تھر کا صحرا بظاہر خاموش دکھائی دیتا ہے۔ ریت کے ٹیلے، دور تک پھیلے میدان، اور نگرپارکر کے قریب کارونجھر کے قدیم گرینائٹ پہاڑ اس خطے کی پہچان ہیں۔ مگر اس خاموش منظر کے اوپر آسمان میں ایک ایسا پرندہ صدیوں سے گردش کرتا رہا ہے جو اس صحرا کے ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہے۔ یہ ہے ‘مصری گدھ’، جسے انگریزی میں *Egyptian Vulture کہا جاتا ہے۔
یہ پرندہ تھر کے آسمان میں صرف ایک شکاری پرندہ نہیں بلکہ فطرت کے توازن کو برقرار رکھنے والا ایک خاموش محافظ بھی ہے۔ مردہ جانوروں کو کھا کر یہ ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے ماہرین اسے قدرتی صفائی کرنے والا پرندہ بھی کہتے ہیں۔
ایک قدیم اور وسیع پھیلاؤ رکھنے والا پرندہ
مصری گدھ کا سائنسی نام ‘Neophron percnopterus’ ہے۔ یہ دنیا کی قدیم ترین گدھ اقسام میں شمار ہوتا ہے اور اس کی موجودگی شمالی افریقہ، جنوبی یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا تک پائی جاتی ہے۔ تاریخی طور پر یہ پرندہ مصر کی تہذیب میں بھی اہم مقام رکھتا تھا۔ قدیم مصری فن اور تحریروں میں گدھ کو حفاظت اور پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، اسی نسبت سے اس پرندے کو مصری گدھ کہا جانے لگا۔
پاکستان میں اس پرندے کی موجودگی خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں دیکھی جاتی ہے، مگر تھرپارکر اس کا ایک اہم مسکن سمجھا جاتا ہے۔ نگرپارکر، اسلام کوٹ اور کارونجھر کے اردگرد کے پہاڑی علاقے اسے گھونسلے بنانے اور آرام کرنے کے لیے موزوں جگہ فراہم کرتے ہیں۔
شکل و صورت اور جسمانی خصوصیات
مصری گدھ عام گدھوں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا ہوتا ہے، مگر اس کی پہچان بہت واضح ہے۔ اس کا جسم زیادہ تر سفید رنگ کا ہوتا ہے جبکہ پروں کے کنارے سیاہ ہوتے ہیں۔ اس کا چہرہ پیلا اور چونچ لمبی اور قدرے خمیدہ ہوتی ہے۔ بالغ پرندے کا وزن عموماً دو سے ڈھائی کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے جبکہ اس کے پروں کا پھیلاؤ تقریباً ڈیڑھ سے ایک اعشاریہ سات میٹر تک ہو سکتا ہے۔
یہ پرندہ اپنی ذہانت کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ ماہرین پرندہ کہتے ہیں کہ مصری گدھ ان چند پرندوں میں شامل ہے جو خوراک حاصل کرنے کے لیے اوزار استعمال کر سکتے ہیں۔ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں اس پرندے کو شترمرغ کے انڈے توڑنے کے لیے پتھر استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جو پرندوں میں نسبتاً نایاب رویہ سمجھا جاتا ہے۔
خوراک اور ماحولیاتی کردار
مصری گدھ بنیادی طور پر مردہ جانوروں کی لاشیں کھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ماحولیاتی نظام کا اہم صفائی کرنے والا پرندہ سمجھا جاتا ہے۔ جب کسی علاقے میں جانور مر جاتے ہیں تو ان کی لاشیں اگر زیادہ دیر تک پڑی رہیں تو بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ گدھ ان لاشوں کو جلد کھا کر ماحول کو صاف رکھتے ہیں اور ممکنہ بیماریوں کو پھیلنے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں۔
تھر جیسے خشک علاقوں میں یہ کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے کیونکہ یہاں درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث مردہ جانور تیزی سے گلنے لگتے ہیں۔ گدھ ان لاشوں کو ختم کر کے ماحول کو آلودگی اور جراثیم سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تھر میں گِدھوں کی تاریخ
چند دہائیوں پہلے تک تھر کے آسمان میں گدھوں کی کئی اقسام نظر آتی تھیں۔ ان میں ‘سفید پشت گدھ، لمبی چونچ والا گدھ اور سرخ سر والا گدھ’ بھی شامل تھے۔ یہ پرندے تھر کے کھلے میدانوں اور پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔
مگر 1990 کی دہائی کے بعد جنوبی ایشیا میں گدھوں کی آبادی میں اچانک اور شدید کمی آنے لگی۔ ماہرین کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ ایک ویٹرنری دوا ‘ڈائکلوفیناک’ تھی۔ یہ دوا مویشیوں کو درد کم کرنے کے لیے دی جاتی تھی۔ جب وہ جانور مر جاتے اور ان کی لاشیں کھلے میدان میں چھوڑ دی جاتیں تو گدھ انہیں کھا لیتے۔ اس دوا کے اثر سے گدھوں کے گردے فیل ہو جاتے اور وہ مر جاتے۔
چند ہی برسوں میں جنوبی ایشیا میں گدھوں کی آبادی کا تقریباً ‘90 سے 95 فیصد حصہ ختم ہو گیا’۔ یہ دنیا میں کسی پرندے کی آبادی میں آنے والی سب سے تیز کمیوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔
تھر میں باقی رہ جانے والا آخری محافظ
اس تباہ کن کمی کے بعد بھی تھرپارکر کے علاقے میں گدھوں کی کچھ آبادی باقی رہی۔ آج بھی پاکستان میں گدھوں کے اہم مسکنوں میں تھرپارکر کا نام لیا جاتا ہے۔ یہاں خاص طور پر نگرپارکر کے اردگرد کے پہاڑی علاقے ان پرندوں کے لیے محفوظ جگہ فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ پرندے اکثر چٹانوں یا اونچے درختوں پر گھونسلے بناتے ہیں۔ ان کی افزائش کی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ عموماً ایک جوڑا سال میں صرف ‘ایک انڈا’ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ان کی آبادی کم ہو جائے تو اسے دوبارہ بڑھنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
تحفظ کی کوششیں
گدھوں کی آبادی کو بچانے کے لیے پاکستان میں مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے نگرپارکر کے علاقے میں ایک ‘ولچر سیف زون’ قائم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد خطرناک ویٹرنری ادویات کے استعمال کو محدود کرنا اور گدھوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
پاکستان میں اب ڈائکلوفیناک کے ویٹرنری استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور اس کے متبادل کے طور پر نسبتاً محفوظ دوا ‘میلوکسیکام’ کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
صحرا کے آسمان کا سوال
مصری گدھ تھر کے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ صحرا کے قدرتی توازن کا محافظ بھی ہے۔ اس کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ ماحول ابھی زندہ ہے اور فطرت اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
مگر گدھوں کی عالمی سطح پر کم ہوتی ہوئی تعداد ایک اہم سوال بھی اٹھاتی ہے۔ اگر یہ پرندے ختم ہو جائیں تو مردہ جانوروں کی لاشیں زیادہ دیر تک پڑی رہیں گی، جس سے بیماریوں اور ماحولیاتی مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تھر کے آسمان میں آج بھی کبھی کبھار مصری گدھ اپنے سفید پروں کے ساتھ گردش کرتا نظر آ جاتا ہے۔ یہ منظر اس خطے کی فطری تاریخ کا حصہ ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا آنے والی نسلیں بھی اس پرندے کو اسی آسمان میں اڑتے دیکھ سکیں گی، یا یہ صرف کتابوں اور دستاویزی فلموں تک محدود ہو جائے گا۔
ساگا ڈیجیٹل ایسے ہی موضوعات کو سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ لوگ اپنے ماحول، ثقافت اور قدرتی ورثے کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ کیونکہ کبھی کبھی کسی صحرا کے آسمان میں اڑتا ہوا ایک پرندہ بھی پوری کہانی بیان کر دیتا ہے۔
