برطانیہ، دوسری جنگِ عظیم کے رہنما چرچل سمیت تاریخی شخصیات کی تصاویر کرنسی نوٹوں سے کیوں ہٹایا جا رہا ہے؟

چرچل

برطانیہ میں ایک اہم علامتی تبدیلی زیرِ غور ہے۔ بینک آف انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں جاری ہونے والی نئی برطانوی کرنسی میں تاریخی شخصیات کی تصاویر ہٹا کر ان کی جگہ برطانیہ کی قدرتی حیات، یعنی جنگلی جانوروں اور فطرت کے مناظر کو شامل کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے مشہور رہنما ونسنٹ چرچل سمیت کئی معروف شخصیات کرنسی نوٹوں سے غائب ہو جائیں گی۔

چرچل اس وقت برطانیہ کے پانچ پاؤنڈ کے نوٹ پر موجود ہیں اور 2016 سے ان کی تصویر اس کرنسی کا حصہ ہے۔

یہ تبدیلی صرف ایک ڈیزائن کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی سماجی، ثقافتی اور تکنیکی عوامل کارفرما ہیں۔

 چرچل کون تھے؟

ونسنٹ چرچل برطانیہ کی سیاسی تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیرِ اعظم تھے اور نازی جرمنی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ ان کی تقاریر اور قیادت نے جنگ کے مشکل دور میں برطانوی قوم کو حوصلہ دیا، اسی وجہ سے انہیں بیسویں صدی کے بڑے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

چرچل نہ صرف سیاست دان تھے بلکہ مصنف بھی تھے اور انہیں 1953 میں ادب کا نوبیل انعام بھی ملا۔

 کرنسی نوٹوں سے ہٹانے کی اصل وجہ کیا ہے؟

برطانوی مرکزی بینک کے مطابق یہ فیصلہ کسی ایک شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ کرنسی کے نئے ڈیزائن کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس تبدیلی کی چند بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں۔

فطرت کو اجاگر کرنے کی پالیسی

بینک آف انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ نئی کرنسی میں برطانیہ کی جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو نمایاں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مختلف جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر کو نوٹوں پر شامل کیا جائے گا۔

عوامی مشاورت کا نتیجہ

2025 میں ایک عوامی سروے کیا گیا جس میں تقریباً 44 ہزار افراد نے حصہ لیا۔ اس سروے میں تقریباً 60 فیصد افراد نے فطرت کو کرنسی کے نئے تھیم کے طور پر ترجیح دی جبکہ تاریخی شخصیات کو نسبتاً کم حمایت ملی۔

جعلی نوٹوں کے خلاف بہتر سکیورٹی

بینک آف انگلینڈ کے مطابق قدرتی مناظر اور پیچیدہ تصویری ڈیزائن کرنسی کی جعلی سازی روکنے میں بھی مدد دیتے ہیں، اس لیے نئے نوٹوں میں ایسے عناصر شامل کیے جا رہے ہیں جو سکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ہوں۔

 برطانوی کرنسی کی روایت میں بڑی تبدیلی

برطانیہ میں گزشتہ تقریباً پچاس برس سے کرنسی نوٹوں پر تاریخی شخصیات کی تصاویر شامل کی جاتی رہی ہیں۔ 1970 میں پہلی بار ولیم شیکسپیئر کو نوٹ پر شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں کئی ادیبوں، سائنس دانوں اور سیاسی رہنماؤں کی تصاویر کرنسی پر آئیں۔

چرچل، جین آسٹن، ایلن ٹیورنگ اور دیگر شخصیات اسی روایت کا حصہ تھے۔ لیکن نئی کرنسی میں اس روایت کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور پہلی بار ممکن ہے کہ نوٹوں کے پچھلے حصے پر کوئی تاریخی شخصیت موجود نہ ہو۔

 فیصلے پر تنقید بھی

چرچل کو کرنسی سے ہٹانے کے اعلان پر برطانیہ میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ کچھ سیاست دانوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی کرنسی کو ان عظیم شخصیات کی یادگار ہونا چاہیے جنہوں نے تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کے مطابق چرچل جیسے رہنما برطانوی تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور انہیں کرنسی سے ہٹانا مناسب نہیں۔

دوسری طرف کچھ حلقے اسے ایک علامتی تبدیلی قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے برطانیہ اپنی فطرت اور ماحول کو بھی قومی شناخت کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔

چرچل کا نوٹ سے ہٹنا فوری نہیں

اہم بات یہ ہے کہ چرچل کی تصویر فوری طور پر کرنسی سے غائب نہیں ہوگی۔ نئے ڈیزائن کے نوٹ تیار ہونے اور مارکیٹ میں آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس دوران موجودہ نوٹ بدستور گردش میں رہیں گے۔

چرچل کو کرنسی نوٹ سے ہٹانے کا فیصلہ دراصل برطانیہ کی کرنسی ڈیزائن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ کرنسی کو ایک نئے قومی اور قدرتی موضوع سے جوڑنا ہے۔

تاہم یہ فیصلہ ایک بار پھر اس سوال کو بھی زندہ کر دیتا ہے کہ قومی کرنسی پر تاریخ کے عظیم رہنماؤں کی یا کسی قوم کی فطرت اور علامتوں کی تصویر ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں: