پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق ملک کا توانائی کا شعبہ ایک بڑی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ایک طرف بجلی کی پیداوار میں پن بجلی، ایٹمی توانائی اور قابل تجدید ذرائع کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے، وہیں دوسری جانب تیل اور قدرتی گیس کی درآمدات پر انحصار بدستور ملکی معیشت کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ-ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔
سالانہ بجیٹ سے ایک دن پہلے، یعنی 11 جون کو جاری کیے گئے اقتصادی سروے کے مطابق مارچ 2026 تک پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.5 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے نصب ہونے والے سات ہزار 319 میگاواٹ شمسی توانائی کے نظام ہیں۔ تاہم اسی عرصے میں 13 نجی بجلی گھروں کو بھی بند کر دیا گیا جن کی مجموعی صلاحیت 5 ہزار 105 میگاواٹ تھی۔
حکومت پاکیستان کی رپورٹ کے مطابق ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں پہلی بار پن بجلی، ایٹمی توانائی اور قابل تجدید ذرائع کا مشترکہ حصہ 50.8 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ حرارتی بجلی گھروں کا حصہ کم ہو کر 49.2 فیصد رہ گیا۔ جولائی سے مارچ 2025-26 کے دوران مجموعی طور پر 92 ہزار 835 گیگا واٹ آور بجلی پیدا ہوئی، جس میں 53.1 فیصد بجلی انہی نسبتاً صاف ذرائع سے حاصل کی گئی۔ حکومت نے اسے ماحول دوست اور مقامی وسائل پر مبنی توانائی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بجلی استعمال کرنے کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ گھریلو شعبہ اب بھی سب سے بڑا صارف ہے، لیکن اس کا حصہ کم ہو کر 47.5 فیصد رہ گیا ہے۔ سروے کے مطابق بجلی کے نرخ بڑھنے کے بعد بہت سے صارفین نے شمسی توانائی سمیت متبادل ذرائع اختیار کیے یا بجلی کے استعمال میں احتیاط برتی۔ اس کے برعکس صنعتی شعبے میں بجلی کا استعمال 26 ہزار 205 گیگا واٹ آور تک پہنچ گیا، جس سے اس کا حصہ بڑھ کر 31.5 فیصد ہو گیا۔ اسے صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
زرعی شعبے میں بجلی کا استعمال سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں کھپت میں 42 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی وجوہات میں بارشوں کے بدلتے رجحانات، آبپاشی کے طریقوں میں تبدیلی اور شمسی توانائی یا ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کی طرف منتقلی شامل ہو سکتی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق حکومت بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) کے ذریعے اب تک 102 نجی بجلی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت تقریباً 25 ہزار 874 میگاواٹ ہے اور ان میں 35 ارب ڈالر سے زائد کی غیر ملکی سرمایہ کاری آئی۔ ان میں سے 60 منصوبے پن بجلی، ہوا، شمسی اور بگاس سے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ آئندہ برسوں میں زیر غور 19 نئے منصوبوں میں سے تقریباً 84 فیصد قابل تجدید توانائی پر مبنی ہوں گے، جن میں زیادہ تر پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے شمسی منصوبے، گوادر میں 40 میگاواٹ بجلی منصوبے، صحت کے تقریباً 400 مراکز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے اور گوادر کے پانی کے منصوبوں کو شمسی توانائی اور بیٹری ذخیرہ نظام سے چلانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے سے سالانہ تقریباً 98 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بچت متوقع
ہے۔ حکومت نیٹ میٹرنگ کے موجودہ نظام کو تبدیل کرکے نیٹ بلنگ متعارف کرانے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ شمسی توانائی کے نظام کو زیادہ متوازن انداز میں چلایا جا سکے۔
تھر کا کوئلہ بھی حکومت کی توانائی حکمت عملی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 175 ارب ٹن تھر کوئلے کے ذخائر موجود ہیں، جنہیں کئی دہائیوں تک بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت تھر کے پانچ منصوبے تین ہزار 300 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل کر رہے ہیں جبکہ درآمدی کوئلے سے چلنے والے بڑے بجلی گھروں کو بھی مرحلہ وار تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
ایٹمی توانائی کے شعبے میں پاکستان کے چھ بجلی گھر مجموعی طور پر تین ہزار 530 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ بجلی گھر سالانہ ایک کروڑ 60 لاکھ سے 1 کروڑ 80 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق چشمہ اور کراچی کے ایٹمی بجلی گھروں نے حفاظتی کارکردگی کے لحاظ سے ملک کی 149 بجلی کمپنیوں میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی۔ چشمہ میں ایک نئے 12 سو میگاواٹ کے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر بھی جاری ہے، جس سے 2030 تک بجلی پیدا ہونے کی توقع ہے۔
دوسری جانب تیل کا شعبہ اب بھی پاکستان کے لیے بڑا معاشی بوجھ بنا ہوا ہے۔ جولائی سے مارچ 2025-26 کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت 3.5 فیصد بڑھ کر 13.64 ملین میٹرک ٹن ہو گئی۔ ٹرانسپورٹ کا شعبہ مجموعی کھپت کا 82.5 فیصد استعمال کر رہا ہے، جبکہ صنعتی، زرعی اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں تیل کا استعمال نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ سروے کے مطابق بجلی کی پیداوار میں فرنس آئل کا استعمال کم ہونے کی وجہ پن بجلی، ایٹمی توانائی اور تھر کوئلے کا بڑھتا ہوا کردار ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان نے نو ماہ کے دوران 13.88 ملین میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ ہیں۔ ان درآمدات پر تقریباً 8.9 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ خام تیل کی درآمدات میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت اب بھی بیرونی ایندھن پر انحصار کرتی ہے۔
قدرتی گیس کے شعبے میں بھی صورتحال زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقامی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جس کے باعث پاکستان کو درآمدی ایل این جی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ملک میں روزانہ اوسطاً 2 ہزار 929 ملین مکعب فٹ گیس استعمال کی گئی، جس میں 613 ملین مکعب فٹ درآمدی ایل این جی شامل تھی۔ حکومت نے گیس کی ترسیل بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال میں تقریباً 103 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
کوئلے کی مجموعی کھپت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ جولائی سے مارچ کے دوران ملک میں دو کروڑ 14 لاکھ ٹن سے زائد کوئلہ استعمال ہوا، جس میں تقریباً 60 فیصد بجلی پیدا کرنے، 21 فیصد اینٹوں کے بھٹوں اور تقریباً 20 فیصد سیمنٹ سمیت دیگر صنعتوں نے استعمال کیا۔
اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا توانائی کا شعبہ بتدریج مہنگے درآمدی ایندھن سے نکل کر پن بجلی، ایٹمی توانائی، شمسی اور دیگر قابل تجدید ذرائع کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تاہم تیل اور گیس کی درآمدات، عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور مقامی گیس کے کم ہوتے ذخائر اب بھی ایسے بنیادی مسائل ہیں جن پر قابو پانا ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آئندہ برسوں میں توانائی کے منصوبوں کا مرکز مقامی، کم لاگت اور ماحول دوست ذرائع ہوں گے تاکہ بجلی سستی، پائیدار اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔



