2024 میں پاکستان کی 80 لاکھ نئی خواتین کے انٹرنیٹ سے جڑنے کے ساتھ ایک لاکھ 35 ہزار سائبر کرائم شکایات، ملک میں پہلی نیشنل اسٹریٹجی کا آغاز

سال 2024 میں پاکستان میں 80 لاکھ نئی خواتین انٹرنیٹ سے جڑیں، جو ڈیجیٹل شمولیت میں ایک بڑی پیش رفت ہے، مگر اسی سال ایک لاکھ 35 ہزار سائبر کرائم شکایات بھی سامنے آئیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف 826 مقدمات عدالت تک پہنچ سکے، یعنی محض اعشاریہ چھ فیصد۔

یہ اعداد و شمار اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی معلومات کے غلط استعمال جیسے جرائم پاکستان میں خواتین کے لیے تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ بن رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد کے خلاف پاکستان کی پہلی قومی حکمت عملی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندہ ڈاکٹر سیموئل رزق نے اس صورتحال کی نشاندہی کی۔

موبائل فون، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل دیا ہے۔ کاروبار، تعلیم اور سماجی رابطے اب بڑی حد تک آن لائن ہو چکے ہیں۔ لیکن اس نئی دنیا کے ساتھ ایک نیا خطرہ بھی سامنے آیا ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے لیے۔

اسی پس منظر میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد کے خلاف پاکستان کی پہلی قومی حکمت عملی متعارف کرائی گئی ہے۔

یہ حکمت عملی دراصل اس بڑھتے ہوئے مسئلے کو تسلیم کرنے کی ایک کوشش ہے جس میں خواتین کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں، نجی معلومات کے غلط استعمال اور دیگر ڈیجیٹل حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنا، متاثرہ افراد کو تحفظ دینا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ذمہ دارانہ رویوں کو فروغ دینا ہے۔

تقریب کے دوران قانون و انصاف کے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے اس اقدام کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ حکمت عملی نہ صرف ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنائے گی بلکہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے ڈیجیٹل دنیا کو زیادہ محفوظ اور بااختیار بنانے میں بھی مدد دے گی۔

ماہرین کے مطابق یہی وہ خلا ہے جسے یہ نئی حکمت عملی پُر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو، انصاف کا نظام مؤثر ہو اور متاثرہ افراد کو فوری مدد مل سکے۔

پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا ایک اہم پہلو آگاہی بھی ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو نہ صرف آن لائن محفوظ رہنے کے طریقے سکھانا ضروری ہے بلکہ انہیں یہ اعتماد بھی دینا ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا میں ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کی جینڈر مین اسٹریمنگ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی تشدد کا مقابلہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ مضبوط ادارہ جاتی نظام اور جوابدہی سے ہی ممکن ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تیزی سے روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے میں یہ نئی قومی حکمت عملی ایک ایسے راستے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں خواتین اور لڑکیاں نہ صرف آن لائن موجود ہوں بلکہ خود کو محفوظ اور بااختیار بھی محسوس کر سکیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمت عملی آن لائن دنیا کو واقعی خواتین کے لیے محفوظ بنا سکے گی یا یہ بھی صرف ایک پالیسی دستاویز بن کر رہ جائے گی۔

اسی بارے میں: