجلی، ایٹمی توانائی اور قابل تجدید ذرائع کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے، وہیں دوسری جانب تیل اور قدرتی گیس کی درآمدات پر انحصار بدستور ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ-ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔

    سالانہ بجیٹ سے ایک دن پہلے، یعنی 11 جون کو جاری کیے گئے اقتصادی سروے کے مطابق مارچ 2026 تک پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.5 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے نصب ہونے والے سات ہزار 319 میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام ہیں۔ تاہم اسی عرصے میں 13 نجی بجلی گھروں کو بھی بند کر دیا گیا جن کی مجموعی صلاحیت 5 ہزار 105 میگاواٹ تھی۔

    حکومت پاکیستان کی رپورٹ کے مطابق ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں پہلی بار پن بجلی، ایٹمی توانائی اور قابل تجدید ذرائع کا مشترکہ حصہ 50.8 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ حرارتی بجلی گھروں کا حصہ کم ہو کر 49.2 فیصد رہ گیا۔ جولائی سے مارچ 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 92 ہزار 835 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی، جس میں 53.1 فیصد بجلی انہی نسبتاً صاف ذرائع سے حاصل کی گئی۔ حکومت نے اسے ماحول دوست اور مقامی وسائل پر مبنی توانائی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ بجلی استعمال کرنے کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ گھریلو شعبہ اب بھی سب سے بڑا صارف ہے، لیکن اس کا حصہ کم ہو کر 47.5 فیصد رہ گیا ہے۔ سروے کے مطابق بجلی کے نرخ بڑھنے کے بعد بہت سے صارفین نے شمسی توانائی سمیت متبادل ذرائع اختیار کیے یا بجلی کے استعمال میں احتیاط برتی۔ اس کے برعکس صنعتی شعبے میں بجلی کا استعمال 26 ہزار 205 گیگا واٹ آور تک پہنچ گیا، جس سے اس کا حصہ بڑھ کر 31.5 فیصد ہو گیا۔ اسے صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔

    زرعی شعبے میں بجلی کا استعمال سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں کھپت میں 42 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی وجوہات میں بارشوں کے بدلتے رجحانات، آبپاشی کے طریقوں میں تبدیلی اور شمسی توانائی یا ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کی طرف منتقلی شامل ہو سکتی ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق حکومت بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے ذریعے اب تک 102 نجی بجلی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 25 ہزار 874 میگاواٹ ہے اور ان میں 35 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔ ان میں سے 60 منصوبے پن بجلی، ہوا، شمسی اور بگاس سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ آئندہ برسوں میں زیر غور 19 نئے منصوبوں میں سے تقریباً 84 فیصد قابل تجدید توانائی پر مبنی ہوں گے، جن میں زیادہ تر پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے شمسی منصوبے، گوادر میں 40 میگاواٹ بجلی منصوبے، صحت کے تقریباً 400 مراکز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور گوادر کے پانی کے منصوبوں کو شمسی توانائی اور بیٹری ذخیرہ نظام سے چلانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 98 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بچت متوقع

    ہے۔ حکومت نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام کو تبدیل کرکے نیٹ بلنگ متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ شمسی توانائی کے نظام کو زیادہ متوازن انداز میں چلایا جا سکے۔

    تھر کا کوئلہ بھی حکومت کی توانائی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 175 ارب ٹن تھر کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جنہیں کئی دہائیوں تک بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت تھر کے پانچ منصوبے تین ہزار 300 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کر رہے ہیں جبکہ درآمدی کوئلے سے چلنے والے بڑے بجلی گھروں کو بھی مرحلہ وار تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

    ایٹمی توانائی کے شعبے میں پاکستان کے چھ بجلی گھر مجموعی طور پر تین ہزار 530 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ بجلی گھر سالانہ ایک کروڑ 60 لاکھ سے 1 کروڑ 80 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق چشمہ اور کراچی کے ایٹمی بجلی گھروں نے حفاظتی کارکردگی کے لحاظ سے ملک کی 149 بجلی کمپنیوں میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ چشمہ میں ایک نئے 12 سو میگاواٹ کے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر بھی جاری ہے، جس سے 2030 تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

    دوسری جانب تیل کا شعبہ اب بھی پاکستان کے لیے بڑا معاشی بوجھ بنا ہوا ہے۔ جولائی سے مارچ 2025-26 کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت 3.5 فیصد بڑھ کر 13.64 ملین میٹرک ٹن ہو گئی۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ مجموعی کھپت کا 82.5 فیصد استعمال کر رہا ہے، جبکہ صنعتی، زرعی اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں تیل کا استعمال نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ سروے کے مطابق بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا استعمال کم ہونے کی وجہ پن بجلی، ایٹمی توانائی اور تھر کوئلے کا بڑھتا ہوا کردار ہے۔

    اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان نے نو ماہ کے دوران 13.88 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہیں۔ ان درآمدات پر تقریباً 8.9 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ خام تیل کی درآمدات میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت اب بھی بیرونی ایندھن پر انحصار کرتی ہے۔

    قدرتی گیس کے شعبے میں بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقامی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان کو درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں روزانہ اوسطاً 2 ہزار 929 ملین مکعب فٹ گیس استعمال کی گئی، جس میں 613 ملین مکعب فٹ درآمدی ایل این جی شامل تھی۔ حکومت نے گیس کی ترسیل بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال میں تقریباً 103 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔

    کوئلے کی مجموعی کھپت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ جولائی سے مارچ کے دوران ملک میں دو کروڑ 14 لاکھ ٹن سے زائد کوئلہ استعمال ہوا، جس میں تقریباً 60 فیصد بجلی پیدا کرنے، 21 فیصد اینٹوں کے بھٹوں اور تقریباً 20 فیصد سیمنٹ سمیت دیگر صنعتوں نے استعمال کیا۔

    اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ بتدریج مہنگے درآمدی ایندھن سے نکل کر پن بجلی، ایٹمی توانائی، شمسی اور دیگر قابل تجدید ذرائع کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تاہم تیل اور گیس کی درآمدات، عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور مقامی گیس کے کم ہوتے ذخائر اب بھی ایسے بنیادی مسائل ہیں جن پر قابو پانا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آئندہ برسوں میں توانائی کے منصوبوں کا مرکز مقامی، کم لاگت اور ماحول دوست ذرائع ہوں گے تاکہ بجلی سستی، پائیدار اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔

  • تیل کے بعد پانی: مشرقِ وسطیٰ میں نئی واٹر وار کا آغاز

    تیل کے بعد پانی: مشرقِ وسطیٰ میں نئی واٹر وار کا آغاز

    دنیا طویل عرصے تک یہ سمجھتی رہی کہ جنگوں کی اصل وجہ تیل کے کنوؤں پر قبضہ یا زمینی سرحدوں کے تنازعات ہوتے ہیں۔ مگر مشرقِ وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے نئے تنازعات ایک مختلف حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اب صرف تیل کی ریفائنریاں ہی نہیں بلکہ پینے کے میٹھے پانی کے ذرائع بھی جنگی خطرات کی زد میں آ رہے ہیں۔

    جب دبئی کے جبل علی ڈی سیلینیشن کمپلیکس جیسے اہم منصوبے جنگی خطرات کے قریب پہنچ جاتے ہیں تو یہ صرف ایک عمارت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس انسانی نظام کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے جس پر کروڑوں لوگوں کی زندگی کا انحصار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں پانی تیل سے بھی زیادہ قیمتی اور حساس وسیلہ بن چکا ہے۔

    فروری 2026 کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات، قدرتی گیس کے پلانٹس، ہوا بازی اور سیاحت کے شعبے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایسے حملے نہ صرف خلیجی ممالک کی معیشت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان کی محفوظ اور مستحکم ریاستوں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیج فارس کے دیگر ممالک اپنی ریگستانی زمینوں کے نیچے موجود تیل و گیس کو صرف آمدنی کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ اسی توانائی کی مدد سے سمندری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بھی بناتے ہیں۔

    خلیجی خطے میں چار سو سے زائد ڈی سیلینیشن پلانٹس کام کر رہے ہیں جو سمندر کے نمکین پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان منصوبوں کے بغیر کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں بڑے پیمانے پر شہری زندگی کا برقرار رہنا انتہائی مشکل ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اب صرف پیٹرو اسٹیٹس نہیں بلکہ سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے والی بڑی عالمی طاقتیں بن چکی ہیں۔

    دنیا کے دس بڑے ڈی سیلینیشن پلانٹس میں سے آٹھ جزیرہ نما عرب میں واقع ہیں جبکہ باقی اسرائیل میں ہیں۔ عرب ممالک مجموعی طور پر عالمی ڈی سیلینیشن صلاحیت کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ رکھتے ہیں اور خلیج کے ساحلی علاقوں میں واقع پلانٹس دنیا کے تیس فیصد سے زیادہ میٹھے پانی کی مصنوعی پیداوار فراہم کرتے ہیں۔ اس پانی پر خطے کے تقریباً دس کروڑ لوگوں کا انحصار ہے۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ پانی کے نظام ہمیشہ جنگی خطرات کا شکار رہے ہیں۔ خلیج جنگ کے دوران تیل کے پھیلاؤ نے سمندری ماحول اور پانی کی فراہمی کو شدید متاثر کیا تھا۔ بعد کے برسوں میں یمن کے حوثی حملوں نے سعودی عرب کے چند واٹر پلانٹس کو بھی نشانہ بنایا۔ اگرچہ اب تک بڑے پیمانے پر پانی کے انفراسٹرکچر کو تباہ نہیں کیا گیا، مگر ماہرین کے مطابق یہ تنصیبات جنگی حکمت عملی میں اہم ہدف بن سکتی ہیں۔

    پانی اور توانائی کی تاریخ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ڈی سیلینیشن پلانٹس کو چلانے کے لیے بڑی مقدار میں توانائی درکار ہوتی ہے۔ اگر توانائی کے ذرائع یا بجلی کے نظام متاثر ہوں تو پانی کی پیداوار بھی رک سکتی ہے۔ اسی لیے ماہرین اب اس بحران کو پانی، توانائی اور سکیورٹی کے باہم جڑے ہوئے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    آج کی جنگ صرف زمین پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ جدید واٹر پلانٹس صنعتی کنٹرول سسٹمز اور اسکاڈا نیٹ ورکس کے ذریعے چلتے ہیں جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ سے جڑے ہوتے ہیں۔ سائبر حملوں کے ذریعے پمپ بند کیے جا سکتے ہیں، والوز کھولے جا سکتے ہیں یا سسٹم کو غلط ڈیٹا دکھایا جا سکتا ہے۔ ایک چھوٹا سا سافٹ ویئر حملہ لاکھوں لوگوں کی پانی کی فراہمی کو متاثر کر سکتا ہے۔

    بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہری آبادی کی بنیادی ضروریات جیسے پانی اور خوراک کو نشانہ بنانا جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم جدید تنازعات میں اس اصول کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اگر پانی کے بڑے منصوبے متاثر ہوئے تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی، معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی پہلے ہی پانی کے ذخائر پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ افریقہ میں دریائے نیل کے ڈیم پر مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے تنازعات ہوں یا جنوبی ایشیا میں دریاؤں کی تقسیم کے مسائل، یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل کی کشیدگیاں پانی کے گرد گھوم سکتی ہیں۔

    تاریخ میں جنگوں کے مقاصد بدلتے رہے ہیں، مگر پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا انسانیت کے لیے سب سے خطرناک راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ رجحان بڑھا تو آنے والے برسوں میں جنگیں صرف زمین یا تیل کے لیے نہیں بلکہ پانی کے لیے بھی لڑی جائیں گی۔ اور اگر پانی کی جنگ شروع ہو گئی تو اس کی قیمت صرف ایک خطہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کو ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

     

  • ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران، امریکہ، اسرائیل تنازع: آبنائے ہرمز سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل، عالمی معاشی دباؤ کا خدشہ

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ اب چوتھے روز میں داخل ہو چکی ہے۔

    ایران نے جوابی حملوں میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے علاوہ تیل کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

    خلیج فارس، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر اور برآمدی مراکز کا حامل خطہ ہے، اس جنگ کے باعث عالمی معیشت اور توانائی کے مستقبل کے حوالے سے مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔

    پیر کو ایران کی جانب سے سعودی عرب کی راس تنورا میں بڑی آئل ریفائنری ‘آرامکو’ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور تیل کی تنصیبات یا اہم سمندری راستے نشانہ بنتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔

    خلیج فارس اور اس کے اطراف میں دنیا کے تیل کے ذخائر کا تقریباً نصف حصہ موجود ہے، جہاں سے یومیہ 20 سے 25 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ کو فراہم کیا جاتا ہے۔

    ان ممالک میں سب سے زیادہ ذخائر سعودی عرب کے پاس ہیں، جن کا حجم تقریباً 267 ارب بیرل ہے۔

    سعودی عرب نہ صرف دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ہے بلکہ اس کے پاس جدید ریفائنری نظام بھی موجود ہے جو خام تیل کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔

    سعودی عرب میں تقریباً 10 بڑی ریفائنریز کام کر رہی ہیں، جن میں راس تنورا، یسریف اور ساتورپ ریفائنری شامل ہیں۔ یہ ریفائنریز مجموعی طور پر روزانہ تقریباً 30 لاکھ بیرل تیل کو پروسیس کرتی ہیں۔

    آبنائے ہرمز: دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ

    خلیج فارس سے نکلنے والا زیادہ تر تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ یہ سمندری راستہ دنیا کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔

    اگر اس راستے کو جنگ، حملوں یا فوجی کارروائیوں کی وجہ سے بند یا غیر محفوظ کر دیا جائے تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوگا اور عالمی معیشت پر بھی براہ راست دباؤ بڑھے گا۔

    الجزیرہ کی خبر کے مطابق قطر کی جانب سے ایل این جی کی فراہمی روکنے پر عالمی مارکیٹ میں گیس کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    برطانیہ اور کچھ ممالک میں گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایشیائی ممالک میں 39 فیصد تک اضافہ سامنے آیا ہے۔

    اگر بڑے پیمانے پر حملے ہوتے ہیں تو تیل کی قیمتیں 100 سے 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اگر خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو دنیا کے دیگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، جیسے امریکہ اور روس، اپنی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ کئی ممالک اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ سپلائی میں کمی کو عارضی طور پر پورا کیا جا سکے۔

    تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس کی اہمیت کو مکمل طور پر تبدیل کرنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ خطہ اب بھی عالمی توانائی سپلائی کا بنیادی ستون ہے۔

    ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سلامتی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

    خلیج فارس کی تیل تنصیبات، ریفائنریز اور اہم سمندری راستے عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اگر یہ تنازع مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔

    موجودہ صورتحال میں عالمی منڈی، حکومتیں اور توانائی کمپنیاں حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس تنازع کا مستقبل عالمی توانائی کے استحکام کا تعین کرے گا۔